اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ
ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔
لائیو کوریج
بلال کریم مغل
ترکی اور شام میں زلزلہ زدگان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو پیسہ بھیجیں، اشیا نہیں، ماہرین
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی اور شام میں زلزلہ زدگان کی مدد کرنے والوں کو ایسی اشیا بھجوانے سے گریز کرنا چاہیے جن کی ضرروت نہیں ہے۔
پروفیسر لوسی نے بی بی سی ورلڈ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ مدد دینے والی چیز پیسہ ہے۔
ان کے مطابق صرف اس وقت ہی نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں پیسے ہی کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی۔
شام میں تباہی کے بعد وبائی امراض کا خدشہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نتالیہ رابرٹس ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نامی تنظیم کی ایکزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں اور ان کی ایک ٹیم شام میں موجود ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ان کے ایک ساتھی بھی ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’شام میں تباہی در تباہی ہوئی ہے۔ ترکی کے گازیانتیپ جیسے علاقوں میں لاکھوں شامی شہری کافی برے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘
رابرٹس نے کہا کہ ’جو لوگ زیادہ عرصے تک زخمی حالت میں ملبے تلے دبے رہتے ہیں ان کے گردے ناکارہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور آنے والے ہفتوں میں ایسے زیادہ کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔‘
ایسے میں سردی کی شدت بھی ایک مسئلہ ہے کیوں کہ لوگ گھروں میں واپس جانے سے خوف زدہ ہیں۔
رابرٹس نےکہا کہ ’اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے لیے محفوظ رہائش کا بندوبست کیا جائے ورنہ وبائی امراض پھوٹنے کا بھی خدشہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’شمالی شام میں کئی ماہ تک زلزلے کے اثرات باقی رہیں گے۔‘
ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد کے مناظر
ترکی اور شام میں ایک طاقت ور اور تباہ کن زلزلے کے بعد ملبے تلے دب جانے والوں کو بچانے کے لیے وقت کم رہ گیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہزار کے قریب جا پہنچی ہے۔
منگل کے دن ریسکیو آپریشن کی چند تصاویر دیکھئے:
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے گول کیپر احمد ترک اسلان ہلاک
،تصویر کا ذریعہYENI MALATYASPOR
سوموار کو آنے والے زلزلے میں ترکی کے گول کیپر احمد ترک اسلان بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
ان کے کلب نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد احمد ہلاک ہوئے۔
کلب کی جانب سے پیغام میں کہا گیا کہ ’احمد، ہم تمھیں نہیں بھولیں گے۔‘
28 سالہ ترک اسلان ترکی کے سیکنڈ ڈویژن کلب یینی مالاتیاسپور میں 2021 میں شامل ہوئے تھے۔
بریکنگ, زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 7800 سے تجاوز کر گئی
ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 7800 سے تجاوز کر گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اب تک ترکی میں 5894 جبکہ شام میں 1932 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتوں کی تعداد 7200 سے بڑھ گئی
ترکی اور شام سے سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے اب تک 7200 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ترکی میں اب تک 5400 جبکہ شام میں 1800 سے زیادہ افراد زلزلے کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6000 سے بڑھ گئی ہے
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6000 سے بڑھ گئی ہے۔
صرف ترکی میں مرنے والوں کی تعداد 4500 ہو چکی ہے جبکہ شام میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1800 سے بڑھ چکی ہے۔
