آسیہ بی بی کی بریت: تحریک لبیک کا احتجاج اور حکومت کا موقف، کب کیا ہوا؟

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت کی اپیل کی منظوری اور اس کے بعد مذہبی جماعت تحریک لبیک کے احتجاج پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج۔

لائیو کوریج

  1. ’آج بھی مظاہرین کی قیادت سے مذاکرات ہوں گے‘

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ حکومتی وفد آج بھی تحریک لبیک پاکستان کی قیادت سے ملاقات کرے گا۔ یاد رہے کہ گذشتہ شب ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی کی جانب سے ٹویٹ کی گئی تھی کہ حکومت سے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور آئی ایس آئی کے افسر نے انھیں ’بھون‘ دینے کی دھمکی دی تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. بریکنگ, ’وہ مرحلہ نہیں آنا چاہیے کہ بات افواج پاکستان کی ذمہ داری پر آجائے‘

    ’فوج جس کام میں مصروف ہے اس کام سے اس کی توجہ دائیں بائیں نہ لے جائیں اور اس سطح پر نہ جائیں جہاں ہمیں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جو کام کرنے چاہیے وہ کیے جائیں۔ آخری بات یہ ہے کہ مذاکرات میں بات اوپر نیچے ہو جاتی ہے دونوں جانب سے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ مذاکرات کا مقصد ہے کہ بہترصورتحال ہر بات جائے۔ وہ مرحلہ نہیں آنا چاہیے کہ بات افواج پاکستان کی ذمہ داری پر آجائے۔‘ میجر جنرل آصف غفور نے اپنے مختصر بیان کے آخر میں کہا کہ جب یہ کیس فوج کے پاس آئے گا تو وہ اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

    میجر جنرل آصف غفور

    ،تصویر کا ذریعہISPR

  3. بریکنگ, ’پہلے پولیس، رینجرز اور پھر فوج کے استعمال کا فیصلہ لیا جا سکتا ہے‘

    میجر جنرل آصف غفور کے مطابق یہ مذاکرات حکومت کی سطح پر ہو رہے ہیں اور اس میں حکومت کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ بات چیت کرنا چاہے، اور آگے کیسے جائے۔

    ’حکومت کے پاس فیصلے کرنے کے مختلف آپشنز ہوتے ہیں اور پہلے پولیس، رینجرز اور پھر فوج کے استعمال کا فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ اور اگر حکومت فوج بلانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پھر فوج کے سربراہ اس پر وزیر اعظم کو اپنا مشورہ دیتے ہیں یا اگر وزیر اعظم اپنے حکم کے تحت فوج کو طلب کر سکتے ہیں۔ البتہ ہماری پوری خواہش ہے کہ قانونی تقاضہ پہلے پورے ہونے دیں۔‘

  4. بریکنگ, ’بات چیت کرتے ہوئے کبھی کبھار اونچ نیچ ہو جاتی ہے‘

    آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’مذاکرات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کبھی کبھار اونچ نیچ ہو جاتی ہے اور اس قسم کی فیصلے لینے بہت مشکل ہوتے ہیں اور ہمیں اس صورتحال کو قابو میں کرنا ہوتا ہے۔‘

  5. بریکنگ, ’آئی ایس آئی کا افسر وزیر اعظم کی ٹیم کا حصہ ہوتا ہے‘

    میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا: ’میں نے مولانا خادم رضوی صاحب کا بیان دیکھا ہے، فوج کے خلاف باتیں ہوئی ہیں۔ ایک صورتحال بنی ہوئی ہے جس کو حل کرنے کے لیے حکومت کا وفد گیا ہوا ہے جس میں آئی ایس آئی کا افسر بھی شامل ہے۔ آئی ایس آئی کا افسر وزیر اعظم کی ٹیم کا حصہ ہوتا ہے اور گذشتہ سال کی طرح بھی وہ اس بار گئے ہیں۔‘

  6. بریکنگ, ’ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ وہ قدم اٹھائیں جس کی آئین اور قانون اجازت دیتا ہے‘, ڈی جی آئی ایس پی آر کی پی ٹی وی سے گفتگو

