کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بلوچستان میں 6 نئے کیسز، مقامی منتقلی کا شکار افراد میں ڈاکٹرز اور سکیورٹی گارڈز

    corona

    ،تصویر کا ذریعہget

    بلوچستان میں 6 نئے کیسز کے اضافے کے ساتھ کورونا کی مجموعی پازیٹو کیسز کی تعداد 164 ہوگئی ہے ۔

    میڈیا کوارڈینیٹر برائے میڈیا صوبائی ھیلتھ ڈائریکٹریٹ کورونا وائرس سیل کے مطابق بلوچستان میں مجموعی طور پر 2203 افراد کی اسکریننگ کی گئی۔

    میڈیا کوآرڈینیٹر کے مطابق 1910افراد کے ٹیسٹ کے نتائج نیگیٹو آئے۔ ابھی تک 39افراد کے ٹیسٹ کے نتائج کا آنا باقی ہے ۔

    میڈیا کوآرڈینیٹر کے مطابق بلوچستان کے 33اضلاع میں سے 3 سے اب تک کورونا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    کورونا سے متاثر ہونے والوں میں 6 ڈاکٹرز اور 7سیکورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔

    میڈیا کوآرڈینیٹر کے مطابق 6 ڈاکٹروں اور 7سیکورٹی گارڈز سمیت 30 افراد نے کہیں سفر نہیں کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کورونا مقامی سطح پر بھی پھیل رہا ہے۔

    بلوچستان میں کورونا سے اب تک ایک مریض کی ہلاکت ہوئی جبکہ صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 17ہے ۔

  2. مختلف ممالک نے ’اپریل فولز ڈے‘ منانے سے کیوں روکا؟

  3. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا کے مریض 09، لاک ڈاؤن میں سختی کا فیصلہ

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہM A JARRAL

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ کے بعد لاک ڈاون میں مزید سختی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ریاست بھر میں اشیائے خوردونوش کی دکانوں کو صبح دس بجے سے سہ پہر چار بجے تک کھولا جائے گا.انھوں نے مزید بتایا کہ متعلقہ اداروں کو تمام انٹری پوائنٹس پر مزید سختی کرنے کی ہدایت دی ہے کہ یہاں سے ہر قسم کی گاڑیوں اور پیدل آمدورفت کو بند کیا جائے اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائی گی، ان انٹری پوائنٹس سے صرف مال برار گاڑیوں کو آنے اور جانے کی اجازت ہوگی.

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے بتایا کورونا وائرس کی وبا کے بعد اس خطے میں ستائس ہزار افراد مختلف ممالک سے آئے ہیں جو ہمارے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ اس بنا پر آج پاکستان کے وزیراعظم عمران سے درخواست کی ہے وہ بین الاقوامی پروازوں کو مزید دو ہفتے تک بند رکھیں۔

    kashmir

    ،تصویر کا ذریعہGOVT of Kashmir

    صحافی ایم اے جرال کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے ڈپٹی کمشنر ندیم احمد جنجوعہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ترارڑکھل سے تعلق رکھنے والے شخص محمد منشی جن میں کورونا وائرس کی آج تشخیص ہوئی تھی ان کے خاندان کو سدھنوتی میں قرنطینہ سنٹر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے علاقے کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ محمد منشی کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بھمبر سے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے زائد اقبال کے خاندان کے 7 افراد کو بھمبر میں قرنطینہ سنٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ انکے آبائی علاقے جبی گورانکہ کو پولیس اور فوج کی مدد سے مکمل سیل کر دیا گیا ہے. یاد رہے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے زائد اقبال گزشتہ ماہ برطانیہ سے بھمبر آئے تھے.

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ابھی تک 249 مشتبہ افراد کو قرنطینہ سنٹر لایا گیا ہے جن میں 188 کے ٹیسٹ کے رزلٹ آچکے ہیں جبکہ 61 افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے رزلٹ نہیں آئے ہیں۔ ان کے مطابق 188 میں سے 9 افراد میں کورونا وائرس پایا گیا ہے جبکہ 179 افراد کے رزلٹ نیگیٹو آئے ہیں۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  4. ریسکیو 1122 کا راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں جراثیم کش سپرے

    ریسکیو 1122 کورونا وائرس کے متاثرہ افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ ضلع راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں جراثیم کش سپرے کر رہا ہے

    Rescue 1122

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    Rescue 1122

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    Rescue 1122

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

  5. بریکنگ, ’پاکستان میں مکمل اور جزوی لاک ڈاؤن 14 اپریل تک توسیع‘

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے سلسلے میں جو بندشیں اور پابندیاں عائد کی گئی ہیں انھیں ملک گیر سطح پر 14 اپریل تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں قومی رابطہ کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاق، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے نمائندوں نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے جاری قدغنوں اور بندشوں کا سلسلہ مزید دو ہفتوں کے لیے پورے پاکستان میں جاری رکھا جائے گا۔

    ’اس سے پہلے ملک کی مختلف اکائیوں (صوبوں اور وفاق) نے بندشوں کے حوالے سے الگ الگ فیصلے کیے تھے اور اس حوالے سے الگ الگ تاریخیں چل رہی تھیں، مگر اب سب نے مل کر متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ اگلے دو ہفتوں تک، یعنی یکم اپریل سے 14 اپریل تک، موجودہ صورتحال کو جاری رکھا جائے گا۔‘

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ 14 اپریل سے قبل قومی رابطہ کونسل کی ایک اور میٹنگ ہو گی جس میں اس وقت کے زمینی حقائق دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا عائد کردہ قدغنوں کو کم کیا جائے، مزید بڑھایا جائے یا بدستور اسی سلسلے کو جاری رکھا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ملک میں عائد پابندیاں کورونا کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کو روکنے میں کارگر ثابت ہوئی ہیں۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ بنیادی اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے والی تمام صنعتیں اور صحت کی سہولیات کو کھلا رکھنا بہت ضروری ہے اور تمام اکائیوں نے آج متفقہ فیصلہ کیا ہے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس پر عملدرآمد ہو کیونکہ ملک کے مختلف حصوں سے اس حوالے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

  6. بریکنگ, پی آئی اے کا بین الاقوامی فضائی آپریشن 3 اپریل سے جزوی بحال

    پی آئی اے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت نے پی آئی اے کو جزوی طور پر اپنا بین الاقوامی فضائی آپریشن بحال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    پی آئی اے کے مطابق اس سلسلے میں اب پہلے مرحلے میں کینیڈا اور برطانیہ کے لیے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے پروازیں چلائی جائیں گی۔ ٹورنٹو کے لیے فلائٹ آپریشن تین جبکہ برطانیہ کے لیے چار اپریل سے بحال ہو گا اور ان پروازوں پر فضائی آپریشن کے کی بندش کے دوران پھنس جانے والے مسافروں کو ترجیح دی جائے گی۔

    اس کے علاوہ پی آئی اے پہلے مرحلے میں محدود تعداد میں مسافروں کو واپس بھی لائے گی۔

    واپس آنے والی تمام پروازیں واپس صرف اسلام آباد ایئرپورٹ پر اتریں گی جہاں لاؤنج میں تمام مسافروں کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔

    ان تمام مسافروں کو ٹیسٹ کے نتائج آنے تک اسلام آباد کے مقامی ہوٹلوں میں رکھا جائے گا اور جو مسافر کلیئر ہوں گے انھیں گھر جانے کی اجازت ہو گی جبکہ متاثرہ مسافروں کو قرنطینہ مرکز منتقل کیا جائے گا۔

    پی آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق کمپنی تمام حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرے گی۔ تمام طیاروں میں مکمل طور پر ڈس انفیکشن کی جائے گی۔

    پی آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں مسافروں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’احتیاط کے پیش نظر پی آئی اے کی ویب سائٹ سے گھر رہ کر شفاف طریقے سے ٹکٹوں کی خریداری کو ترجیح دیں۔ اور تمام مسافروں سے التماس ہے کہ ماسک پہن کر آئیں، اس کے بغیر سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔‘

  7. بریکنگ, بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مذہبی اجتماع پر پابندی

