آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکی انتخاب پر پاکستانیوں کے مزاحیہ تبصرے

    صدارتی انتخاب تو امریکہ میں ہو رہا ہے جہاں فی الحال ووٹوں کی گنتی جاری ہے لیکن پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین بھی اس میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔

    ٹرمپ اور بائیڈن دونوں صدارتی امیدواروں کی جانب سے فتح کے دعوؤں پر پاکستان میں ایسی مزاحیہ میمز شیئر کی جا رہی ہیں جو پاکستانی سیاست سے منسوب کی جاتی ہیں۔ مزید بتا رہی ہیں تابندہ کوکب۔۔۔

  2. ٹرمپ مہم نے ’ونکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ نہیں کیا‘

    امریکی ریاست ونکونسن کی سب سے سینئیر انتخابی عہدیدار نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم نے وہاں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔

    ٹرمپ مہم نے کچھ کڑے مقابلے والی ریاستوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے مقدمے دائر کیے ہیں اور یہ اطلاعات تھیں کہ ونکونسن میں بھی دبوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    لیکن سینئیر انتخابی عہدیدار میگن وولفی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایسا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں سرکاری سطح پر ہونے والے کسی رابطے کے بارے میں بے خبر ہیں۔

  3. دوبارہ گنتی سے متعلق کچھ ریاستوں کے قوانین

    ایڈیسن ریسرچ، جہاں سے بی بی سی امریکی الیکشن سے متعلق معلومات حاصل کر رہا ہے، نے کہا ہے کہ وہ وسکونسن یا ایسی کسی ریاست میں کسی صدارتی امیدوار کی جیت کا اعلان نہیں کریں گے جب تک برتری کم رہتی اور حتمی طور پر اعلان نہیں کیا جاتا۔ ایسے میں دوسرا امیدوار اس بنیاد پر قانون کے تحت دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

    ایریزونا: یہاں خود بخود دوبارہ گنتی شروع ہو جائے گی اگر دونوں امیدواروں کے ووٹوں کے بیچ 0.1 فیصد یا اس سے کم کا فرق ہوتا ہے۔

    جورجیا: اگر امیدواروں کے ووٹوں کے بیچ کل ووٹوں کے مقابلے ایک فیصد سے کم کا فرق ہو تو کوئی بھی امیدوار دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرسکتا ہے

    وسکونسن: قانون کے تحت اگر ایک فیصد ووٹوں سے کم کا فرق ہوتا ہے تو کم ووٹوں والا امیدوار دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر سکتا ہے

    کچھ ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس پر ایریزونا اور وسکونسن میں بائیڈن کی متوقع جیت کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

  4. صدر ٹرمپ: قانونی ووٹ گنے جائیں تو میں جیت گیا ہوں

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اگر قانونی ووٹ گنے جائیں تو میں جیت گیا ہوں۔‘

    وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ دعویٰ ایسے وقت میں کیا ہے جب کئی ریاستوں میں اب بھی ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس موقع پر ووٹنگ فراڈ کا اپنا دعویٰ دوبارہ دہرایا تاہم اپنے دعوے کے ثبوت پیش نہیں کیے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر غیر قانونی ووٹ گنے جائیں تو وہ ’ہم سے الیکشن چھین سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پوسٹل بیلٹ ایک ’کرپٹ‘ نظام ہے اور یہ کسی ایسے شخص کو بھی کرپٹ کر دیتا ہے جو فطرتاً کرپٹ نہ ہو۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’حیران کُن بات ہے کہ کیسے پوسٹل ووٹوں کی بڑی تعداد یکطرفہ ہے۔‘

    یاد رہے کہ ڈیموکریٹس میں پوسٹل ووٹ استعمال کرنے کا رجحان زیادہ ہے، درحقیقت 75 فیصد کے قریب ووٹ جو بائیڈن کے حق میں ڈالے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں صدر ٹرمپ نے اپنی مہم میں اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ ڈاک کے ذریعے ووٹ نہ ڈالیں۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ پورا مرحلہ نہایت غیر منصفانہ ہونے کی وجہ سے بہت سی قانونی چارہ جوئی‘ کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ ان کی انتخابی ٹیم نے کئی بیٹل گراؤنڈ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی رکوانے کے لیے قانونی درخواستیں دائر کی ہیں۔

