آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کا ’دھاندلی‘ کا الزام

    امریکی انتخاب میں اب بھی لاکھوں جائز ووٹوں کی گنتی باقی ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر تعاون یافتہ فتح کا اعلان کر دیا ہے۔

    انتخاب میں دھاندلی کے الزام لگاتے ہوئی انھوں نے کہا کہ یہ ’قوم کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ‘ ہوا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ انتخابی نتائج سپریم کورٹ تک لے کر جائیں گے۔

  2. ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی حالیہ ٹویٹس چھپا دیں

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کچھ حالیہ ٹویٹس کو چھپا دیا ہے۔

    ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انھوں نے لکھا تھا کہ ڈیموکریٹس کے زیرانتظام ریاستوں میں ان کی برتری ’جادوئی طور پر غائب کی جا رہی ہے‘ اور خدشہ ظاہر کیا کہ کلیدی ریاستوں میں پانچ لاکھ ووٹوں کو خطرہ ہے۔

    تاہم ان کی پیغامات کو ٹوئٹر نے چھپا کر ان پر انتباہ درج کی ہے کہ ان میں موجود مواد متنازع ہے اور گمراہ کن بھی ہوسکتا ہے۔

    فیس بک نے بھی ٹرمپ کی پروفائل پر فیکٹ چیک لگائے ہیں اور یہ وضاحت کی ہے حتمی نتائج مرتب کرنے میں وقت لگ سکتا ہے اور یہ معمول کی بات ہے۔

  3. نیواڈا میں ’جمعرات کی صبح تک مزید نتائج نہیں دیے جائیں گے‘, بائیڈن کو اس وقت ریاست میں ٹرمپ پر آٹھ ہزار ووٹوں کی برتری حاصل

    نیواڈا کے سیکریٹری آف سٹیٹ نے اب سے کچھ دیر قبل اعلان کیا ہے کہ ریاست میں جمعرات کی صبح تک مزید نتائج نہیں دیے جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے لیا گیا ہے تاکہ کاؤنٹیز پر دباؤ میں کمی لائی جا سکے اور وہ سکون سے ووٹوں کی گنتی کر سکیں۔

    شمالی نیواڈا میں واشو کاؤنٹی کی جانب سے ووٹنگ کی گنتی کی لائیو سٹریمنگ کی جا رہی ہے، تاکہ شہریوں کو اس بات کا علم ہو سکے کہ گنتی کیسے کی جاتی ہے۔

    بائیڈن کو اس وقت ریاست میں ٹرمپ پر آٹھ ہزار ووٹوں کی برتری حاصل ہے اور اب تک 85 فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں۔

    رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کے مشیر جیسن ملر کا کہنا تھا کہ نیواڈا ایک ایسی ریاست ہے جہاں ’بدعنوانی کی بہتات ہے‘، تاہم انھوں نے اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے ڈیموکریٹ کی برتری والی ریاست نیواڈا کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے جس نے تمام اندراج شدہ ووٹرز کو ڈاک کے ذریعے ووٹ کی پرچیاں بھیجی تھیں۔

  4. اوریگن میں ووٹرز نے بھاری منشیات رکھنے کے حق میں فیصلہ کردیا

    اوریگن امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں کوکین اور ہیروئن جیسے بھاری منشیات رکھنا اب غیر قانونی نہیں۔ اور ایسا کرنے پر اب لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوسکے گی۔

    اگر کوئی کم مقدار میں یہ منشیات رکھنے پر پکڑا جاتا ہے تو اسے 100 ڈالر جرمانہ دینا ہوگا یا کسی صحت کے مرکز پر چیک اپ کرانا ہوگا۔

    لوگوں کی جانب سے ووٹنگ میں طبی و تفریحی مقاصد کے لیے بعض منشیات کے استعمال کے حق میں فیصلہ دیا گیا ہے۔

