اقوامِ متحدہ کی شام کی خاطر ’سیاست ایک طرف رکھنے‘ کی اپیل، ہلاکتیں 28 ہزار سے زیادہ

ترکی اور شام میں پیر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اب تک شام میں صرف دو امدادی قافلے پہنچ پائے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ شام کی مدد کرنے کے لیے سب فریقوں کو ’سیاست ایک طرف رکھنی‘ ہو گی۔

لائیو کوریج

بلال کریم مغل

  1. بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتیں 4300 سے بڑھ گئیں

    ترکی اور شام میں جہاں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں وہیں اب تک 4300 سے زیادہ اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔

    ترکی میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق ملک میں زلزلے سے اب تک 2921 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 15834 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری طرف شام میں ہلاکتوں کی تعداد 1444 ہو چکی ہے۔

    مجموعی طور پر اب تک زلزلے سے 4365 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

  2. بریکنگ, ہلاکتوں کی تعداد 3500 سے تجاوز کر گئی، شدید سردی کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات

    ترکی کے نائب صدر نے بتایا ہے کہ ترکی میں اب ہلاک ہونے والے کی تعداد 2379 ہو گئی ہے جبکہ 14 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

    ان کے مطابق اب تک ملبے سے 7840 افراد کو نکالا گیا ہے جبکہ 4748 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد 1444 ہو چکی ہے۔ یوں اس ہلاکت خیز زلزلے کے باعث 3500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    ترکی اور شام میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن اس دوران موسم ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور جگہ جگہ بارش اور شدید ٹھنڈ کے باعث امدادی کارکنان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  3. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلہ: ہلاکتوں کی تین ہزار سے تجاوز کر گئی

    اب تک ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس بات کی اندیشہ ہے کہ یہ ہلاکتوں کی اصل تعداد موجودہ تعداد کا آٹھ گنا ہو سکتی ہے۔

    ملک میں آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے کے مطابق اب تک ترکی میں 2316 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہمسایہ ملک شام میں حکومت اور ریسکیو اداروں کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1293 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  4. بریکنگ, زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے تجاوز کر گئی

    ترکی میں آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے مطابق ملک میں اب تک زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1762 ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم ایک ہزار ہے۔ یوں مجموعی طور پر گذشتہ روز آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2700 ہو چکی ہے۔

    ادھر عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کے اندیشہ ہے۔

  5. بریکنگ, ترکی اور شام میں زلزلے سے 2600 سے زیادہ ہلاکتیں، ترکی میں سات روزہ سوگ کا اعلان

    map

    تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    اگر آپ اس وقت ہمارے لائیو پیج کا رخ کر رہے ہیں تو ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کے بعد ہونے والے نقصان کی تازہ ترین تفصیلات کچھ یوں ہیں:

    • اب تک اس زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2600 سے تجاوز کر گئی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔
    • ریسکیو اہلکار اس وقت شدید ٹھنڈ اور برفباری والے موسم میں ملبے ہٹانے اور اس میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اس صورتحال کو ایک شہری نے ’قیامت‘ سے تشبیہ دی ہے۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے زلزلے کے بعد سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
  6. ترکی میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ، ملبے تلے سے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری

    ترکی کے نائب صدر کے مطابق ملک میں پیر کو آنے والے زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1541 ہو گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ملک کے جنوب اور جنوب مشرق میں آنے والے زلزلے میں 9700 لوگ زلزلے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ دوسرے زلزلے میں ہونے والی ہلاکتوں کتنی تھی یا اس کے باعث ہلاکتیں ہوئی بھی ہیں یا نہیں۔

    دونوں زلزلوں کے بعد 145 آفٹر شاکس آ چکے ہیں جن میں سے تین کی شدت چھ سے زیادہ کی تھی۔

    نائب صدر کا کہنا تھا کہ تقریباً 3500 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور ملبے تلے سے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

