کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. شہریوں کی نقل و حرکت محدود رکھنے کے لیے ایپ متعارف

    کراچی، کورونا، لاک ڈاؤن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی میں لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کی نقل و حرکت محدود رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے شہریوں کی مانیٹرنگ کے لیے ایک ایپ متعارف کرائی گئی ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز مقصود میمن کے مطابق یہ ایپ پولیس سکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروس ڈویژن نے متعارف کرائی ہے اور اس کا مقصد شہریوں کی نقل و حرکت محدود رکھنا ہے۔

    پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران بلاضرورت باہر نکلنے پر گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ ایپ میں قومی شناختی کارڈ نمبر، فون نمبر، لوکیشن اور گھر سے نکلنے کی وجہ سے متعلق شہریوں کی معلومات درج ہوگی۔

    ’ایپ چیک پوائنٹس پر افسران کے موبائل میں انسٹال ہوگی اور (پولیس اہلکار) روزانہ شہریوں کی نقل وحرکت کا ڈیٹا محفوظ کرتی رہے گی۔‘

    ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا ہے کہ شہری دن میں 2 سے زیادہ بار نقل و حرکت نہیں کر سکیں گے۔ ثابت ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ’ایپ میں کسی بھی شہری کے کوائف درج کئے جا سکیں گے۔‘

  2. بلوچستان میں قیدیوں کی سزائوں میں چار ماہ کی کمی کا اعلان

    بلوچستان میں قیدیوں کی سزائوں میں چار ماہ کی کمی کا اعلان

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan

    حکومتِ بلوچستان نے قیدیوں کی سزائوں میں چار ماہ کی خصوصی کمی کا اعلان کیا ہے۔

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطانق مجاز حکام کی منظوری سے یہ رعایت کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر دی گئی ہے۔

    تاہم نوٹیفیکیشن کے مطابق اس کا اطلاق انتہا پسندی، بم دھماکوں، ریاست مخالف سرگرمیوں، قتل، زنا بالجبر اور دیگر سنگین جرائم میں سزا پانے والے قیدیوں نہیں ہوگا۔

  3. 'سندھ میں 14 آئی سی یوز قائم کیے جائیں گے‘

    مراد علی شاہ

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    سندھ حکوت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے متاثرین کے پیش نظر صوبے میں 14 آئی سی یوز یعنی انتہائی نگہداشت کے یونٹس قائم کیے جائیں گے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق کراچی میں ایک میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ قائم کیے جانے والے 14 آئی سی یوز میں وینٹی لیٹرز، مانیٹرز اور دیگر سامان دستیاب ہوگا۔

    میٹنگ کے دوران آئی جی سندھ نے صوبے میں لاک ڈاؤن کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

  4. سوشل میڈیا پر کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ

    کرپٹو کرنسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر لوگ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے مختلف مشورے دے رہے ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے ایک مشورہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملک میں کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت ملنی چاہیے۔

    ڈیجیٹل کرنسی یا کرپٹو کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پرادائیگی یا پےمنٹ کا طریقہ کار ہے۔ اس سے آپ خریدای کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے۔

    اس سلسلے میں ’کرپٹو کرنسی لیگل کرو‘ (#cryptocurrencylegalkaro) کا ٹرینڈ ٹوئٹر پر موجود ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    کریپٹو کرنسی کا کاروبار دنیا بھر میں ہو رہا ہے جس میں اب تک 5000 سے زیادہ کرنسیز آ چکی ہیں لیکن اس وقت ٹاپ پر بٹ کوائن ہے۔

    پاکستان میں سٹیٹ بینک نے اس کرنسی کے استعمال، خرید وفروخت کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

  5. ’پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد کہیں زیادہ ہے‘, ثقلین امام، بی بی سی اردو

