آسیہ بی بی کی بریت: تحریک لبیک کا احتجاج اور حکومت کا موقف، کب کیا ہوا؟
پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت کی اپیل کی منظوری اور اس کے بعد مذہبی جماعت تحریک لبیک کے احتجاج پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج۔
لائیو کوریج
’میں نہیں جھکوں گا‘
،تصویر کا ذریعہAFP PHOTO / PUNJAB"S GOVERNOR"S HOUSE
انھوں نے 2010 کو خیر باد بھی اپنے ڈٹے رہنے پر کیا اور ٹویٹ کی ’مجھ پر بہت دباؤ تھا کہ توہینِ مذہب کے معاملے میں دائیں بازو کی قوتوں کے سامنے جھک جاؤں۔ مگر اگر میں اِس صف میں کھڑا آخری انسان بھی ہوں گا تو میں نہیں جھکوں گا۔‘
’ایک شخص یا قوم کے کردار کا اندازہ ۔۔۔‘
24 دسمبر 2010 کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر اقلیتوں کے بارے میں اپنے مشاہدے کے بارے میں ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے لکھا ’ایک شخص یا قوم کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے سے کمزور کی مدد کرتے ہیں نہ کہ اس بات سے کہ اپنے سے طاقتور کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھتے ہیں۔‘
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو، پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو‘
اس کے دو روز بعد انھوں نے ایک اور ٹویٹ کی جس میں ان کی جانب سے آسیہ بی بی کی رحم کی اپیل کے لیے کوششیں کرنے کے حوالے سے ان کو ’مُلا‘ کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا ہے اور وہ ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس بار بھی انھوں نے فیض احمد فیض کی نظم ’آج بازار میں پا بہ جولاں چلو‘ کا یہ شعر لکھا ’رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو، پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو‘۔
’ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے‘
20 نومبر 2010 کو اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے کہا کہ وہ صدر مملکت آصف زرداری سے رحم کی اپیل کے ہمراہ شیخوپورہ ڈسٹرکٹ جیل کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ آسیہ بی بی سے ملاقات کریں گے۔
اس کے ساتھ ہی انھوں نے ایک مصرعہ بھی لکھا:’ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے‘۔
اب تو سیدھا سر تن سے جدا کی دھمکی مل سکتی ہے
پاکستان کی اقلیتیں جتنی طاقتور ہیں اور جس طرح کا ہم ان کے ساتھ رویہ رکھتے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے کیا کوئی سالم شعور انسان سمجھ سکتا ہے کہ ان کی ایسی ہمت ہو گی کہ وہ مسلمانوں کے نبی کی شان میں گستاخی کا سوچ بھی سکیں؟
بریکنگ, ’موٹر وے پر پھنسے سکھ یاتریوں کو لاہور پہنچا دیا گیا‘
موٹرویز اینڈ ہائی ویز پولیس کے ترجمان محمود کھوکھر نے بی بی سی کے نامہ نگار شیراز حسن سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سکھ یاتریوں کو لاہور اسلام آباد موٹروے پر سکھیکی سروس ایریا سے آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے لاہور پہنچایا گیا ہے۔
موٹروے احتجاج کے باعث بند ہونے کی وجہ سے یہ سکھ یاتری کئی گھنٹوں سے پھنسے ہوئے تھے تاہم انھیں بحفاظت لاہور پہنچا دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ ان سکھ یاتریوں کی تعداد 73 تھی اور وہ 16 گھنٹوں سے یہاں پھنسے ہوئے تھے تاہم ترجمان موٹروے پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
،تصویر کا ذریعہTwitter
،تصویر کا ذریعہTwitter
،تصویر کا ذریعہTwitter
بریکنگ, ’ایف آئی آر تاخیر سے درج کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم بے گناہ ہے‘
آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نظرثانی کی درخواست قاری سلام نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق اور غلام مصطفیٰ چوہدری کی وساطت سے دائر کی ہے۔
نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’آسیہ بی بی نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کیا تھا اور ایف آئی آر تاخیر سے درج کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم بے گناہ ہے‘۔
نظرثانی کی درخواست میں سپریم کورٹ سے درخوات کی گئی ہے کہ وہ ’آسیہ بی بی سے متعلق بریت کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اُس درخواست کے فیصلے تک آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے‘۔
’سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کی گئی ہے‘
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایک ٹویٹ میڈیا میں کنفیوژن کو کلیئر کرنے کے لیے کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے ’ایک شخص نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے اور اس میں مطالبہ کیا گیا ہے آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نظر ثانی کی درخواست اور اس میں جو درخواست کی گئی ہیں وہ سپریم کورٹ اور درخواست گزار کے درمیان ہے۔ وزیر اعظم کی اس حوالے سے موقف واضح ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ’آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں‘
برسرِاقتدار پاکستان تحریکِ انصاف نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شیخوپورہ انٹرچینج کے قریب موٹروے کے مناظر
’نظرثانی ایک آئینی راستہ ہے جو متاثرہ فریق کا حق ہے‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ’آج رات کو دھرنا ختم ہو جائے گا‘
پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض حسن چوہان نے ایک نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آج رات تک دھرنا ختم ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل پر ڈالنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور ’اسی طرح دھرنا ختم ہوجائے گا۔‘
اسلام آباد: ’مظاہرین کو ہٹانے کے لیے کارروائی شروع‘, آصف فاروقی
اسلام آباد پولیس نے اسلام آباد کے نواحی علاقے ترامڑی چوک کو مظاہرین سے خالی کروانے کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے۔
شہزاد ٹاؤن پولیس کے مطابق ایک گھنٹہ قبل شروع کیے گئے اس آپریشن میں اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری شامل ہے۔ آنسو گیس کے ذریعے چوک میں موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی تو مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ ترامڑی چوک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاھور جانے والی جی ٹی روڈ کو بھی روات کے مقام پر کھول دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مظاہرین نے وفاقی دارالحکومت کو جانے والے ان دو مقامات کو کل سے بند کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ مظاہرین کی بڑی تعداد فیض آباد میں موجود ہے جو راولپنڈی پولیس کے زیر انتظام ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
،ویڈیو کیپشناسلام آباد: ’مظاہرین کو ہٹانے کے لیے کارروائی شروع‘
خادم حسین رضوی کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟
مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں چند برس پہلے تک کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ وہ کہاں سے آئے اور کون ہیں، پڑھیے ہارون رشید کی اس تحریر میں۔
،تصویر کا ذریعہAFP
’کوئی اس خیال میں نہ رہے کہ ریاست کمزور ہے‘: فواد چوہدری
’جو بھی اقدامات لے رہے ہیں اس میں تمام بڑی پارٹیوں کی رائے شامل ہوگی‘
بریکنگ, ’ہم چاہتے ہیں آپریشن کا موقع نہ آئے، یہ اب ان کے اوپر ہے‘
وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ بھی تشدد میں شرکت کریں گے، جو لوگ ریاست کو چیلنج کریں گے، جو بغاوت کے زمرے میں آتا ہے تو انھیں اس کا حساب دینا ہوگا۔‘
بریکنگ, اپوزیشن نے دو فوکل پرسنز تعینات کر دیے ہیں: فواد چوہدری
میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے نوید قمر اور مسلم لیگ نون نے ایاز صادق کو فوکل پرسن نامزد کیا ہے۔ ’ہماری کوشش ہے کہ ایک مشترکہ حکمت عملی ساتھ لے کر چلیں۔‘
بریکنگ, تمام موٹرویز ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے: موٹر وے پولیس