کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. سندھ: وائرس کی مقامی طور پر منتقلی روکنے کے لیے مزید اقدامات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز کی مقامی سطح پر منتقلی مجموعی کیسز کا 10 فیصد ہوگئی ہے۔

    وزیراعلی ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی منتقلی ایک خطرناک رجحان ہے اور اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنا ہوگا جس کے لیے کریانہ کی دکانوں اور سٹورز کے اوقات میں سنیچر سے تین گھنٹوں کی کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سکھر اور لاڑکانہ میں زائرین کے علاوہ کورونا وائرس کے 168 کیسز ہوئے ہیں ان میں سے 102 مقامی سطح پر منتقلی کے ہیں۔

    انھوں نے کہا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی ٹرانسمیشن کے کیسز اب بھی بڑھ رہے ہیں لہذا ہم سب کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کرنا ہوگا بصورت دیگر اس پر قابو پانے کی صورتحال میں نہیں ہونگے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے عوام کو جاری صورتحال کی سنجیدگی کو سمجھنا ہوگا۔ انھوں نے کہا ہم نے شام 8 بجے سے صبح 8 بجے تک دکانیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن لوگوں نے اس کا غیر ضروری فائدہ اٹھانا شروع کردیا اور اِدھر اُدھر گھومتے رہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کریانہ وغیرہ سمیت دکانیں سنیچر سے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی۔

  2. خیبرپختونخوا: کورونا وائرس کے پیش نظر لگائی گئی پابندیوں میں توسیع

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    صوبہ خیبرپختونخوا کی کابینہ نے تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات کی بندش میں توسیع کی منظوری دیدی ہے اور تمام تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رہیں گے۔

    صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر کی جانب سے جاری تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ:

    • صوبے میں سرکاری تقریبات پر بھی 30 اپریل تک پابندی ہو گی اور عام تعطیل میں 5 اپریل تک توسیع کر دی گئی۔
    • انتظامیہ نے شادی بیاہ اور نجی تقریبات پر پابندی میں 30اپریل تک توسیع کی ہے۔
    • بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں منڈیاں، عرس وغیرہ 30اپریل تک بند رہیں گے۔
    • ملازمتوں میں بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ، انٹرویو 31 مئی تک معطل ہوں گے۔
    • مارکیٹوں کی بندش میں 10 اپریل تک توسیع کر دی گئی تاہم کورئیر سروس اور منی ٹرانسفر اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
    • انٹرا اور انٹرڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ 5 اپریل تک معطل رہے گی۔
    • ضروری محکموں کے علاوہ عام تعطیل میں 5 اپریل تک توسیع۔
    • تمام تدریسی اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کی opds اور ڈنٹل سروسز کو 5اپریل تک بند کرنے کی منظوری دیدی گئی۔
  3. کورونا وائرس کے خلاف مہم: موبائل فون کمپنیوں کے خصوصی اقدامات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. پنجاب: سنیچر سے تمام ضروری اشیا کی دکانیں رات 8 بجے بند ہو جائیں گی

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    پنجاب بھر میں گروسری سٹورز، جنرل سٹورز اور کریانہ کی دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی جانب سے کیے جانے والے فیصلے پر سنیچر سے عملدرآمد ہوگا -

    تاہم وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر گُڈز ٹرانسپورٹ کو نقل و حمل کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مسافر بردار گاڑیوں پر پابندی برقرار رہے گی-

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    صوبائی حکومت نے میڈیا کو جاری کیے گئے تحریری بیان میں بتایا ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں ہاٹ سپاٹ کی چیکنگ کا نظام سخت کرنے کی ہدایت کی ہے اور کورونا وائرس کے حوالے سے انتہائی حساس علاقوں کی نشاندہی کر کے ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جائے-

    حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کورونا کیس والے علاقوں میں نقل وحرکت کو محدود کیاجائے-

    وزیراعلی کا کہنا ہے کہ غریب افراد کے لیے راشن کا بندوبست کرنے کے حوالے سے انتظامات کو جلد حتمی شکل دی جائے-

    حکام کا کہنا ہے کہ انتہائی غریب افراد کے لیے معاشی پیکیج تیار کررہے ہیں اور وزیرخزانہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کل اس ضمن میں بریفنگ دے گی-