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں انتظامیہ نے تبلیغی جماعت کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر مستونگ کے ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی تبلیغی جماعت مسجد کے اندر یا اس کے باہر اجتماع منعقد نہیں کرے گی۔

    حکم نامے کے مطابق اگر کوئی تبلیغی جماعت کسی مسجد میں موجود ہے تو وہ تاحکم ثانی اسی مسجد کے اندر رہے گی اور کوئی مجمع یا نقل و حرکت نہیں کرے گی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں تعزیرات پاکستان کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGOVT OF BALOCHISTAN

  8. بریکنگ, کراچی میں 33 نئے مریض، پاکستان میں متاثرین 2121 ہوگئے, 27 افراد ہلاک جبکہ 85 سے زیادہ صحت یاب ہوئے ہیں

    سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بدھ کو کراچی میں کورونا کے 33 مریضوں کی تصدیق کی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 709 تک پہنچ گئی ہے۔

    اس اضافے کے بعد پاکستان میں بھی متاثرین کی کل تعداد 2100 سے بڑھ گئی ہے۔

    وزیرِ صحت کے مطابق بدھ کو تین مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 55 ہو گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ کراچی میں اس وقت 307 متاثرین میں سے 268 زیرِعلاج ہیں جبکہ 31 صحت یاب اور آٹھ ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

    حیدرآباد میں متاثر ہونے والوں کی تعداد 128 ہے جن میں سے بیشتر تبلیغی جماعت کے ارکان ہیں۔ حیدرآباد میں بھی ایک شخص صحت یاب ہوا ہے۔

    اس کے علاوہ جیکب آباد اور دادو میں بھی ایک ایک مریض ہے۔

    ایران سے آنے والے زائرین میں سے سکھر کے قرنطینہ میں رکھے گئے 265 مریضوں میں سے 23 صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ لاڑکانہ کے قرنطینہ میں سات زائرین میں کورونا وائرس پایا گیا۔

    ڈاکٹر عذرا کے مطابق اب تک سندھ بھر میں 6948 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

  9. بریکنگ, اندورنِ ملک پروازیں اب 11 اپریل تک معطل رہیں گی

    پاکستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اندرونِ ملک جانے والی تمام پروازوں کی معطلی کی مدت میں توسیع کی جائے۔

    ملک بھر میں پروازیں 02 اپریل تک معطل کی گئی تھیں تاہم اب 11 اپریل تک اندورنِ ملک کے لیے تمام پروازیں معطل رہیں گی۔

    تاہم ہوا بازی کے محکمے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اسلام آباد کے بین الاقوامی اڈے سے گلگت اور سکردو کے لیے پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

    اس دوران صرف کارگو جہاز ضروری کلیئرنس کے بعد پرواز کر سکیں گے۔

  10. بریکنگ, گلگت بلتستان میں بھی مزید تین مریض، تعداد 187 ہو گئی, پاکستان میں کل متاثرین 2088 ہو گئے

    گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق علاقے میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 187 تک پہنچ گئی ہے۔

    صحافی زبیر خان کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ ابھی 250 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا باقی ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹیسٹنگ کی سہولت میں اضافہ کرنے کے لیے پاکستانی فوج کے تعاون سے گلگت بلتستان میں دو ٹیسٹ سینٹر بنائے جا رہے ہیں۔

    گلگت بلتستان میں نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد ملک میں متاثرین کی کل تعداد 2088 ہو گئی ہے۔

    اب تک ملک میں 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے دو کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔

  11. بریکنگ, پنجاب میں مزید ایک ہلاکت اور نئے مریضوں کی تصدیق، پاکستان میں کل تعداد 2085, 27 افراد ہلاک جبکہ 83 صحت یاب ہو چکے ہیں

    پنجاب میں بدھ کو کورونا کے 40 نئے مریضوں کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 748 تک پہنچ گئی ہے اور وہ بدستور ملک میں سب سے متاثرہ صوبہ ہے۔

    اس اضافے کے بعد پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 2085 ہو گئی ہے۔

