کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. سندھ: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی، 1,362 افراد گرفتار

    سندھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ سندھ میں پولیس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے مرتکب 408 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    سندھ پولیس کے مطابق لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گذشتہ روز 108 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر گذشتہ تین روز میں سندھ پولیس نے خلاف ورزی کے مرتکب 1,362 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مقدمات کی تعداد 351 تک جا پہنچی ہے۔

    صوبائی دارالحکومت کراچی میں اب تک 712 افراد گرفتار ہوئے ہیں، لاڑکانہ میں 390، سکھر میں 116، حیدرآباد میں 98، میرپور خاص میں 37 جبکہ بینظیر آباد میں نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  2. پشاور: کورونا وائرس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ

    Peshawar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے شہر میں دو ہفتوں کے لیے پابندی عائد کر دی۔

    پشاور شہر میں ہر قسم کے سماجی، مذہبی یا دیگراجتماعات پر پابندی عائد ہو گی۔

    ڈپٹی کمشنر کے ترجمان کے مطابق آئندہ دو ہفتوں کے دوران سرکاری یا ذاتی جگہوں پر ہر قسم کے مقاصد کے لیے جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔ پابندی کا اطلاق7 اپریل تک ہو گا۔

    ترجمان کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت کاروائی کی جائے گی۔

    پابندی کا اطلاق ہسپتالوں، کلینکس، لیبارٹری، فارماسیوٹیکل فیکٹری اور میڈیکل سٹوروں کے دوران ڈیوٹی ملازمین پر نہیں ہو گا۔ پابندی کا اطلاق قانونی نافذ کرنے والے اداروں کے افراد پر نہیں ہو گا۔

    اس کے علاوہ اپنے رہائشی علاقوں میں اشیا خورد نوش اور ادویات خریدنے والے اور دکانوں پر کام کرنے والے افراد بھی مثتشنیٰ ہوں گے۔

  3. سندھ میں رات کو باہر نکلنے پر پابندی، ’کرفیو بھی لگا سکتے ہیں‘

    sindh

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں محکمہ داخلہ سندھ نے اعلان کیا ہے کہ رات 8 بجے کے بعد کسی کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    محمکہ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تمام گلی، محلہ، بازاروں میں رات 8 بجے کے بعد کسی بھی قسم کے کاروبار کی اجازت نہیں ہوگی، نہ ہی کسی کو بھی سڑکوں پر آنے کی اجازت ہو گی۔ سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پورے صوبے میں 23 مارچ سے 15 روز کے لیے لاک ڈاؤن کر رکھا ہے، اس دوران تمام تجارتی مراکز، پارکس اور تفریحی مقامات بند ہیں۔

    اب سندھ حکومت نے شہریوں کی نقل و حرکت کو مزید محدود کرنے لے لیے لاک ڈاؤن مزید سخت کردیا ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بدھ سے 13 روز کے لیے صوبے میں رات 8 سےصبح 8 بجےتک کھانے پینے کی اشیا اور پرچون کی دکانیں بھی بند رہیں گی تاہم ہسپتال 24 گھنٹے کام کرتےرہیں گے جب کہ صرف ہسپتالوں کے قریب واقع میڈیکل سٹورز کو ہی کھلنے کی اجازت ہوگی۔

    محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق تمام فیکٹریاں بھی 13 روز تک بند رہیں گی تاہم کھانے پینے کی اشیا بنانے والی فیکٹریوں کو کام کرنے کی اجازت ہوگی جب کہ ادویات بنانے والی فیکٹریاں بھی کام جاری رکھ سکیں گی۔

    محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس قادر شاہ کا کہنا ہے کہ اگر شہری گھروں میں نہ بیٹھے تو ایک ماہ تک کرفیو لگا سکتے ہیں۔

    اویس قادر شاہ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ سندھ حکومت لوگوں کو کورونا وائرس سے بچانا چاہتی ہے لیکن کچھ لوگ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

  4. مذہبی علما کا مساجد کھلی رکھنے اور باجماعت نماز جاری رکھنے پر اتفاق

    mosque

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں پانچوں مکاتب فکر کے علما اور مدارس نے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں مساجد کھلی رکھی جائیں گی جن میں پانچ وقت نماز باجماعت ادا کی جائے گی۔

    اعلامیے کے مطابق مسجد میں نماز پرھنے والے لوگ وضو گھر سے کر کے آئیں گے۔ اور نماز کی سنتیں گھر میں پڑھی جائیں گی تاکہ مساجد میں نماز کے مختصر دورانیے سے بیماری کے پھیلاؤ کے اندیشے کو کم کیا جا سکے۔