    پریس بریفنگ میں انھوں نے رپبلیکن مبصرین کو ووٹوں کی گنتی کے مرحلے سے دور رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔

    انھوں نے کہا کہ رپبلیکن پارٹی امریکی ملازمت پیشہ لوگوں کی پارٹی بن کر ابھری ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی پر بڑی ٹیکنالوجی اور میڈیا کمپنیوں کی حمایت یافتہ ہونے کا الزام عائد کیا۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں 1960 کے بعد سے کسی بھی صدر کے مقابلے میں زیادہ لاطینی، افریقی امریکی، ایشیائی امریکی اور قبائلی امریکیوں کے ووٹ ملے ہیں۔

    انھوں نے اختتامیے میں کہا کہ وہ اور بائیڈن دونوں ہی ریاستیں جیتنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں ’مگر مجھے لگتا ہے کہ حتمی طور پر ججوں کو فیصلہ کرنا ہوگا۔‘

    بریفنگ کے بعد وہ سوالوں کے جواب دیے بغیر کمرے سے باہر چلے گئے۔

  5. پینسلوینیا کو مقابلہ سخت ہونے کی وجہ سے وقت درکار

    پینسلوینیا کی سیکریٹری آف سٹیٹ کیتھی بوکوار نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ووٹوں کی بھاری اکثریت جمعے تک شمار کر لی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دیر سے آنے والے ووٹوں کی تعداد توقع سے ’خاصی کم‘ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں پینسلوینیا میں ووٹر فراڈ کے حوالے سے کسی بھی تازہ ترین الزام کا علم نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے پینسلوینیا میں ایک اور مقدمہ دائر کیا ہے جس کے مطابق رپبلیکن نمائندوں کو ووٹوں کی گنتی کے مرحلے تک رسائی نہیں دی جا رہی۔

    پینسلوینیا امریکی صدارتی انتخاب کے حوالے سے نہایت اہم ریاست ہے اور یہاں پر صدر ٹرمپ کو برتری حاصل ہے۔

    مقامی وقت کے مطابق دوپہر تک یہاں صدر ٹرمپ کو ایک لاکھ 32 ہزار 611 ووٹوں کی اکثریت حاصل تھی مگر شام ساڑھے پانچ بجے تک یہ برتری سمٹ کر 90 ہزار 542 تک رہ گئی تھی۔

    اس کا مطلب ہے کہ بائیڈن نے ٹرمپ کے مارجن کو چھ گھنٹے سے بھی کم وقت میں 40 ہزار ووٹوں کی زک پہنچائی ہے۔

  6. وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے لیے کس امیدوار کو کیا چاہیے؟

    مندرجہ ذیل گرافک میں اُن ریاستوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی ضرورت دونوں امیدواروں کو 270 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہے۔

    جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں وسکونسن میں جو بائیڈن کی جیت نے ان کا راستہ آسان کر دیا ہے۔ اب انھیں جیتنے کے لیے صرف پینسلوینیا یا پھر دو دیگر ریاستوں کی ضرورت ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اگر مزید چار سال صدر رہنا چاہتے ہیں تو انھیں پینسلوینیا میں ضرور جیتنا ہوگا اور اس کے ساتھ تین دیگر ریاستوں میں بھی فتح حاصل کرنی ہوگی۔

    اس گرافک میں ایک اور امکان کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے اور وہ ہے مقابلہ برابر ہوجانا۔

    اگر بائیڈن صرف جارجیا جیتتے ہیں اور ٹرمپ دیگر ریاستیں جیتتے ہیں تو مقابلہ برابر ہوجائے گا۔ لیکن یہ امکان اتنا مضبوط نہیں ہے۔

  7. ٹرمپ کی ٹیم نے کیا کیا قانونی دعوے دائر کیے ہیں؟

    مشیگن

    چار نومبر کو ٹرمپ کی انتخابی ٹیم نے ووٹوں کی گنتی رکوانے کی درخواست دائر کی جب مقامی انتخابی حکام 96 فیصد ووٹوں کی گنتی پہلے ہی غیر سرکاری طور پر کر چکے تھے۔

    ٹرمپ کا کیمپ چاہتا ہے کہ غیر حاضری میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے ہر بوتھ پر ایک انسپکٹر لگایا جائے اور تمام گنے جا چکے بیلٹس کا جائزہ لیا جائے۔

