آسیہ بی بی کی بریت: تحریک لبیک کا احتجاج اور حکومت کا موقف، کب کیا ہوا؟

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت کی اپیل کی منظوری اور اس کے بعد مذہبی جماعت تحریک لبیک کے احتجاج پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے‘

    عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جب تک کوئی شخص، چاہے وہ توہین رسالت جیسا سنگین جرم کا ملزم ہی کیوں نہ ہو، آئین میں درج مروجہ شفاف طریقہ سماعت کے بعد گناہ گار ثابت نہیں ہو جاتا، ہر شخص کو بلا امتیاز ذات پات، مذہب و نسل کے معصوم اور بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

    ’یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی فرد کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور خود سزا دینے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کے توہین رسالت کے ملزم کو بھی مجاز عدالت کے روبرو اپنا دفاع کرنے کا موقع ملنا چاہئے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور مذموم مقاصد کے حصول کے لیے جھوٹا الزام لگانے کا تدارک ہو سکے۔‘

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  2. اسلام آباد میں آئی جے پی روڈ پر بھی رکاوٹیں

    بی بی سی کے نمائندے راجہ وقاص علی نے تصاویر شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ فیض آباد کے سنگم پر آئی جے پی روڈ پر بھی رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں۔

    bbc
    bbc
  3. مظاہروں میں مرکزی شاہراہیں بند

    لاہور میں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان مال روڈ پر احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد میں مرکزی شاہراہیں رکاوٹیں لگا کر بند کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرکوں پر بڑی تعداد میں لاٹھیاں بھی لائی گئی ہیں۔

    بی ب ی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  4. ’امید ہے کہ آسیہ بی بی کے خاندان اور وکیل کو تحفظ ملے گا‘

    معروف مصنفہ فاطمہ بھٹو نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ آسیہ بی بی کے خاندان کے علاوہ ان کے وکیل کو بھی تحفظ ملے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. بریکنگ, پورے پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ

    بی بی سی کے نمائندے شہزاد ملک کے مطابق پنجاب کی صوبائی وزارت داخلہ کے مطابق صوبے بھر میں دس نومبر تک دفعہ 144 کے نفاذ کا فوری اعلان کیا ہے جس کے مطابق کسی بھی عوامی مقام پر پانچ سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔

  6. بریکنگ, ’مذموم مقاصد کے حصول کے لیے توہین رسالت قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے‘

    آسیہ بی بی کی رہائی کا تفصیلی فیصلے چیف جسٹس ثاقب نثار نے جبکہ اضافی نوٹ سپریم کورٹ کے سینئر جج جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا ہے۔ ابتدائی پیروں میں عدالت نے قرآن و حدیث اور آئین پاکستان کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ مذہب اور پیغمبر اسلام کی توہین کی سزا موت یا عمر قید ہے۔

    یہ بات ثابت کرنے کے بعد عدالت نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ اس جرم کا غلط اور جھوٹا الزام بھی اکثر لگایا جاتا ہے۔ عدالت نے مشعال کیس اورایوب مسیح کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے اٹھائیس برس میں ایسے 62 افراد کو مقدمات کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا جن پر توہین مذہب یا پیغمبر اسلام کی توہین کا الزام لگایا گیا تھا۔

    عدالت نے اس بارے میں لکھا ہے ’کسی کو حضرت محمد (ص) کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی جرم کو سزا کے بغیر چھوڑا جا سکتا ہے لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے بعض اوقات کچھ مذموم مقاصد کے حصول کے لیے قانون کو انفرادی طور پر غلط طریقے سے استعمال کرتے ہوئے توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ حقائق کے مطابق 1990 سے سے تقریباً 62 افراد توہین رسالت کے الزام پر قانون کے مطابق مقدمے کی سماعت سے قبل ہی موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نامور شخصیات جنہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ توہین رسالت کے قانون کا چند افراد کے ہاتھوں غلط استعمال ہو رہا ہے بھی خطرناک نتائج کا سامنا کر چکے ہیں۔ اس قانون کے غلط استعمال کی ایک حالیہ مثال مشعال خان کا قتل ہے جو مردا ن عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم تھا جس کو اپریل 2017 میں یونیرسٹی کے احاطے میں مشتعل ہجوم نے صرف اس لیے قتل کر دیا کہ اس نے کوئی توہین آمیز مواد آن لائن پوسٹ کیا ہے۔