    پالیسی میں تبدیلی کے باوجود منشیات بنانے والے یا تقسیم کرنے والوں کو اب بھی سزا ہوسکتی ہے۔ زیادہ مقدار میں منشیات رکھنے پر اب بھی قانونی کارروائی ہوسکے گی۔

    ایریزونا، نیو جرسی، مونٹانا اور جنوبی ڈکوٹا میں ووٹرز نے بھنگ کے استعمال کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

  5. ’مشیگن میں ایک لاکھ ووٹوں کی گنتی باقی‘

    مشیگن کی سٹیٹ سیکریٹری جوسلن بنسن ریاست میں ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے اپ ڈیٹ دی ہے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آج کی تاریخ میں نتائج دے دیے جائیں گے۔ ’مشیگن میں کل نہیں تو غیر سرکاری سطح پر نتائج جاری کر دیے جائیں گے۔‘

    مشیگن سیکریٹری آف سٹیٹس جوسلین بینسن نے ریاست میں ووٹوں کی گنتی سے متعلق مطلع کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہ دن کے آخر پر خاصی پرامید ہیں‘، اور مشیگن دن کے آخر تک اگر مکمل اور غیر سرکاری نہیں تو مکمل نتیجہ دینے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق ابھی ’مزید ایک لاکھ ووٹوں کی گنتی‘ ہونا باقی ہے۔

    وین کاؤنٹی جو مشیگن کی سب سے آبادی والی کاؤنٹی ہے اور یہاں ٹرمپ کے ایک ووٹ کے مقابلے میں بائیڈن کے دو ووٹ سامنے آ رہے ہیں اور بائیڈن کی ٹرمپ پر 32 ہزار ووٹوں کی برتری ہے۔

    جسے بھی اس بات کی تصدیق کرنی ہے کہ کہ ان کے ووٹ کی گنتی کی گئی ہے یا نہیں وہ ریاست کی الیکشن ویب سائٹ پر جا کر اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔ بینسن کا کہنا ہے کہ انھوں نے نیوز بریفنگ سے قبل اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کے ووٹ کی گنتی کی جا چکی ہے۔

  6. مجموعی ووٹوں کے اعتبار سے صدر ٹرمپ پر جو بائیڈن کو 25 لاکھ ووٹوں کی برتری حاصل

    جہاں ہم ابھی کڑے مقابلے والی ریاستوں کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں وہیں اگر ہم ملک بھر میں حلقہ بندی کے بغیر مجموعی ووٹوں کی تعداد دیکھیں تو بائیڈن کو برتری حاصل ہے۔

    اس وقت صدر ٹرمپ پر جو بائیڈن کو 25 لاکھ ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ مجموعی طور پر مجموعی وٹووں کا 50 فیصد بائیڈن اور 48 فیصد ٹرمپ کو ملا ہے۔

    ظاہر ہے کے ان اعداد و شمار کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ بائیڈن کی جیت ہوئی ہے یا نہیں۔ سنہ 2016 میں جب ہلری کلنٹن کو ٹرمپ سے 30 لاکھ زیادہ ووٹ ملے تھے لیکن پھر بھی انھیں ایلیکٹورل کالج میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

  7. بقیہ ریاستوں میں نتائج کب متوقع ہیں؟

  8. ’ٹرمپ وسکانسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کریں گے‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینیجر بل سٹیپئن کا کہنا ہے کہ ریاست وسکانسن میں نتائج اس قدر کم فرق سے سامنے آ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ دوبارہ گنتی کا مطالبہ کریں گے۔

  9. امریکی ریاست مین کے چار میں سے تین الیکٹورل کالج ووٹ جو بائیڈن کے نام

    امریکی ریاست مین کے چار میں سے تین الیکٹورل کالج ووٹ جو بائئڈن کے نام رہے۔

    مین الیکٹورل کالج کے تمام ووٹ اکثریتی امیدوار کو ملنے کے بجائے ووٹوں کے تناسب سے دونوں تمام امیدواروں میں بانٹ دیے جاتے ہیں۔