    ایدھی فاؤنڈیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان میں فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مقابلے ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ: ’پورے ملک میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے لوگ سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ 26 اور 27 مارچ کے دوران ایدھی فاؤنڈیشن کو پانچ ایسی لاشیں صرف پنجاب سے ملیں جو مبینہ طور پر کورونا سے ہلاک ہوئے تھے۔

    ’ہلاکتیں سرکاری اہلکاروں کے بیانات سے زیادہ ہیں۔ وہ مبینہ طور پر کورونا سے ہلاک ہونے والوں کو نہیں گن رہے۔‘

    فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ہزاروں افراد میں کورونا کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ ’ان (حکام) کے پاس ٹیسٹنگ کٹس نہیں ہیں اوریہ صلاحیت نہیں کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی ٹیسٹنگ کی جا سکے۔

    ’حکومت صرف مثبت نتائج والوں کو گن رہی ہے۔ کئی لوگ مبینہ طور پر اس بیماری میں مبتلا ہیں لیکن ان میں تشخیص نہیں ہوسکتی کیونکہ ٹیسٹنگ کٹس کی کمی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ تبلیغی جماعت میں ایسے لوگ ایک بڑی تعداد میں ہوسکتے ہیں جو کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ ’مسلمان اکثریت والے تمام ملکوں میں مذہبی اجتماعات اور باجماعت نماز اس بیماری کے پھیلنے کا ذرائع ہے۔‘

  6. ’ٹیسٹنگ کٹ، وینٹی لیٹر کی منظوری آخری مراحل میں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تیار کردہ کورونا ٹیسٹنگ کٹس اور وینٹی لیٹرز کی منظوری آخری مراحل میں ہے جس سے اس عالمی وبا سے لڑنے میں مدد ملے گی۔

  7. پاکستان کی تازہ صورتحال

    کورونا وائرس، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1508 ہو گئی ہے۔
    • 557 مصدقہ متاثرین کے ساتھ پنجاب ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے
    • ہلاکتوں کی کل تعداد 12 ہے۔ 25 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
    • آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے وزیر اعظم عمران خان سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پاکستانی اقدامات پر گفتگو کی ہے۔
    • ملک کے تمام حصوں میں مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی ، اور پولیس کے اعلی حکام کے ساتھ ملاقات میں لاک ڈاؤن میں آنے والی مشکلات کے حوالے سے بات کی۔
    • چار مرتبہ برٹش اوپن سکواش چیمپیئن جیتنے والے سکواش کے پاکستانی کھلاڑی اعظم خان کورونا کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے ہیں۔
  8. آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کی وزیر اعظم عمران خان سے گفتگو

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا کی جانب جاری کیے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستانی اقدامات پر گفتگو کی۔

    ’پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف کے ریپڈ فناسنگ انسٹرومنٹ کے تحت اس بحرانی حالات میں مزید مدد کی درخواست کی ہے جو حکومت پاکستان کی جانب سے غریبوں کو اس موقع پر سہولت دینے کے لیے نہایت کار آمد ثابت ہوگی۔‘

    آئی ایم ایف کی ایم ڈی کی جانب سے جاری کیے گئے پیغام میںمزید کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے معاشی نظام میں بہتری لانے کی کوششوں کا پورا ساتھ دے گا۔

  9. پنجاب میں 13380 افراد کے ٹیسٹ، 557 میں کورونا کی تصدیق

    پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بتایا ہے کہ صوبے میں اب تک 13 ہزار سے زیادہ افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں 557 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے اور ان میں سے بھی 282 وہ زائرین ہیں جو ایران سے آئے اور جنھیں ڈیرہ غازی خان اور ملتان کے قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. لاک ڈاؤن کے دوران ’کراچی کے کچھ علاقوں میں لوگوں کو سمجھانا مشکل‘, ’لوگوں کو گلیوں میں آنے سے روکیں لیکن اُن کی کسی صورت بے عزتی نہیں ہونی چاہیے۔‘

    lockdown

    ،تصویر کا ذریعہge

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی ، اور پولیس کے اعلی حکام کے ساتھ ملاقات میں لاک ڈاؤن میں آنے والی مشکلات کے حوالے سے بات کی۔

    ڈی ائی جی سائوتھ زون نے بتایا کہ کراچی کی سوسائٹی بہت زیادہ متحرک ہے ’ڈی ایچ اے میں لوگوں کو سمجھانے میں آسانی رہی ہے، تاہم اولڈ سٹی ایریاز جس میں لیاری اور صدر آتے ہیں ، لوگوں کو گھروں میں رکھنے میں تھوڑی مشکل پیش آرہی ہے۔ اب جا کر لوگوں میں شعور بیدارہوا ہے ،وہ خود گھروں میں رہ رہے ہیں ۔ ہم ہدایات گراؤنڈ لیولپر لے گئے ہیں۔ 25 پوائنٹس ایسے ہیں جہاں روزانہ عوام کے ساتھ بحث کرنا پڑتی ہے۔‘

    پولیس والوں کو ہدایات

    اس موقعے پر وزیراعلیٰ سندھ نے سوال کیا کہ ’پولیس والوں کو کیا ہدایات ہیں کہ وہ عوام کو کس طرح سمجھائیں؟

    ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا تھا ’جو غذائی اشیا، ادویات خریدنے اور فیکٹری میں کام کرنے جا رہے ہیں اُن کو اجازت دی جاتی ہے، اگر کسی گلی میں ایک سے زیادہ لوگ ہوتے ہیں تو اُنہیں واپس گھروں کو لوٹا دیا جاتا ہے۔‘

    کمشنر کراچی کا کہنا تھا ’گڈز کی ٹرانسپورٹ کی اجازت ہے اور لوگوں کوچہل پہل سے روکنا ہے، اس لیے پکٹس پر سمجھدار پولیس والوں کو تعینات کیا گیا ہے۔‘

    ایس ایس پی شیراز کا کہنا تھا ’ہم ایسے لوگوں کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کیا ہے جنہیں لاک ڈاؤن سے استثنیٰ حاصل ہے۔ ’اگر کے الیکٹرک، واٹر بورڈ ، بینکس کا عملہ ہوتا ہے تو اُن کو ہم چھوڑتے ہیں۔‘

    لوگوں کو گھروں کو لوٹائیں لیکن عزت کے ساتھ

    اس موقع پر ڈی سی کورنگی نے نے بتایا کہ راشن کے لیے اب رش لگنا شروع ہو گیا ہے۔ ’ہم امن کمیٹی کے ذریعے لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہجببھی راشن بٹے گا تو لوگوں کے گھروںپر پہنچائیں گے۔‘

    کمشنر کراچی نے پولیس اورانتظامیہ کو ہدایت کی کہ ’جو لوگ گلیوں سے غیر ضروری نکل رہے ہیںتو اُنہیں روکیں۔ اگر گلی میںایک یا دو لوگ ہیں تو انکو اجازت ہے اگر اس سے زیادہ ہوں تو روکیں۔ آپ لوگوں کو باہر گھومنےسےمحتاط رکھیں۔‘

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’مجھے عوام کی عزت عزیزہے اُن کی کسی صورت بے عزتی نہیں ہونی چاہیے ۔‘

    ان کا کہنا تھا آپ اگر کسی رکشےمیں 2 سے زیادہ لوگ جائیں تو اُن کو واپسکریں اور رکشےکو قبضے میں لیں۔

    آ لوگوں کو ماسک پہننےکے لیے نہیں کہیں۔ ماسک وہ پہنے جس کو نزلہ، زکام ہو، لیکن نزلہوالے کو تو گھر پر بیٹھناچاہیے ۔‘

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ’دکانوں کے باہر سماجی فاصلہ ہونا چاہیے۔‘