    اعلامیے کے مطابق اگر طبی وجوہات کی وجہ سے نمازیوں کی تعداد پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد کی جاتی ہے یا کسی خاص عمر کے افراد کو مسجد جانے سے منع کیا جاتا ہے تو ان افراد کو معذور سمجھا جائے گا۔

    اعلامیہ میں ایسے شہریوں سے مساجد میں نہ آنے کی اپیل کی گئی جنہیں خود میں وائرس کا شبہ ہو، یا انہیں کھانسی، نزلہ اور بخار ہو۔ جبکہ ایسے افراد کو بھی منع کیا گیا جو پچاس سال سے زائد العمر ہیں یا بیمار ہیں۔ انہیں ترکِ جماعت کا گناہ نہیں ہوگا۔

    علما کے اعلامیے کے مطابق ایسے نوجوان جو بزرگوں کی تیمارداری میں مصروف ہیں وہ بھی گھروں پر نماز پڑھیں۔

    علما کے اعلامیے کے مطابق ’جماعت گھر والوں بلکہ کسی ایک محرم خاتون کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے تاہم اگر کسی کو مزید عذر ہو تو تنہا نماز پڑھ لے۔‘

    اعلامیے میں مساجد کی صفائی اور سینیٹائزرز کی فراہمی کی ہدایت کی گئی۔

    اعلامیے مںی کہا گیا ہے کہ جمعے کی نماز سے قبل مختصر خطبے میں صرف پانچ منٹ کے لیے کورونا وائرس سے متعلق رہنمائی کی فراہمی پر بات کی جائے۔

    علما نے نابالغ بچو کو مساجد میں لانے سے بھی منع کیا۔

  5. خیبر پختونخوا: قرنطینہ میں لڈو اور کرکٹ

  6. بی بی سی اردو کا خصوصی کورونا بلیٹن

  7. بلوچستان میں نجی ہسپتال حکومت کے حوالے

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں نجی ہسپتالوں کے مالکان نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اپنے ہسپتال حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  8. پولیس لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کیسے کروا رہی ہے؟

    پاکستان کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کروانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے۔ پولیس اس کام کے لیے کیا طریقے اختیار کر رہی ہے، دیکھیے ہماری اس ویڈیو میں۔۔۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  9. اسلام آباد: بھارہ کہو میں کیا ہو رہا ہے؟

    پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد منگل کی شب سے جزوی لاک ڈاؤن میں ہے لیکن شہر کے نواحی علاقے بارہ کہو کو بدھ سے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ اور علاقے کے حالات سنیے ہماری نامہ نگار اور بھارہ کہو کی رہائشی تابندہ کوکب کی زبانی۔

  10. بریکنگ, پاکستان میں متاثرین کی تعداد 1065 سے بڑھ گئی

    بدھ کو اسلام آباد، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کووڈ-19 کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1067 تک پہنچ گئی ہے۔

    اسلام آباد میں اب کورونا کے مریضوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے جبکہ بدھ کی دوپہر پنجاب کے محکمۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں مزید 16 مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد وہاں متاثرین کی کل تعداد 312 ہو گئی ہے۔

    ان متاثرین میں 176 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جبکہ اس کے علاوہ 77 متاثرین کا تعلق لاہور، 21 کا گجرات، 19 کا جہلم، آٹھ کا گوجرانوالہ، تین کا ملتان سے ہے۔

    اس کے علاوہ فیصل آباد اور راولپنڈی میں دو، دو جبکہ منڈی بہاوالدین، ناروال، رحیم یار خان اور سرگودھا میں ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔

    سندھ کے محکمۂ صحت کے مطابق صوبائی دارالحکومت کراچی میں تین نئے مریض سامنے آنے کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 147 ہو گئی ہے جن میں سے 14 صحت یاب ہو گئے ہیں جبکہ ایک ہلاکت بھی ہوئی ہے۔

    کراچی میں 94 افراد میں یہ وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا ہے۔

    سندھ میں اب تک مجموعی طور پر 413 متاثرین سامنے آ چکے ہیں اور سب سے زیادہ متاثرین سکھر میں بنائے گئے قرنطینہ میں ہیں جہاں ایران سے آنے والے 265 زائرین میں اب تک وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    بلوچستان میں بھی چیف سیکریٹری فضیل اصغر نے مزید چار افراد میں وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبے میں اب متاثرین کی تعداد 119 تک پہنچ گئی ہے۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہKPK Govt