    بدھ کو پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ایک 83 سالہ مریض کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے محکمۂ صحت کے ترجمان کے مطابق یہ مریض برطانیہ سے آیا تھا اور راولپنڈی کے بےنظیر بھٹو ہسپتال میں زیرِ علاج تھا۔ اس ہلاکت کے بعد اب تک ملک میں 27 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 80 سے زیادہ صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

    محکمہ صحت کے مطابق ڈی جی خان میں207 زائرین، ملتان میں 91 زائرین، رائے ونڈ قرنطینہ میں 41 اور فیصل آباد قرنطینہ مرکز میں موجود 5 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ لاہور میں 167، گجرات میں 86، راولپنڈی میں 46، جہلم میں 28، ننکانہ صاحب میں 13، گوجرانوالہ میں 12، فیصل آباد میں نو، سرگودھا میں سات، حافظ آباد اور ڈی جی خان میں پانچ، پانچ، منڈی بہاؤالدین میں چار، میانوالی، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں تین،تین متاثرین ہیں جبکہ سرگودھا، ملتان، ناروال، لودھراں اور وہاڑی میں دو دو اور قصور، اٹک، خوشاب ، بہاولپور اور لیہ میں ایک ایک مریض ہیں۔

    پنجاب میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد نو ہے جبکہ 5 مریض صحت یاب ہو کر ہسپتال سے فارغ ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق پنجاب میں آج صبح تک 16061 مشتبہ افراد کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

  12. لاہور کی ’فرینڈلی پولیس‘، شہریوں کے ہاتھ دھلواتے اہلکار

    lahore

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Police

    پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس کی طرف سے 100 مقامات پر پبلک سروس کا سلسلہ جاری ہے اور سی سی پی او ذوالفقار حمید کی ہدایت پر پولیس نے واشنگ سٹیشن قائم کیے ہیں۔

    lahore

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Police

    ان مقامات پر پولیس اہلکار راہ گیروں کے ہاتھ صابن اور سینی ٹائزر سے صاف کراتے ہیں۔

    lahore

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Police

    لاہور کے شہریوں نے پولیس کی فرینڈلی پولیسنگ پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

    تاہم سی سی پی او نے ہدایت کی کہ دفعہ 144کے تحت شہری بلاوجہ گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور صرف ناگزیر حالات میں باہر جانے پر شہری پولیس سروس سے ضرور فائدہ اٹھائیں۔

    lahore

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Police

  13. بریکنگ, پہلے ہزار متاثرین ایک ماہ میں، اگلے ہزار متاثرین ایک ہفتے میں

    پاکستان میں کووڈ19 کے پہلے مریض کی تشخیص 26 فروری کو ہوئی تھی۔ اس کے بعد بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا اور 24 مارچ تک پاکستان میں ہزار مریضوں کی تشخیص ہو چکی تھی۔

    10 مارچ سے 31 مارچ تک اوسطً 101 مریض فی دن کے حساب سے پاکستان میں کووڈ19 کے متاثرین کی تشخیص ہوئی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہNational Institute of Health Pakistan

    تاہم اس کے بعد باقی دنیا کی طرح اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ یکدم ہوا اور جہاں پہلے ہزار مریض تقریباً ایک ماہ میں سامنے آئے، اگلے سات دنوں میں یہ تعداد دو ہزار تک پہنچ گئی یعنی سات دن میں ہزار مریضوں کی تشخیص ہوئی۔

    قومی ادارہ برائے صحت کی ویب سائٹ پر موجود شماریات سے واضح ہوتا ہے کہ 10 مارچ کے بعد سے پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے اور صرف 21 دن، یعنی 31 مارچ تک یہ تعداد دس متاثرین سے 2039 متاثرین تک پہنچ گئی یعنی روزانہ کی اوسط 101 مریض فی دن۔

    corona

    ،تصویر کا ذریعہNational Institute of Health Pakistan

    اسی عرصے میں کل متاثرین میں سے 26 افراد کی موت واقع ہوئی جبکہ کل 82 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔ قومی ادارہ برائے صحت اور صوبوں کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 31 مارچ تک پاکستان میں کل 27 ہزار ٹیسٹس ہو چکے ہیں جن میں تقریباً 15 ہزار پنجاب میں جبکہ سندھ میں چھ ہزار ٹیسٹس ہوئے ہیں۔

