حفاظتی لباس میں کیا کیا ہوتا ہے؟

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا میں جیسے جیسے کووِڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے عام آدمی کے ذہن میں اس بیماری کے بارے میں نت نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
پنجاب کے محکمۂ صحت کے مطابق جمعرات کی دوپہر تک صوبے میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 340 تک پہنچ گئی ہے۔
ان متاثرین میں 188 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جن میں سے 176 ڈیرہ غازی خان جبکہ 12 ملتان میں ہیں۔
83 متاثرین کا تعلق صوبائی دارالحکومت لاہور، 21 کا گجرات، 19 کا جہلم، آٹھ کا گوجرانوالہ، چار کا راولپنڈی سے ہے۔
اس کے علاوہ ملتان اور فیصل آباد میں تین، تین جبکہ نارووال، منڈی بہاؤالدین، رحیم یار خان، اٹک، بہاولنگر اور سرگودھا میں ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔
سندھ کے محکمۂ صحت کے مطابق صوبے میں کووڈ-19 وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد 421 تک پہنچ گئی ہے۔
حکام کے مطابق کراچی میں چھ نئے مریض سامنے آئے ہیں جو کہ سب مقامی منتقلی کے ہیں جس کے بعد صوبائی دارالحکومت میں متاثرین کی تعداد 153 ہو گئی ہے جن میں سے 13 صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ایک ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
ان متاثرین میں سے 102 ایسے افراد ہیں جن میں یہ وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا تھا۔
اس کے علاوہ سکھر میں قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین میں سے 265 میں اب تک وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
سندھ کے دیگر شہروں کی بات کی جائے تو دادو میں ایک اور حیدرآباد میں دو افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جن میں سے ایک شخص صحت یاب ہو چکا ہے۔
فرض کیجیے کہ پنجاب کی پانچ فیصد آبادی کورونا وائرس کا شکار ہو جائے اور اگر ان میں سے نصف کو ہسپتال میں داخل کرنا پڑے تو کم از کم پانچ لاکھ 59 ہزار 590 بستر درکار ہوں گے جو کہ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں موجود بستروں کی کل تعداد کا آدھا حصہ ہے۔


،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی میں سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں اجلاس ہوا جہاں انھوں نے حکام سے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کم کی جائے اور جو قیدی معمولی کیس میں بند ہیں یا اپنی سزا پوری کر چکے ہیں لیکن ضامن نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں ان کو رعایت دی جائے۔
وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ صوبے کی جیلوں میں 16 ہزار سے زائد قیدی ہیں اور ان میں سے جو قیدی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں لیکن جرمانہ دینے کے قابل نہیں ان کا جرمانہ حکومت ادا کرے گی۔
انھوں نے جیل حکام کو کا کہ ہر قیدی کی مکمل تفصیل جیسے ان کی عمر، عرصہ حراست، الزمات وغیرہ کی فہرست پیش کی جائے۔
مراد علی شاہ نi مزید کہا کہ جیل میں صفائی ستھرائی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں اور قیدیوں کو ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر رکھا جائے۔
جہاں کورونا وائرس نے دنیا بھر میں نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے وہیں پاکستانی شوبز ستارے بھی اِس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ خود تنہائی اور سماجی فاصلے کے دور میں پاکستانی سیلبریٹیز انسٹاگرام کی دنیا میں کیا کرتی نظر آئیں، جانیے کریم الاسلام کی اِس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سدباب کے سلسلے میں جمعرات سے تمام موٹر ویز کو ٹریفک کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔
موٹر وے پولیس کے ترجمان کے مطابق اس بندش کے بعد موٹروے پر ہر قسم کی مسافر بردار گاڑیوں کا داخلہ مکمل بند ہو گا تاہم مال بردار گاڑیوں، تیل کی ترسیل والی گاڑیوں اور ضروری اشیائے خوردونوش والی گاڑیوں کو کم سے کم عملے کے ساتھ داخلے کی اجازت ہو گی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ نجی گاڑیوں کو تسلی بخش وجہ بتانے کے بعد دو یا دو سے کم افراد کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد شہر ایپ کی تقریب رونمائی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت عمدہ چیز بنائی گئی ہے جس سے عام عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
’جتنا ملک ترقی یافتہ ہوتا ہے اتنی آسانی شہریوں کو ملتی ہے۔ ہماری عوام کو مشکل تھی کہ کبھی ایک دروازے پر جاتے ہیں یا کبھی ایک لائن میں لگے ہوتے ہیں۔ یہ بہت زبردست کام ہے اور اسے پورے پاکستان میں متعارف کرائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہCDA
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے سبب اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے شہر میں کلورین اور بلیچ کا سپرے شروع کر دیا گیا ہے۔
کلورین واش اور سپرے کا آغاز پمز ہسپتال سے کیا گیااور اس کے بعد شہر کی مختلف سڑکوں اور مارکیٹس میں واشنگ اور سپرے کیا جا رہا ہے۔
پمز سمیت تمام ہسپتالوں, کوارنٹین سینٹرز اور پناہ گاہوں میں بھی سپرے کیا جا ئے گااور اس کے علاوہ شہر کے بڑے تجارتی مراکز میں سپرے کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو کورونا وائرس کے پیش نظر 24 قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ قیدی قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی طرف سے دائر کردہ تین ریفرنسز جعلی بینک اکاؤنٹس، کارکے رینٹل پاور اور مضاربہ سکینڈل میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات میں جیل میں تھے۔
رہائی پانے والوں میں جعلی اکاونٹس کیس کے مرکزی ملزم حسین لوائی، طحہ رضا، مصطفی ذوالقرنین، مجید خواجہ اور محمد سلیمان شامل ہیں۔
ضمانت پر دیگر رہائی پانے والے ملزمان میں فیصل ندیم، امان اللہ، ڈاکٹر ڈنشاہ اور نعمان قریشی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
