اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. ترکی اور شام میں 20 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں، شدید سردی کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوموار کو ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 20 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے آنے والی تباہی کی مکمل تصویر اب تک غیر واضح ہے۔

    ریسکیو حکام اب تک ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں تاہم سو گھنٹے گزر جانے کے بعد امید دم توڑ رہی ہے۔

    دوسری جانب شدید سردی نے ہزاروں بے گھر افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جن کے پاس پانی اور خوراک کی کمی ہے۔

    ترکی کے صدر نے اس زلزلے کو صدی کی سب سے بڑی آفت قرار دیا ہے۔ تاہم عالمی طور پر امداد کی کوششوں میں تیزی آ رہی ہے۔

    جمعرات کو عالمی بینک نے ترکی کو ایک اعشاریہ 78 ارب ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن ریسکیو کرنے والوں کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے اور خستہ سڑکوں اور گاڑیوں کی قلت کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    ایسے میں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریز نے خبردار کیا ہے کہ اس آفت کے اثرات ابھی تک واضح ہو رہے ہیں۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی امداد پہلی بار شام کے شمال مغربی علاقے میں داخل ہوئی۔

    جمعرات کو حکام نے بتایا کہ ترکی میں 17600 جبکہ شام میں 3377 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل 1999 میں ترکی میں آنے والے ایک زلزلے کے بعد 17 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  2. ترکی میں زلزے سے بڑی تعداد میں عمارتوں کے منہدم ہونے کی وجہ زلزلے کی شدت ہے یا حکومتی نااہلی؟

  3. برطانوی حکومت شام کو مزید 30 لاکھ پاؤنڈز دے گی

    برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ شام میں پیر کو آنے والے زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے مزید 30 لاکھ پاؤنڈز فراہم کرے گی۔

    برطانوی حکومت کے مطابق یہ فنڈنگ وائٹ ہیلمٹس نامی غیر سرکاری تنظیم کو دی جائے گی۔ یہ تنظیم باغیوں کے زیرِ انتظام شمال مغربی شام میں شہریوں کو امداد فراہم کر رہی ہے۔

    اس سے قبل اس تنظیم نے کہا کہ تھا وقت تیزی سے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔

  4. ’ریسکیو اہلکار تین دن بعد تک بھی ہم تک نہیں پہنچے‘, روزینہ سینی، بی بی سی نیوز

    جنوب مشرقی ترکی میں آدیامن صوبے میں رہنے والے رسات گوزلو نے بتایا کہ زلزلہ آنے کے چار دن بعد وہ اور دیگر افراد کیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

    رسات اس وقت ایک سپورٹس کمپلیکس کے فرش پر اپنے خاندان کے ہمراہ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ کئی دیگر خاندان بھی یہاں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں زلزلہ آنے کے تین دن بعد تک بھی نہیں آئی تھیں اور ان کے مطابق ٹیموں میں رابطہ کاری کا بھی فقدان تھا۔

    وہ کہتے ہیں کہ اب بھی ملبے میں کئی لوگ دبے ہوئے ہیں اور بہت سے لوگ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے مر چکے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ ویسے تو کمپنیاں اور دیگر افراد کھانا اور پانی فراہم کر رہے ہیں مگر ٹوائلٹ جیسی دیگر بنیادی چیزیں موجود نہیں ہیں، چنانچہ لوگوں کو حوائجِ ضروریہ کے لیے خالی عمارتوں اور سنسان گلیوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وبائی امراض پھوٹ پڑیں گے۔

  5. ملبے کے نیچے سے بجنے والا فون اور دم توڑتی امیدیں, ایلس کڈی، بی بی سی نیوز اسکندریون

    اسکندریون

    اسکندریون میں آج جب اہلکاروں کو ملبے کے نیچے سے فون بجنے کی آواز آئی تو تھوڑی دیر کے لیے خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

    ملبے کی چوٹی پر کھڑے ایک شخص نے ’ٹیلیفون‘ کی آواز لگائی اور پھر اس علاقے میں موجود تمام لوگوں کو آگے بڑھ کر مدد کرنے کے لیے بلا لیا گیا۔

    پاس کھڑے دیگر لوگ بھی مدد کے لیے بھاگے اور ان میں وہ خاتون بھی شامل ہو گئیں جنھوں نے دراصل اس فون پر کال کی تھی۔

