کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت
پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔
لائیو کوریج
ملک میں کورونا ٹیسٹ کی صلاحیت تیزی سے بڑھا رہے ہیں، اسد عمر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی
وزیر اسد عمر کا
کہنا ہے کہ ملک میں کورونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت تیزی سے بڑھائی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق ملک میں کورونا
ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریوں کی تعداد 20 ہو چکی ہے اور چند دنوں تک بڑھ کر 32 ہو جائے گی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ بدھ سے پاکستان میں ٹیسٹنگ کی صلاحت دو لاکھ 80 ہزار تک پہنچ جائے گی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ طبی کارکنوں کا تحفظ کرنا پوری قوم کے
لیے ضروری ہے، اس سلسلے میں ان کے لیے 16 ہزار سیفٹی کٹس فراہم کر دی گئی ہیں جبکہ 16 ہزار 700 پروٹیکشن کٹس گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہنچائی جا چکی ہیں۔
بریکنگ, کراچی میں ایک اور ہلاکت، سندھ میں تعداد 8 پاکستان میں 26 ہو گئی
سندھ کی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے منگل کو کورونا کے ایک 74 سالہ مریض کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح سندھ میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جبکہ ملک میں مجموعی تعداد 26 ہے۔
عذرا پیچوہو کے مطابق مرنے والا شخص کراچی کا رہائشی تھا جسے 26 مارچ کو ہسپتال لایا گیا تھا جہاں اس کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا جو پازیٹو آیا۔
ان کے مطابق اس شخص کو کورونا کے علاوہ پہلے سے ذیابیطس اور سانس کی بیماری بھی تھی۔
ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو پیسے دیے جائیں گے: اسد عمر
وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں معاشی صورتحال کے پیش نظر ملک کے ضرورت مند خاندانوں کو حکومت کی جانب سے پیسے دیے جا رہے ہیں۔ حکومت کے احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو فی خاندان 12000 روپے دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ چار ہزار روپے ماہانہ کہ حساب سے دیا جا رہے ہیں لیکن وفاقی حکومت انھیں یکمشت جاری کر رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ رقم رواں ہفتے میں تقسیم ہونا شروع ہو جائیں گے۔
کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے توازن کی ضرورت ہے، اسد عمر
وفاقی وزیر اسد عمر نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے کہا کہ کورونا وائرس عالمی مسئلہ ہے اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر ملک میں کورونا سے متعلق نیشنل کنٹرول اور کمانڈ سنٹر قائم کیا گیا ہے، اور اس سنٹر کی بین الصوبائی کورڈینشن بہتر کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کنٹرول اور کمانڈ سنٹرمیں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہو گی۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے توازن کی ضرورت ہے۔ اگر توازن برقرار نہ رکھا اور کوئی بندش نہ لگائی گئی تو یہ وبا تیزی سے پھیلے گی اور ہلاکتیں بڑھے گی۔
یوٹیلیٹی سٹورز میں اشیا کی فراہمی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں گندم یا آٹے کی کوئی کمی نہیں ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبرپختونخوا میں کورونا ٹیسٹ کرنے کے صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے، اجمل وزیر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ صوبے میں کورونا
وائرس کے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں توسیع کی جا رہی ہے اور اس کے علاوہ کوہاٹ اور سوات
میں ٹیسٹ کرنے کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔
اجمل
وزیر پشاور میں وزیر اعلیٰ محمود خان کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس
کے بعد اہم فیصلوں کے بارے میں صحافیوں کو آگاہ کر رہے تھے۔
انھوں
نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب درازندہ میں ٹائپ ڈیہسپتال میں قائم قرنطینہ میں 15 افرادمیں سے آٹھ افراد میں کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے
۔ اس کے علاوہ پولیس سروس ہسپتال میں بھی دو افراد میں بھی رزلٹ منفی آیا ہے ۔
اجمل
وزیر کا کہنا تھا کہ ’ان 10 افراد کو اب قرنطینہ سے فارغ کیا جا رہا ہے ۔‘
انھوں
نے مزید بتایا کہ ’پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایک گلی کو دو ہفتے پہلے قرنطینہ قرار
دیا گیا تھا جہاں 80 مکان تھے اس گلی کو کلیئر قرار دے کر اس گلی کو کھول دیا گیا ہے
۔ یہ گلی خیات آباد میں فیز 3 میں ہے جہاں ایک شخص کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔‘
فردوس عاشق اعوان: ’سندھ میں لاک ڈاؤن، غذائی اجناس کی منتقلی میں رکاوٹ‘
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ کابینہ کی میٹنگ میں وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے برہمی کا اظہار کیا ہے کہ صوبوں کے درمیان غذائی اجناس کی ٹرانسپورٹ میں رکاوٹ کیوں آ رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اس حوالے سے زیادہ تر رکاوٹیں صوبہ سندھ کی جانب سے آ رہی ہیں کیونکہ وہاں لاک ڈاؤن کے باعث بندرگاہوں سے آنے والی اکثر در آمدات کی منتقلی میں مشکلات درپیش ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے رینجرز کو ہدایت دی کہ وہ اہم سامان اور غذائی اجناس منتقلی یقینی بنائیں۔
انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم کو جب بتایا گیا کہ کورونا کے مریضوں کو مجرم کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور زبردستی قرنطینہ میں لے جایا جاتا ہے تو وزریرِ اعظم نے کہا ہدایت کی کہ کورونا کےمریضوں کوفیملی سےمشورہ کرکےقرنطینہ میں لےجایا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کی کابینہ میٹنگ میں تین سال کے لیے سکوک بانڈ جاری کرنے کا اعلان بھی کیا گیا جو کہ اسلامک بینکنگ کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں مریضوں میں تین غیر ملکی بھی شامل
خیبر پختونخوا میں جن افراد میں اب تک کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان میں ایبٹ آباد میں قزاقستان سے آئے ہوئے تبلیغی جماعت کے تین ارکان میں بھی شامل ہیں۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ایبٹ آباد ڈاکٹر فیصل خانزادہ نے صحافی زبیر خان کو بتایا ہے کہ ایبٹ آباد کے نواحی علاقوں میں تبلیغ کے لیے موجود قزاقستان کے پانچ مرد اور پانچ خواتین کو چند دن پہلے ان کی سرگرمیوں کو روک کر قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔
ان کے مطابق ان سب افراد کے ٹیسٹ کیے گے تھے جن میں سے تین پازیٹو ہیں جن کا علاج جاری ہے جبکہ سات کو ابھی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر فیصل خانزدہ کے مطابق کورونا کا شکار تینوں غیر ملکیوں کی دییکھ بھال کی جا رہی ہے اور ان کی حالت ٹھیک ہے اور خطرے کی کوئی بات نہیں لگ رہی ہے۔
بلوچستان میں مصدقہ متاثرین 158
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے چیف سیکرٹری فضیل اصغر کا کہنا ہے کہ صوبے میں 1854 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے 158 مثبت آئے ہیں۔
یاد رہے اس سے قبل بلوچستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 154 تھی اور اب حکام کے مطابق چار مریضوں کے نئے اضافے کے بعد یہ تعداد 158 ہو چکی ہے۔
فضیل اصغر کا کہنا ہے کہ اب تک صوبے میں 19 مریض صحتیاب بھی ہو چکے ہیں جبکہ 139 متاثرین کا علاج تاحال جاری ہے۔
ان 139 متاثرین میں سے ماسوائے ایک خاتون کے باقی تمام مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
بلوچستان میں کورونا وائرس کے پانچ مریض نوکنڈی جبکہ دیگر تمام افراد کوئٹہ میں زیر علاج ہیں۔
چیف سیکرٹری کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے لاکھوں کی تعداد میں ماسک بلوچستان پہنچ جائیں گے جبکہ ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے 60 ہزار حفاظتی کٹس بھی جلد ہی صوبے میں پہنچ جائیں گی۔