    یہ قانونی درخواست ایک ریاستی جج نے مسترد کر دی ہے۔ ان کے مطابق ٹیم نے درخواست میں درست حکام کو فریق نہیں بنایا ہے۔

    پینسلوینیا

    یہاں پر چیلنج ریاست کے اس فیصلے کو کیا ہے کہ وہ ووٹ بھی گنے جائیں گے جو انتخابی دن تک بھی ڈاک کے حوالے کیے گئے مگر تین دن بعد تک حکام تک پہنچے۔

    ٹرمپ کی انتخابی ٹیم اور رپبلیکنز اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ رپبلیکنز نے انتخابی حکام کے خلاف مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر پوسٹل ووٹ وقت سے پہلے گننے اور ووٹرز کو اپنا ووٹ مسترد ہونے پر دوبارہ ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

    جارجیا

    ریاستی رپبلیکنز اور ٹرمپ کی انتخابی ٹیم نے چیٹھم کاؤنٹی میں ووٹوں کی گنتی رکوانے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ غیر حاضری میں ڈالے گئے ووٹ صحیح طریقے سے نہیں گنے جا رہے۔

    آج یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے۔

    وسکونسن

    صدر کی انتخابی ٹیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے وسکونسن میں منگل کو ’نظر آنے والے غیر معمولی‘ حالات کی وجہ سے دوبارہ گنتی کی درخواست کی ہے، مگر یاد رہے کہ یہ قانونی چیلنج نہیں ہے۔

    ریاستی قانون کے تحت ٹرمپ کے پاس ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کا حق ہے اگر دونوں امیدواروں کے درمیان مارجن ایک فیصد سے کم ہو۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ یہ دوبارہ گنتی کب ہوگی تاہم عام طور پر یہ تب تک نہیں ہوتا جب تک کاؤنٹی حکام ووٹوں کا جائزہ لینے کا کام مکمل نہیں کر لیتے۔

    یہ کام کرنے کی ریاستی ڈیڈلائن 17 نومبر کی ہے۔

    ماہرین کے مطابق زیادہ تبدیلی کا امکان کم ہی ہے کیونکہ دوبارہ گنتی عموماً صرف چند سو ووٹوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

  8. مشیگن: جج نے گنتی روکنے کی ٹرمپ کی درخواست مسترد کر دی

    ریاست مشیگن کے ایک جج نے صدر ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کی جانب سے ریاست میں پوسٹل ووٹوں کی گنتی روکنے کی قانونی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    ریاست کی فرسٹ ڈسٹرکٹ اپیلز کورٹ کی جج سنتھیا سٹیفنز نے کہا کہ ٹیم کی جانب سے یہ درخواست بہت دیر سے دائر کی گئی جب گنتی پوری ہونے میں کچھ ہی گھنٹے رہ گئے تھے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قانونی درخواست غلط فرد (ریاستی سیکریٹری) کے خلاف دائر کی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ریاستی سیکریٹری کا گنتی کے مقامی مرحلے پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔

    صدر کی انتخابی ٹیم کا دعویٰ تھا کہ گنتی کو تب تک کے لیے روکا جانا چاہیے جب تک کہ مزید رپبلیکن انتخابی مبصر گنتی کے مرحلے کا مشاہدہ نہیں کرتے۔

  9. وسکونسن کی ریاست ایک بار پھر نیلی ہو گئی

    امریکی انتخابات کے متوقع نتائج کے مطابق یہ نقشہ اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے، جس میں اس بات کی عکاسی کی گئی ہے کہ وسکونسن ریاست سے بائیڈن کی جیت متوقع ہے۔

    اب اس سے اس وقت صدر ٹرمپ کے 213 الیکٹورل کالج ووٹوں کے مقابلے میں بائیڈن کے ووٹوں کی تعداد 253 بنتی ہے۔

    بائیڈن کو امریکی صدر بننے کے لیے کل 270 ووٹ حاصل کرنے ہوں گے۔

    اس وقت اریزونا، جارجیا، نیواڈا اور پینسلوینیا میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

  10. بریکنگ, وسکونسن میں بائیڈن کی جیت متوقع

    ڈیموکریٹ پارٹی کے جو بائیڈن کی وسکونسن ریاست سے فتح متوقع ہے۔ اس جیت سے امریکہ کے سابق نائب صدر کو دس الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہو جائیں گے جس سے ان کی صدر ٹرمپ پر سبقت مزید بڑھ جائے گی۔