    خیبر پختونخوا کے محکمۂ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے میں صوبے میں 43 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہ تعداد 121 ہو گئی ہے۔ ان نئے مریضوں میں سے 39 کا تعلق مردان کے ایک ہی علاقے منگا سے ہے۔

    اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں 81 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک متاثرہ شخص موجود ہے۔

  11. بنوں میں سماجی دوری اختیار نہ کرنے پر گرفتاریاں

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. بریکنگ, کورونا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے کوئٹہ کو دیگر علاقوں سے منقطع کرنے کا فیصلہ

    چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر نے بتایا ہے کہ پورے بلوچستان میں 119 کورونا کے مریضوں کی تعداد 119 ہے اور اس تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں کے حوالے سے پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک بلوچستان میں رپورٹ ہونے والے کورونا کے کیسز صرف کوئٹہ میں ہیں۔ اس لیے چاہتے ہیں کہ کورونا کو کوئٹہ تک محدود کیا جائے۔‘

    چیف سیکرٹری بلوچستان کا کہنا تھا کہ ’مری آباد اور ہزارہ ٹاون کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری ٹیمیں جاکر وہاں سروے کریں گی۔ اور پورے شہر میں 8 پوائنٹس ہر پکٹس پوائنٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’2064 لوگ جہازوں کے ذریعہ کوئٹہ آئے ہیں۔ ان سے گزارش کرتا ہوں کہ یہ لوگ خود کو رجسٹر کرائیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کٹس اور آلات منگوارہے ہیں کیونکہ صوبے میں ٹیسٹنگ کٹس، ماسک، وینٹی لیٹر سمیت دیگر آلات کی بہت ضرورت ہے۔

    چیف سیکرٹری بلوچستان کے مطابق ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کی کمی کو پر کرنے کے لیے نئی بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ اور جو ڈاکٹرز کام سے انکار کر رہے ہیں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

    اس موقعے پر حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ کوئٹہ کو سیل کیا جارہا ہے تاکہ دوسرے علاقوں سے رابطہ نہ ہوسکے۔ انھوں نے مخیر حضرات اور اداروں سے تعاون کی اپیل کی۔

  13. عمران خان کے اجلاس سے چلے جانے پر اپوزیشن رہنما ناراض

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پارلیمان میں موجود جماعتوں کے رہنماؤں کا ویڈیو لنک پر بلایا گیا اجلاس چھوڑ کر چلے جانے پر اجلاس میں شامل مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

    میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی وبا نے پاکستان کو متاثر کیا ہے اور ملک کے سربراہ کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں اجلاس میں بیٹھنا مناسب نہیں اس لیے وہ واک آؤٹ کرتے ہیں۔

  14. ارکانِ اسمبلی اور مسلم لیگ کے کارکنوں کو امدادی سرگرمیوں میں شمولیت کی ہدایت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. بریکنگ, اسلام آباد میں مزید نو افراد میں کورونا کی تصدیق

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے شہر میں کورونا سے متاثرہ علاقے بھارہ کہو میں مزید نو افراد میں وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے پورے علاقے کو سیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق ان افراد کا تعلق اسی گروپ سے ہے جس کے پانچ ارکان میں پہلے ہی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    یہ افراد ایک تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔

    اس جماعت کے 14 ارکان میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ دیگر دو افراد کا تعلق کوٹ ہتھیال سے ہے جہاں کی مسجد میں یہ جماعت ٹھہری تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. بیرون ملک اور گلگت، سکردو جانے والے مسافروں کے لیے انسانی بنیادوں پر خصوصی پروازیں

    پی آئی اے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان ائیر لائنز نے انسان ہمدردی کی بنیادوں پر چار خصوصی پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں پھنسے وہ مسافر جو واپس اپنے گھروں کو لوٹنا چاہ رہے ہیں ان کے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    پی آئی اے کی تین پروازیں برطانیہ اور ایک کینیڈا جائیں گی۔

    • پی کے 781 بروز جمعہ 27 مارچ کو لاہور سے ٹورنٹو کیلئے روانہ ہوگی۔
    • پی کے 709 بروز ہفتہ 28 مارچ اسلام آباد سے مانچسٹر روانہ ہوگی۔
    • پی کے 757 بروز ہفتہ 28 مارچ اسلام آباد سے لندن جائے گی۔
    • پی کے9791 بروز ہفتہ 28 مارچ اسلام آباد سے برمنگھم جائے۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق مسافروں کو پہنچانے کے بعد یہ تمام پروازیں خالی واپس آئیں گی۔ ان کے مطابق ان پروازوں پر بکنگ شروع ہوگئی ہے اور پہلے آئیے کی بنیاد پر ٹکٹوں کی فروخت جاری ہے۔

