کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت
پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔
لائیو کوریج
کووڈ-19 کے لیے کوئی مخصوص دوا نہیں: ظفر مرزا
پاکستان کے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ کچھ مقامی ڈاکٹر کووڈ-19 کے لیے ایک مخصوص دوا تجویز کر رہے ہیں جو درست نہیں۔
ان کے مطابق عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وہ دوا کورونا سے بچا سکتی ہے یا اس کا علاج کر سکتی ہے۔
ظفر مرزا نے اپنی ٹویٹ میں دوا کے استعمال کی حوصلہ شکنی تو کی لیکن اس دوا کا نام نہیں بتایا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ایس ایس پی مردان وقار عظیم عوام کو کیا مشورہ دے رہے ہیں؟
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں تعینات ایس ایس پی آپریشن مردان
وقار عظیم میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور وہ اب اپنےگھر میں تنہائی
اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے ویڈیو پیغام میں لوگوں کو کیا مشورہ دے رہے ہیں مزید
دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔
پاکستان کی جیلوں میں 80 ہزار قیدیوں میں کسے رہا کیا جا سکتا ہے اور کیسے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے پھیلاؤ سے ان مقامات کے حوالے سے زیادہ شدت سے خدشات سامنے آ رہے ہیں جہاں ہجوم ہوتا ہے اور جیل ایسے مقامات میں سے ایک ہے۔
پاکستان میں صورتحال زیادہ تشویشناک اس لیے ہے کیونکہ یہاں جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی موجود ہیں۔
حال ہی میں لاہور کے کیمپ جیل میں ایک قیدی میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔
اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سامنے سوال یہ ہے کہ قیدیوں کو رہا کیسے کیا جائے اور کس قسم کے قیدیوں کو رہا کیا جا سکتا ہے؟ کیا آئین و قانون میں ریاست کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ قیدیوں کر رہا کرے یا اس کے لیے عدالتوں کے احکامات کی ضرورت ہو گی؟
بریکنگ, کراچی میں مقامی منتقلی کے 33 نئے مریض، سندھ میں بھی تعداد 500 سے بڑھ گئی, پاکستان میں کل متاثرین 1563، 13 ہزار سے زیادہ مشتبہ مریض
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ سندھ کے محکمۂ صحت کے مطابق کراچی میں اتوار کو مقامی منتقلی کے 33 نئے مریض سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 502 تک پہنچ گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد ملک میں کووڈ-19 کے متاثرین کی کل تعداد 1563 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 13 ہزار سے زیادہ افراد میں اس وائرس کی موجودگی کا شبہ ہے۔
سندھ میں حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں اب متاثرین کی کل تعداد 222 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 170 سے زیادہ مقامی منتقلی کے معاملے ہیں۔
اس کے علاوہ تین متاثرین کا تعلق حیدرآباد جبکہ ایک کا دادو سے ہے۔
ان کے علاوہ صوبے میں ایران سے آنے والے 273 زائرین میں بھی کورونا کا وائرس پایا گیا ہے اور انھیں سکھر اور لاڑکانہ میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
سندھ میں اب تک 5945 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جبکہ صوبے میں اتوار کو کورونا کے مزید دو مریضوں کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد یہاں ہلاک ہونے والے افراد تین جبکہ صحت یاب ہونے والے 14 ہیں۔
پنجاب بدستور ملک میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں اتوار کو 12 نئے مریضوں کے ساتھ یہاں مصدقہ متاثرین کی تعداد 570 ہو گئی ہے۔
محکمۂ صحت کے مطابق ان میں سے ڈیرہ غازی خان میں 207 زائرین، ملتان میں 79 زائرین اور رائے ونڈ میں 23 افراد قرنطینہ میں ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبائی دارالحکومت لاہور میں اب تک 119 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ گجرات میں 52، جہلم میں 21، راولپنڈی میں 19، گوجرانوالہ میں 11، فیصل آباد میں نو، ڈیرہ غازی خان میں پانچ، منڈی بہاؤالدین میں چار، ملتان شہر میں تین، وہاڑی، سرگودھا، میانوالی، ننکانہ صاحب اور بہاولنگر میں دو، دو جبکہ ناروال، رحیم یار خان، اٹک اور خوشاب میں ایک، ایک مریض ہے۔