انھوں نے بتایا کہ فی الحال دو ہزار حفاظتی کٹ، ماسک اور سینیٹائزرز صوبے میں پہنچ چکے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ دنوں میں صوبے میں غیر روایتی راستوں سے داخل ہونے والے سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پاکستان میں انسانی حقوق کی وزارت کے مطابق لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کے دوران خواتین اور بچوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔
اس ضمن میں ایک ہیلپ لائن متعارف کرائی گئی ہے۔
ہیلپ لائن نمبر 1099
واٹس ایپ نمبر 03339085709
سماجی کارکن نگہت داد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہراسانی کی شکایات کے علاوہ لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کی شکایات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
وزیر اعلیٰ پنجاب: تبلیغی جماعت کی قیادت سے رابطے میں ہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جو ایس او پی ہیں ان کا خیال رکھا جائے گا۔
لاہور میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو ایسے واقعات کی انکوائری کا بھی کہا ہے جن میں تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے ساتھ سختی کی گئی۔
لاک ڈاؤن: وزیراعظم، صوبائی حکومتیں ایک صفحے پر کیوں نہیں
تبلیغ کے مراکز کو قرنطینہ میں تبدیل کرنے کے احکامات
،تصویر کا ذریعہGovt of Sindh
انسپکٹر جنرل پولیس سندھ نے پولیس اہلکاروں کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر اپنے اپنے علاقوں میں تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کا پتا چلایا جائے اور انھیں تبلیغی مراکز کو قرنطینہ میں تبدیل کرتے ہوئے انھیں باہر نہ نکلنے دیا جائے اور نہ کسی نئے فرد کو ان تبلیغی مراکز میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔
ایکسپو سینٹر میں ’کورونا ٹرائی ایج سینٹر‘ قائم کرنے کے احکامات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور ایکسپو سینٹر میں ’کورونا ٹرائی ایج سینٹر‘ قائم کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق اس سینٹر میں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی رہنمائی کے لیے مختلف کاونٹرز قائم کیے جائیں گے اور یہاں پر کورونا کے مشتبہ مریضوں کا مکمل طبی معائنہ کرنے کے بعد انھیں ہسپتال یا قرنطینہ میں بھیجنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کی انتظامیہ کورونا ٹرائی ایج سینٹر میں تمام انتظامی امور سرانجام دے گی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم خان اس سینٹر کے امور کی مکمل نگرانی کریں گے۔
صوبائی وزیر صحت نے یہ احکامات ایکسپو سینٹر میں قائم کورونا ہسپتال کے دورے کے موقع پر جاری کیے۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کوروناوائرس کے مریضوں کو ہسپتال میں صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے مکمل صفائی کانظام وضع کیا جا رہا ہے اور ایکسپو سینٹر میں قائم کی جانے والی تمام طبی سہولیات پر موجود صحت پروفیشنلز کو مکمل طبی سامان فراہم کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کورونا وائرس سے بچنے کے لیے تمام تراحتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کریں۔
بریکنگ, سندھ میں کورونا سے سات ہلاکتیں
سندھ کی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے صوبے میں ایک 70 سالہ مریض کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح سندھ میں ہلاکتوں کی تعداد سات جبکہ ملک میں 25 ہے۔
عذرا پیچوہو کے مطابق مرنے والے شخص کو پیر کو ہسپتال لایا گیا تھا جہاں اس کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا جو پازیٹو آیا۔
ان کے مطابق یہ شخص پہلے سے بیمار تھا اور اسے یہ وائرس مقامی طور پر لگا تھا۔
خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے 60 متاثرین ایران سے آئے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان تیمور خان جھگڑا کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز کے اختتام پر خیبر پختونخوا میں 221 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ان کے مطابق جب ان کی درجہ بندی کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان میں 60 مریض ایران کی سرحد سے صوبے میں داخل ہوئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