  11. پرندوں کی دکانوں کے لیے رعایت

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کوئٹہ شہر میں کرونا وائرس کے حوالے سے لاک ڈاﺅن کے پیش نظر ایسی دکانوں کو دن میں ایک بار کھولنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں پرندے فروخت کے لیے رکھے گئے ہیں۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میجر (ر)اورنگزیب بادینی نے دکانون میں پرندوں کی مسلسل بند رہنے اور ان کے ہلاکت کے خدشہ کے پیشِ نظر نوٹس لیتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ پرندے فروشں ان پرندوں کو اپنے گھر لے جائیں یا دن میں ایک بار دکانوں میں موجود پرندوں کو شٹرڈاﺅن کرکے خوراک وپانی دیں۔

    تاہم اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ کاروبار کی غرض سے دکانیں کھولنے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  12. حکومتِ سندھ کی ہیلپ لائن

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. بریکنگ, پاکستان میں کورونا کے متاثرین 1500 سے بڑھ گئے، مشتبہ مریض 12 ہزار سے زیادہ, پنجاب میں مزید 27، گلگت بلتستان میں آٹھ اور بلوچستان میں پانچ افراد کو کورونا

    حکام نے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 27، بلوچستان میں پانچ جبکہ گلگت بلتستان میں مزید آٹھ مریضوں کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 1508 ہو گئی ہے۔

    پنجاب میں ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر نے سنیچر کی شام جاری کیے گئے بیان میں بتایا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے سب سے متاثرہ صوبے پنجاب میں کووڈ-19 کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد صوبے میں مریضوں کی تعداد 557 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ روزسے صوبے میں کورونا وائرس کے 100 سے زیادہ مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور سنیچر کو مزید چار مریضوں کی تصدیق کے بعد یہاں کل تعداد 119 ہو چکی ہے۔

    اس کے علاوہ رائے ونڈ میں بنائے گئے قرنطینہ میں بھی 21 مریض موجود ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان میں 207 اور ملتان میں بھی 75 زائرین قرنطینہ میں ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان شہر میں پانچ اور ملتان شہر میں تین مریض ہیں۔

    اس کے علاوہ گجرات میں 51، جہلم میں 21، راولپنڈی میں 19، گوجرانوالہ میں 10، فیصل آباد میں نو، منڈی بہاؤالدین میں چار، وہاڑی، سرگودھا، ننکانہ صاحب اور میانوالی میں دو، دو جبکہ ناروال، رحیم یار خان، اٹک، بہاولنگر اور خوشاب میں ایک مریض موجود ہے۔

    خیال رہے کہ پنجاب کورونا سے ہلاکتوں کے معاملے میں بھی سرفہرست ہے اور ملک میں ہونے والی 12 میں سے پانچ ہلاکتیں یہیں ہوئی ہیں جبکہ پانچ افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    اس سے قبل بلوچستان کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق سنیچر کی شام تک بلوچستان میں مجموعی طور کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 138 ہو گئی ہے۔

    بلوچستان میں مزید دو ڈاکٹر بھی اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت کے ایک سینئر اہلکار نے نامہ نگار محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کی اور بتایا کہ دونوں ڈاکٹروں کو آئسولیشن مرکز منتقل کیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں مجموعی طور پر اب تک تین ڈاکٹر کورونا وائرس سے متائثر ہوئے ہیں۔

    صحافی زبیر خان کے مطابق گلگت بلتستان میں حکام کے مطابق سنیچر کو علاقے میں مزید آٹھ مریض سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 115 تک پہنچ چکی ہے۔ گلگت بلتستان میں اب تک ایک ہلاکت ہوئی ہے جبکہ تین مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

  14. خیبر پختونخوا میں 928 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں, 188 میں تصدیق ہوئی، 447 کے نتائج کا انتظار ہے

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ صوبے میں جن 188 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان میں سے 57 ایران سے تفتان کے راستے آنے والے زائرین ہیں جبکہ دیگر 131 افراد یا تو ہوائی اڈوں سے آئے یا پھر ان میں مقامی طور پر منتقل ہوا ہے۔