صحافی ایم اے جرال کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی اتوار کو مزید چارافراد میں کووڈ 19 کے نتائج مثبت آئے ہیں جن میں 3 خواتین شامل ہیں۔ اس کے بعد خطے میں کل متاثرین چھ ہو گئے ہیں۔
اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں 188، بلوچستان میں 138، گلگت بلتستان میں 116 اور دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے 43 متاثرین ہیں۔
تاحال ملک بھر میں کورونا سے 15 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ 11 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ملک میں 28 افراد کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہوچکے ہیں۔
کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ-19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟
بریکنگ, پاکستان میں اب تک ’11 ڈاکٹر کورونا کا شکار‘
خیبر پختونخوا میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر ڈاکٹر علی رضا کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا سے متاثر ہونے والے ڈاکٹروں کی تعداد تین ہو چکی ہے۔
ان ڈاکٹروں میں ایبٹ آباد کے نجی میڈیکل کالج اور ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے پروفسیر ڈاکٹر جہانگیر بھی شامل ہیں جنھیں ایبٹ آباد سے اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے۔
صحافی زبیر خان کے مطابق ڈاکٹر علی رضا نے بتایا کہ ڈاکٹر جہانگیر ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے 11ویں ڈاکٹر ہیں۔
خیال رہے کہ بلوچستان اور پنجاب میں بھی کم از کم تین، تین ڈاکٹروں میں کورونا کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ گلگت بلتستان میں ایک ڈاکٹر اس وائرس سے ہلاک بھی ہو چکا ہے۔
گنجان شہروں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ کیسے روک سکتے ہیں؟
بلوچستان: ’138 متاثرین میں سے صرف سات مقامی منتقلی کے مریض‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ اس وقت بلوچستان میں کورونا وائرس کے 138 متاثرہ افراد میں سے 131 افراد زائرین ہیں جبکہ 7 کیسز لوکل ٹرانسمیشن کے ہیں۔
اتوار کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب تک 6570 زائرین وطن واپس پہنچے ہیں اور دیگر صوبوں کے 4989 زائرین کو ان کے صوبوں میں بھیج دیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں 1275 افراد کے ٹیسٹ نیگیٹو آئے اور انھیں بھی گھروں کو بھیج دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پورے صوبے میں 2033 افراد کو آئسولیشن کی سہولت میسر ہے
ظہور بلیدی کے مطابق حکومت بلوچستان کی جانب سے ہیلتھ اینڈ ایمرجنسی ویلیج پر کام جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر کمشنر کو ایک ایک کروڑ روپے ریلیز کیے گئے ہیں
انھوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کو ایک ارب سے زائد کی رقم جاری کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے 8 لاکھ افراد کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے جن کو 2 ارب 40 کروڑ روپے فراہم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال کسی بحرانی کیفیت کا سامنا نہیں ہے۔
جو گھروں میں ہیں ان کو بھی ایک ارب روپے کی لاگت سے راشن مہیا کریں گے -
انھوں نے کہا کہ قرنطینہ سینٹرز میں موجود لوگوں کی شکایات کو دور کیا جائے گا۔
جنوبی ایشیائی ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرین باقی دنیا سے کم کیوں؟
حکومت سندھ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے صوبے بھر میں تمام پٹرول پمپس کو صبح آٹھ بجےسے شام پانچ بجے تک کھولنے کی اجازت دی ہے۔
تاہم ہائی ویز پر موجود پٹرول پمس کو گذ ٹرانسپورٹ کو ایندھن کی فراہمی کے لیے کھلا رہنے کی اجازت ہوگی۔
،تصویر کا ذریعہGOVT of Sindh
کم تعداد میں ٹیسٹ کرنا پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؟