زلزلے سے کم از کم دو کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں سے علم ہوتا ہے ہے ترکی اور شام میں آنے والے دو زلزلوں سے 23 ملین یا اس سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کئی ہسپتالوں کی بجلی تک منقطع ہوئی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک سارا ملبہ صاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس زلزے سے کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کے مدد ریلیف اور ریسکیو کی ضرورت ہے اور ان لوگوں کو بھی امداد کی ضرورت ہے جن کے اس زلزلے میں پیارے ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے افراد کو ذہنی تھراپی کی ضرورت بھی ہے ورنہ یہ طویل عرصے تک مشکل کا سامنا کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ہیرس کہتی ہیں کہ شام میں ان علاقوں تک رسائی جہاں مختلف مخالف گروہوں کا کنٹرول ہے عالمی ادارہ صحت کی ترجیح اول ہے۔
’گھر تباہ ہو گیا ہے، بچے اب کھلے آسمان تلے ہی رہنے پر مجبور ہیں‘
ہم جنوبی ترکی میں ادنہ شہر واپس آ چکے ہیں، جہاں بہت سے لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔
ارکان قطر میں ملازمت کرتے ہیں اور اب وہاں سے وہ واپس ترکی میں زلزلے سے متاثرہ علاقے ہاتائی میں اپنے گھر پہنچے ہیں۔ یہ علاقہ شام کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی اہلیہ اور دو بچے اس زلزلے میں محفوط رہے۔ تاہم ان کے گھر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔
ان کے مطابق میرا گھر ٹوٹ گیا ہے۔ اب ہمارے پاس سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ میرا خاندان اب کھلے آسمان تلے ہیں رہے گا۔
ان کا اپنے خاندان یا دوستوں سے فون پر رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا مگر وہ سوشل میڈیا پر تمام تفصیلات دیکھ رہے تھے۔
ان کے مطابق اس طرح ہمیں پتا چلتا تھا کہ کون مر گیا ہے اور کون ابھی زندہ ہے۔
اب وہ اپنی کمیونٹی سے لاپتہ افراد کی تلاش میں ہیں۔
برطانوی عوام ترکی کے زلزلہ متاثرین کے لیے امداد جمع کرتے ہوئے
برطانیہ کے عوام ترکی اور شام کے زلزلہ متاثرین کے لیے امداد جمع کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے مختلف گروپس زلزلہ متاثرین کے لیے مدد بھیج رہے ہیں۔
بومموتھ کے میورک پارک کیفے میں یہ امداد جمع کی جا رہی ہے۔ عوام سے کمبل، فوڈ، سنیٹری پروڈکٹس اور ہرعمر کے افراد کے لیے کپڑوں کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ امداد جمع کر کے ترکی کو کارگو طیارے میں بھیجی جائے گی۔
برطانیہ کا ترکی میں سرچ اور ریسکیو ماہرین بھیجنے کا اعلان
برطانیہ نے ترکی کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سرچ اور ریسکیو ماہرین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو برطانیہ کے وزیر برائے ترقی اینڈریو مچل نے سکائی نیوز کو بتایا کہ برطانوی ایڈ بجٹ اس وقت بہت دباؤ شکا ہے مگر پھر بھی انسانی بحران میں مدد کے لیے پھر بھی کچھ رقوم مختص کی جائیں گی۔
ان کے مطابق برطانوی عوام ہم سے اس بات کی ہی توقع رکھتی ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ ہمیشہ اس طرح کے آفتوں کے سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کی ہے۔ اور اس بار بھی ہم انسانی مدد میں پیش پیش رہیں گے۔
برطانوی حکومت نے 76 افراد پر مشتمل سرچ اور ریسکیو ماہرین برطانیہ بھیجے ہوئے ہیں جو اس زلزلے میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کریں گے اور متاثرین کی مدد کریں گے۔
بریکنگ, ترکی کے متاثرہ خطے میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے زلزلے سے متاثرہ جنوب مشرقی حصے میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ترکی کے اس حصے میں ہلاکتوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ ملک میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 3549 تک پہنچ چکی ہے۔
ان کے مطابق ارتھ کوئیک ڈیزاسٹر زون میں دس شہر واقع ہیں۔ انھوں نے تصدیق کی ہے کہ ترکی کو 70 سے زائد ملکوں سے امداد کی پیشکش کی گئی ہے۔
ترکی کے صدر نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ انتالیہ کے ہوٹلوں کو ایمرجنسی پناہ گاہوں میں بدلا جائے گا تا کہ متاثرہ حصے کے لوگوں کو عارضی رہائش دی جا سکے۔
یہ ترکی کا وہ حصہ ہے جہاں یورپ سمیت مختلف ممالک سے سیاح آتے ہیں۔
’جیسے جوہری بم گر گیا ہو:‘ سیاحوں کا ترکی میں زلزلے پر تبصرے
،تصویر کا ذریعہTimothy Whiting
برطانیہ میں یارک شائر کے رہائشی 29 برس کے ٹموتھی وائٹنگ ترکی میں اپنی چھٹیاں گزارنے گئے ہوئے تھے جب ترکی میں زلزلہ آیا۔
ان کا کہنا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو وہ گیسٹ ہاؤس میں تھیں اور جھٹکے سے جاگ گئے اور بہت خوفزدہ ہو گئے۔ تاہم وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے۔
