اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. ’ہماری والدہ کی لاش اب سڑنے لگی ہے، ہمارا سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا ہے‘

  2. ترکی زلزلہ: پاکستانی خاتون اہلکار جنھوں نے پرخطر آپریشن کے بعد 50 سالہ خاتون کو زندہ نکالا

  3. کیا ترکی میں آنے والا زلزلہ اردوغان کے 20 سالہ اقتدار کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے؟

  4. ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 28 ہزار سے بڑھ گئی

    ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 28 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

    سوموار کو آنے والے زلزلے کے بعد اب یہ امید دم توڑ رہی ہے کہ ملبے سے مذید افراد کو زندہ حالت میں نکالا جا سکتا ہے۔

    تاہم جنوبی ترکی میں ریسکیو کوششوں میں اس وقت تعطل آیا جب مختلف گروہوں میں تصادم ہوا اور جرمنی اور آسٹریا سے تعلق رکھنے والے عملے نے ریسکیو آپریشن روک دیا۔

    مقامی میڈیا کے مطابق 50 افراد کو چوری کے الزام میں حراست میں لیا گیا جن سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

    ریسکیو کرنے والے ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ خوراک کی کمی کی وجہ سے سکیورٹی حالات مخدوش ہو سکتے ہیں۔

    ادھر ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے وہ ہنگامی اختیارات کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

  5. ترکی کے وہ ننّھے بچے جن سے زلزلے نے ان کی شناخت چھین لی

  6. ترکی میں 128 گھنٹے بعد ملبے سے بچے کو نکال لیا گیا

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے صوبہ حطائے میں امدادی کارکنوں نے ایک 13 سالہ بچے کو 128 گھنٹے بعد ملبے کے نیچے سے نکال لیا ہے۔

  7. اقوامِ متحدہ کی شام کے لوگوں کی امداد کے لیے سیاست ایک طرف رکھنے کی اپیل

    شام

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفان ڈوجاریک نے کہا ہے کہ شام میں امداد پہنچانے کے لیے ’تمام سیاست کو ایک طرف رکھنے‘ کا وقت آ چکا ہے۔

    سٹیفان ڈوجاریک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ’تمام فریقوں کے ساتھ مل کر‘ حکومت اور باغیوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے اور ’سیاسی الزام تراشی میں دلچسپی نہیں رکھتی۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ روز شام کے سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ حکومت نے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں امداد پہنچانے کی منظوری دے دی ہے۔

    سٹیفان ڈوجاریک نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے امدادی کارکنان باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ’جتنی جلد ممکن ہو سکے‘ امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کہا کہ اقوامِ متحدہ ’شام کے لوگوں کے ساتھ ہے چاہے وہ باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ہوں یا حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں میں۔‘

    وائٹ ہیلمٹس امدادی تنظیم کی جانب سے تنقید کی گئی تھی کہ اقوامِ متحدہ نے باغیوں کے زیرِ قبضہ شمال مغربی شام کے علاقوں میں اس کی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔

    سٹیفان ڈوجاریک نے ان کی اس تنقید کو تسلیم کیا اور کہا کہ ’اگر میں تباہی و بربادی کے درمیان کھڑا ہوں اور میرے لوگ متاثر ہوئے ہیں تو میں بھی ناخوش ہوں گا اور تنقید کروں گا کیونکہ امداد کبھی بھی جلد سے جلد نہیں پہنچتی۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ہم شام کے لوگوں کی مشکلات سے انتہائی درجے تک آگاہ ہیں اور کہا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران ’یکجہتی‘ کی ضرورت ہے۔‘

  8. ترکی میں ملبے سے زندہ پرندے نکال لیے گئے

    ترکی کے صوبہ حطائے میں ملبے کے نیچے سے پرندے برآمد ہوئے ہیں جنھیں لوگوں نے گھروں میں پال رکھا تھا۔

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  9. حاملہ خاتون اور بیٹی 115 گھنٹے بعد ملبے سے زندہ برآمد