    دوسرے جانب ایوی ایشن ڈویژن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے گلگت اور سکردو کے لیے پی آئی اے کو پروازیں برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

    سی اے اے نوٹم کے تحت تمام علاقائی پروازوں پر 26 مارچ سے پابندی عائد کر دی گئی ہے البتہ گلگت اور سکردو کو استثنیٰ حاصل ہے۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق وزیر اعظم کی خصوصی اجازت کا مقصد شمالی علاقہ جات سے رابطہ فعال رکھنا ہے کیونکہ ان علاقہ جات کی بنیادی ضروریات اور ہنگامی صورتحال کا بڑا دارومدار فضائی رابطے پر ہے۔

  17. بریکنگ, پاکستان میں کورونا کے متاثرین 1059 ہو گئے, پنجاب میں 16، بلوچستان میں چار اور سندھ میں تین نئے مریض

    بدھ کو پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کووڈ-19 کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1059 تک پہنچ گئی ہے۔

    بدھ کی دوپہر پنجاب کے محکمۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں مزید 16 مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد وہاں متاثرین کی کل تعداد 312 ہو گئی ہے۔

    ان متاثرین میں 176 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جبکہ اس کے علاوہ 77 متاثرین کا تعلق لاہور، 21 کا گجرات، 19 کا جہلم، آٹھ کا گوجرانوالہ، تین کا ملتان سے ہے۔

    اس کے علاوہ فیصل آباد اور راولپنڈی میں دو، دو جبکہ منڈی بہاوالدین، ناروال، رحیم یار خان اور سرگودھا میں ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔

    سندھ کے محکمۂ صحت کے مطابق صوبائی دارالحکومت کراچی میں تین نئے مریض سامنے آنے کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 147 ہو گئی ہے جن میں سے 14 صحت یاب ہو گئے ہیں جبکہ ایک ہلاکت بھی ہوئی ہے۔

    کراچی میں 94 افراد میں یہ وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا ہے۔

    سندھ میں اب تک مجموعی طور پر 413 متاثرین سامنے آ چکے ہیں اور سب سے زیادہ متاثرین سکھر میں بنائے گئے قرنطینہ میں ہیں جہاں ایران سے آنے والے 265 زائرین میں اب تک وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    بلوچستان میں بھی چیف سیکریٹری فضیل اصغر نے مزید چار افراد میں وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبے میں اب متاثرین کی تعداد 119 تک پہنچ گئی ہے۔

    اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں 117، گلگت بلتستان میں 81،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 16 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک متاثرہ شخص موجود ہے۔

  18. میڈیا کے دباؤ پر لاک ڈاؤن کیا گیا: عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کےمعاملے میں صوبے بااختیار ہیں لیکن اس حوالے سے پاکستان میں کنفیوژن ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب گھبراہٹ اور خوف میں فیصلے کیے جاتے ہیں تو اس کے اثرات کا جائزہ نہیں لیا جاتا جس کے باعث دوسری جانب مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ میڈیا کی طرف سے دباؤ پڑا جس پر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب نے لاک ڈاؤن شروع کر دیا۔

    عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے تعمیراتی شعبہ متاثر ہو رہا ہے اور اس کا اثر یومیہ اجرت کے ملازمین پر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 25 فیصد افراد غربت کی لکیر کے نیچے ہیں۔

  19. پاکستان میں صرف 153 افراد کو مقامی سطح پر وائرس منتقل ہوا، عمران خان

    وزیراعظم عمران خان کے مطابق پاکستان میں صرف 153 افراد کو مقامی سطح پر وائرس منتقل ہوا جبکہ بقیہ کیسز باہر سے آئیں ہیں مقامی سطح پر کیسز کی تعداد کم ہونا خوش آئند بات ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اب تک پاکستان ایئرپورٹس پر 9 لاکھ افراد کی سکرینننگ کرچکا ہے۔

  20. کورونا وائرس کی جنگ صرف قوم جیت سکتی ہے، وزیر اعظم عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی جنگ صرف قوم جیت سکتی ہیں حکومت نہیں اور ہم سب مل کر اس جنگ کو جیتیں گے جس کا سہرا تمام پاکستانیوں اور تمام صوبوں کے سر ہو گا۔

    پارلیمانی رہنماؤں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 15 جنوری کو کورونا وائرس کے متعلق پہلا اجلاس طلب کیا گیا تھا جس وقت یہ وبا صرف چین تک محدود تھی۔