ٹموتھی کے مطابق وہ دو منزلہ عمارت کی دوسری منزل پر تھے۔ ان کے مطابق شاید یہی خوش قسمتی کا پہلو تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے اوپر گرنے کے لیے مزید کوئی مزلیں نہیں تھیں۔‘
انھوں نے وہاں عمارتوں کے منہدم ہونے اور تباہی کے مناظر کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے جوہری بم سے حملہ کیا گیا ہو۔
،تصویر کا ذریعہTimothy Whiting
ان کے مطابق شہر کا شہر زمین بوس ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق وہاں پانچ اور چھ منزلہ عمارتیں ان کی طرف تھیں۔
ٹموتھی انتاکیہ شہر میں ہاتائی کے مقام پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ وہ وہاں سے پیدل ہی چل نکلیں اور پھر ایک کار نے انھیں ادنہ تک لف دی، جہاں پر وہ اب تھیں۔
ان کے مطابق وہاں ہر طرف سے لوگ آ رہے تھے اور آدھے لوگوں تو ننگے پاؤں ہی وہاں پر آ گئے تھے۔ یہ افراتفری والا سماں تھا۔
ملبے تلے دبے لوگوں کا آوازیں آوازیں آ رہی تھیں۔ ان کے مطابق ہم کسی کو بھی وہاں سے نکالنے کے قابل نہیں تھے۔
بریکنگ, ’ملبے تلے دبے لوگ ویڈیوز، وائس نوٹ اور لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں‘
استنبول میں مقیم ترکی کے ایک صحافی نے ملک میں زلزلے کے بعد کی صورتحال پر بی بی سی کو تفصیلات بتائی ہیں۔ ابراہیم ہاشکوگلو نے کہا کہ لوگ ابھی بھی منہدم عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
بنیادی طور پر زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ملطیہ سے تعلق رکھنے والے ان صحافی کے مطابق وہ بہت جلد اپنے گھر واپس جا رہے ہیں تا کہ وہاں لوگوں کی مدد کر سکیں۔
انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ وہاں سے لوگ انھیں اور دوسرے صحافیوں کو ویڈیو، وائس نوٹس اور ملبے کے نیچے سے اپنی لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں۔
ان کے مطابق ان پیغامات میں لوگ انھیں اپنی جگہوں کے بارے میں بتا رہے ہیں اور ’ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق ترکی کو اس وقت عالمی برادری سے ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کی طرف سے بھی ترکی کو امداد بھیج دی گئی
پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے عوام کی جانب سے ترکی بھیج دی ہے۔ ائیرفورس کے طیارے پی اے ایف سی-30 پر بڑی تعداد میں کمبل اور ٹینٹ بھیج دیے گئے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ترکی اور شام کے لیے طبعی امداد بھی جلد بھیج دی جائے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
چین اور پاکستان کی ترکی کے لیے امداد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین نے ترکی میں امداد کے لیے قریب پانچ کروڑ 89 لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں۔ اس میں امدادی اور طبی کارکنوں کے علاوہ ضروری سامان شامل ہوگا۔
جبکہ چین میں عالمی ترقی کا ادارہ امدادی سامان شام تک پہنچانے کے لیے بھی رابطے قائم کرے گا۔
چین میں ہلال احمر کا کہنا ہے کہ وہ ایمرجنسی امداد کی مد میں ترک اور شامی اداروں کو 20 لاکھ یوان دے گا۔
ادھر پاکستان کی طرف سے امدادی سامان اور ٹیمیں ترکی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔
پاکستانی فضائیہ کا سی-130 ہرکولیس طیارہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے ارکان اور کمبل لے کر پی اے ایف بیس نور خان سے ترکی پہنچ گیا ہے۔
ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق طیارہ پاکستانی عوام کی طرف سے زلزلہ سے متاثرہ ترک بھائیوں کے لیے امدادی سامان لے کر پہنچا ہے۔ ’پاک فضائیہ کا ٹرانسپورٹ بیڑا اندرون اور بیرون ملک قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔‘
ترکی کے ہوائی اڈوں پر پروازوں میں تاخیر، مسافروں میں شدید غم و غصہ
استنبول کے ہوائی اڈے پر پروازوں میں تاخیر نے ان لوگوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے جو اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کے منتظر ہیں۔
سمیت نامی مسافر ہاتائی جا کر اپنے 26 سال کے بھائی اسماعیل کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں جو زلزلے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔
وہ فون پر اپنے بھائی کی تصویر دیکھا کر کہتے ہیں کہ ان کا بھائی وہاں موجود ہے۔