  7. ترکی میں دو بڑے زلزلوں کے بعد آنے والے آفٹر شاکس

    maps

    ترکی میں آج دو بڑے زلزلے رپورٹ ہوئے اور اس کے بعد سے پورے خطے میں درجنوں آفٹر شاکس بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

    اوپر دیے گئے نقشے میں ان زلزلوں کی شدت دکھائی گئی ہے اور ان کا زلزلے کے مرکز کے اعتبار سے ان کا محلِ وقوع بھی دکھایا گیا ہے۔

    جیسے کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے اکثر جھٹکے چھ سے زیادہ شدت کے ہیں جو کہ ایک شدید زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔

  8. زلزلہ زدگان سے اظہار یکجہتی: اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایک منٹ کی خاموشی

    UNO

    ،تصویر کا ذریعہUN

    اقوام متحدہ نے رواں برس اپنی ترجیحات کے تعین کے لیے منعقدہ اجلاس میں ترکی اور شام میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک منٹ خاموشی اختیار کی۔

    اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجنے جانے والی ٹیمیں اس وقت اس متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔

    ان کے مطابق یہ ٹیمیں وہاں متاثرین کی ضروریات کا خیال رکھ رہیں ہیں اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

  9. امریکہ کا ترکی اور شام میں ریسکیو آپریشن میں امداد کا اعلان

    امریکی صدر جو بائیڈن نے ترکی اور شام میں زلزلے سے ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریسکیو آپریشن میں ہر ممکن کریں گے۔

    صدر بائیڈن نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ ترکی کے صدر مل کر اس ساری صورتحال کا بغور جائزہ لیں اور جہاں اور جس طرح کی امداد کی ضرورت ہے اسے یقینی بنائیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا ترکی کے صدر طیب اردوغان سے ٹیلی فونک رابطہ، امداد کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. بریکنگ, ترکی اور شام میں ہلاکتوں کی کم از کم تعداد 2300 ہو گئی ہے

    ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2300 تک پہنچ چکی ہے۔

    ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 1498 ہو گئی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق شام میں ہلاکتوں کی تعداد 810 تک پہنچ گئی ہے۔

  12. ’ہمیں لگا کہ قیامت آ گئی ہے‘

    ترکی کے یکے بعد دیگرے زلزلے پر عینی شاہدین نے اپنے تاثرات شیئر کیے ہیں۔

    تولن اکایا دیاربکر کی رہائشی ہیں۔ یہ جگہ زلزلے کے مرکز سے مشرق میں کوئی 180 میل کی دوری پر واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی پہلے زلزلے کے غم سے اپنے آپ کو باہر نکالنے کی کوشش میں تھیں کہ دوسرے زلزلے نے انھیں آن لیا۔

    انھوں نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وہ بہت سہمی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق میں نے اسے بہت شدت سے محسوس کیا کیونکہ میں بالائی منزل پر رہتی ہوں۔

    ان کے مطابق ہم افراتفری میں باہر کی طرف بھاگے۔ ان کے مطابق میں اب اپنے اپارٹمنٹ کی طرف نہیں جا سکتی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب آگے کیا ہو جائے گا۔‘

    ترکی میں پہلے زلزلے کا مرکز غازی عنتیپ تھا اور اس کی شدت 7.8 تھی جبکہ دوسرے زلزلے کی شدت 7.5 تھی اور یہ جگہ پہلے زلزلے کے مرکز سے شمال میں 80 میل کی دوری پر کہرمان مرعش صوبے میں واقع ہے۔

    ملیسا سلمان کہرمان مرعش کی رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے والے زون میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اس طرح کے جھٹکے لگتے رہتے ہیں۔

    مگر ان کے مطابق آج جو ہوا یہ زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

    ان کے مطابق ’ہمیں لگا کہ یہ قیامت ہے۔‘

    ہالس اکتیمر دیاربکر کے رہائشی ہیں۔ وہ ان پہلے لوگوں میں شامل تھے جو پہلی بڑی عمارت گرنے کے بعد اس جگہ تک پہنچے اور پھر ملبے سے لوگوں کو بچانے کی کوششیں شروع کر دیں۔