  11. ووٹوں کی گنتی میں دیر کیوں لگ رہی ہے؟

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کے بعد اب بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ بینسلوینیا ان ریاستوں میں سے ہے جہاں اب بھی ووٹ کنے جا رہے ہیں۔ اس ریاست کے شہر فیلاڈیلفیا سے دیکھیے ہماری یہ رپورٹ۔۔۔

  12. انڈین نجومی جس نے ٹرمپ کی فتح کی پیشگوئی کی, شروتی مینن، بی بی سی، دلی

    انڈیا میں ایک کاروباری شخص نے علم نجوم سے متعلق ایک ایسی پوسٹ شیئر کی ہے جس میں امریکی الیکشن میں جو بائیڈن کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    مہندرا گروپ کے چیئرمین اینند مہندرا نے ایک ٹویٹ میں ایک نجومی کا دعویٰ شیئر کیا جس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ مقابلہ کڑا ہوگا لیکن اختتام میں ٹرمپ کی فتح ہوسکتی۔

    اس ٹویٹ کو تقریباً سات ہزار افراد لائیک کرچکے ہیں اور سینکڑوں ری ٹویٹ کیے گئے ہیں۔ مہندرا کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو یہ نجومی کافی مشہور ہوجائے گا۔

    نجومی کے مطابق اس نے یہ پیشگوئی ٹرمپ کی پیدائش کی علامات اور سورج کی موجودہ حالت کے پس منظر میں کی ہے۔ مہندرا نے یہ نہیں بتایا کہ یہ نجومی کون ہے لیکن اس پر سوشل میڈیا پر طرح طرح کے ردعمل سامنے آئے ہیں۔

    انڈیا میں کسی نجومی کی رائے کو کافی اہم سمجھا جاتا ہے اور کئی بڑے سیاستدان اور فلمی دنیا کے ستارے ان سے رائے لیتے ہیں۔

  13. ٹرمپ کی جماعت چار ریاستوں میں ووٹنگ کے عمل پر سوال اٹھا رہی ہے

    نیواڈا میں رپبلکن پارٹی نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایک مقدمہ دائر کرنے جا رہے ہیں جس میں نیواڈا میں ووٹنگ کے عمل پر سوال اٹھایا جائے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ 10 ہزار ایسے لوگوں نے نیواڈا میں ووٹ ڈالے جو اب اس ریاست میں نہیں رہتے۔

    نیواڈا ان چند ریاستوں میں سے ہے جہاں ڈاک کے ذریعے بڑے پیمانے پر ووٹ درج کرائے گئے۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی طریقے کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے دھاندلی ہوسکتی ہے۔

    ٹرمپ اپنے ایک ٹویٹ میں بھی کہتے ہیں کہ ’ووٹوں کی گنتی روک دو!‘

    ٹرمپ نے بارہا یہ دعویٰ کیا ہے لیکن وسیع پیمانے پر کوئی شواہد جمع نہیں کرائے جس سے امریکی الیکشن میں بے ضابطگی کے الزام کو ثابت کیا جاسکے۔

    یہ چوتھی ایسی ریاست ہے جہاں رپبلکن جماعت ووٹوں کی اندراج اور گنتی سے متعلق بے ضابطگی کا دعویٰ دائر کرنے جا رہی ہے۔ ان میں پنسلوینیا، جورجیا اور مشیگن بھی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ جماعت نے وسکونسن میں دوبارہ گنتی کی درخواست کی ہے۔

  14. امریکی ریاست جہاں ایوان نمائندگان میں صرف غیر سفید فام خواتین منتخب ہوئیں

    امریکہ میں نیو میکسیکو وہ ریاست بن گئی ہے جہاں ایوان نمائندگان میں صرف غیر سفید فام خواتین منتخب ہوئی ہیں۔

    ان میں ڈیموکریٹ ڈیب ہالینڈ شامل ہیں جو 2018 میں امریکی کانگریس میں منتخب ہونے والی پہلی امریکی آبائی خاتون بنی تھیں۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں سب کا شکریہ ادا کیا۔

    دوسرا نام ایویٹ ہیرل کا ہے جن کا تعلق رپبلکن پارٹی سے ہے۔ وہ بھی امریکہ کی آبائی شہری ہیں۔

