آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
لائیو کوریج
’امریکہ مجھے منتخب کرنے پر میں مشکور ہوں‘: جو بائیڈن
امریکی صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے اپنی فتح پر ٹویٹ کرتے ہوئے امریکی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
جو بائیڈن نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’امریکہ میں مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے ہمارے عظیم وطن کی سربراہی کرنے کے لیے منتخب کیا، اس سے آگے کا کام مشکل ہو گا مگر میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمام امریکیوں کا صدر ہوں گا، چاہیے آپ نے مجھے ووٹ دیا یا نہیں، میں آپ کے اعتماد کا پاس رکھوں گا۔‘
کملا ہیرس امریکہ کی تاریخ کی پہلی خاتون نائب صدر منتخب
امریکہ کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ کوئی خاتون ملک کی نائب صدر منتخب ہوئی ہیں۔ یہ اعزاز ڈیموکریٹک جماعت کی کملا ہیرس کو ملا ہے۔
یاد رہے کہ اگست کے مہینے میں امریکہ میں ڈیموکریٹ جماعت کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے نائب صدر کے امیدوار کے لیے سینیٹر کملا ہیرس کا انتخاب کیا تھا۔
یہ پہلی مرتبہ تھا کہ کسی سیاہ فام خاتون کو بطور امیدوار اس عہدے کے لیے چنا گیا تھا۔
کملا اس سے قبل ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں جو بائیڈن کے مخالف تھیں۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کی والدہ انڈیا جبکہ والد جمیکا میں پیدا ہوئے تھے۔
کملا ہیرس کو ایک عرصے تک صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں ایک مقبول امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
وہ ریاست کیلی فورنیا کی سابق اٹارنی جنرل بھی رہ چکی ہیں اور وہ نسلی تعصب کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کے نظام میں اصلاحات کی بھی حامی رہی ہیں۔
کملا ہیرس شہر آکلینڈ میں دو تارکین وطن والدین کے ہاں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ انڈیا جبکہ والد جمیکا میں پیدا ہوئے تھے۔
والدین کی طلاق کے بعد کملا ہیریس کی پرورش بنیادی طور پر ان کی ہندو سنگل والدہ شیاملا گوپالن ہیریس نے کی جو کہ کینسر کے شعبے میں محقق اور شہری حقوق کی سرگرم کارکن تھیں۔
وہ اپنے انڈین ثقافتی پس منظر میں پلی بڑھیں اور اپنی والدہ کے ساتھ وہ انڈیا کے دورے پر آتی رہتی تھیں لیکن ان کی والدہ نے پوری طرح آکلینڈ کی سیاہ فام ثقافت کو اپنا لیا تھا اور انھوں نے اپنی دو بیٹویں کملا اور ان کی چھوٹی بہن مایا کو اسی تہذیب و ثقافت میں رچا بسا دیا تھا۔
ٹرمپ ایک ہی مدت کے بعد صدارت سے ہاتھ دھونے والے صدور کی فہرست میں شامل
امریکی صدارتی انتخاب کی تاریخ میں ویسے تو یہ دس مرتبہ ہو چکا ہے کہ کوئی صدر اپنے پہلی مدتِ صدارت کے بعد ہی ہار گئے لیکن حالیہ دور میں ایسا چوتھی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی امریکی صدر پہلی مدتِ صدارت کے بعد ہی ہار گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ مجموعی طور پر 11ویں اور حالیہ دور میں چوتھے ایسے صدر بن گئے ہیں۔
اس سے قبل ایسا 1992 میں ہوا تھا جب بل کلنٹن نے جارج ایچ ڈبلیو بش (سینیئر) کو پہلی مدتِ صدارت کے بعد شکست دی تھی۔
امریکی تاریخ میں کسی بھی امریکی صدارتی امیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے جو بائیڈن
جو بائیڈن امریکی تاریخ میں کسی بھی امریکی صدارتی امیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے شخص بن گئے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ امریکی انتخاب انتہائی غیر معمولی نوعیت کے تھے اور اس مرتبہ ووٹر ٹرن آؤٹ بھی انتہائی زیادہ رہا ہے۔ بائیڈن کو اب تک سات کروڑ سے زیادہ ووٹ حاصل ہو چکے ہیں اور وہ اس سے براک اوباما کے ریکارڈ چھ کروڑ 94 لاکھ ووٹروں کو پچھے چھوڑ چکے ہیں۔