    ان کے مطابق ہم تین لوگوں کی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ مگر دو لوگ مر چکے تھے۔ ان کے مطابق دسرے زلزلے کے بعد میں کہیں نہیں جا سکا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب انھیں میری مدد کی ضرورت ہوگی۔

  13. روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی ترکی اور شام کے لیے امداد کا اعلان

    Putin

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ترکی اور شام کے نام تعزیتی پیغام بھیجا ہے اور زلزلہ سے متاثرہ دونوں ممالک کے لیے امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر پوتن نے شام کے صدر بشاالاسد سے کہا کہ ہم تمام زخمیوں کے جلد صحت یابی کے دعاگو ہیں اور اس قدرتی آفت سے نمنٹے کے لیے مدد دینے کو تیار ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے نام ایک پیغام میں صدر پوتن نے کہا کہ ان کی طرف سے متاثرین کے خاندانوں تک ہمدردی اور مدد کا اظہار کیجیے۔ انھوں نے کہا کہ روس اس مشکل میں ہر مدد دینے کو تیار ہے۔

  14. زلزلے سے اموات کی کم از کم تعداد 1900 ہو گئی

    Turkey

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ترکی اور شام میں زلزلے میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 1900 ہو گئی ہے۔ ترکی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1121 جبکہ شام میں مرنے والوں کی تعداد 783 بتائی جا رہی ہے۔

    ابھی ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ترکی میں آنے والے دوسرے زلزے میں کوئی ہلاکت یا ہلاکتیں ہوئی ہیں یا نہیں۔

  15. جب زلزلے سے متاثرہ عمارت نیچے آ گری

    ترکی کے علاقے شانلی اورفہ میں ریکارڈ کی جانے والی اس فوٹیج میں زلزلے کے کئی گھنٹے بعد ایک کثیر المنزلہ عمارت کو منہدم ہوتے اور لوگوں کو محفوظ مقام کی جانب بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ،ویڈیو کیپشنشانلی اورفہ میں زلزلے کے کئی گھنٹے بعد ایک کثیر المنزلہ عمارت منہدم
  16. ’پاکستان ترکی کے ساتھ کھڑا ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. ترک ٹی وی کا عملہ ترکی میں دوسرے زلزلے کا عینی شاہد

    Turkey

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آج ترکی میں پہلے زلزلے کے بعد دوسرا زلزلہ بھی آیا ہے۔ خبررساں ادارے نے کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ خوف میں جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں جبکہ عمارتیں گر رہی ہیں۔

    فوٹیچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملطیہ میں ٹی وی پر لائیو زلزلے کی تباہی سے پیدا ہونے والی آواز کو سنا جا سکتا ہے اور گرتی دیواروں سے بہت زیادہ دھول اڑتے دیکھی جا سکتی ہے۔

    Turkey

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایسے میں رپورٹر یکسل ایکالان نے بعد میں بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم اس وقت سرچ اور ریسکیو آپریشن کی ویڈیو بنا رہے تھے جب ان کے قریب ہی ایک عمارت زمین بوس ہو گئی۔

    ویڈیو میں چیخیں سنی جا سکتی ہیں اور لوگ سڑک کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ جب کسی حد تک دھول بیٹھ گئی تو پھر ملبے کے پہاڑ نظر آنا شروع ہو گئے۔

  18. زلزلے کے بعد گیس پائپ لائن کے ساتھ آگ ہی آگ

    ترکی کے جنوبی علاقے سے آنے والی ویڈیوز میں زلزلے کے بعد گیس پائپ لائن کے ساتھ آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے۔

    ترکی کے وزیرِ توانائی فتح دونمیز نے پیر کی صبح بتایا تھا کہ زلزلے سے ملک میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے جن میں زلزلے کے مرکز کے قریب واقع گیس پائپ لائن شامل ہے۔