    اور تیسرا نام ڈیموکریٹ امیدوار ٹریزا فرنینڈز ہے جو ہسپانوی نسل سے تعلق رکھتی ہیں۔

  15. امریکی صدارتی انتخاب میں ریکارڈ ٹرن آوٹ

    امریکی صدارتی انتخاب میں کڑے مقابلے والی ریاستوں میں ووٹنگ کی گنتی جاری ہے۔ یہی ووٹ فیصلہ کریں گے کہ اگلا صدر کون بنے گا۔

    اب تک بائیڈن کے پاس 243 الیکٹورل کالج کے ووٹ ہیں جبکہ ٹرمپ 214 پر ہیں۔ صدر بننے کے لیے 270 الیکٹورک کالج کے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

    ہمیں تاحال نئے صدر کا تو نہیں پتا نہیں رواں سال دائر کیے جانے والے ووٹوں نے بعض چیزیں واضح کر دی ہیں۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق سنہ 1900 کے بعد سے یہ سب سے بڑا ٹرن آؤٹ ہے۔ یعنی اس بار گذشتہ ایک صدی کے مقابلے کل آبادی میں سے اہلیت رکھنے والے سب سے زیادہ افراد نے ووٹ ڈالے۔ سنہ 2016 میں ٹرن آؤن 60.1 فیصد تھا جبکہ اس بار 66.9 فیصد ہے۔

  16. ووٹنگ کے بعد مظاہرے، لوگوں میں وائرس کی تشخیص

    امریکہ میں ووٹنگ کا مرحلہ تو گذشتہ روز ہی ختم ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد بدھ اور جمعرات کو بعض امریکی شہروں میں مظاہرے دیکھے گئے۔

    بعض مظاہرین چاہتے ہیں کہ ووٹوں کی گنتی جاری رہے جبکہ کچھ نے ووٹ گننے کا عمل روکنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

    تاہم ان میں سے اکثر مظاہر پُرامن ہیں اور چھوٹے پیمانے پر کیے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیو یارک کے ایک پولنگ سٹیشن میں کام کرنے والے کم از کم 10 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    کئی لوگوں کو اس کی بدولت خود ساختہ تنہائی میں بھیجا گیا۔

    نیوز چینل سی بی ایس کے مطابق 18 ریاستوں میں کووڈ 19 کے مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا۔

  17. کانٹے دار مقابلے والی ریاستوں میں کیا ہو رہا ہے؟, بائیڈن کو ٹرمپ پر برتری حاصل

    اب امریکہ میں صدر منتخب کرنے کے لیے چند ہی ریاستیں رہ گئی ہیں جہاں ووٹ گنے جا رہے ہیں۔

    اس وقت ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن 43 ریاستوں میں 243 الیکٹورل کالج (ای سی) ووٹوں کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سبقت لے کر آگے ہیں جنھیں اب تک 214 ای سی ووٹ ملے ہیں۔

    اس وقت جن اہم ریاستوں میں فیصلہ آنا باقی ہے ان میں ایریزونا، جارجیا، نیواڈا، پینسیلوینیا، شمالی کیرولینا اور وسکانسن شامل ہیں۔

    دونوں امیدواروں کے لیے جیت حاصل کرنے کے لیے مختلف راستے ہیں۔

    دوبارہ جیت کے منتظر صدر ٹرمپ اگر وسکانسن (10 ای سی) میں شکست کھا گئے تو انھیں جارجیا (16 ای سی)، شمالی کیرولینا (15 ای سی)، پینسیلوینیا (20 ای سی) میں لازمی طور پر اور ایریزونا (11 ای سی) اور نیواڈا (چھ ای سی) میں سے کوئی ایک ریاست جیتنی ہوگی۔

    جو بائیڈن کی صورتحال بہتر ہے اور وہ ایریزونا، جارجیا اور نیواڈا میں جیت حاصل کر کے صدر بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چند خبر رساں اداروں نے وسکانسن اور ایریزونا میں جو بائیڈن کو جیت دے دی ہے لیکن بی بی سی اور ہمارے شراکت دار اداروں نے ابھی اور انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بالفرض کے جو بائیڈن وسکانسن میں جیت جائیں تو انھیں صرف ایریزونا اور نیواڈا میں جیت چاہیے ہوگی اور وہ اس وقت دونوں ریاستوں میں بہت کم فرق سے آگے ہیں۔