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج اپنا کام کر رہی ہے اور اپنے خلاف ہونے والی باتیں برداشت کیے جا رہی ہے۔ ’اس میں بھی فوج نے برداشت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کیس میں تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی ہماری خواہش ہے کہ انصاف کیا جائے اور ہمیں ایسا کوئی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے جس کی ہمیں آئین اور قانون اجازت دیتا ہے۔‘

  7. بریکنگ, ’افواج پاکستان کے خلاف بات کرنا نہایت افسوسناک عمل ہے‘

    آسیہ بی بی کی بریت کے بعد ہونے والے مظاہروں پر پہلی بار رد عمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے سرکاری ٹی وی پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان کے خلاف بات کرنا نہایت افسوسناک عمل ہے۔ ’فوج نے دو دہائیوں سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور اب ہم اس جنگ کو جیتنے کے قریب ہیں۔‘

    آصف غفور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  8. اسلام آباد میں ٹریفک رواں، فیض آباد پر رکاوٹیں

    اسلام آباد شہر کے مرکزی حصوں میں ٹریفک کی روانی میں کسی قسم کا کوئی تعطل نہیں ہے البتہ فیض آباد جاتے ہوئے اسلام آباد ایکسپریس وے اور اس کے گرد و نواں کی سڑکوں کو بلاک کیا گیا ہوا ہے۔

    گوگل

    ،تصویر کا ذریعہGoogle

  9. لاہور شہر کی ٹریفک کی تازہ ترین صورتحال

    گوگل میپ پر ٹریفک کی آمد و رفت کے حوالے سے تازہ ترین اپ ڈیٹ موجود ہوتے ہیں اور اس میں سڑکوں پر لگائے گئے ناکے بھی نظر آتے ہیں۔ اسی حوالے سے جب آج صبح لاہور شہر کی ٹریفک کا جائزہ لیا گیا تو شہر کی مرکزی شاہراہوں کا منظر کچھ یوں تھا جس میں زیادہ تر رکاوٹیں مال روڈ اور پنجاب اسمبلی کے ارد گرد تھیں جہاں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان جمع ہیں۔

    lhr

    ،تصویر کا ذریعہGoogle

  10. چار شہروں میں موبائل سروس معطل رہے گی

    حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آج صبح آٹھ بجے سے شام تک ملک کے چار شہروں اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالا اور راولپنڈی میں موبائل سروس دستیاب نہیں ہو گی۔

  11. موضوع بحث کیا ہے؟

    اس وقت پاکستان میں ٹاپ ٹین ٹوئٹر ٹرینڈز میں بیشتر کا موضوع دھرنا اور احتجاج ہی ہے۔

    دھرنا

    ،تصویر کا ذریعہtwitter

  12. اب کی بار دھرنا کیسے اور کتنے میں ختم ہو گا؟

    گذشتہ برس بھی اسی مہینے میں خادم حسین رضوی نے فیض آباد کے مقام ایک طویل دھرنا دیا تھا جس کا اختتام چھ نکاتی معاہدے پر ہوا اور بعد میں پتہ چلا کہ دھرنے کے شرکا میں پیسے بھی تقسیم کیے گئے۔ اسی تناظر میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین گذشتہ سال کو یاد کرتے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ اب کے برس یہ دھرنا کیسے ختم ہو گا؟

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. ’ریاست کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘

    وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آئین اور قانون کی مکمل عملداری عوام کے مفاد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کے صبر کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. وزیراعظم عمران خان چین پہنچ گئے

    وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں۔ ان کے ہمراہ کابینہ کے چند اراکین اور وزیراعلی بلوچستان بھی موجود ہیں۔ ملک کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وزیراعظم کے بیرونی دورے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. رات گئے بھی دھرنا جاری

    کراچی
    ،تصویر کا کیپشنکراچی کے علاقے ناظم آباد میں تحریک لبیک کی جانب سے جاری دھرنے کا منظر
  16. ’ہم آپ کو بھون دیں گے‘

    تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کا کہنا ہے حکومت سے مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں خادم رضوی نے لکھا کہ کل ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. اسلام آباد میں فیض آباد پر مظاہرین

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    islamabad

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  18. ایک ہفتے بعد ۔۔۔

    اس ٹویٹ کو ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ چار جنوری 2011 کو اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں انہی کے محافظ ممتاز قادری نے ان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