پاکستان میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی تعداد پر بہت سے لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ کیا ٹیسٹوں میں کمی کے باعث پاکستان میں کورونا وائرس کی موجودگی کے بارے میں صیحح اعداد و شمار کا علم ہو سکے گا یا نہیں۔
حکومت کورونا کے مریضوں کو سیلف آئسولیشن کا موقع دے
پنجاب میں تحریکِ انصاف کی اتحادی مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الٰہی نے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ وہ صوبے میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کو ان کے گھروں میں سیلف آئسولیٹ ہونے کا موقع دے اور اگر ان میں سنگین علامات پائی جائیں تبھی انھیں ہسپتال منتقل کیا جائے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
راولپنڈی کے علاقے صادق آباد کا خاندان قرنطینہ منتقل
،تصویر کا ذریعہRawalpindi Police
ایس پی راول رائے مظہر اقبال کا صادق آباد کے سیل کئے گئے علاقے کا دورہ، متاثرہ خاندان کے افراد کو قرنطینہ سینٹر منتقل کر دیا گیا۔
صادق آباد کی سیل شدہ گلیوں میں ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران و ملازمین کو پرسنل پروٹیکشن گیئر فراہم کیے گئے۔
ایس پی راول رائے مظہر اقبال نے کورونا کی وجہ سے سیل کیے گئے علاقے ڈھوک کشمیریاں، مجسٹریٹ کالونی اور ڈھوک پراچہ کا دورہ کیا اور پولیس کی جانب سے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔
ایس پی راول رائے مظہر اقبال کی ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے کہا کہ شہریوں سے اخلاق سے پیش آئیں اور شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی۔
ان کا کہنا تھا ’ڈبل سواری اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندیوں کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے، شہری پابندیوں پر عمل کریں اور تمام احتیاطی تدابیر یقینی بنائیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں پر عمدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، پابندیوں پر عملدرآمد وسیع تر قومی مفاد میں ضروری ہے۔
،تصویر کا ذریعہRawalpindi Police
بریکنگ, ایبٹ آباد میں کورونا کا مریض ہلاک، دس افراد قرنطینہ منتقل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صحافی زبیر خان کے مطابق کمشنر ہزارہ ڈویژن ظہیر الاسلام نے تصدیق کی ہے کہ ایبٹ آباد میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت گزارنے والا ایک شخص کورونا سے ہلاک ہو گیا ہے۔
ایبٹ آباد کی انتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والے فرد کے ہمراہ دیگر دس افراد بھی موجود تھے۔ جنھیں ایبٹ آباد کے ایک ہوٹل میں قرنطینہ قائم کرکے اس میں منتقل کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفات پانے والے شخص کے خاندان کا کہنا ہے کہ ہم لوگ گھروں میں موجود ہیں مگر ابھی تک ہمارے ٹیسٹ نہیں کروائے گے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کے ٹیسٹ کروائے جائیں تاکہ پتا چل سکے کہ کیا صورتحال ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک 15 افراد اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پانچ، پانچ، سندھ میں تین جبکہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
بریکنگ, ایدھی کا سرد خانے اور میت کو غسل دینے کی خدمات معطل کرنے کا فیصلہ, فرحت جاوید، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سب سے بڑے فلاحی ادارے ایدھی فاونڈیشن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین جاری رکھے گی تاہم سرد خانے اور میت کو غسل دینے کی سروسز بند رکھی جائیں گی۔
ادارے کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن نے تدفین کی نئی ہدایات جاری کی ہیں۔
ان کے مطابق جن کپڑوں میں کورونا کے مشتبہ مریض ہلاک ہوں گے انھی کپڑوں پر کفن لپیٹ دیا جائے گا، پھر پلاسٹک کا کور لپیٹا جائے گا اور اس کے بعد میت کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے اس پر سپرے کیا جائے گا۔
اس کے بعد جہاں قبرستان میں گھر والے کہیں گے وہیں تدفین کی جائے گی۔
تاہم ایدھی
