اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. رات بھر جاری ریسکیو آپریشن میں ’اللہ اکبر‘ کی صدائیں

    ترکی، زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی ترکی میں بھاری بھرکم مشینری کے ذریعے رات بھر کام جاری رہا جہاں عمارت کے منہدم ڈھانچے میں شامل کنکریٹ کی بڑی سلیبز ہٹائی جا رہی تھیں۔

    امدادی کام میں اس وقت وقفہ آتا جب کسی جگہ سے ’اللہ اکبر‘ کی آواز لگائی جاتی۔ یہ اس وقت کہا جاتا تھا جب ملبے میں سے کسی شخص کو زندہ یا مردہ نکالا جاتا۔

    ترک حکام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر امدادی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    میرے طیارے نے لبنان سے اُڑان بھری۔ یہ فائر فائٹرز اور طبی عملے سے بھرا ہوا تھا۔ آدانا ایئرپورٹ پر سوئٹزر لینڈ اور رومانیہ کے ریسکیو ورکرز سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔

    یہ شہر بے گھر افراد سے بھرا پڑا ہے۔ جن کے گھر چھِن گئے وہ آفٹر شاکس کے ڈر سے کسی جگہ پناہ لینے کو تیار نہیں۔

    پہلا زلزلہ صبح سویرے آیا جب بہت سے لوگ سو رہے تھے اور عمارتیں 90 سیکنڈوں تک ہلتی رہیں، عینی شاہدین کے لیے یہ ایک نہ تھمنے والا مرحلہ تھا۔

    کچھ لوگ فوری طور پر اپنی قیمتی اشیا اور قریبی لوگوں کے ساتھ محفوظ رہنے میں کامیاب رہے۔ کچھ لوگ بغیر جوتوں، کوٹ اور فون چارجرز کے گھروں سے نکلے تھے۔

    رواں ہفتے کچھ مقامات پر درجہ حرارت کم ہوسکتا ہے۔

    ترکی کے لیے ایک آفت ہے مگر شمالی شام میں صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ سرحد پر کڑی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ شام کو عالمی مدد حاصل نہیں اور اس کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے جدید مشینری بھی نہیں۔

    سرحد کے پاس 17 لاکھ شامی پناہ گزینوں نے قیام کر رکھا ہے جن کی زندگیاں زلزلے سے قبل بھی مشکلات کا شکار تھیں۔ وہ کئی برسوں سے عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور تھے اور اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بن کر زندگی گزار رہے تھے۔

    حلب، ادلب، بانیاس اور جندیرس میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کی مدد کی پکار پر کوئی ردعمل نہیں دے رہا۔

    شمالی شام گذشتہ ایک دہائی سے جنگ سے متاثرہ ہے اور اس تباہ کن زلزلے نے شہریوں کی زندگی اور بھی مشکل بنا دی ہے۔

  2. بریکنگ, ترکی اور شام میں مجموعی ہلاکتیں پانچ ہزار سے بڑھ گئیں

    ترکی اور شام میں مجموعی ہلاکتیں پانچ ہزار سے بڑھ گئیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • دونوں ملکوں میں زلزلے سے پانچ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں
    • ترک نائب صدر کا کہنا ہے کہ کم از کم 3419 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہاں 20 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ قریب چھ ہزار عمارتیں منہدم ہوئی ہیں
    • ادھر شام میں اموات 1602 تک پہنچ گئی ہیں
    • ترک حکام نے کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں 24 ہزار سے زیادہ کارکنان حصہ لے رہے ہیں
    • سرد موسم سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں
    • اقوام متحدہ، یورپی یونین اور نیٹو کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، چین، روس، انڈیا، پاکستان، جاپان، ایران، عراق، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، یونان اور دیگر ملکوں نے امدادی سامان اور ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔
  3. زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں کا متاثرہ علاقوں تک پہنچنا مشکل

    ،ویڈیو کیپشنترکی اور شام میں زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں کا متاثرہ علاقوں تک پہنچنا مشکل