    بی بی سی نے ان ویڈیوز میں سے ایک کی تصدیق کروائی ہے اور یہ ویڈیو ہاتے نامی شہر کے نواح کی ہے جو غازی عنتیپ سے 170 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. عالمی رہنماؤں نے ابھی تک زلزلہ متاثرین کے لیے کتنی امداد کا اعلان کیا ہے؟

    دنیا بھر کے رہنماؤں نے ترکی اور شام میں زلزلے کی تباہی کے بعد ریسکیو آپریشن کے لیے امداد کے اعلانات کیے ہیں۔

    برطانیہ کے وزیراعظم رشی سونک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی ہمددری ترکی اور شام کے لوگوں کے ساتھ ہے۔۔ خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جو اس وقت آگے بڑھ کر مصیبت میں پھنسے افراد کی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ جو کچھ کر سکا اس مشکل صورتحال میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکخوان نے ترکی اور شام سے آنے والی تصاویر کو بہت المناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس ہنگامی بنیادوں پر امداد دینے کے لیے تیار ہے۔ جرمن چانسلر اولف شلز نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس زلزلے میں مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ اس غم میں برابر کا شریک ہے اور یقیناً وہ مدد بھی بھیجیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نتن یاہو نے ترکی کے عوام کے نام تعزیتی پیغام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے حکام کو یہ ہدایات دے دی ہیں کہ وہ فوری طور پر میڈیکل، ریسکیو اور تمام تر معاونت کے لیے تیار ہو جائیں۔

    انڈین حکومت نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے سو سے زائد ڈیزاسٹر رسپوسنس پرسنل اور خاص تربیت یافہ کتوں کا سکواڈ جلد خصوصی پرواز سے روانہ ہو جائے گا۔ انڈیا کے مطابق میڈیکل ٹیمیں اور دیگر ضررری سامان بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

    یورپی فوجی اتحاد نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولنبرگ نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے صدر اردوغان سے رابطے میں تھے اور وہ جلد امداد بھیجنے کے عمل کو یقینی بنا رہے ہیں۔

  20. ’اتنی سردی ہے، میرے بچے تو ملبے تلے جم جائیں گے‘, ہتیس کامر، بی بی سی ترکیڑ دیاربکر

    دیار بکر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک بزرگ کرد خاتون بین کر رہی ہے اور اسے ملبے میں دبی اپنی بھابھی، بھتیجے اور بھتیجیوں کی خیریت کی خبر درکار ہے۔ اس کے کچھ پڑوسی اسے دلاسہ دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’دیکھو چند منٹ پہلے ایک شخص کو نکالا گیا ہے، تمہارے گھر والے بھی نکل آئیں گے۔‘

    ان دلاسوں کے باوجود یہ بزرگ خاتون زیادہ پرامید نہیں کیونکہ ان کا خاندان اس 12 منزلہ عمارت کی سب سے نچلی منزل پر رہتا تھا۔ وہ کہتی ہیں ’وہ پہلی منزل پر سو رہے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کوئی ان تک پہنچ سکتا ہے۔ اتنی سردی بھی ہے، میرے بچے تو ملبے تلے جم جائیں گے۔‘ اچانک شور ہوتا ہے۔

    لوگ ایک اور شخص کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن وہ بھی ان خاتون کا رشتہ دار نہیں لیکن وہ اس کے زندہ بچ جانے پر خوش ہیں۔

    یہاں شدید ٹھنڈ ہے، بارش ہو رہی ہے اور آفٹر شاکس کی وجہ سے کوئی مکانات کے قریب بھی نہیں جا رہا باوجود اس کے کہ سب بےسروسامانی کی حالت میں ان گھروں سے نکلے تھے۔

    دیاربکر میں کم از کم سات عمارتیں منہدم ہوئی ہیں اور زلزلے سے 33 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 12 کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے۔