جمعرات کو پاکستان میں کووڈ-19 کے 55 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1102 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 21 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ آٹھ مریض اس بیماری سے اب تک ہلاک ہوئے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں اب کورونا کے مریضوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے جبکہ بلوچستان میں 12 نئے مریض سامنے آنے کے بعد وہاں متاثرین کی تعداد 131 تک پہنچ گئی ہے۔
پنجاب کے محکمۂ صحت کے مطابق جمعرات کی صبح تک صوبے میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 323 ہے۔ ان متاثرین میں 176 ایران سے آنے والے زائرین ہیں جبکہ اس کے علاوہ 80 متاثرین کا تعلق لاہور، 21 کا گجرات، 19 کا جہلم، آٹھ کا گوجرانوالہ، چار کا راولپنڈی سے ہے۔
اس کے علاوہ ملتان اور فیصل آباد میں تین، تین جبکہ منڈی بہاوالدین، ناروال، رحیم یار خان، اٹک اور سرگودھا میں ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سندھ کے محکمۂ صحت کے مطابق صوبے میں اب تک مجموعی طور پر 417 متاثرین سامنے آ چکے ہیں اور سب سے زیادہ متاثرین سکھر میں بنائے گئے قرنطینہ میں ہیں جہاں ایران سے آنے والے 265 زائرین میں اب تک وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
صوبائی دارالحکومت کراچی میں متاثرین کی تعداد 151 ہو گئی ہے جن میں سے 14 صحت یاب ہو گئے ہیں جبکہ ایک ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ کراچی میں 94 افراد میں یہ وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیراعلیٰ کے مشیرِ اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق صوبے میں اب تک جہاں 121 افراد میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے وہیں مشتبہ مریضوں کی تعداد 694 ہے۔
ان کے مطابق جمعرات کو مزید چار افراد میں کورون کی تصدیق ہوئی جن میں سے دو ڈیرہ اسماعیل خان میں قرنطینہ مرکز میں رکھے گئے زائرین ہیں جبکہ اس کے علاوہ صوابی اور سوات میں بھی ایک ایک مریض سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو مردان کی یونین کونسل منگا میں بھی 39 افراد میں وائرس کی تصدیق کی گئی تھی۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں کورونا سے پہلی ہلاکت سامنے آئی تھی۔
مشیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ صوبے میں اب تک دو افراد اس بیماری سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کورونا کی روک تھام کے لیے شروع کی گئی ہیلپ لائن کی مدد سے بھی 30 مشتبہ مریضوں کی شناخت کی گئی ہے جن میں سے چار میں وائرس کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں 84 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک متاثرہ شخص موجود ہے
پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے نے انسانی ہمداری کی بنیاد پر لندن کے لیے خصوصی پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پروازیں پاکستان سے ایسے مسافروں کو برطانیہ لے جائیں گی جو سفری پابندیوں کی وجہ سے گھر واپس نہیں جا سکتے تھے۔ اس وقت پاکستان نے کورونا وائرس کے پیش نظر بیرون ملک پروازیں معطل کر رکھی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہEPA
صوبہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید 12 مریض سامنے آنے کے بعد اب صوبے میں کل تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد 131 ہو گئی ہے۔
نامہ نگار محمد کاظم کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 2033 افراد کی سکریننگ کی گئی جن میں سے 1455 پر شبہ تھا کہ وہ وائرس سے متاثر ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں اس وقت 388 افراد قرنطینہ مراکز میں ہیں۔ ان میں سے 277 ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان جبکہ 111 کوئٹہ شہر کے دیہی ترقیاتی اکیڈمی کے قرنطینہ مرکز میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 1078 ہو چکی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد آٹھ ہے۔
صوبہ سندھ متاثرین کی فہرست میں بدستور سرفہرست ہے جہاں مصدقہ مریضوں کی تعداد 413 ہے، پنجاب میں 323، خیبر پختونخوا میں 121، بلوچستان میں 119، گلگت بلتستان میں 81، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 20 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی تعداد ایک ہے۔
خیبر پختونخوا میں تین، پنجاب میں دو جبکہ سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک بھر میں کورونا میں مبتلا 20 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
اسلام آباد انتظامیہ نے وفاقی دارلحکومت میں ایک اور مریض میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
بدھ کو نصف شب اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آگاہ کیا کہ ’تبلیغی اجتماع لاہور سے آنے والے ایک اور صاحب کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ ان کا گھر شہزاد ٹاؤن میں ہے۔ علاقے کو رات کے اس پہر ہم سیل کر رہے ہیں۔۔۔ گردونواح کے لوگوں سے گذارش ہے کہ وہ گھروں سے نہ نکلیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ چند گھنٹوں میں صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 11 نئے مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو شام چار بجے تک صوبہ بھر میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 312 تھی جو رات گیارہ بجے تک بڑھ کر 323 ہو چکی ہے۔
ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق صوبائی دارلحکومت لاہور میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے جبکہ گجرات میں 21، جہلم میں 19، گوجرانوالہ میں 8، راولپنڈی میں 4، ملتان اور فیصل آباد میں تین، تین، مندی بہاؤالدین، ناروال، رحیم یار خان، سرگودھا اور اٹک میں ایک، ایک مریض میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ صوبے کے مختلف شہروں میں موجود 176 زائرین میں بھی کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ترجمان کے مطابق تمام مصدقہ مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں اور انھیں دیگر مریضوں سے الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے۔