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حالانکہ زلزلہ آئے اب چھ روز گزر چکے ہیں اور زندہ افراد کو تلاش کرنے کی اُمیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں لیکن اب بھی اس خطے سے کئی معجزاتی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ترکی کے شہر غازی انتپ میں ایک حاملہ خاتون اور ان کی کم سن بیٹی کو ملبے کا ڈھیر بن چکی ایک عمارت سے 115 گھنٹے بعد زندہ نکالا گیا۔

    یہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی ترکی میں زلزلے سے متاثرہ کئی علاقوں میں 110 گھنٹے بعد بھی کئی لوگ نکالے گئے ہیں جن میں ایک نوجوان بھی شامل ہے۔

    جرمنی کی ایک امدادی تنظیم کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ملبے کے ڈھیر میں پھنسی ایک لڑکی کو 110 گھنٹے بعد زندہ نکالا گیا۔

    ترکی کی ہیومینیٹیرئن ریلیف فاؤنڈیشن نے بھی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ملبے سے نکالے گئے ایک شخص کو قریب کھڑی ایمبولینس تک لے جایا جا رہا ہے۔

  10. ترکی اور شام میں 24 ہزار سے زائد ہلاکتیں، شام میں اب تک صرف دو امدادی قافلے

    ترکی اور شام میں آئے زلزلے کو اب چھ روز ہو چکے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب تک اس سانحے میں 24 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 20 ہزار 665 ہلاکتیں ترکی اور تین ہزار 553 ہلاکتیں شام میں ہوئی ہیں۔

    لاکھوں دیگر افراد بے گھر ہوئے ہیں اور امدادی کارکنان کی توجہ اب اُنھیں خوراک اور شیلٹر فراہم کرنے پر ہے۔

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں اب تک باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں۔

    اُنھوں نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ تمام لوگوں تک امداد پہنچ سکے۔

  11. ترکی و شام میں زلزلہ: ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش کیسے کی جاتی ہے؟

  12. ترکی اور شام میں ہلاکتیں 23 ہزار کے قریب

    پیر کو آنے والے زلزلے کے بعد صدر رجب طیب اردوغان کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 19 ہزار 338 ہوگئی ہے۔

    ہمسایہ ملک شام میں رپورٹ کی گئی اموات 3377 ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کل اموات 23 ہزار کے قریب ہیں۔

    صدر کے مطابق ترکی میں 77 ہزار 700 سے زیادہ افراد زخمی ہیں اور ان کی حکومت متاثرین کو رہائش کے لیے کرائے میں مدد فراہم کرے گی۔

    اس سے پہلے ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کے ردعمل میں حکومتی اقدامات اتنی تیزی سے نہیں کیے جا سکے جس کی امید تھی۔

  13. بی بی سی کی ٹیم حلب میں کیسے داخل ہوئی؟, آصاف ابود، بی بی سی عربی، حلب

    بی بی سی عربی کے نامہ نگار
    ،تصویر کا کیپشنبی بی سی عربی کے نامہ نگار آصاف ابود حلب میں

    ہماری بی بی سی کی ٹیم دمشق سے براستہ سڑک حلب پہنچی ہے۔

    یہ 360 کلومیٹر طویل سفر ہے۔ ہم کئی ایسے چیک پوائنٹس سے گزرے جہاں فوجی شناخت چیک کر رہے تھے۔

    ہم شام میں حکومت کی اجازت سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا سفر کر رہے ہیں۔

    ہم نے راستے میں یہاں آتے ہوئے کئی امدادی ٹرک دیکھے۔

    حلب میں داخل ہوتے ہوئے شاید آپ کو یہ اندازہ نہ ہو کہ آپ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں داخل ہو رہے ہیں کیوں کہ جس جانب سے ہم داخل ہوئے وہاں موجود نئی عمارتوں کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    حلب