  10. صدارتی انتخاب میں کانیے ویسٹ کی کارکردگی کیسی رہی؟

    اب یہ یاد رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے علاوہ بھی کئی امیدوار امریکی الیکشن میں حصہ لے رہا تھا۔

    ان میں سے ایک نام گلوکار کانیے ویسٹ کا ہے جن کے لیے صدارتی دوڑ ان کے موسیقی کے کیریئر جتنی کامیاب نہیں رہی۔

    ایسا لگ رہا ہے کہ ویسٹ نے اپنی ہار قبول کر لی ہے اور سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے ’کرنیے 2024‘۔ یعنی وہ اگلے صدارتی انتخاب میں دوبارہ حصہ لینے کے خواہشمند ہیں۔

    انھوں نے اپنی مہم جولائی میں شروع کی لیکن کئی امریکی ریاستوں میں ان کا نام بیلٹ پیپر پر شامل نہیں کیا گیا۔ لیکن کچھ جگہوں پر لوگوں نے ان کا نام لکھ کر انھیں ووٹ دیا۔

    بعض اندازوں کے مطابق انھیں 12 ریاستوں میں 60 ہزار ووٹ ملے۔ انھوں نے منگل کو کہا کہ پہلی بار انھوں نے ایسے شخص کو ووٹ دیا جس پر وہ اعتماد کرتے ہیں۔

  11. پنسلوینیا کے گورنر کا بیان: شاید آج بھی نتائج نہ آسکیں

    پنسلوینیا کے ڈیموکریٹ گورنر نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ آج بھی صدارتی انتخاب کے نتائج جاری نہ کیے جاسکیں۔

    ایک پریس کانرنس کے دوران، ان کا کہنا تھا کہ ’شاید آج بھی نتائج نہ جانے جاسکیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم درست نتائج حاصل کریں گے، چاہے اس میں معمول سے زیادہ وقت لگے۔‘

    ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس الیکشن میں جمہوریت کا امتحان ہے۔ یہ ان بنیادوں کا امتحان ہے جن پر یہ ملک قائم کیا گیا تھا۔ ہر فرد اور ہر ووٹ کا بنیادی اصول آج بھی اہمیت رکھتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’پنسلوینیا میں انتخاب باہری اثرات سے محفوظ رہے گا اور یہ الیکشن منصفانہ ہوگا۔‘

    اس ریاست میں ٹرمپ کو بائیڈن پر برتری حاصل ہے لیکن ڈاک کے ذریعے دائر کردہ ووٹ ڈیموکریٹ کے حق میں ہوسکتے ہیں۔

    گذشتہ انتخاب میں ٹرمپ نے اس ریاست میں 40 ہزار ووٹوں سے زیادہ سے فتح حاصل کی تھی۔

  12. امریکی صدارتی انتخاب: پاکستان میں کیا امیدیں رکھی جا رہی ہیں؟

    امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے حوالے سے پاکستان میں کیا امیدیں رکھی جا رہی ہیں؟

    اس بارے میں ہماری نامہ نگار سحر بلوچ نے لندن میں ہماری ساتھی ثمرہ فاطمہ سے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین کے دوران گفتگو کی۔۔۔

  13. امریکہ کی وہ ریاستیں جہاں نتائج فیصلہ کن ہو سکتے ہیں

    امریکی صدارتی انتخاب میں کچھ ریاستوں میں ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان مقابلہ سخت ہوگیا ہے۔ اس دوڑ کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کیونکہ مکمل متوقع نتائج جاری نہیں کیے گئے۔

    ابھی کے متوقع نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا، اوہائیو اور ٹیکساس میں فتح حاصل کر سکتے ہیں لیکن انھیں دوبارہ صدر بننے کے لیے کچھ مزید ریاستوں میں جیت درکار ہو گی۔ اسی طرح بائیڈن کو بھی جیت کے لیے کڑے مقابلے والی ریاستوں میں فتح حاصل کرنی ہوگی۔ ان ریاستوں کی فہرست درج ذیل ہے:

    ایریزونا: روایتی طور پر یہاں رپبلکن امیدوار کامیاب ہوتا ہے لیکن رواں سال اب تک 83 فیصد متوقع نتائج میں بائیڈن آگے ہیں لیکن 17 فیصد ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے۔

    جورجیا: یہ ریاست بھی رپبلکن پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت تک ٹرمپ یہاں آگے ہیں لیکن اٹلانٹا میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

    نواڈا: بائیڈن کو یہاں امید سے زیادہ کڑے مقابلے کا سامنا ہے۔ اس وقت انھیں بہت کم ووٹوں سے برتری حاصل ہے۔

    وسکونسن: یہاں کئی دہائیوں سے ڈیموکریٹک پارٹی کو حمایت حاصل رہی ہے لیکن سنہ 2016 میں یہاں ٹرمپ جیت گئے تھے۔ بائیڈن کو وسکونسن میں بہت کم ووٹوں کی سبقت حاصل ہے۔

    مشیگن: یہاں کئی ووٹوں کی گنتی جاری ہے لیکن اس کے شہری علاقوں میں روایتی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کو حمایت حاصل رہتی ہے۔

    پنسلوینیا: یہاں بھی کڑا مقابلہ متوقع ہے لیکن اب تک ٹرمپ کو برتری حاصل ہے۔ پنسلوینیا میں ڈاک کے ذریعے درج کیے گئے ووٹوں کی گنتی ابھی ہونا باقی ہے جبکہ رپبلکن پارٹی کی جانب سے یہاں ان ووٹوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

  14. رواں انتخاب میں ووٹر ٹرن آؤٹ ’120 برسوں میں سب سے زیادہ‘

    امریکی الیکشن پراجیکٹ کے ابتدائی اندازوں کے مطابق رواں سال صدارتی انتخاب میں 16 کروڑ امریکی شہریوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔

    ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1990 سے لے کر اب تک کا ٹرن آؤٹ سب سے زیادہ 66.9 فیصد ہے۔

    سنہ 1900 کے انتخاب میں رپبلکن امیدوار ویلیئم میکنلے نے اپنے ڈیموکریٹ حریف ویلیئم جیننگز کو 73.7 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ کے نتیجے میں شکست دی تھی لیکن حالیہ انتخاب کے برعکس 1990 کے نتائج کافی واضح تھے۔

  15. امریکی الیکشن کے نتائج چیلنج ہوئے تو کس کا کیا کردار ہوگا؟

  16. بائیڈن: ’جب تک تمام ووٹوں کی گنتی نہیں ہو جاتی، ہم آرام نہیں کریں گے‘

    امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ جب تک تمام ووٹوں کی گنتی نہیں ہو جاتی، وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

    بائیڈن کی انتخابی مہم کے اراکین نے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کے اس بیان پر تنقید کی ہے جس میں وہ انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ’ہمیں لگتا ہے کہ ہم جیت کی واضح راہ پر ہیں۔۔۔ یہ فیصلہ ابھی سے ظاہر ہو گیا ہے۔‘

    بائیڈن کی مہم کے مشیر بوب بویئر نے کہا ہے کہ ’امریکیوں کو ووٹوں کے نظام پر اعتماد ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے صدر ٹرمپ کے دعوؤں کو رد کیا اور کہا کہ ’ہم تمام ووٹوں کا دفاع کریں گے۔‘

    اس سے قبل بائیڈن نے اپنی جیت یقینی ہونے پر مکمل اعتماد ظاہر کیا تھا۔

  17. ٹرمپ: گذشتہ رات تک مجھے برتری حاصل تھی

    صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’گذشتہ رات تک مجھے کئی ریاستوں میں برتری حاصل تھی، یہ اکثر وہ ریاستیں ہیں جن میں ڈیموکریٹ حکومت ہے یا ان کے کنٹرول میں ہیں۔