  15. پنجاب میں امتناع وبائی امراض آرڈیننس نافذ, 18 ارب کے ٹیکس معاف، 25 لاکھ گھرانوں کے لیے چار ہزار ماہانہ الاؤنس

    پنجاب کی حکومت نے سنیچر سے صوبے میں امتناع وبائی امراض آرڈیننس نافذ کر دیا ہے جس سے انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کو کورونا پر کنٹرول کے لیے اقدامات پر عملدرآمد میں سہولت اور قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔

    حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں 18 ارب روپے کے صوبائی ٹیکس معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس کے علاوہ روزگار کی بندش سے متاثر ہونے والے 25 لاکھ گھرانوں کو چار ہزار روپے فی گھرانہ ادا کیے جائیں گے۔جس کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    پنجاب کی جیلوں میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ401 کے تحت قیدیوں کی 90 روز کے لیے سزا معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے صوبے میں تقریباً 3100 قیدی مستفید ہوں گے تاہم اس فیصلے کا اطلاق سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں پر نہیں ہو گا جبکہ انڈر ٹرائل قیدیوں کے حوالے سے سفارشات تیار جلد وفاقی حکومت کو پیش کر دی جائیں گی۔

    کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور ہیلتھ پروفیشنلز کو ایک تنخواہ کے برابر سپیشل الاؤنس ملے گا۔

    انسداد کورونا مہم میں جان دینے والے ملازمین، ڈاکٹروں اور ہیلتھ پروفیشنلز کو شہدا پیکیج دیا جائے گا۔

  16. بریکنگ, پنجاب میں ایک دن میں 82 نئے مریض، پاکستان میں تعداد 1468 ہو گئی

    پاکستان میں کورونا وائرس سے سب سے متاثرہ صوبے پنجاب میں کووڈ-19 کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد پاکستان کے کسی ایک صوبے میں مریضوں کی تعداد پہلی مرتبہ 500 سے بڑھ گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سنیچر کو وزیراعلیٰ آفس میں خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریض 530 ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روزسے صوبے میں کورونا وائرس کے 82 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور سنیچر کو مزید چار مریضوں کی تصدیق کے بعد یہاں کل تعداد 119 ہو چکی ہے۔

    اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان میں 207، ملتان میں 75، گجرات میں 51، جہلم میں 19، راولپنڈی میں 15، گوجرانوالہ میں 10، فیصل آباد میں نو، منڈی بہاؤالدین میں چار، سرگودھا، ننکانہ صاحب اور میانوالی میں دو، دو جبکہ ناروال، رحیم یار خان، اٹک، بہاولنگر اور خوشاب میں ایک مریض موجود ہے۔

    خیال رہے کہ پنجاب کورونا سے ہلاکتوں کے معاملے میں بھی سرفہرست ہے اور ملک میں ہونے والی 12 میں سے پانچ ہلاکتیں یہیں ہوئی ہیں۔

  17. بریکنگ, بلوچستان کی جانب سے اشیائے خوردونوش لانے والی گاڑیوں پر نرمی کی اپیل

    بلوچستان میں خوراکی اشیا کی قلت کے باعث حکومت بلوچستان نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سے اشیائے خورد و نوش لانے والی گاڑیوں کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دینے کی درخواست کی ہے۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے سندھ اور پنجاب کے محکمہ داخلہ کے نام ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دونوں صوبائی حکومتوں کی جانب سے لاک ڈاﺅن کے فیصلے کے باعث ان مال بردار گاڑیوں کو بھی بلوچستان آنے نہیں دیا جارہا ہے جو کہ بلوچستان کے لیے اشیائے خوردونوش لاتی ہیں۔

    مراسلے کے مطابق بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں پہلے ایران سے یہ سامان آتا تھا لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے سرحدوں کی بندش کے باعث ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی اضلاع میں ان اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سندھ اور پنجاب سے خوراکی اشیا لانے والی گاڑیوں پر پابندی سے مجموعی طور پر بلوچستان میں اشیائے خوردونوش کا ذخیرہ متاثر ہورہا ہے۔ مراسلے میں دونوں صوبائی حکومتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اشیائے خوردونوش لانے والی گاڑیوں پر پابندی میں نرمی لائیں تاکہ بلوچستان میں آٹے اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا نہ ہو۔