    لیکن جیسے ہی ہم شہر کے اندر آتے گئے تو یہ بتانا مشکل تھا کہ کون سی عمارت ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کا نتیجہ ہے یا کس چیز کو زلزلے سے نقصان پہنچا ہے۔

    پورے شہر میں عمارتوں کا ملبہ ہٹاتے بلڈوزروں کا شور ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منہدم ہونے والی عمارتوں سے کہیں زیادہ تعداد ان عمارتوں کی ہے جنہیں نقصان پہنچا ہے۔

    الشار، الصالحین اور بستان القصر کے اضلاع کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور وہاں کے مقامی افراد پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

  14. ترکی اور شام میں زلزلہ، تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    پیر کو ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کو اب پانچ روز گزر چکے ہیں۔ اس وقت صورتحال کچھ یوں ہے

    • اموات کی تعداد اب 22 ہزار 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔
    • ترک صدر رجب طیب اردوغان اور شام کے صدر بشار الاسد دونوں نے ہی آج تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے
    • اردوغان نے تسلیم کیا ہے کہ زلزلے پر حکومت کا ردِ عمل اتنا تیز نہیں رہا جتنا کہ اُنھیں امید تھی
    • زلزلہ متاثرین کے لیے امداد کا ایک اور قافلہ شام پہنچ گیا ہے مگر امدادی کارکنان کو امداد پہنچنے کی رفتار پر سخت تحفظات ہیں
    • شام میں شہری دفاع کی تنظیم وائٹ ہیلمٹس کا کہنا ہے کہ صورتحال ’انتہائی تباہ کن‘ ہے
    • دونوں ہی ممالک میں امدادی کارکنان لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں
    • مگر زلزلے کے پانچ دن بعد بھی کچھ معجزاتی ریسکیو کیے گئے ہیں جن میں ترکی کا جنوبی صوبہ حطائے بھی ہے جہاں پانچ منزلہ عمارت کے ملبے سے چھ افراد کو نکالا گیا ہے
    • برطانیہ میں ڈزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی کی ترک شام زلزلہ اپیل نے کہا ہے کہ اس نے پہلے دن تین کروڑ 29 لاکھ پاؤنڈ جمع کیے ہیں جن میں برطانوی حکومت کے دیے گئے 50 لاکھ پاؤنڈ بھی شامل ہیں
  15. شام میں صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے: امدادی کارکنان

    ترکی اور شام میں سرحد کے دونوں طرف لاکھوں افراد زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔

    شمال مغربی شام میں ادلب میں گراؤنڈ پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے جبکہ بہت کم امداد لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔

    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنادلب میں خاندان اپنے بچوں کے ساتھ خیموں میں مقیم ہیں
    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنادلب میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے قریب خیمے نصب کیے گئے ہیں
    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنزلزلے میں بچ جانے والے افراد کے لیے حالات اب اور بھی مشکل ہیں
    شام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسالہا سال کی جنگ سے تباہ شدہ شہر اب ایک اور سانحے کا شکار ہے
  16. اقوامِ متحدہ کا دوسرا امدادی قافلہ شام پہنچ گیا

    شام

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ترکی کے ایک سرحدی ناکے سے شام کے زلزلہ متاثرین کے لیے اقوامِ متحدہ کا دوسرا امدادی قافلہ شام پہنچ گیا ہے۔

    عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے حکام نے کہا ہے کہ اس قافلے میں 14 ٹرک ہیں جن پر خیمے، کمبل، بستر، انسولیٹرز اور صفائی اور خوراک کی کٹس موجود ہیں۔

    شمال مغربی شام کا علاقہ باغیوں کے زیرِ انتظام ہے اور یہاں امداد پہنچانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ ترکی سے صرف ایک ہی سرحدی ناکہ ’باب الحوا‘ ہے جہاں سے شام جایا جا سکتا ہے۔

