لوئر دیر کے حلقے این اے 6 میں خواتین کا جوش و خروش








بی بی سی کے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی نے لوئر دیر کے حلقہ این اے 6 سے تصاویر بھیجیں ہیں جس میں خواتین کی بڑی تعداد ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔
پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلی مرتبہ متعارف کروائے جانے والے نظام میں تکنیکی خرابی نتائج میں تاخیر کی وجہ بنی ہے۔ الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
ذیشان حیدر، حسن زیدی، رضا ہمدانی ذیشان علی، حمیرا کنول








بی بی سی کے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی نے لوئر دیر کے حلقہ این اے 6 سے تصاویر بھیجیں ہیں جس میں خواتین کی بڑی تعداد ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔

بی بی سی کے شیراز حسن کے مطابق راولپنڈی میں ووٹرز گرمی کی شکایت کرتے دکھائی دیے اور ان کے لیے ٹھنڈے شربت کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔



بی بی سی کے بلال احمد کے مطابق لوئر دیر کے گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول رباط میں خواتین کے پولنگ سٹیشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ اور پہلی بار الیکشن میں حصہ لینے والے بلاول بھٹو نے ووٹ دینے کے بعد ٹویٹ میں کہا کہ ’ہر ووٹ کی اہمیت ہے۔ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پشاور کے حلقے 29 میں پاکستان تحریک انصاف کے پولنگ ایجنٹ عابد حسین نے بی بی سی کے عزیز اللہ کو بتایا کہ حلقے میں ان کی جماعت کے امیدوار آصف خان اور حریف آصف جان کے انتخابی نشانات میں مماثلت ہے۔ اُن کے مطابق اسی وجہ سے ووٹرز کنفیوز ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ آئس کریم کا نشان اور بیٹ کا نشان ایک ہی جیسا اور ایک ہی ساتھ ہے۔‘
بی بی سی کے وقاص انور کے مطابق لاہور کے علاقے ساندہ، حلقہ این اے 125 میں پولنگ کی سرگرمیاں جوش و خروش سے جاری ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔






،تصویر کا ذریعہNAYAB ALI
نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق این اے 142 سے امیدوار نایاب علی جن کا تعلق خواجہ سرا برادری سے ہے۔ انھوں نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنی تصویر بی بی سی سے شیئر کی ہے۔ خیال رہے کہ اس مرتبہ جسمانی طور پر معذور افراد اور خواجہ سرا برادری کے لیے خصوصی انتظامات کیے گیے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنا ووٹ ڈال دیا ہے جس کے بعد ان کی پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ میں پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں انھوں نے کس کو ووٹ دیا ہوگا؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کراچی سے بی بی سی کے محمد نبیل کے مطابق این اے 238 اور پی ایس 89 کا پولنگ سٹیشن اینٹی کرپشن آفس میں قائم ہے یہاں مسلم لیگ ن اور راہ حق پارٹی کا اتحاد ہے۔ راہ حق کے امیدوار اورنگزیب فاروقی اور مسلم لیگ ن کے شاہ محمد شاہ ہیں۔





بی بی سی کے اظہار اللہ نے بتایا کہ پشاور کے چند حلقوں میں ووٹرز کو معذوری کی وجہ سے ووٹ ڈالنے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ کہ ان کے لیے وہاں جانے کے لیے راستے ہموار اور موافق نہیں ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ این اے 20 اور این اے 30 میں چند پولنگ بوتھ دوسری منزل پر ہیں جس کی وجہ سے ووٹرز کو جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔


نامہ نگار محمد کاظم نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ کے حوالے سے بتایا کہ کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ایک پولنگ سٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہوگئی ہے۔
اعتزاز گورایہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا اور حملے کے وقت ڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ قریبی پولنگ سٹیشن کے دورے پر تھے۔ عبد الرزاق چیمہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد قریبی پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ کا سلسلہ روک دیا گیا تھا جو اب بحال کر دیا گیا ہے۔

٭اس انتخابی نقشے میں گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے نہیں دکھائی گئے کیونکہ یہ علاقے پاکستان کے عام انتخابات کا حصہ نہیں ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید نے بتایا ہے کہ چکوال کے علاقے دھرنل میں گذشتہ پانچ دہائیوں میں پہلی بار خواتین نے ووٹ کاسٹ کیا ہے، جبکہ مقامی مردوں نے کہا ہے کہ وہ خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے نہیں دیں گے۔
فرحت جاوید کے مطابق اب تک صرف دو خواتین ووٹ ڈال چکی ہیں۔ ان میں 68 سالہ حاجرہ بی بی وہ پہلی خواتون ہیں جنھوں نے پانچ دہائیوں میں ووٹ کاسٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا : ’آج میں خوش ہوں اور میں سوائے خدا کے کسی اور سے نہیں ڈرتی۔‘
الیکشن کمیشن نے چیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور صدر پی ایم ایل نواز کے صدر شہباز شریف اور رہنما خواجہ اصف کے ٹی وی لائیو ٹاک کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور کمیشن نے تمام چینلز کو بھی ھدایت کی ہے کہ ایسی خلاف ورزی سے فوری اجتناب کرے۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔
کوئٹہ میں سول ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا ہے کہ دھماکے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 27 ہوگئی ہے۔
ادھر نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ دھماکہ کے بعد قریبی پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ روک دی گئی ہے اور آئی جی ایف سی بلوچستان نے اب سے کچھ دیر قبل ہی جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے۔
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے الزام لگایا ہے کہ این اے 243 میں پولنگ سٹیشن آخری وقت میں تبدیل کر دیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ این اے 243 میں آٹھ پولنگ سٹیشنوں کی تبدیلی انتخابی مرحلے پر سوالیہ نشان ہے۔
تاج حیدر نے مزید کہا کہ پی ایس 104 میں آٹھ بجے تک پولنگ بوتھ ہی نہ بن سکے اور یہاں کے کئی پولنگ سٹیشنوں سے پولنگ بوتھ نہ ملنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔
انھوں نے الیکشن کمیشن سے جلد از جلد مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی سی کے اظہار اللہ کے مطابق این اے 29 میں خاتون پریزائڈنگ آفیسر نے بتایا ہے کہ حاجی باندا کے پولنگ سٹیشن میں صبح سے ایک بھی عورت نے ووٹ نہیں ڈالا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مقامی ذمہ داران سے بات کی گئی تو بتایا گیا کہ مختلف جماعتوں نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا جائے گا۔
حاجی باندا میں خواتین کے اس پولنگ سٹیشن میں 987 خواتین ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