    زائرین کی اپنے گھروں میں روانگی کے بعد ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ مراکزکو جراثیم کش سپرے سے صاف کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

  5. عمران خان: اب کوئی علاج کے لیے باہر نہیں جائے گا

    وزیراعظم نے گذشتہ شب ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے کورونا وائرس کے مریض کی ہلاکت کے واقعے کے بارے میں کہا کہ میو ہسپتال کی انکوائری ہوگی۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو ابھی ڈیڑھ سال ہوا ہے اس سے پہلے ایسی حکومتیں تھیں کہ تیس سال اقتدار میں رہنے والے لوگ بھی علاج کے لیے باہر جاتے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی علاج کے لیے باہر نہیں جا سکتا اب ہم اپنے ہسپتال ٹھیک کر لیں گے۔

    وزیراعظم نے معروف فیشن برینڈ ماریا بی کے مالکان کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ وزیراعظم نے ان کی رہائی میں مدد کی۔

  6. شہباز شریف: لاک ڈاؤن کو یقینی بنائیں!

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں چین کے شہر ووہان حوالہ دیتے ہوئے جو کہ کورونا وائرس کا مرکز تھا کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کو یقینی بنایا جائے۔

    اپنی ٹویٹ میں انھوں نے کہا اگر کورونا ہر طرف پھیل گیا تو کیا ہو گا چیزیں کنٹرول سے باہر ہو جائیں گی۔

    لاک ڈاؤن کو صحیح معنوں میں یقینی بنائیں۔

  7. بریکنگ, عمران خان: چار اپریل سے بیرون ملک سے واپس آنے کی اجازت ہوگی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چار اپریل سے لوگوں کو بیرون ملک سے واپس آنے کی اجازت دے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سکریننگ کے بغیر کسی کو نہیں آنے دیا جائے گا اور انھیں تھوڑی تھوڑی تعداد میں آنے دیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ شکر ہے کہ ہم نے بیرون ملک سے پاکستانیوں کی ملک واپسی کے حوالے سے پریشر نہیں لیا تھا ورنہ یہ وبا زیادہ پھیل جانی تھی۔

  8. بریکنگ, امداد کی تقسیم کب شروع ہو گی؟

    imran

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    وزیراعظم عمران خان سے پوچھا گیا کہ 2 ارب روپے کے جس فنڈ کا گذشتہ دونوں اعلان کیا گیا تھا اس کی تقسیم کب شروع ہو گی؟

    جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سوا کروڑ گھرانوں کو چار مہینے میں براہ راست پیسہ دے دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا ٹاییگرز لوگوں کی نشاندہی کریں گے اگر مزید لوگ ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایک سینٹرل ڈیٹا بنایا جائے گا تاکہ سب کو مساوی طور پر پیسہ ملے۔

    اپنی گفتگو میں وزیراعظم نے تسلیم کیا ابھی ملک میں مزدور طبقے کے اعدادوشمار معلوم نہیں ہیں۔

  9. عمران خان: میڈیا کی آزادی کے لیے کھڑے ہیں

    وزیراعظم نے میڈیا اور معاشرے کے دیگر طبقات کے کردار کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت میڈیا کی آزادی کے لیے کھڑی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں سوشل میڈیا طاقت ہے۔ اس وقت جو بھی عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گا وہ خود ہی ناکام ہو جائے گا۔

  10. وزیرِ صحت: 61 فیصد کیس 21 سے 50 برس کے درمیان ہیں

    zafar mirza

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/PBC_urdu

    وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 62 فیصد مریضوں کی عمر 21 سے 50 سال تک ہے۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجوہات ابھی معلوم نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے دنیا کے کچھ ممالک کا حوالہ دیا جہاں اس وائرس نے عمر رسیدہ افراد کو زیادہ متاثر کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 1233 مصدقہ کیسز اب تک سامنے آئے ہیں۔

  11. بریکنگ, پنجاب حکومت کا کورونا کے مریض کی ’پراسرار‘ ہلاکت پر انکوائری کا حکم

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جمعرات کے روز کووڈ 19 سے ہونے والی چوتھی ہلاکت ہو ئی تاہم اگلے ہی روز اس حوالے سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی چند ویڈیوز کے بعد پنجاب حکومت نے اس حوالے سے انکوائری کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں لاہور کے میو ہسپتال کی انتظامیہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے مریض کی دیکھ بھال کے معاملے میں غفلت برتی اور انھیں بستر کے ساتھ باندھے رکھا۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مریض کے ہاتھ بستر کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ بار بار یہ کہہ رہ ہیں کہ میرے بھائی کو بلا لو میں کی نجی ہسپتال میں علاج کروا لوں گا میں نہیں علاج کروانا یہاں۔