  7. مظاہروں کے بعد فیض آباد کے قریب اسلام آباد ہائی وے بند

    بی بی سی کے شہزاد ملک نے بتایا کہ مظاہرین نے فیض آباد کے قریب دونوں شہروں کو ملانے والی شاہراہ اسلام آباد ہائی وے کو بند کردیا ہے جبکہ اس کے علاوہ راولپنڈی کے کچہری چوک کو بھی بلاک کردیا گیا ہے۔ مختلف مساجد سے اس ضمن میں اعلانات بھی کیے جارہے ہیں اور لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف گھروں سے نکلیں اور احتجاج میں شریک ہوں۔ اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی اس فیصلے کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس نے اپنے فیس بک پیج پر بھی اسی حوالے سے اعلان جاری کیا۔

    بی بی سی
  8. کراچی کے مختلف علاقوں میں مظاہرے شروع

    کراچی میں بی بی سی کے نمائندے ریاض سہیل نے بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ڈنڈہ بردار افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں جنہوں نے اندرون شہر کی مرکزی اہم شاہراہوں پر ٹریفک معطل کردی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس وقت ایم اے جناح روڈ پر نمائش اور ٹاؤر کے مقام پر دھرنا دیا گیا ہے اسی طرح حب رور روڈ، سہراب گوٹھ پر بھی دھرنے دیے جارہے ہیں۔

    ادھر تحریک لبیک پاکستان کا کہنا ہے کہ شہر میں نصف درجن کے قریب علاقوں میں دھرنے جاری ہیں جن میں سٹار گیٹ، اورنگی نمبر 5 بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ نمائش کے مقام پر اورنج لائن کی تعمیر کی وجہ سے روڈ کا ایک سائڈ پہلے ہی بند ہے جبکہ ٹاور کے آ س پاس شہر کے ہول سیل مارکیٹ ہے جو اس احتجاج کی وجہ سے متاثر ہونے کا امکان ہے جبکہ سٹار گیٹ کراچی ہوائی اڈے کے قریب واقع ہے۔

    بی بی سی
  9. ملک بھر میں مظاہروں کا آغاز

    تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں مظاہروں کا آغاز ہو گیا ہے اور لاہور میں مال روڈ پر ان کے کارکنان کی بڑی تعداد جمع ہو گئی ہے۔

    بی بی سی
    bbc
  10. ’ہمیں اسی فیصلے کی توقع تھی کیونکہ یہ جج خود قید ہیں‘

    عدالت میں موجود الجزیرہ کے صحافی اسد ہاشم نے ٹویٹ کی کہ قاری سالم کی قانونی ٹیم نے بتایا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے بارے میں تفیصلی عدالتی فیصلہ پڑھنے کے بعد کریں گے۔ قانونی ٹیم میں شامل وکیل طاہرہ شاہین نے انھیں بتایا کہ ’ہمیں اسی فیصلے کی توقع تھی کیونکہ یہ ججز خود قیدی ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. سوشل میڈیا پر ردِ عمل دو انتہاؤں پر

    سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے بعد انتہائی متضاد ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف تو لوگ اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے قانون اور انصاف کی فتح قرار دے رہے ہیں، تو دوسری جانب انتہائی شدید اور دھمکی آمیز پیغامات بھی آ رہے ہیں جن میں ججوں کے خلاف سخت زبان استعمال کی جا رہی ہے۔

  12. آسیہ بی بی کی بریت کی وجوہات

    قانونی ماہر ریما عمر نے سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ آسیہ بی بی کی بریت چار وجوہات پر ہوئی ہے۔ 1) ایف آئی آر درج کرنے میں دیر جس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں2) گواہان کے بیانات میں عدم مطابقت3) آسیہ بی بی کے غیر عدالتی اعتراف جرم پر انحصار4) عدالتوں کی جانب سے آسیہ بی بی پر لگائے جانے والے الزامات کی صحت اور ان کے ماحول کے تناظر کو نظر انداز کرنا

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. اسلام آباد کے بعض سکولوں میں کلاسیں منسوخ

    بی بی سی کے نمائندے آصف فاروقی نے بتایا کہ آسیہ بی بی کے حق میں فیصلے کے خلاف مذہبی تنظیموں کی طرف سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کے بعض سکولوں میں کلاسیں منسوخ کر کے والدین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بچوں کو گھر لے جائیں۔