    جورجیا میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ آخری ووٹ تک گنتی جاری رکھیں گے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق یہاں ٹرمپ کی برتری کم ہو رہی ہے اور فی الحال یہ 24 ہزار ووٹوں سے کم ہوگئی ہے۔

    نیواڈا میں کڑا مقابلہ دیکھا جا رہا ہے اور بائیڈن کو آٹھ ہزار سے کم ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق صبح کے اوقات میں تنائج دیے جائیں گے۔ ابھی اس میں کچھ گھنٹے باقی ہیں۔

    پنسلوینیا میں ٹرمپ کی بڑی برتری کم ہو رہی ہے۔ 90 فیصد ووٹ گنے جاچکے ہیں اور بدھ کے ابتدا میں ٹرمپ ایک لاکھ 64 ہزار ووٹوں کی برتری کے ساتھ آگے تھے۔

    ایریزونا میں بائیڈن کو ٹرمپ پر 80 ہزار ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔ جمعرات کو مزید نتائج متوقع ہیں۔

    شمالی کیرولائنا میں اکثر ووٹ گنے جاچکے ہیں اور ان کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کو یہاں 77 ہزار کی برتری حاصل ہے۔

    وسکونسن میں روئٹرز کے مطابق بائیڈن کو 20 ہزار سے زیادہ ووٹوں کی برتری حاصل ہے لیکن ان کی جیت کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔ بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق بائیڈن یہاں فتح حاصل کرچکے ہیں۔

  18. جو بائیڈن کی ایریزونا ریاست میں برتری گھٹ گئی

    ریاست ایریزونا سے آنے والے ووٹنگ کے اعداد و شمار کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی برتری میں کمی نظر آ رہی ہے۔

    میریکوپا کاؤنٹی ایریزونا کی سب سے زیادہ آبادی والی کاؤنٹی ہے اور انھوں نے جمعرات کی صبح مزید 140000 ووٹوں کے نتائج کا اعلان کیا۔

    ان کے مطابق جو بائیڈن کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری میں 11 ہزار ووٹوں کی کمی آئی ہے تاہم ابھی بھی ریاست میں مجموعی طور پر انھیں صدر پر 68000 ووٹوں کی سبقت حاصل ہے۔

    لیکن اس ریاست میں جیت حاصل کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کو ایریزونا کے دیگر علاقوں میں بھی ویسی ہی کامیابی درکار ہوگی جیسی انھوں نے میریکوپا کاؤنٹی میں حاصل کی ہے۔

    بی بی سی کے تجزیے کے مطابق ایریزونا ریاست میں ابھی کسی بھی امیدوار کو کامیاب قرار دینا قبل از وقت ہوگا تاہم چند خبر رساں ادارے جیسے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے ایریزونا کو جو بائیڈن کے حق میں قرار دے دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس ریاست میں 11 الیکٹورل کالج ووٹ ہیں۔

  19. ٹرمپ کے 19 فیصد حامیوں نے ’دوستوں اور خاندان والوں سے جھوٹ بولا‘

    رپبلکن پارٹی سے جڑے ایک انتخابی ماہر فرینک لنٹس کا کہنا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کے دوران رائے شماری کے بعض جائزے غلط ثابت ہوئے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ٹرمپ کے 19 فیصد حامی ’اپنے خاندان اور دوستوں سے جھوٹ بول رہے تھے‘ جبکہ بائیڈن کے صرف 9 فیصد حامی ایسا کر رہے تھے۔ ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ ایسے لوگ سرعام تسلیم نہیں کرتے کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دیں گے۔

    ملکی سطح پر رائے شماری سے عام طور پر نتائج کی پیشگوئی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو پیشگوئی کی جائے گی، انتخاب میں وہی ہوگا۔

    ایسے تمام اندازوں کو شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔

  20. امریکہ میں ووٹوں کی گنتی جاری لیکن سڑکوں پر مظاہرے

    امریکہ میں ہونے والے انتخاب کے اگلے روز ملک میں صورتحال کشیدہ نظر آ رہی ہے۔ دونوں امیدواروں کے حامی مظاہرے کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف ووٹوں کی گنتی روکنے کا مطالبہ ہے تو دوسری جانب گنتی جاری رکھنے کا۔ مزید تفصیلات ہمارے ساتھی فاران رفیع کی اس ویڈیو میں۔۔۔