    عالمی ادارۂ صحت کے حکام کو خدشہ ہے کہ ترکی اور شام میں زلزلے سے قریب 20 ہزار اموات ہوسکتی ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں ترک اہلکاروں اور رضاکاروں کے علاوہ 65 ملکوں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    مگر سرد موسم، سڑکوں کی خراب حالت اور نقصان کی شدت کی وجہ سے امدادی کارکنان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    پروڈکشن اینڈ ایڈیٹنگ: محمد ابراہیم

  4. سرد موسم سے امدادی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں, سائمن کنگ، ماہر موسمیات

    سرد موسم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی ترکی اور شمالی شام میں بارش اور برفباری کے بعد رواں ہفتے موسم خشک اور گرم رہے گا۔

    تاہم منگل کو کچھ مقامات پر برفباری ہوسکتی ہے اور اس کے بعد سرد ہوا سے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

    غازی عنتیپ، جو کہ 7.8 شدت کے زلزلے کا مقام تھا، میں درجہ حرارت منفی چھ سے چار تک رہ سکتا ہے مگر رات کے اوقات میں یہ گِر کر منفی سات تک پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ پہاڑی علاقوں کی طرف یہ منفی 15 تک بھی گِر سکتا ہے۔

    ادھر شام میں موسم اس قدر سرد نہیں۔ دن کے اوقات میں درجہ حرارت 10 سے 11 ڈگری سیلیئس ہے تو رات میں منفی تین۔

    امدادی سرگرمیوں میں سرد موسم ایک بڑی مشکل ہے۔ اکثر مقامات پر رات کے اوقات میں لوگ باہر کسی جگہ آگ جلا کر جمع ہوتے ہیں۔ وہ اب بھی اپنے گھروں کو لوٹنے سے خوفزدہ ہیں کہ ایک اور زلزلہ نہ آجائے۔

  5. بریکنگ, ترکی اور شام میں 4800 سے زیادہ مجموعی ہلاکتیں

    ترکی، شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے اے ایف اے ڈی کے مطابق ملک میں اب تک زلزلے سے 3381 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس کا مزید کہنا ہے کہ 20426 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 5775 عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔

    زلزلے کے بعد 285 آفٹر شاکس بھی آئے ہیں۔

    دوسری طرف شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ زلزلے سے 1500 سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

    یوں اموات کی مجموعی تعداد 4800 سے بڑھ گئی ہے۔

  6. انڈیا کی ریسکیو ٹیموں کی تربیت یافتہ کتوں اور ڈرلنگ آلات کے ساتھ ترکی آمد

    امدادی کارروائیوں کے لیے انڈیا کی ٹیمیں اور ضروری سامان ترکی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

    انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان اندرم باغچی کا کہنا ہے کہ دلی نے ابتدائی طور پر اپنی ٹیمیں، تربیت یافتہ کتے، ڈرلنگ مشینیں اور دیگر ضروری سامان ترکی بھجوا دیا ہے۔

    وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ انڈیا ترکی میں متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    ترکی میں انڈیا کے سفیر نے کہا کہ ’اصل دوست وہی ہے جو ضرورت میں کام آئے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. ترکی اور شام میں کتنا نقصان ہوا ہے؟