سمیت قریب پانچ گھنٹوں تک ایئر پورٹ پر موجود ہیں اور اپنی پرواز کا انتظار کر رہے ہیں۔
عملے کا کہا ہے کہ آدانا ایئرپورٹ پر ہجوم ہے جس کی وجہ سے یہ تاخیر ہوئی ہے۔
ایک دوسرے مسافر نے روتے ہوئے مجھے بتایا کہ ’لوگ غصے میں ہیں کیونکہ انھوں نے اپنا خاندان کھو دیا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔‘
رات بھر جاری ریسکیو آپریشن میں ’اللہ اکبر‘ کی صدائیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی ترکی میں بھاری بھرکم مشینری کے ذریعے رات بھر کام جاری رہا جہاں عمارت کے منہدم ڈھانچے میں شامل کنکریٹ کی بڑی سلیبز ہٹائی جا رہی تھیں۔
امدادی کام میں اس وقت وقفہ آتا جب کسی جگہ سے ’اللہ اکبر‘ کی آواز لگائی جاتی۔ یہ اس وقت کہا جاتا تھا جب ملبے میں سے کسی شخص کو زندہ یا مردہ نکالا جاتا۔
ترک حکام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر امدادی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
میرے طیارے نے لبنان سے اُڑان بھری۔ یہ فائر فائٹرز اور طبی عملے سے بھرا ہوا تھا۔ آدانا ایئرپورٹ پر سوئٹزر لینڈ اور رومانیہ کے ریسکیو ورکرز سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔
یہ شہر بے گھر افراد سے بھرا پڑا ہے۔ جن کے گھر چھِن گئے وہ آفٹر شاکس کے ڈر سے کسی جگہ پناہ لینے کو تیار نہیں۔
پہلا زلزلہ صبح سویرے آیا جب بہت سے لوگ سو رہے تھے اور عمارتیں 90 سیکنڈوں تک ہلتی رہیں، عینی شاہدین کے لیے یہ ایک نہ تھمنے والا مرحلہ تھا۔
کچھ لوگ فوری طور پر اپنی قیمتی اشیا اور قریبی لوگوں کے ساتھ محفوظ رہنے میں کامیاب رہے۔ کچھ لوگ بغیر جوتوں، کوٹ اور فون چارجرز کے گھروں سے نکلے تھے۔
رواں ہفتے کچھ مقامات پر درجہ حرارت کم ہوسکتا ہے۔
ترکی کے لیے ایک آفت ہے مگر شمالی شام میں صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ سرحد پر کڑی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ شام کو عالمی مدد حاصل نہیں اور اس کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے جدید مشینری بھی نہیں۔
سرحد کے پاس 17 لاکھ شامی پناہ گزینوں نے قیام کر رکھا ہے جن کی زندگیاں زلزلے سے قبل بھی مشکلات کا شکار تھیں۔ وہ کئی برسوں سے عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور تھے اور اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بن کر زندگی گزار رہے تھے۔
حلب، ادلب، بانیاس اور جندیرس میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کی مدد کی پکار پر کوئی ردعمل نہیں دے رہا۔
شمالی شام گذشتہ ایک دہائی سے جنگ سے متاثرہ ہے اور اس تباہ کن زلزلے نے شہریوں کی زندگی اور بھی مشکل بنا دی ہے۔
بریکنگ, ترکی اور شام میں مجموعی ہلاکتیں پانچ ہزار سے بڑھ گئیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دونوں ملکوں میں زلزلے سے پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں
ترک نائب صدر کا کہنا ہے کہ کم از کم 3419 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہاں 20 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ قریب چھ ہزار عمارتیں منہدم ہوئی ہیں
ادھر شام میں اموات 1602 تک پہنچ گئی ہیں
ترک حکام نے کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں 24 ہزار سے زیادہ کارکنان حصہ لے رہے ہیں
سرد موسم سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں
اقوام متحدہ، یورپی یونین اور نیٹو کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، چین، روس، انڈیا، پاکستان، جاپان، ایران، عراق، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، یونان اور دیگر ملکوں نے امدادی سامان اور ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔
زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں کا متاثرہ علاقوں تک پہنچنا مشکل
،ویڈیو کیپشنترکی اور شام میں زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں کا متاثرہ علاقوں تک پہنچنا مشکل
عالمی ادارۂ صحت کے حکام کو خدشہ ہے کہ ترکی اور شام میں زلزلے سے قریب 20 ہزار اموات ہوسکتی ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں ترک اہلکاروں اور رضاکاروں کے علاوہ 65 ملکوں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
مگر سرد موسم، سڑکوں کی خراب حالت اور نقصان کی شدت کی وجہ سے امدادی کارکنان کو مشکلات کا سامنا ہے۔