کراچی میں خواتین کی بڑی تعداد پولنگ سٹیشنوں پر
بی بی سی کے محمد نبیل کے مطابق کراچی کے حلقہ این اے 243 میں خواتین کی بڑی تعداد حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنوں کے باہر پہنچ گئی ہے۔


پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلی مرتبہ متعارف کروائے جانے والے نظام میں تکنیکی خرابی نتائج میں تاخیر کی وجہ بنی ہے۔ الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
ذیشان حیدر، حسن زیدی، رضا ہمدانی ذیشان علی، حمیرا کنول
بی بی سی کے محمد نبیل کے مطابق کراچی کے حلقہ این اے 243 میں خواتین کی بڑی تعداد حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنوں کے باہر پہنچ گئی ہے۔


اسلام آباد میں نامہ نگار شجاع ملک کے مطابق کچھ پولنگ سٹیشنز کے باہر سیاسی جماعتوں کے کیمپ نہ ہونے کی وجہ سے ووٹرز کو مشکلات ہو رہی ہیں۔ ووٹرز کو یہ معلوم نہیں کہ ان کا سلسلہ نمبر یا بلاک کوڈ کیا ہے۔ جب انتخابی عملہ انھیں کہتا ہے کہ 8300 پر شناختی کارڈ نمبر بھیج کر معلوم کر لیں تو بہت سے لوگ کہتے ہیں موبائل فون تو سکیورٹی والوں نے اندر لانے نہیں دیا۔ عمومی طور پر سیاسی جماعتیں پولنگ سٹیشنز کے باہر کیمپ لگاتی ہیں جہاں ووٹرز اپنے ووٹ کے بارے میں معلومات ایک پرچی پر لکھوا کر آتے ہیں۔ ابھی تو انتخابی عملہ یہی پوچھ رہا ہے کہ آپ کی پرچی کہاں ہے؟

،تصویر کا ذریعہPMLN

،تصویر کا ذریعہPMLN
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے اپنا ووٹ کاسٹ کر لیا ہے۔
بی بی سی کے عثمان زاہد کے مطابق اسلام آباد کے حلقہ این اے 54 سے پی ٹی آئی کے امیدوار اسد عمر بھی ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچ گئے ہیں۔





کراچی سے بی بی سی کی سحر بلوچ نے بتایا کہ این اے 247 میں تحریک لبیک پاکستان کے پولنگ کیمپ پر ابھی تک ووٹرز کا انتظار ہے۔

راولپنڈی کے حلقے این اے 61 کے طارق آباد علاقے سے بی بی سی کے شیراز احمد نے بتایا کہ ان کے پولنگ سٹیشن میں ابھی تک پولنگ کا سلسلہ شروع نہیں ہوا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی کے حلقہ 243 میں ایک پولنگ سٹیشن کے قریب پاک سرزمین پارٹی کے پولنگ ایجنٹ موجود نہیں ہیں اور ان کا کیمپ بھی خالی ہے۔





کراچی میں این اے 243 گلشن اقبال بلاک کے ایک پولنگ سٹیشن کے اندر کا منظر۔ بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یہاں سے عمران خان، ایم کیو ایم کے علی رضا عابدی اور پی پی پی کی شہلا رضا امیدوار ہیں۔


بی بی سی کی سحر بلوچ نے بتایا ہے کہ کراچی کے حلقہ این اے 247 سے آزاد امیدوار جبران ناصر بھی ووٹ ڈالنے پہنچ گئے ہیں۔

نامہ نگار سحر بلوچ نے بتایا ہے کہ کراچی کے کلفٹن کے بلاک فور کہکشاں کے علاقے میں ووٹ ڈالنے کے لیے بزرگوں کی بڑی تعداد پولنگ سٹیشنز کا رخ کیے ہوئے ہے۔





بی بی سی کے ہارون رشید نے این اے 53 سے پولنگ ایجنٹس کی تصاویر بھیجیں ہیں جہاں مختلف سیاسی پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹس اپنی اپنی جماعتوں کے ووٹرز کے انتظار میں ہیں۔
بی بی سی کی الیکشن سیریز ’ییلو چیئر‘ میں دیکھیے کہ اگر فیصل آباد کے شہریوں کو پاکستان کا وزیر اعظم بننے کا موقع ملے تو وہ کیا کریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں قائم پولنگ سٹیشنز کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 60 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر معمور ہیں۔

نامہ نگار سحر بلوچ نے بتایا کہ کراچی کے کلفٹن کے بلاک فور کہکشاں کے علاقے میں پولنگ جاری ہے اور وہاں پولنگ سٹیشن کے باہر پی ایم ایل این کے کیمپ آفس میں گہما گہمی صبح سے ہی ہے۔ اسی حلقے میں امیدوار جبران ناصر ابھی تھوڑی دیر میں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے آئیں گے۔