    اسی وارڈ میں موجود ایک مریض جن کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس 70 سالہ مریض کے ہاتھ بستر سے اس لیے باندھے گئے تھے کیونکہ وہ بار بار آکسیجن اتار دیتے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ صبح جب نرس وارڈ کا چکر لگانے آئیں تو مریض نے بیت الخلا جانے کی گزارش کی جس کے بعد عملہ انھیں وہاں تک لے گیا جہاں کافی وقت گزرنے کے بعد بھی جب وہ باہر نہ آئے تو عملے نے جا کر دیکھا تو وہ زمین پر گرے ہوئے تھے اور ہلاک ہو چکے تھے۔

    ایک نجی ٹی وی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے میو ہسپتال کے سی ای یو اسد اسلم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مریض دراصل دیگر ذہنی مسائل کا شکار بھی تھے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر ایسے مریضوں کو ہم نہیں باندھیں گے تو یہ بھاگ جاتے ہیں، اور کل شام کو بھی انھوں نے ایسا ہی کیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ مریض بار بار یہی چلا رہے تھے کہ مجھ پر جن آ رہے ہیں مجھے یہاں سے نکالو۔

    سی ای او میو ہسپتال کا مزید کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مریضوں کے ساتھ ہمارے پاس باندھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچ جاتا کیونکہ اس سے پہلے بھی مریضوں کے فرار ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس مریض میں کووڈ 19 کی علامات بہت معمولی تھیں تاہم کیونکہ سارے مثبت کیسز کو قرنطینہ کرنے کی شرط ہے اس لیے انھیں بھی اس وارڈ میں رکھا گیا تھا۔

    وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ سی ای او میو ہسپتال کا ایک مؤقف ہے جبکہ ویڈیو ایک دوسری کہانی بتا رہی ہے اس لیے اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے انکوائری کی ہدایت پہلے ہی دی جا چکی ہے اور اگر ہسپتال کے عملے کی جانب سے کوئی غفلت برتی گئی ہے تو ہم ضرور کارروائی کریں گے۔

  12. عمران خان: پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے

    وزیر اعظم کے مطابق پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے، کورونا سے زیادہ خطرہ اس سے ہے کہ ہم گھبرا کر خوف میں فیصلے کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی وجہ نہیں ہے لیکن آٹے کی قیمت اوپر چلی گئی ہے۔‘

  13. عمران خان: مربوط نظام اور ڈیٹا ہو گا

    وزیراعظم نے کہا: ’ہم سب کو رجسٹرڈ کریں گے اور بتائیں گے کہ وہ کن کن علاقوں میں کام کر سکتے ہیں تاکہ مربوط نظام مرتب ہو۔‘

    انھوں نے بتایا کہ لوگ خود پیسے خرچ کریں گے لیکن ہم انھیں ایک نظام کے ذریعے بتائیں گے کہ وہ کہاں کہاں جا سکتے ہیں۔

    وزیراعظم نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پہلے سب لوگ ایک ہی علاقے میں پہنچ جاتے تھے مربوط سسٹم سے یہ ٹھیک ہو جائے گا۔

  14. عمران خان: بیرون ملک پاکستانی عطیہ دیں

    پاکستان کے وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پیغام دیا کہ وہ آنے والے دنوں میں سٹیٹ بینک میں کھلنے والے اکاؤنٹ میں ڈالرز جمع کروائیں۔

    وزیرِ اعظم عمران خان کے مطابق سٹیٹ بینک میں ایک نیا اکاؤنٹ کھولا جائے گا جس میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ڈالر جمع کرا سکیں گے تاکہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں۔

    انھوں نے بتایا کہ بدھ تک سٹیٹ بینک میں اکاؤنٹ کے حوالے سے اقدامات ہوں گے۔

  15. عمران خان: کورونا ٹائیگر فورس کے لیے رجسٹریشن 31 مارچ سے

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کورونا ٹائیگر فورس نوجوانوں پر مشتمل ہو گی جس کی رجسٹریشن 31 مارچ سے شروع ہو گی۔