  14. ایکسپو سینٹر لاہور میں ایک ہزار بستروں کا فیلڈ ہسپتال تیار

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایکسپو سینٹر میں 1000 بستروں پر مشتمل فیلڈ ہسپتال تیار ہو گیا ہے۔ یہ ہسپتال نو دن کی مدت میں ہنگامی بنیادوں پر تیار کیا گیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. ماہرہ خان کا وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں حصہ ڈالنے کا وعدہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. کراچی میں کورونا ٹیسٹ کے لیے ڈرائیو تھرو کی سہولت

    کراچی میں عوام کی سہولت کے لیے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کروانے کے لیے ڈرائیو تھرو سہولت شروع کر دی گئی ہے۔

    کراچی جنوبی کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق سول لائنز میں قائم کی گئی اس سہولت کا مقصد ہے کہ عوام کو کورونا کی تیز ترین سکریننگ اور ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    یہاں ٹیسٹ کے لیے مواد دینے میں لوگوں کو صرف 10 منٹ کا وقت درکار ہوتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سہولت کی وجہ سے کاروں اور موٹر سائیکل سواروں کو ایسی لیباریٹریز کے اندر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی جہاں ممکنہ طور پر کورونا وائرس ہو سکتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. اسلام آباد کی رمشا کالونی کو ڈی سیل کر دیا گیا

    پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد کے علاقے ایچ نائن رمشا کالونی کی ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔

    اس علاقے کو ڈی سیل کرنے کا نوٹیفیکیشن ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے جاری کیا۔

    علاقے کو کورونا وائرس کے مریض سامنے آنے کے بعد سیل کیا گیا تھا۔

    تاہم ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ رمشا کالونی میں شہر کے باقی تمام علاقوں کی طرح دفعہ 144 نافذ رہے گی۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہDC ISLAMABAD

  18. پی آئی اے کا طیارہ امدادی سامان لینے کے لیے بیجنگ روانہ

    pia

    ،تصویر کا ذریعہPIA

    پاکستان کی قومی ائیرلائنز کا خصوصی طیارہ حکومت کی ہدایت پر امدادی سامان لانے کے لیے چین کے دارالحکومت بیجنگ روانہ ہو گیا ہے۔ یہ پرواز بدھ کو چین سے 52 ٹن سے زیادہ وزن کا سامان لے کر وطن واپس آئے گی جس میں حفاظتی لباس اور ضروری طبی ساز و سامان، حفاظتی ماسک، ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر آلات شامل ہوں گے۔ اسلام آباد سے روانہ ہونے والی پرواز میں پائلٹس کے علاوہ سات رکنی عملہ شامل ہے جو سامان کی لوڈنگ کرے گا۔

  19. شاہ محمود قریشی: بیرونِ ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانا حکومت کی ترجیح ہے

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک موجود وہ پاکستان جو وطن واپسی کے منتظر ہیں، انھیں واپس لانا حکومت کی ترجیح ہے۔

    اسلام آباد میں بدھ کو ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزارتِ خارجہ میں ایک کرائسز مینیجمنٹ سیل قائم کر دیا گیا ہے جو دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کو یقینی طور پر باہر موجود پاکستانیوں کے اعداد و شمار معلوم ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے پورے پروٹوکول کی آزمائش کی جا چکی ہے جبکہ ہوائی اڈوں پر کورونا کے متاثرین کے لیے قرنطینےاور دیگر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

  20. لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کے لیے وزیرِ اعظم کا ریلیف فنڈ قائم

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پیشِ نظر کیے گئے لاک ڈاؤن سے جن لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے، ان کی فلاح کے لیے ریلیف فنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔

    وزیرِ اعظم کا کورونا ریلیف فنڈ 2020 نیشنل بینک آف پاکستان کراچی کی مرکزی برانچ میں کھولا گیا ہے اور اس کا نمبر 786 786 4162 ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ سب مل کر اس فنڈ میں حصہ ڈالیں تاکہ جن لوگوں کو لاک ڈاؤن نے افلاس کے کنارے لا کھڑا کیا ہے، ان کی دیکھ بھال کی جا سکے۔