اب امریکہ میں صدر منتخب کرنے کے لیے چند ہی ریاستیں رہ گئی
ہیں جہاں ووٹ گنے جا رہے ہیں۔
اس وقت ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن 43 ریاستوں میں 243
الیکٹورل کالج (ای سی) ووٹوں کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سبقت لے کر آگے ہیں جنھیں
اب تک 214 ای سی ووٹ ملے ہیں۔
اس وقت جن اہم ریاستوں میں فیصلہ آنا باقی ہے ان میں
ایریزونا، جارجیا، نیواڈا، پینسیلوینیا، شمالی کیرولینا اور وسکانسن شامل ہیں۔
دونوں امیدواروں کے لیے جیت حاصل کرنے کے لیے مختلف راستے
ہیں۔
دوبارہ جیت کے منتظر صدر ٹرمپ اگر وسکانسن (10 ای سی) میں
شکست کھا گئے تو انھیں جارجیا (16 ای سی)، شمالی کیرولینا (15 ای سی)، پینسیلوینیا
(20 ای سی) میں لازمی طور پر اور ایریزونا (11 ای سی) اور نیواڈا (چھ ای سی) میں
سے کوئی ایک ریاست جیتنی ہوگی۔
جو بائیڈن کی صورتحال بہتر ہے اور وہ ایریزونا، جارجیا اور
نیواڈا میں جیت حاصل کر کے صدر بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ چند خبر رساں اداروں نے وسکانسن اور ایریزونا
میں جو بائیڈن کو جیت دے دی ہے لیکن بی بی سی اور ہمارے شراکت دار اداروں نے ابھی
اور انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بالفرض کے جو بائیڈن وسکانسن میں جیت جائیں تو انھیں صرف
ایریزونا اور نیواڈا میں جیت چاہیے ہوگی اور وہ اس وقت دونوں ریاستوں میں بہت کم
فرق سے آگے ہیں۔
جورجیا میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ آخری ووٹ تک گنتی جاری رکھیں گے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق یہاں ٹرمپ کی برتری کم ہو رہی ہے اور فی الحال یہ 24 ہزار ووٹوں سے کم ہوگئی ہے۔
نیواڈا میں کڑا مقابلہ دیکھا جا رہا ہے اور بائیڈن کو آٹھ ہزار سے کم ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق صبح کے اوقات میں تنائج دیے جائیں گے۔ ابھی اس میں کچھ گھنٹے باقی ہیں۔
پنسلوینیا میں ٹرمپ کی بڑی برتری کم ہو رہی ہے۔ 90 فیصد ووٹ گنے جاچکے ہیں اور بدھ کے ابتدا میں ٹرمپ ایک لاکھ 64 ہزار ووٹوں کی برتری کے ساتھ آگے تھے۔
ایریزونا میں بائیڈن کو ٹرمپ پر 80 ہزار ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔ جمعرات کو مزید نتائج متوقع ہیں۔
شمالی کیرولائنا میں اکثر ووٹ گنے جاچکے ہیں اور ان کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کو یہاں 77 ہزار کی برتری حاصل ہے۔
وسکونسن میں روئٹرز کے مطابق بائیڈن کو 20 ہزار سے زیادہ ووٹوں کی برتری حاصل ہے لیکن ان کی جیت کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔ بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق بائیڈن یہاں فتح حاصل کرچکے ہیں۔