بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا کی وبا کے پیشِ نظرقیدیوں کی رہائی کا عدالتی حکم

،تصویر کا ذریعہM A Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی عدالت عالیہ کے قائم مقام چیف جسٹس اظہر سلیم بابر کی سر براہی میں قائم ہونے والے لارجر بنچ نے ایسے قیدی جن کے مقدمات ابھی زیرِ سماعت ہوں اور ان کی سزائیں دس سال سے زائد ہوں ان کو دو ماہ کی مشروط جبکہ جن کی سزائیں دس سال سے کم ہوں ان کی شیورٹی اور پرسنل بانڈ پر رہائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ مختلف جرائم میں سزا کاٹنے والے قیدیوں کی جانب دائر ضمانت کی درخواست پر سنایا ہے۔
قیدیوں کی جانب سے پیش ہونے والے ایک وکیل اور سنٹرل بار مظفرآباد کے صدر ناصر مسعود مغل نے صحافی ایم اے جرال سے بات کرتے ہوئے کہا کورونا وائرس کے پھیلاو کے سبب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی مختلف جیلوں میں قید قیدیوں کی جانب سے عدالتِ العالیہ میں ضمانت کی درخواست کے ذریعے انسانی ہمدردی کی بنیادوں رہائی کی استدعا کی گی تھی جس پر عدالت کے لاجر بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے اس خطے کے انسپکٹر جنرل پولیس و ڈائریکٹر صحت، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جیل خانہ جات اور کمشنر مظفرآباد کو احکامات دیے ہیں کہ دس سال سے زائد عرصے کے لیے سزا پانے والے قیدیوں کو مشروط بنیادوں پر دو ماہ کے لیے رہا کیا جائے اور ان کی یہ رہائی یا اس میں توسیع آنے والے حالات کے مطابق کی جائے گی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ اس فیصلہ کا اطلاق سزایافتہ یا انسداد دہشت گردی کی دفعات میں سزا کاٹنے والے قیدیوں پر نہیں ہو گا اور اس حوالے سے حکومت کو فیصلہ کرنے کا حق دے دیا ہے۔
















