آسیہ بی بی کی بریت: تحریک لبیک کا احتجاج اور حکومت کا موقف، کب کیا ہوا؟

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت کی اپیل کی منظوری اور اس کے بعد مذہبی جماعت تحریک لبیک کے احتجاج پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج۔

لائیو کوریج

  1. ایم ٹو موٹر وے پر اسلام آباد مین ٹول پلازہ ٹریفک کے لیے بند

    موٹروے اینڈ ہائی ویز پولیس کے مطابق لاہور اسلام آباد موٹروے ایم ٹو کے لیے اسلام آباد کا مین ٹول پلازہ ٹریفک کے لیے بند ہے۔ بلکسار انٹرچینج بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔

    اس کے علاوہ شیخوپورہ اور کالا شاہ کاکو انٹرچینج بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔

    موٹروے اینڈ ہائی ویز پولیس نے شہریوں کو موٹروے اور ہائی ویز پر غیرضروری سفر کرنے سے اجتناب برتنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  2. پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاج

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاج کیے جا رہے ہیں۔

    کشمیر
    کشمیر
    کشمیر
  3. بریکنگ, لاہور میں موبائل نیٹ ورک سروس جزوی طور پر معطل

    لاہور میں موبائل نیٹ ورک سروس جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔

    نامہ نگار عمر دراز کے مطابق میٹرو بس سروس بھی بند ہے جبکہ پنجاب اسمبلی اور شہر کے کچھ حساس مقامات پر رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے۔

  4. ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقت نے ٹویٹ کیا ہے کہ بھارہ کہو، ترنول اور کشمیر ہائی وے ٹریفک کے لیے کھلے ہیں جبکہ آبپارہ اور فیض آباد بلاک ہیں۔ اسلام آباد سے موٹروے کا راستہ بھی کھلا ہے۔

    اسلام آباد
    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. راولپنڈی: راجہ بازار میں بھی احتجاج

    بی بی سی کے نگار وقاص علی کے مطابق راولپنڈی کے کاروباری مرکز راجہ بازار اور ملحقہ بازاروں میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    راولپنڈی
    راولپنڈی
    راولپنڈی
  6. لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج جاری

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  7. فیصل آباد میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے مناظر

    فیصل آباد

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    فیصل آباد

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  8. گواہوں کا ملزمہ کے ساتھ جھگڑا مقدمے کی بنیادی وجہ

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آسیہ بی بی کا اس مقدمے کی چشم دید گواہ خواتین کے ساتھ پانی نہ پلانے کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا جو ملزمہ کے خلاف اس مقدمے کی اصل وجہ بنا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ جرح کے دوران ان دونوں خواتین، معافیہ بی بی اور اسما بی بی نے اس بات کی تردید کی کہ انھوں نے آسیہ بی بی کے خلاف توہین رسالت کے معاملے میں جھوٹی گواہی دی ہے اور اس مقدمے میں اسے غلط طور پر پھنسایا ہے۔ جبکہ تیسرے گواہ جو کہ اس کھیت کا مالک ہے جس میں جھگڑا ہوا، نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ اس نے حقائق جاننے کی کوشش کی تو اسے صرف یہ ہی معلوم ہوا کہ ملزمہ اور گواہوں کے درمیان پانی پلانے کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا۔

    عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملزمہ اور گواہوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اس لیے موقع پر ملزمہ اور ان گواہوں کی موجودگی توہین رسالت کا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

    تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ ’اس کے علاوہ اس جگہ پر 30 سے 35 خواتین موجود تھیں جو اس معاملے میں گواہی کے لیے سامنے نہیں آئیں اور ایک تیسری گواہ بھی بعد میں مقدمے سے الگ ہو گئیں۔ محمد ادریس نے بھی توہین آمیز الفاظ نہیں سنے۔ یہ سب استغاثہ کی کہانی کے متعلق شکوک پیدا کرتا ہے۔‘

  9. ملزمہ کا عدالت سے باہر اقبال جرم مسترد

    عدالت کے مطابق استغاثہ کی ساری کہانی اس کے دو گواہوں اور آسیہ بی بی کے عدالت سے باہر دیے گئے اقبالی بیان کے گرد گھومتی ہے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ استغاثہ نے گواہوں کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ آسیہ بی بی نے ایک مجمعے کے سامنے تسلیم کیا کہ اس نے پیغمبر اسلام کے بارے میں نازیبا الفاظ ادا کیے ہیں جبکہ اپیل کنندہ نے دفعہ 342 کے تحت دیے گئے بیان میں اس مبینہ بیان کی تردید کی اور یہ بھی کہا کہ اس نے توہین آمیز الفاظ ادا نہیں کیے تھے۔

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے آسیہ بی بی کے مجمعے کے سامنے اقبال جرم کے بارے میں گواہوں کی شہادت پر انحصار کیا ہے جبکہ موجود عدالت اس اقبال جرم کو اہمیت نہیں دے سکتی کیونکہ اس کے بارے میں گواہوں نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ یہ اقبال جرم کس وقت، کہاں اور کس طرح کیا۔

    عدالت نے قرار دیا ہے کہ عدالت سے باہر کیا گیا اقبال جرم ایک کمزور شہادت ہے جسے ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔

    عدالت نے قرار دیا کہ ’جب ملزمہ کو اس مجمعے کے سامنے لایا گیا تو وہ تنہا تھی۔ صورتحال ہیجان انگیز اور ماحول خطرناک تھا۔ اپیل گزار نے اپنے آپ کو خوفزدہ اور غیر محفوظ پایا اور مبینہ اعترافی بیان دیا۔ اسے رضا کارانہ بیان تصور نہیں کیا جا سکتا اور سزا، خاص طور پر موت کی سزا کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔‘

    احتجاج
  10. پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین ہیں کیا؟

    پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین آزادی سے قبل انگریزوں کے زمانے سے رائج ہیں لیکن 1947 کے بعد سے ان میں بتدریج سختیاں آئی ہیں۔ ان قوانین کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  11. بریکنگ, آسیہ بی بی کیس: فیصلے میں ایف آئی آر کی صداقت پر سوالات

    عدالت نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آسیہ بی بی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں پانچ دن کی تاخیر کی گئی جس سے شک ہوتا ہے کہ اس دوران اپیل کنندہ کے خلاف ایک منظم سازش تیار کی گئی۔

    عدالت نے اس بارے میں استغاثہ کی یہ وضاحت مسترد کر دی کہ ایف آئی آر میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ اس بارے میں حقائق کو پرکھا جا رہا تھا۔

    عدالت نے ماضی کے بعض اہم فوجداری مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں ایک گھنٹے کی بھی بلا جواز تاخیر شک کو جنم دیتی ہے اور اسی لیے عدالت نے تاخیر کے لیے استغاثہ کے اس عذر کو مسترد کر دیا ہے۔

    اس کے علاوہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ جب مدعی سے پوچھا گیا کہ اس ایف آئی آر کے لیے درخواست کس نے تحریر کی تو اس نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر کے لیے درخواست ایک وکیل نے لکھی تھی جس کا نام انہیں یاد نہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ’یہ امر بھی اس ایف آئی آر کی سچائی پر سوال اٹھاتا ہے۔‘

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنمدعی قاری محمد سالم اپنے وکیل غلام مصطفی چوہدری کے ہمراہ
  12. آسیہ نورین کون ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ کیا تھا؟

    مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے بارے میں اور ان کے خلاف ہونے والے مقدمے کی تفصیلات جاننے کے لیے ہمارے ساتھی ظفر سید کا مضمون پڑھیے۔

    bbc
  13. راستے بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا

    سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ سنانے کے بعد تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے کیے گئے مظاہروں کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    بی بی سی
    bbc
  14. ’الفاظ مختلف ہونے سے گواہی تبدیل نہیں ہوتی‘

    آسیہ بی بی کے خلاف دائر مقدمے کے مدعی قاری محمد سالم کا دعویٰ ہے کہ آسیہ بی بی نے تسلیم کیا ہے کہ ان سے گستاخی ہوئی۔ دیکھیے بی بی سی سے ان کی گفتگو۔

    ،ویڈیو کیپشنآسیہ بی بی کے خلاف دائر مقدمے کے مدعی قاری محمد سالم کی بی بی سی سے گفتگو
  15. فیض آباد پر مظاہرین کی تعداد میں اضافہ

    فیض آباد انٹرچینگ پر موجود الجزیرہ کے اسد ہاشم نے ٹویٹ کی ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان وہاں موجود ہیں اور آہستہ آہستہ ہجوم کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. ’ماتحت عدالت نے مفروضوں کی بنیاد پر فیصلہ سنایا تھا‘

    آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کے مطابق ماتحت عدالت نے آسیہ بی بی کے خلاف فیصلہ مفروضوں کی بنیاد پر دیا تھا۔ دیکھیے بی بی سی کے شہزاد ملک کے ساتھ ان کی گفتگو۔

    ،ویڈیو کیپشنآسیہ بی بی کے وکیل سے بی بی سی کی گفتگو
  17. دیگر مسلم ممالک میں توہین مذہب قوانین کیا ہیں؟

    پاکستان کے علاوہ دیگرچیدہ چیدہ مسلم ممالک میں رائج توہین مذہب کے قوانین کے بارے میں مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  18. پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین

    پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین 19ویں صدی میں برصغیر میں انگریزوں کے رائج قوانین کے مرہون منت ہیں لیکن انگریزوں کے بنائے گئے قوانین کسی مخصوص مذہب کے لیے مختص نہیں تھے اور نہ ہی ان میں سے کسی قانون میں موت کی سزا متعین کی گئی تھی۔

    ان قوانین کے لاگو ہونے کے بعد 1860 سے لے کر 1947 تک بر صغیر میں توہین مذہب کے پانچ مقدمے درج ہوئے تھے جب کہ پاکستان بننے کے بعد سے لے کر 1980 تک ملک بھر میں توہین مذہب کے آٹھ مقدمات درج ہوئے جن میں سے کوئی بھی مقدمہ گستاخی رسول یا قرآن کی بے حرمتی کا نہیں تھا۔

    آمر جنرل ضیا الحق نے اپنے 11 سال کے دورِ حکومت میں ملک کے آئین میں مزید تبدیلیاں کیں جن میں سے پانچ شقیں توہین مذہب کے قانون میں شامل کی گئیں۔

    ضیا الحق کے دور میں شامل توہین مذہب کی ترامیم میں توجہ صرف دینِ اسلام سے متعلق بےحرمتی اور گستاخیوں پر تھی جن کے تحت غیر دانستہ طور پر توہین مذہب کرنا بھی اب جرم قرار پایا تھا۔

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  19. مسلم دنیا میں توہینِ مذہب کے قوانین

    تحقیقاتی ادارے پیئو ریسرچ سینٹر کی جانب سے 2015 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 26 فیصد ممالک میں توہین مذہب کے حوالے سے سزاؤں کے قوانین موجود ہیں جن میں سے تقریباً 70 فیصد مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔

    ان ملکوں میں توہین مذہب کے قوانین کے تحت ملنے والی سزائیں جرمانوں یا مختلف دورانیہ کے لیے قید کی شکل میں ہیں لیکن پاکستان، ایران اور سعودی عرب میں توہین مذہب کا ارتکاب کرنے پر جرمانوں اور قید کے علاوہ موت کی سزا بھی متعین ہے۔

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہAFP