امریکی صدارتی انتخاب میں کچھ ریاستوں میں ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان مقابلہ سخت ہوگیا ہے۔ اس دوڑ کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کیونکہ مکمل متوقع نتائج جاری نہیں کیے گئے۔
ابھی کے متوقع نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا، اوہائیو اور ٹیکساس میں فتح حاصل کر سکتے ہیں لیکن انھیں دوبارہ صدر بننے کے لیے کچھ مزید ریاستوں میں جیت درکار ہو گی۔ اسی طرح بائیڈن کو بھی جیت کے لیے کڑے مقابلے والی ریاستوں میں فتح حاصل کرنی ہوگی۔
ان ریاستوں کی فہرست درج ذیل ہے:
ایریزونا: روایتی طور پر یہاں رپبلکن امیدوار کامیاب ہوتا ہے لیکن رواں سال اب تک 83 فیصد متوقع نتائج میں بائیڈن آگے ہیں لیکن 17 فیصد ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے۔
جورجیا: یہ ریاست بھی رپبلکن پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت تک ٹرمپ یہاں آگے ہیں لیکن اٹلانٹا میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
نواڈا: بائیڈن کو یہاں امید سے زیادہ کڑے مقابلے کا سامنا ہے۔ اس وقت انھیں بہت کم ووٹوں سے برتری حاصل ہے۔
وسکونسن: یہاں کئی دہائیوں سے ڈیموکریٹک پارٹی کو حمایت حاصل رہی ہے لیکن سنہ 2016 میں یہاں ٹرمپ جیت گئے تھے۔ بائیڈن کو وسکونسن میں بہت کم ووٹوں کی سبقت حاصل ہے۔
مشیگن: یہاں کئی ووٹوں کی گنتی جاری ہے لیکن اس کے شہری علاقوں میں روایتی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کو حمایت حاصل رہتی ہے۔
پنسلوینیا: یہاں بھی کڑا مقابلہ متوقع ہے لیکن اب تک ٹرمپ کو برتری حاصل ہے۔ پنسلوینیا میں ڈاک کے ذریعے درج کیے گئے ووٹوں کی گنتی ابھی ہونا باقی ہے جبکہ رپبلکن پارٹی کی جانب سے یہاں ان ووٹوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