    GOVT of Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہGOVT of Balochistan

  18. چار مرتبہ برٹش اوپن جیتنے والے سکواش چیمپیئن اعظم خان کورونا کا شکار

    چار مرتبہ برٹش اوپن سکواش چیمپیئن جیتنے والے سکواش کے پاکستانی کھلاڑی اعظم خان بھی کورونا کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    95 سالہ اعظم خان برطانیہ میں رہائش پذیر تھے اور انھیں گذشتہ ہفتے کورونا کا مثبت ٹیسٹ آنے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ چل بسے

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. راولپنڈی میں جراثیم کش دوا کا چھڑکاؤ

    پاکستان کے شہر راولپنڈی میں ریسکیو 1122 کی جانب سے سڑکوں اور گلی محلوں میں جراثیم کش دوا کا سپرے کیا گیا۔

    corona

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    corona

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    corona

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    corona

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    corona

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

  20. پاکستان میں پھنسے 250 سے زائد برطانوی نژاد پاکستانی, سحر بلوچ، بی بی سی ارودو ، اسلام آباد

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں اس وقت 250 سے زائد برطانوی نژاد پاکستانی ملک کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ رواں ماہ رشتہ داروں سے ملنے اور کام کے سلسلے میں ملک واپس آئے تھے۔ لیکن کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اس وقت یہ تمام لوگ پاکستان میں محدود ہوگئے ہیں۔اس وقت برطانوی حکومت دنیا کے مختلف ملکوں سے اپنے شہریوں کو واپس ملک لانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔حال ہی میں پیرو سے برطانوی شہریوں سے بھری ہوئی ایک پرواز لندن پہنچی تھی۔ پاکستان میں پھنسے برطانوی شہریوں کے مطابق انھوں نے برطانیہ اور پاکستان کے دفترِ خارجہ سے وطن واپسی کے بارے میں کئی ای میل اور پیغامات بھیجے ہیں لیکن اس پر کسی قسم کا تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا۔انھیں شہریوں میں سے ایک سوہیمہ منظور خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ اور فون پر مختلف برطانوی نژاد پاکستانی شہریوں سے بات کرکے پاکستان میں پھنسے ہوئے تقریباً 250 سے زائد افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اب تک ہم نے برطانوی سفارتخانے اور دفترِ خارجہ کو ای میل اور درخواست لکھی ہے۔ لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہے۔ ہم میں نوجوانون اور بچوں کے علاوہ بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جن کی صحت اس قابل نہیں کہ وہ یہاں رہ سکیں۔‘انھیں کے ساتھ عماد فاروق بھی برطانوی نژاد پاکستانی ہیں اور پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جب کورونا وائرس کے ہوتے ہوئے ایمرجنسی پروازیں پیرو جاسکتی ہیں تو برٹش ہاکستانیوں کو لینے پاکستان بھی آسکتی ہیں۔‘عماد نے بتایا کہ اب تک شہریوں نے برطانیہ واپس جانے کے لیے کئی لاکھ روپے خرچ کردیے ہیں لیکن کسی طرف سے کوئی جواب یا مدد نہیں مل رہی۔کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے اس وقت پاکستان میں اندرون اور بیرونِ ملک جانے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس میں اندرونِ ملک چلنے والی پروازوں کی معطلی 2 اپریل جبکہ بیرونِ ملک پروازوں کی معطلی 4 اپریل کو ختم ہوگی۔ اسی بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ ’پاکستان اس معاملے پر غور کررہا ہے اور اسی بارے میں برطانوی حکومت سے بات چیت جاری ہے۔جو فیصلہ ہوگا وہ جلد بتا دیا جائے گا۔‘