  16. عمران خان: چین سے کوئی کیس نہیں آیا

    وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کا کرم ہے کہ ہمارے میں میں اس طرح کورونا نھیں پھیلا جس طرح دوسرے ممالک میں پھیلا۔

    ان کا کہنا ہے کہ چین سے کورونا کا کوئی کیس پاکستان منتقل نہیں ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں صرف نو لوگ کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے۔

  17. بریکنگ, وزیراعظم عمران خان: اشیا اور سامان کی نقل و حمل پر پابندی نہیں

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ گڈز ٹرانپسورٹ یعنی اشیا کی نقل و حمل کو نقل و حرکت کی آزادی ہو گی۔

    انھوں نے بتایا کہ چاروں صوبوں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ مشکل فیصلے ہیں۔ وائرس کو روکتے روکتے ہم اپنے ملک میں یہ حالات نہ پیدا کر دیں کہ لوگ بھوک سے بے حال ہوں۔

    انھوں نے بتایا کہ کھانے پینے کی اشیا سے متعلق فیکٹریوں کو بھی پابندی نہیں ہوگی۔

  18. عمان سے آنے والا پاکستانی نوجوان کورونا وائرس سے ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    corona virus

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک نوجوان اپنی شادی کے ایک روز بعد انتقال کر گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے تدفین سے پہلے میت کا کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کیے اور جمعہ کو ان کا نتیجہ وہ مثبت آیا ہے۔

    اس کے بعد حکام نے متعلقہ علاقے کے دو دیہاتوں کو قرنطینہ قرار دے دیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی کمشنر محمد عمیر نے بی بی سی کو بتایا کہ مضافاتی علاقے سید نگر اور ٹیکن کو قرنطینہ قرار دیا گیا ہے اور ان دو دیہاتوں کی آبادی دو دو ہزار ہے۔

    ان دیہاتوں سے وفات پا جانے والے شخص کے آٹھ رشتہ داروں کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جبکہ مذید کے حاصل کیے جا رہے ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈاکٹر حافظ فاروق گل اور ان کی ٹیم نے کل رات اس علاقے میں متاثرہ افراد کے نمونے حاصل کیے اور ان افراد کی نشاندہی کی جن کےمتاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطہ رہا ہے۔

    di khan

    ڈاکٹر حافظ فاروق گل نے بتایا کہ انھیں اس بات پر زیادہ تشویش ہے کہ یہ شخص آٹھ فروری کو عمان سے پاکستان آیا تھا اور اس شخص نے اپنے رشتہ داروں کو کسی قسم کی بیماری کے کوئی آثار نہیں بتائے۔

    انھوں نے بتایا کہ 22 مارچ کو اس شخص کو تکلیف کی علامات ظاہر ہوئیں اور انھیں سول ہسپتال کے ٹراما سنٹر لایا گیا جہاں انھیں طبی امداد فراہم کی گئی لیکن دو روز بعد پھر تکلیف ہوئی تو انھیں ملتان لے جایا گیا جہاں 24 مارچ کو ان کا انتقال ہوگیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس میں وہ تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا یہ ٹریول ہسٹری کی بنیاد پر متاثر ہوا یا پاکستان آنے کے بعد ان کا رابطہ کسی متاثرہ شخص سے ہوا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے بتایا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کے کل تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 176 ہو گئی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس میں مبتلا 53 مذید افراد کی تصدیق ہوئی ہے خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کی کل تعداد 716 ہے۔

  19. وزیراعظم کی سربراہی میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. بریکنگ, کورونا: پنجاب میں چوتھی، ملک میں 10ویں ہلاکت کی تصدیق

    جمعہ کے روز پاکستان میں کووڈ19 سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔

    آج پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ صحت کی جانب سے چوتھی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    لاہور سے ہمارے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق چوتھی ہلاکت لاہور کی میو ہسپتال میں جمعرات کے روز ہوئی تاہم محکمہ صحت کی جانب سے اس کی تصدیق آج کی گئی ہے۔

    اب تک پنجاب میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے تین لاہور جبکہ ایک راولپنڈی میں ہلاک ہوئے۔

    پاکستان میں اب تک صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ چار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا میں تین جبکہ سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