فاونڈیشن نے اپنے سرد خانے اور میتوں کو غسل کی سروسز بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ادارے کے سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا کہ ان کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر چھ، سات ایسے افراد کی تدفین کر رہا ہے جو کورونا کے مشتبہ مریض ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے سرد خانے اس لیے بند کر دیے ہیں کہ بہت سے لوگ کورونا کے مشتبہ افراد کی میتیں ہمارے پاس لا رہے ہیں کہ ان کا غسل کریں۔‘
ایران کے رہبر اعلیٰ سمیت دنیا بھر میں کئی علما نے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو غسل نہ دینے کی تلقین کی ہے تاکہ دیگر افراد کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اٹلی میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک ایمرجنسی قانون کے ذریعے روایتی تدفین پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ اٹلی جیسے رومن کیتھولک ملک کے لیے انتہائی غیر معمولی بات ہے۔
سرکاری جامعات، کالجوں کے اساتذہ کے لیے فری آن لائن ٹیچنگ ٹریننگ
پنجاب میں محکمہ ہائر ایجوکیشن اور امریکن بورڈ فار ٹیچرز سرٹیفیکیشن کے اشتراک سے آن لائن کورس کا آغاز کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکن بورڈ پنجاب کی سرکاری جامعات اور کالجز کے اساتذہ کو آن لائن ٹیچنگ ٹرینگ فراہم کرے گا۔
وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب راجہ یاسر ہمایوں کا کہنا ہے کہ اساتذہ کو فری ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔
راجہ یاسر کے مطابق تعلیمی معیار عالمی سطح پر لانے کے لیے یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ٹریننگ کورس مکمل کرنے پر اساتذہ کو سرٹیفیکیٹس دیے جائیں گے۔
فی الحال صوبے میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔
پنجاب میں وبائی امراض سے تحفظ کا نیا آرڈیننس جاری
،تصویر کا ذریعہGovt of Punjab
کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر پنجاب میں وبائی امراض سے تحفظ اور پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک نیا آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔
کووڈ 19 سے دو مزید اموات، کل ہلاکتیں 14 ہوگئیں
سندھ کی وزیرِ صحت عذرا پیچوہو نے تصدیق کی ہے کہ کراچی میں کووڈ 19 سے مزید دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس سے سندھ میں ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد 4 ہوگئی ہے۔
مرنے والوں کی عمریں 70 اور 83 برس تھی۔ ان میں 28 مارچ کی شب کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ صوبائی وزیر صحت کے مطابق دونوں مریض نمونیا کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔
پاکستان میں اب تک 14 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
نئے مریضوں کی یومیہ تعداد کا سلسلہ
،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk
پاکستان میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ 170 مریضوں کی تصدیق 27 مارچ کو ہوئی تھی۔
بریکنگ, پاکستان میں متاثرین کی تعداد 1542 ہوگئی, پنجاب میں 570 مصدقہ متاثرین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک مزید 34 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور متاثرین کی کل تعداد 1542 ہے۔
پنجاب کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ 12 نئے مریض کے ساتھ یہاں مصدقہ متاثرین کی تعداد 570 ہوگئی ہے۔ ان میں ڈی جی خان میں 207 زائرین، ملتان میں 79 زائرین اور لاہور میں 119 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
صحافی ایم اے جرال کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید 4 افراد میں کووڈ 19 کے نتائج مثبت آئے ہیں جن میں 3 خواتین شامل ہیں۔ اس کے بعد خطے میں کل متاثرین 6 ہوگئے ہیں۔
دیگر تفصیلات کے مطابق سندھ میں 481، خیبر پختونخوا میں 188، بلوچستان میں 138، گلگت بلتستان میں 116 اور دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے 43 متاثرین ہیں۔
تاحال ملک بھر میں کورونا سے 13 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ 11 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ 28 افراد کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہوچکے ہیں۔