  14. آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ ویب سائٹ پر جاری

    چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ہاتھوں تحریر کیا گیا سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا ہے جسے پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  15. مختلف شہروں میں احتجاج شروع

    سوشل میڈیا پر صارفین مختلف شہروں سے آسیہ بی بی کیس پر فیصلے کے خلاف احتجاج کی خبریں دے رہے ہیں۔ اب تک اسلام آباد کے فیض آباد چوک، لاہور کے فیروز پور روڈ اور چونگی امر سدھو اور کراچی کی نمائش اور سہراب گوٹھ میں احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کو مسدود کرنے کی خبریں ملی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 4

  16. بریکنگ, مقامی میڈیا کی جانب سے اس خبر میں کچھ زیادہ دلچسپی نظر نہیں آئی

    دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ٹیلی ویژن چینلوں کے علاوہ اکثر چینلوں پر آسیہ بی بی کی رہائی کی خبر کو کچھ زیادہ کوریج نہیں دی جا رہی۔ بعض چینلوں نے معمول کے پروگراموں کے نیچے ٹِکر ضرور چلائے ہیں، لیکن کسی نے لائیو کوریج نہیں کی، جب کہ متعدد چینل ایسے ہیں جنھوں نے سرے سے یہ خبر دی ہی نہیں۔

  17. ’ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے آپ میدانِ عمل میں رہیں‘

    اس سے قبل گذشتہ شب تحریک لبیک کے قائد خادم حسین رضوی نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انھوں نے اپنے حمایتیوں کو ہدایت کی کہ ’صبح آٹھ بجے تمام عشاقانِ مصطفیٰ روڈوں پر آ جائیں، اگر یہ فیصلہ مطابق کیا جائے تو دعا کر کے گھروں میں آ جائیں، اور اگر یہ فیصلہ گستاخِ رسول کو رہا کرنے کا کیا جاتا ہے، تو ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے آپ میدانِ عمل میں رہیں، جب تک مرکز کی طرف سے دوسرا اعلان نہ کیا جائے۔‘

  18. ’ناموس رسالت کے لیے ہر قربانی دیں گے‘

    پنجاب اسمبلی ہال کے سامنے تحریک لبیک پاکستان کے قائدین علامہ خادم حسین رضوی پیر محمدا فضل قادری موجود ہیں جہاں احتجاج جاری ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ’ناموس رسالت کے لئیے ہر قربانی دیں گے‘۔

    بی بی سی
  19. ’مجھے خدا سے پوری امید ہے کہ وہ باہر آ جائیں گی‘

    آسیہ بی بی کے خاوند اور ان کی بیٹی نے حال ہی میں بی بی سی کی عالیہ نازکی سے گفتگو کی تھی جس میں انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آسیہ بی بی کو رہائی مل جائے۔

    ان کے شوہر عاشق مسیح کا کہنا تھا کہ ’جب سے یہ حادثہ ہوا ہے ہمیں بار بار گھر بدلنا پڑا۔ بچے چھوٹے چھوٹے تھے۔ میں نے انہیں ماں کی طرح پالا ہے لیکن جو ماں ہوتی ہے وہ ماں ہوتی ہے۔

    ’اس واقعے کے بعد یہ بچی سکول جاتی تھی تو وہاں بچے بھی انہیں دھمکیاں دیتے تھے، ان کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوئی۔ اس ڈر سے کہ لوگ ان بچوں کو نہ مار دیں میں نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا۔‘

    ایشام کا کہنا تھا کہ بار بار گھر اور سکول بدلنے سے کسی سے دوستی بھی نہیں بنتی۔ مجھے خدا سے پوری امید ہے کہ وہ باہر آ جائیں گی۔ ’وہ ضرور آئیں گی خدا نے چاہا تو‘۔

    bbc
  20. بریکنگ, عدالت کا فیصلہ آ گیا، آسیہ بی بی کی فوری رہائی کا حکم

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے آسیہ بی بی کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کی فوری رہائی کا حکم سنا دیا ہے۔ بی بی سی نمائندے شہزاد ملک کے مطابق کمرہ عدالت میں کمپلیننٹ قاری محمد سالم کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر جانے نہیں دیا گیا۔