    مسجد، حلب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • ترکی اور شام میں زلزلے سے 4300 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں
    • عالمی ادارۂ صحت کو 20 ہزار کے قریب اموات کا خدشہ ہے
    • ترکی میں 14 ہزار جبکہ شام میں کم از کم 3411 افراد زخمی ہوئے ہیں
    • امدادی ٹیموں نے دونوں ملکوں میں 5600 سے زیادہ عمارتیں گِرنے کی اطلاع دی ہے۔ ان میں کئی شہروں میں قائم کثیر المنزلہ رہائشی عمارتیں شامل ہیں جہاں لوگ سو رہے تھے جب زلزلہ آیا
    • یونیسکو کو خدشہ ہے کہ دیاربکر (ترکی) اور حلب (شام) میں متعدد تاریخی تعمیرات کو زلزلے سے نقصان پہنچا ہے
    • شمال مغربی شام کے ایک قید خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور خدشہ ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے قیدی اس کے ملبے تلے دب گئے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق کم از کم 20 قیدی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
  8. زلزلے کے بعد ریسکیو آپریشن: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    ترکی، زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع ہوچکی ہیں
    • مصدقہ ہلاکتوں کی تعداد 4300 سے زیادہ ہے تاہم جیسے جیسے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں ویسے ویسے اس میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے
    • ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے اے ایف اے ڈی کے مطابق ریسکیو آپریشن میں 65 ملکوں سے 2600 سے زیادہ امدادی کارکن حصہ لے رہے ہیں
    • اب تک تین لاکھ کمبل اور 4100 ٹینٹ متاثرہ خاندانوں تک پہنچائے جاچکے ہیں
    • پیر کے زلزلے میں ہزاروں عمارتیں گِر کر تباہ ہوگئی ہے جبکہ ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں
  9. استنبول نے 13 ہزار کارکنان پر مشتمل ریسکیو ٹیم متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی

    زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    استنبول کے گورنر نے بتایا ہے کہ منگل کی صبح 13 ہزار امدادی کارکنوں پر مشتمل ٹیم زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی گئی ہے۔

    اس میں امدادی عملہ اور رضاکار شامل ہیں جنھیں خاص طور پر ہاتائی صوبے کے متاثرین کی مدد کے لیے بھیجا گیا ہے۔

    پیر کے زلزلے کے ہاتائی پر تباہ کن اثرات ہوئے ہیں۔ اس کے ایئرپورٹ کا رن وے دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. شامی قصبے سرمدا میں زلزلے سے ہونے والی تباہی

    ،ویڈیو کیپشنزلزلے سے شامی قصبے سرمدا کی تباہی کے افسوسناک مناظر

    شام کے شمال مغرب میں واقع دیہی علاقے سرمدا میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کو ڈرون کیمرے سے محفوظ کیا گیا ہے۔

  11. ’ملبے میں پھنسے لوگوں کو فوراً بچانے کی ضرورت، وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ پائیں گے‘

    زلزلہ، ہاتائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی اور شام میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔

    ایک طبی کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی عوامل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جیسے سرد موسم، سڑکوں کی خراب حالت اور تباہی کی شدت۔

    ڈیوک یونیورسٹی کے ڈاکٹر رچرڈ ایڈورڈ مون کا کہنا ہے کہ پانی اور آکسیجن کی قلت ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو زندہ رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔

    ہر بالغ فرد کو روزانہ 1.2 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر مون نے بتایا کہ ’پیشاب، سانس باہر نکالنے، پانی کے بخارات بننے اور پسینے سے انسانی جسم میں سے پانی نکلتا رہتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ناسازگار حالات میں ایک شخص کے جسم سے آٹھ لیٹر پانی خارج ہوجائے۔‘

    اس وقت ترکی اور شام کا موسم سرد ہے۔ اوسط شخص آسانی سے 21 ڈگری سیلیئس درجہ حرارت برداشت کرسکتا ہے۔ زیادہ سردی کی صورت میں جسم خود گرم رہنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

    ڈاکٹر مون کے مطابق ’ایک موقع پر جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کی پیروی کرنے لگتا ہے۔۔۔ اگر گرم رہنے کے لیے مناسب انتظام نہ ہو تو اس کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ اگر مسلسل ایسی صورتحال رہے تو بدقسمتی سے لوگ ہائپو تھرمیا سے جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔‘

    ’میں زلزلے کی وجہ سے پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے ہمدردی ظاہر کرتا ہوں، اور ان لوگوں کے لیے بھی جو انھیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

  12. زلزلے کے مرکز تک پہنچنے میں ریسکیو ٹیموں کو ٹریفک کا سامنا, نامہ نگار اینا فاسٹر، عثمانیہ، ترکی

    صبح کے وقت ہم مرعش پہنچنے کی کوششیں کر رہے ہیں جو کہ زلزلے کے مرکز کے نزدیک ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔

    تاہم مرکزی شاہراہ پر ٹریفک بالکل رُکی ہوئی ہے۔ گاڑیاں آہستہ آہستہ چل پا رہی ہیں۔ گیلی سڑکیں گاڑیوں کی بریک لائٹس کی روشنی سے سُرخ ہوچکی ہیں۔

    جنوبی ترکی کے اس مقام تک بہت کم لوگ پہنچ پائے ہیں۔ سب کی کوشش ہے کہ جلد از جلد متاثرہ علاقوں تک پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیں اور ضروری مدد فراہم کر سکیں۔

    شہر جاتے ہوئے میری ملاقات ایک امدادی ٹیم سے ہوئی جن کی گاڑی سامان سے بھری ہوئی تھی۔

    وہ وہاں پہنچنے کی جلدی میں ہیں تاکہ زندہ بچنے والوں کی سانسیں بحال رکھ سکیں۔ تاہم انھیں اس کا اندازہ نہیں کہ کس قدر زیادہ نقصان ہوا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. بریکنگ, مرکزی ترکی کے قریب ایک اور زلزلہ

    کچھ دیر قبل مرکزی ترکی میں ایک اور زلزلے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

    امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق اس زلزلے کی شدت 5.5 تھی جبکہ 10 کلومیٹر گہرائی کا یہ زلزلہ مقامی وقت تین بج کر 13 منٹ پر انقرہ کے قریب ایک گاؤں گولباشی میں آیا۔

    ادھر فرانس میں قائم ای ایم ایس سی کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 کلومیٹر اور گہرائی دو کلومیٹر تھی۔

  14. ’پی آئی اے کی استنبول، دمشق جانے والی پروازوں پر ریلیف سامان کی ترسیل مفت‘

    پاکستان کی سرکاری ایئرلائن پی آئی اے کے مطابق حکومت پاکستان کی ہدایات پر ان کا طیارہ 51 رکنی ریسکیو ٹیم کو لے کر آج دوپہر استنبول پہنچے گا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی کے 707 پاکستانی ریسکیو ٹیم اور ان کے سات ٹن وزنی خصوصی آلات کو لے کر لاہور سے استنبول روانہ ہوگی۔

    اس میں بتایا گیا ہے کہ ’پرواز پر امدادی سامان کی ترسیل کے لیے بھی اقدامات مکمل کر دیے گئے ہیں۔ پی آئی اے کی استنبول (ترکیہ) کے لیے روزانہ کی بنیاد پر پروازیں ہیں جو کہ حکومتی امدادی اقدامات کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہوں گی۔

    ’پی آئی اے انتظامیہ نے انسانی ہمدردی بنیادوں پر ریلیف سامان کی ترسیل بھی بلامعاوضہ کر دی ہے۔ پی آئی اے کی استنبول (ترکیہ) اور دمشق (شام) جانے والی تمام پروازوں پر ریلیف سامان کی ترسیل مفت کر دی گئی ہے۔‘

    پی آئی اے کا کہنا ہے کہ سامان این ڈی ایم اے کے ذریعے پی آئی اے کے کارگو ٹرمینل پر پہنچایا جاسکتا ہے۔ ’کسی بھی امدادی کام یا زخمی ہم وطنوں کو وطن واپس لانے کے لیے پی آئی اے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. جاپان نے امدادی ٹیمیں ترکی روانہ کر دیں

    جاپان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ترکی میں سرچ اینڈ ریسکیو کی کوششوں کے لیے جاپان نے اپنی امدادی ٹیمیں متاثرہ ملک روانہ کر دی ہیں۔

    یہ ٹیم پیر کی شب روانہ ہوئی ہیں۔

    جاپانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترک حکومت کی درخواست، انسانی ہمدردی اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے پیش نظر جاپان نے ترکی کو ہنگامی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