43 فیصد پاکستانی کورونا سے بچاؤ کے لیے کوئی احتیاطی تدابیر استعمال نہیں کرتے: گیلپ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
گیلپ سروے کے مطابق 43 پاکستانی کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھا رہے ہیں۔ گیلپ انٹرنیشنل اور گیلپ پاکستان کے سروے کے دوران 28 ممالک میں ہونے والے سروے میں یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
یہ سروے کا انعقاد اسی مہینے میں کیا گیا تھا۔
آپ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کون سی تدبیر پر عمل پیر ہیں؟
سروے کے دوران 26 فیصد پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ وہ اب میڈیکل ماسک استعمال کر رہے ہیں، 13 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ دستانے پہن رہے ہیں، دس فیصد ہاتھوں پر سینیٹائزر استعمال کر رہے ہیں۔ 43 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ بار بار اپنے ہاتھ دھوتے ہیں۔ اس سروے میں 20 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے اپنے گھروں تک محدود ہیں۔
صرف تین فیصد نے اپنے آپ کو قرنطینہ میں رکھنے کا انکشاف کیا جبکہ 43 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سرے سے کوئی احتیاطی تدابیر ہی استعمال نہیں کرتے۔
دیگر ممالک کے نتائج
دنیا بھر میں 33 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اب میڈیکل ماسک استعمال کرتے ہیں، 15 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ دستانوں کا استعمال کرتے ہیں، 54 فیصد ہاتھوں پر سینیٹائزر جبکہ 78 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ بار بار ہاتھ دھوتے ہیں۔ ان میں 54 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ سماجی دوری کے اصول پر عمل پیرا ہو کر گھروں تک ہی محدود ہو گئے ہیں۔ ان میں سے 14 فیصد نے خود کو قرنطینہ میں ڈال رکھا ہے جبکہ نو فیصد کا کہنا ہے کہ وہ سرے سے کوئی احتیاطی تدابیر ہی اختیار نہیں کر رہے ہیں۔
انڈیا کے نتائج
انڈیا میں 70 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کر رہے ہیں۔ 13 فیصد کے مطابق دستانے پہن رہے ہیں۔ 64 فیصد کا کے مطابق وہ سینیٹائزر کا استعمال کر رہے ہیں۔
82 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ بار بار اپنے ہاتھ دھوتے ہیں جبکہ 60 فیصد سماجی دوری اختیار کر کے گھروں سے باہر نہیں نکل رہے۔ انڈیا میں 16 فیصد نے اپنے آپ کو قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے۔
افغانستان کے نتائج
افغانستان میں 74 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ ماسک استعمال کر رہے ہیں۔ 32 فیصد کے مطابق وہ دستانے پہن رہے ہیں۔ 52 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ سینیٹائزر استعمال کر رہے ہیں۔ 80 فیصد کے مطابق وہ بار بار اپنے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
34 فیصد سماجی دوری اختیار کر کے گھروں میں ہیں جبکہ چار فیصد قرنطینہ میں ہیں اور 12 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کی کوئی احتیاطی تدبیر اختیار نہیں کر رہے ہیں۔
بلوچستان میں راشن کی تقسیم کے لیے ضلعی کمیٹیاں تشکیل
لاک ڈاﺅن کے باعث خوراکی اشیا کی قلت کے پیش نظر بلوچستان حکومت نے ڈسٹرکٹ فوڈ سکیورٹی کمیٹیاں قائم کی ہیں۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک اور ڈپٹی ڈائریکٹر محنت وافرادی قوت ممبر ہوں گے۔
کمیٹی ضلع میں دستیاب خوردنی اشیا کا ڈیٹا مرتب کرے گی۔ کمیٹی حکومتی فوڈ پیکج کے لیے مستحق افراد کی نشاندہی کرے گی اور مسحقین میں حکومتی فوڈ پیکج تقسیم بھی کرے گی۔
دفعہ 144کی خلاف ورزی پر ایس ایچ او معطل
،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan
بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں دفعہ 144کے نفاذ کے حوالے سے غفلت برتنے پر ایس ایچ او سٹی کو معطل کیا گیا ہے۔
ایس پی کیچ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ایس ایچ او سٹی گھر میں رہے اور ان لوگوں کی جانب توجہ نہیں دی جو کہ بڑی تعداد میں بینکوں کے اے ٹی ایمزکے باہر جمع رہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق کورونا وائرس کے باعث حکومت نے دفعہ 144کا نفاذ کیا ہے لیکن ایس ایچ او نے غفلت کا مظاہرہ کرکے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کیا ۔