    جمعرات کو پہلا امدادی قافلہ ترکی سے شام پہنچا تھا۔

  17. رجب طیب اردوغان: ’حکومت کا ردِ عمل اتنا تیز نہیں رہا جتنی کہ ہمیں امید تھی‘

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے تسلیم کیا ہے کہ پیر کے زلزلے پر حکومت کا ردِ عمل اتنا تیز نہیں رہا جتنی کہ ہمیں امید تھی۔

    زلزلے میں بچ جانے والے لوگوں نے صدر اردوغان پر تنقید کی ہے کہ امدادی کارکنان کی تعداد بہت کم تھی۔

    آدیامن میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’اتنی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے کہ ہم خواہش کے باوجود اپنی امدادی کارروائیاں تیز نہیں کر سکے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ کچھ لوگ مارکیٹس لوٹ رہے ہیں چنانچہ اس علاقے میں ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے جس کے تحت حکومت ضروری سزائیں دے سکے گی۔

  18. بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہزار سے بڑھ گئی

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پیر کے روز ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 21 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس زلزلے کو ’صدی کا سب سے بڑا سانحہ‘ قرار دیا ہے۔

    جمعرات کو عالمی بینک نے ترکی کے لیے 1.78 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری دی ہے جس میں بنیادی ضروریات کے انفراسٹرکچر کی فوری تعمیر اور زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بھی رقوم رکھی گئی ہیں۔

    امریکہ نے دونوں ممالک کے لیے ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

    اس دوران گراؤنڈ پر موجود ایک لاکھ سے زیادہ امدادی کارکنان کی کوششیں نقل و حمل کے مسائل بشمول گاڑیوں کی کمی اور تباہ سڑکوں کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔

  19. ترکی میں نوزائیدہ بچہ اور ماں 90 گھنٹے بعد ملبے سے زندہ نکال لیے گئے, جیمز فٹزجیرالڈ، بی بی سی نیوز

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہEkrem Imamoglu

    جنوبی ترکی میں نوزائیدہ بچے اور ان کی ماں کو 90 گھنٹے بعد زندہ بچا لیا گیا ہے۔

    یاگز نامی 10 روزہ بچے کو صوبہ حطائے میں ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے نکالا گیا ہے۔

    فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے کو نکال کر ایک ایمرجنسی کمبل میں لپیٹا گیا اور پھر ایمبولینس تک لے جایا گیا۔

    ان کی والدہ کو سٹریچر پر باہر لایا گیا۔ دونوں کی صحت کے متعلق مزید کوئی معلومات فی الوقت دستیاب نہیں ہیں۔

  20. ریسکیو آپریشن کی رفتار دھیمی، لوگوں کے چہروں پر غم کے آثار نمایاں, نِک بیاک، بی بی سی نیوز، غازی انتیپ، ترکی

    ترکی

    ترکی اور شام میں زلزلہ آئے ہوئے اب 100 گھنٹے سے زیادہ گزر چکے ہیں اور ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ زندہ بچ جانے والے افراد کو تلاش کرنے کی امیدیں ہوا ہوتی جا رہی ہیں۔

    شہر کے اس حصے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ریسکیو آپریشن کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔ جب ہم آج صبح آئے تو ہمیں یہاں پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں آ رہی تھیں جو ایک دن پہلے تک ناقابلِ تصور تھا۔

    پھر بھاری مشینوں کی گڑگڑاہٹ دوبارہ شروع ہوئی اور مزید ملبہ ہٹایا جانے لگا۔

    یہاں پر ریسکیو آپریشن کے نگران نے ہمیں بتایا کہ اُنھوں نے ہمارے سامنے موجود ایک بلاک سے 22 لوگوں کو نکالا ہے مگر حالیہ دورانیے میں کوئی مزید افراد نہیں نکالے گئے۔

    یہاں آپ سے کوئی نہیں کہے گا کہ اُنھوں نے اُمید کا دامن چھوڑ دیا ہے مگر اب ملبہ اٹھانے والے لوگوں کے چہروں پر تھکاوٹ اور غم کے آثار نمایاں ہیں۔