    پھر وہ بار بار اضطراب کے عالم میں فون کرنے لگیں تاکہ ریسکیو اہلکاروں کو گھنٹی سنائی دیتی رہے۔

    تقریباً 20 منٹ بعد امدادی کارکنان ملبے سے نیچے اتر آئے۔ مایوسی ان کے چہروں سے عیاں تھی۔

    یہاں پر لوگ بچ جانے والے مزید افراد کی تلاش میں ہیں مگر اب امید دم توڑتی جا رہی ہے۔

  6. ایران کی جانب سے امداد کی پانچویں کھیپ شام پہنچ گئی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہILNA

    ایران کی جانب سے امداد کی پانچویں کھیپ آج دمشق پہنچ گئی ہے۔

    ایرانیئن لیبر نیوز ایجنسی (النا) نے بتایا ہے کہ 45 ٹن وزنی کھیپ میں کمبل، قالین، خیمے اور خوراک شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قعانی نے شمالی شام کے شہر حلب کا دورہ کیا تھا۔

  7. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 19 ہزار 300 سے زیادہ

    پیر کو آنے والے زلزلے کے باعث اب تک 19 ہزار 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    جمعرات کی سہ پہر تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ صرف ان کے ملک میں ہی اب تک 16 ہزار 710 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3000 سے زیادہ ہے۔

  8. ریسکیو 1122 نے 82 گھنٹے بعد بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    ترکی میں پاکستانی ریسکیو 1122 ٹیم نے 82 گھنٹے بعد 16 سالہ بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ یہ ریسکیو آپریشن آدیامن میں کیا جا رہا ہے اور اس وقت پاکستانی ٹیم چھ مختلف منہدم عمارتوں سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ترجمان کے مطابق اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کی پہلی ترجیح عمارتوں میں پھنسے زندہ لوگوں کا ریسکیو ہے۔

  9. ترکی سے امدادی قافلہ سرحد پار کر کے شام میں داخل ہو گیا

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمال مغربی شام میں اپوزیشن کے قبضے میں موجود علاقوں کے لیے امداد کا پہلا قافلہ اب اطلاعات کے مطابق ترکی سے شام میں داخل ہو گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ چھ ٹرک ادلب کے باب الحوا سرحدی ناکے سے اس جنگ زدہ ملک میں داخل ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل چار دن تک تباہ سڑکوں اور نقل و حمل کی دیگر مشکلات کے باعث جان بچانے والی امداد کی فراہمی متاثر رہی تھی۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 1900 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں خاندان اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    زلزلہ آنے سے پہلے بھی یہاں کے 41 لاکھ افراد زندگی گزارنے کے لیے امداد پر ہی منحصر تھے۔

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  10. ’زلزلے سے نقصانات چار ارب ڈالر سے زیادہ کے ہو سکتے ہیں‘

    ترکی

    پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 17 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی ہزار مزید افراد بے بھر ہو گئے ہیں۔

    خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس زلزلے کی وجہ سے بے پناہ اقتصادی نقصان ہوا ہے۔ مالیاتی ریٹنگز کے ادارے فِچ کا کہنا ہے کہ یہ نقصانات چار ارب ڈالر سے زیادہ کے ہو سکتے ہیں۔

    فچ ریٹنگز نے کہا کہ ’معاشی نقصانات کا اس وقت اندازہ بدلتی صورتحال کی وجہ سے لگانا مشکل ہے مگر بظاہر یہ دو ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے اور چار ارب ڈالر یا ’اس سے بھی زیادہ‘ ہو سکتے ہیں۔‘

    اس کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں انشورنس کوریج کی کمی کی وجہ سے انشورڈ نقصانات کہیں کم یعنی ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ ریٹنگز ایجنسیوں کا کام ملکی معیشت کی مضبوطی کا جائزہ لے کر اسے ریٹنگ دینا ہوتا ہے۔

  11. زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک کا مشکل اور طویل سفر, لیز ڈوسیٹ، مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور، بی بی سی نیوز

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہDave Bull

    ترکی کے شہر استنبول سے جنوبی ترکی کی 15 گھنٹے کی ڈرائیو میں جگہ جگہ ہمیں تباہی کے مناظر دکھائی دیے۔

    زمینی منظرنامہ بھی تبدیل ہوتا رہا۔ شروعات میں تو پہاڑوں پر پاؤڈر جیسی ہلکی برف پڑی نظر آ رہی تھی مگر آگے جا کر ہمیں برف سے ڈھکے میدان نظر آئے۔

    درجہ حرارت کئی جگہوں پر تو صفر سے بھی کم تھا جو کہ سال کے اس وقت کے لیے غیر معمولی ہے۔ اس کی وجہ سے زلزلہ متاثرین اور اُنھیں بچانے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

    رات کے اندھیرے میں ہم ڈھائی گھنٹے تک پیٹرول کی لائن میں لگے رہے۔ ہمارے ساتھ لائن میں امدادی گاڑیاں، ایمبولینسز اور ہر طرح کی گاڑیاں موجود تھیں۔

    چمکتی ہوئی جیکٹس پہنے ہوئے ہنگامی کارکنان ایک جگہ پر ریسکیو سرگرمیوں میں ذرا سا وقفہ لے کر خود کو گرم رکھنے کے لیے گرم مشروبات پی رہے تھے۔

    زلزلے کے چوتھے دن سورج کی نکھری ہوئی دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ ہم ایک مشہور ٹرک سٹاپ پر رکے تو وہاں پر صرف دالوں کا سوپ مل رہا تھا۔

    جب ہم عثمانیہ پہنچے تو ہم نے نیلے خیموں کی قطاریں دیکھیں جبکہ ایک قبرستان کے قریب لکڑی کے خالی تابوتوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہDave Bull

  12. ترک ڈاکٹروں کی زندگی اور کریئرز کے مشکل ترین دن, ایلس کڈی، بی بی سی نیوز اسکندریون

    ترکی

    ترکی کے صوبہ ہاتائے میں مقامی ڈاکٹروں محمت اور سیلدا نے ہمیں بتایا کہ یہ ان کے کریئرز اور زندگیوں کے مشکل ترین دنوں میں سے ہیں۔ یہ دونوں اسکندریون شہر میں ہیں جہاں زیادہ تر عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔

    سیلدا جس ہسپتال میں کام کرتی ہیں وہ بھی تباہ ہو چکا ہے۔ منگل کو معمول کے مطابق اپنے کام پر جانے کے بجائے سیلدا نے ’ڈیتھ سرٹیفیکیٹس بھرتے ہوئے‘ اپنا دن گزارا۔ اب وہ ایک اور ہسپتال میں لوگوں کا علاج کر رہی ہیں۔

    محمت نے کہا کہ ان کے پاس مسلسل زلزلے کے باعث زخمی ہونے والے افراد اور میتیں آ رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہا: ’ہم نے اب تک بہت سی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں، ٹوٹی گردنیں، سر پر چوٹیں، اور بہت سی اموات دیکھی ہیں۔‘

    ’ہم نے سوچا کہ کووڈ برا دور تھا جب ہم پورا دن کام کرتے تھے اور بہت سی اموات ہوئی تھیں۔ مگر میں نے اس جیسی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘

  13. ترکی اور شام میں زلزلہ: ملبے تلے دبے بچے کو بوتل کے ڈھکن سے پانی پلانے کی ویڈیو وائرل

  14. شمال مغربی شام میں پہلا امدادی قافلہ پہنچنے والا ہے, ایلس ڈیویز، بی بی سی نیوز لائیو رپورٹر

    ہماری نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ اینا فوسٹر ہمیں بتا رہی ہیں کہ شمالی شام میں باغیوں کے قبضے میں موجود علاقوں میں امداد پہنچانا کس قدر مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

    یہ علاقے زلزلے سے بھی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پر اب ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ اس علاقے میں پہنچنے کی کوشش کرنے والا پہلا امدادی قافلہ ترکی کی جنوبی سرحد کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے امدادی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھ امدادی ٹرکس آج دن میں کسی وقت باب الحوا سرحدی ناکے سے شام میں داخل ہوں گے۔

    اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ یہ قافلہ امداد کے منتظر لاکھوں لوگوں کے لیے ’لائف لائن‘ کی طرح ہو گا۔

    واضح رہے کہ یہاں پر زلزلے سے قبل بھی حالات نہایت خراب تھے پر اب صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ سینکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اور کم از کم 1700 افراد مارے جا چکے ہیں۔

  15. لوگوں کو بچانے کے لیے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے: ریسکو اہلکار

    Rescue Worker

    ترکی میں زلزلے متاثرین کو امداد پہنچانے اور ریسکیو کے کاموں میں مدد فراہم کرنے والے اسلامک ریلیف کے ایک ریسکیو اہلکار صالح ابوگلسیم کا کہنا ہے کہ ’امدادی کارکن اب بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور انھیں اب بھی کسی معجزے کی توقع ہے۔ کیونکہ اب بھی ملبے تلے زندہ افراد کے نکلنے کے معجزے ہو رہے ہیں۔ لیکن امدادی کاموں کے دوران ملبے تلے بے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے ہم وقت کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں ہے۔ ایسے میں وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔‘

    جنوبی ترکی کے شہر گازینتم سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف اہلکار کا کہنا تھا کہ اب 72 گھنٹے گزر چکے ہیں اور سرد موسم اور خراب صورتحال میں لوگوں کے زندہ بچنے کی امید بہت کم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بطور امداد اہلکار اب ہمیں نکاسی آبکی ضرورت ہے، لوگوں کو بیماری سے بچانے کی ضرورت ہے۔ صاف پانی کی کمی سے لوگوں میں وبا پھیلنے کا خدشہ ہے اور ہم لوگوں سے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کر رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ شام میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ان کے ساتھیوں کے مطابق وہاں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔

  16. متاثرہ افراد کو زندہ رکھنا اگلا چیلنج ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ترکی میں زلزلہ متاثرین کو امداد فراہم کرنے والے اداروں کو یہ مشکل کا سامنا ہے کہ متاثرین جو زلزلہ میں زندہ بچ گئے ہیں ان کی زندگی کو یقینی بنایا جائے۔

    جنیوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے رسپانس منیجر کا کہنا ہے کہ ’اب ہزاروں متاثرین کھلے آسمان تلے مشکل اور نامصائب حالات میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں انھیں خوراک، پانی، بجلی کی بحالی اور رابطوں کا فقدان ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’زلزلے کے بعد ہمیں ایک اور ممکنہ تباہی کے سامنے کا خطرہ ہے اور اگر ہم نے اسی رفتار سے کام نہ کیا جس رفتار سے ہم نے سرچ اور رسکیو کے کام کیے ہیں تو ہزاروں متاثرہ افراد کو ابتدائی تباہی سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

    یہ آسان کام نہیں ہے کیونکہ اس آپریشن کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔

  17. متاثرین کو بنیادی امداد پہنچانے میں اب بھی مشکل ہے، سیو دی چلڈرن

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بچوں کے تحفط و حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ زلزلے کو آئے آج چوتھا روز ہے لیکن متاثرین کو خوراک، خیمے، ادویات اور بنیادی اشیا پہنچانے کے لیے اب بھی مسائل کا سامنا ہے۔

    جنوبی ترکی اور شام میں سوموار کی صبح آنے والے زلزلے سے ایک اندازے کے مطابق 23 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں جو اس وقت کھلے آسمان تلے سرد موسم میں حالت سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو کمبلوں اور صاف پانی کی اشد ضرورت ہے اور عارضی خیموں میں نکاسی آب کا مسئلہ بھی اہم ہو رہا ہے۔

    ترکی کے علاقے حاطے میں سیو دی چلڈرن کے ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے کورڈینیٹر برنے کوروگلو کا کہنا ہے کہ ’وہاں صفائی اور حفظان صحت کی بنیادی سہولیات محدود پیمانے پر میسر ہیں۔‘

  18. ترکی اور شام میں زلزلہ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    ترکی زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سوموار کو جنوبی ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے میں اب تک تقریباً 16 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور چوتھے روز بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    تاہم حکام کی جانب سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    سرد موسم کے باعث چوتھے روز عمارتوں کے ملبے تلے افراد میں کسی کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    ترکی میں عوام کی جانب سے ایمرجنسی سروسز پر امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عوام کا دعویٰ ہے کہ زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں سست روی کا مظاہرہ کیا گیا اور لوگ کئی روز تک مدد کے منتظر رہے۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے گذشتہ روز اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ حکومت کو ابتدا میں کچھ مسائل کا سامنا تھا مگر اب صورتحال ’قابو میں ہے۔‘

    ادھر شام میں بھی امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ برسوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے باعث ملک کا انفرادسٹریکچر بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    زلزلے سے متعلق مزید خبروں کے لیے بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

  19. ’قیامت کا منظر تھا، میں سوچنے لگا اپنے بیٹے کو ملبے سے کیسے نکالوں گا؟‘

  20. زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کتنے وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں؟