ووہان میں پاکستانی جوڑے کے ہاں صحت مند بچی کی پیدائش
،تصویر کا ذریعہAPP
ووہان میں ایک پاکستانی شہری کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق زچہ و بچہ بالکل صحت مند ہیں۔ پاکستانی جوڑے نے ہسپتال تک لانے اور مشکل صورتحال کے باوجود گھرتک کھانا پہنچانے کے لیے مقامی افراد کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ووہان یونیورسٹی کے طالبعلم عاشق علی اپنی نئی پیدا ہونے والی بچی کا ہاتھ تھامے چینی عوام کا ان سے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
چائنہ اکنامک نیٹ سے بات کرتے ہوئے عاشق علی نے بتایا کہ وہ اور ان کی اہلیہ مشکل صورتحال کے باوجود مقامی افراد کے تعاون کو کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔
عاشق علی کے مطابق وہ وبا کے دنوں میں اپنی اہلیہ کو گھر اکیلے چھوڑ کر اس وائرس پر قابو پانے سے متعلق طریقوں پر تحقیق کے لیے اپنی لیبارٹری سے مسلسل کام میں مشغول رہے۔ عاشق علی 2018 سے چین میں ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان: امدادی پیکج تیار کر رہے ہیں, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلوچستان میں قائم صنعتوں کو سروسز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ دے گی تاکہ پیداوری عمل جاری رہے اور اسکا فائدہ عام آدمی تک پہنچ سکے۔
کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈیلی ویجرز اور غریب لوگوں کے لیے معاونتی پیکج تیار کیا جارہا ہے اور ایسا میکنزم بنا رہے ہیں کہ مستحق لوگوں تک راشن اور امداد پہنچ سکے۔
مخیر افراد کی طرف سے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے
ان کا کہنا تھا کہ صنعت کاروں اور کاروباری لوگوں کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی رفاہی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
کوروناوائرس سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال میں ہر شعبہ کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ایران میں وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات کے فوری بعد حکومت بلوچستان الرٹ ہوا اور صوبائی حکومت نے فوری طور پر تفتان بارڈر سیل کیا۔
ایران نے تعاون نہیں کیا
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ایران حکومت سے بزریعہ وفاقی حکومت زائرین کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کی درخواست کی تاہم ایران نے ہمارے زائرین کو تفتان روانہ کر دیا۔
انھوں نے بتایا کہ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق انتظامات کا آغاز کیا۔ پی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کو فعال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو وفاق، این ڈی ایم اے اور صوبوں کی جانب سے خاطر خواہ معاونت نہیں ملی لیکن ہم نے تفتان میں 5000 زائرین کو سہولیات دیں اور 14 دن قرنطینہ میں رکھنے کے بعد صوبوں کو انکے زائرین ان کے ہاتھ میں دیے۔
پاکستان آنے والوں مسافروں کا ریکارڈ نہیں ہے
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک ماہ میں دیگر راستوں سے پاکستان آنے والے مسافروں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب تک ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے 2000 حفاظتی کٹس خریدی ہیں۔ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جس نے ٹیسٹنگ کے لیے جدید مشین خریدی اور اب دن میں 400 سے 500 ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چمن میں 2000 افراد کے لیے قرنطینہ تیار کیا گیا ہے کوئٹہ میں 50 ایکڑ اور تفتان میں 15 ایکڑ پر ریلیف اینڈ ایمرجنسی سینٹر بنائے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت فوڈ چین کو برقرار رکھنے کے لئے منصوبہ بندی اور اقدامات کر رہی ہے اب تک ڈھائی لاکھ بوری گندم خریدی گئی ہے، جسے اضلاع کو بھجوایا جا رہا ہے خاص طور سے مکران اور رخشاں ڈویڑن میں خوردنی اشیا کی ترسیل اہم ہے جہاں ایران کی سرحد بند ہونے سے اشیا کی قلت ہو سکتی ہے ۔