    ’پھر ایک ایک کر کے یہ جادو سے غائب ہونا شروع ہوگئیں۔۔۔ یہ بہت عجیب بات ہے! رائے شماری کرنے والوں نے مکمل طور پر اور تاریخی اعتبار سے غلط پیشگوئی کی ہے۔‘

    ٹوئٹر کی جانب سے اس ٹویٹ پر تنبیہ جاری کی گئی ہے۔

    ٹرمپ نے ایک مزید ٹویٹ میں ڈاک کے ذریعے درج کیے گئے ووٹوں کی گنتی پر سوال اٹھایا۔ امریکی صدر نے الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھانے والے ایک ٹویٹ کو بھی ری ٹویٹ کیا ہے۔

  18. ٹرمپ کو مبارکباد دینے پر سلووینیا کے وزیراعظم کو ٹوئٹر کی تنبیہ

    ٹوئٹر نے سلووینیا کے وزیراعظم کی ایک پوسٹ پر تنبیہ جاری کی ہے جس میں انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے ذرائع ابلاغ پر ’حقائق سے انکار‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    ٹوئٹر نے ان کی پوسٹ کو یہ کہتے ہوئے تنبیہ جاری کی ہے کہ ’سرکاری ذرائع نے شاید اس وقت اس بارے میں کچھ نہیں کہا تھا، جب یہ ٹویٹ کی گئی۔‘

    سلووینیا کے وزیراعظم جینز جانسا مارچ میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ٹوئٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

  19. رائے شماری میں کہاں غلطی ہوئی؟

    امریکی صدارتی انتخاب میں 50 ریاستوں میں سے 41 کے متوقع نتائج جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی نو ریاستوں میں متوقع نتائج کا اعلان ابھی ہونا ہے۔

    تاہم ماہرین کی پیشگوئی اور رائے شماری کے برعکس صدر ٹرمپ نے انتخاب میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

    ریئل کلیئر پولیٹکس نامی تنظیم نے کہا تھا کہ بائیڈن کو فلوریڈا میں ٹرمپ پر سبقت حاصل ہوگی لیکن اب لگ رہا ہے کہ ٹرمپ یہاں موجودہ برتری سے جیت جائیں گے۔

    2016 کے انتخاب سے قبل رائے شماری میں بھی یہی نتائج آئے تھے۔ رواں الیکشن کی طرح اس بار بھی رائے شماری کرنے والے تنقید کی زد میں ہیں۔

    ٹرمپ کے سابق چیف آف سٹاف کے مطابق ٹیکساس جیسی ریاستوں میں ’رائے شماری مکمل طور پر غلط رہی ہے۔‘

    سیاسی تجزیہ کار ڈینس بیرن کے مطابق ٹرمپ کو ملنے والے ووٹ بڑے پیمانے پر کم سمجھے گئے۔ ’رائے شماری میں واضح طور پر کچھ چیزوں کو شامل نہیں کیا ج اسکا۔‘

  20. یورپی یونین کے چیف سفارتکار: ’ابھی کوئی بھی اپنی فتح کا دعویٰ نہیں کر سکتا‘, نٹالی ہیگنس، بی بی سی نیوز، برسلز

    یورپی رہنما صدارتی انتخاب کے بارے میں کوئی بھی بیان دینے میں خاصی احتیاط برت رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ’بہت جلد کہنے‘ کا نقطہ نظر دراصل صدر ٹرمپ کے فتح کے دعوے کو مکمل طور پر رد کرتا ہے۔

    یورپی یونین کے چیف سفارتکار جوزف بوریل نے اس حوالے سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسے سخت مقابلے میں ہر ووٹ کی گنتی کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی ابھی اپنی فتح کا دعویٰ نہیں کر سکتا کیونکہ ایسا کہنے کے لیے کوئی ڈیٹا موجود نہیں۔‘