  16. ترکی میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کی ڈرون فوٹیج

    ،ویڈیو کیپشنڈرون کیمرے سے بنائی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہاتائی میں زلزلے سے کئی عمارتیں زمین بوس ہوئی ہیں
  17. جھولتی عمارتوں کے دل دہلا دینے والے مناظر جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے

    جھولتی عمارت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ روز شام اور ترکی میں آنے والے زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ عینی شاہدین اس بارے میں بات بھی کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ اس دوران کیا ہوا تھا تاہم بی بی سی نیوز نے ان معلومات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی ہے۔

    زلزلے کے جھٹکے صبح چار بج کر 17 منٹ پر محسوس ہوئے اور یہ مرکز سے کئی سو میل تک محسوس کیے جاتے رہے۔

    شہری بتاتے ہیں کہ کیسے وہ نیند سے جاگے اور بھاگ کر اپنی گاڑی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

    ایردیم نام ایک شہری نے کہا کہ ’اپنی 40 سالہ زندگی میں میں نے کبھی ایسے محسوس نہیں کیا۔ ہم تین مرتبہ بہت بری طرح جھنجھوڑے گئے، جیسے کسی بچے کو جھولے میں ہلایا جاتا ہے۔

    بی بی سی نیوز کی جانب سے زلزلے کے جھٹکوں کے باعث ہونے والی تباہی کے حوالے سے معلومات کو جوڑا گیا ہے۔ اس میں عینی شاہدین کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کا سہارا بھی لیا گیا ہے۔

  18. رضاکاروں کو گاڑیوں میں متاثرہ علاقوں تک نہ جانے کی ہدایت

    گاڑی، زلزلہ، ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترک ہلال احمر نے رضاکاروں کو متنبہ کیا ہے کہ امدادی سامان لے جانے کے لیے گاڑیوں پر متاثرہ علاقوں کا رُخ نہ کریں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’گاڑیاں سڑکوں پر 50 میٹر گہری کھائی میں گِری ہیں۔ سڑکوں پر برف بھی ہے۔‘

    انھوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہلال احمر کو کھانا اور گرم رہنے کے لیے دیگر سامان جیسے کمبل، کوٹ اور بوٹ عطیہ کریں تاکہ ایسی چیزوں کو آگے پہنچا کر تقسیم کیا جاسکے۔

    ہلال احمر نے اس سے قبل خون کے عطیہ کا بھی مطالبہ کیا تھا تاکہ زخمیوں کو بچایا جائے۔

  19. زلزلوں کی شدت کا اندازہ کیسے لگایا جاتا ہے؟, پال گوش، بی بی سی سائنس

    زلزلے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    زلزلوں کی پیمائش جس پیمانے پر کی جاتی ہے اسے مومنٹ میگنیٹیوڈ سکیل کہتے ہیں۔

    انسان 2.5 شدت کا زلزلہ محسوس نہیں کر پاتے مگر آلات کی مدد سے ان کی تصدیق ہوسکتی ہے۔ پانچ کی شدت کے زلزلے کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔

    ترکی اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے کو کافی زیادہ نقصان دہ خیال کیا جا رہا ہے۔

    آٹھ کی شدت کے زلزلے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اور اپنے اردگرد کی تعمیرات کو منہدم کرسکتے ہیں۔

  20. آسٹریلیا متاثرین کی بحالی کے لیے ایک کروڑ ڈالر دے گا

    آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلوی وزیر اعظم نے منگل کو اعلان کیا کہ ان کا ملک ابتدائی طور پر فلاحی تنظیموں کو ایک کروڑ ڈالر امداد دے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’آسٹریلیا کی مدد ان لوگوں کے لیے ہوگی جنھیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘ انھوں نے متاثرین کے لیے اپنی ہمدردی بھی ظاہر کی ہے۔

    ادھر نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم، جو آسٹریلیا کے دورے پر موجود ہیں، نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت متاثرین کی امداد کے لیے 15 لاکھ ڈالر مختص کرے گی۔