1960 کے بعد پہلی مرتبہ کسی نے ریاست اوہایو جیتے بغیر امریکی صدارت میں کامیابی حاصل کی ہے
سنہ 1960 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں کسی امیدوار نے اوہایو میں کامیابی کے بغیر وائٹ ہاؤس تک رسائی حاصل کی ہے۔
اوہایو کو ایک انتہائی اہم ریاست سمجھا جاتا ہے، جو عام طور پر ایک رپبلکن ریاست تصور کی جاتی ہے۔ تاہم اس نے 1964 کے بعد سے اب تک جس بھی امیدوار کی حمایت کی ہے، وہی امریکہ کا صدر منتخب ہوا ہے۔
اس ریاست کے کل 18 الیکٹورل کالج ووٹ ہیں اور اس مرتبہ حالانکہ یہ صدر ٹرمپ کے حصے میں آئی ہے لیکن مجموعی طور پر جو بائیڈن فاتح ٹھہرے ہیں۔
بریکنگ, جو بائیڈن امریکہ کے 46ویں صدر منتخب
ڈیموکریٹس کے امیدوار جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔
بی بی سی نے ان کی جیت کی پیش گوئی کر دی ہے، بی بی سی کے مطابق انھوں نے صدارت کے لیے مقررہ 270 الیکٹورل کالج کا ہدف 273 الیکٹورل کالج ووٹس لے کر حاصل کر لیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ وہ جنوری میں امریکہ کے 46ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا پینسلوینیا میں ’اہم پریس کانفرنس‘ کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے سنیچر کو فلاڈیلفیا میں ’اہم پریس کانفرنس‘ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل ان کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ جسے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ پریس کانفرنس ان کے وکلا کریں گے۔
یہ پریس کانفرنس مقامی وقت کے مطابق دن ساڑھے گیارہ بجے ہوگی۔
تاہم پینسلوینیا سے مزید نتائج جلد متوقع ہیں، جو بائیڈن جو صدر بننے کے لیے صرف اس ریاست سے جیت اہم کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ یہاں سے کل الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 20 ہے۔ جن دو کاؤنٹیز میں گنتی ابھی جاری ہے ان میں ایلیگھینی کاؤنٹی جس میں شہر پٹزبرگ شامل ہے اور اس کے علاوہ فلاڈیلفیا بھی شامل ہیں۔ دونوں علاقوں میں ڈیموکریٹک جماعت کو خاصی حمایت حاصل ہے۔
اس وقت جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر 28833 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کی بدھ کی صبح چھ لاکھ ووٹوں کی برتری ختم کرتے ہوئے یہ برتری حاصل کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس پریس کانفرنس کا اعلان ایک سلسلہ وار ٹویٹس کے بعد کیا جس میں انھوں نے پینسلوینیا جیسی ریاستوں میں انتخاب میں دھاندلی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔
ٹوئٹر کی جانب سے ان کی اس سلسلے میں کی جانے والی ٹویٹس پر انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے مختلف کڑے مقابلے والی ریاستوں میں قانونی درخواستیں دائر کی ہیں جن میں سے چند ایک کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
پینسلوینیا کے اعلیٰ سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے نتائج میں ’زیادہ دیر نہیں‘
پینسلوینیا کے لفٹینینٹ گورنر جان فیٹرمین جو ایک ڈیموکریٹ ہیں نے سی این این سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم کو مشورہ دیا ہے کہ ’وہ کچے کیلے نہ خریدیں، یعنی زیادہ دور کی منصوبہ بندی نہ کریں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس کڑے مقابلے والی ریاست میں فیصلہ کن نتیجہ جلد سامنے آ سکتا ہے اور اگر ووٹوں کی بڑی تعداد جو بائیڈن کے حق میں ہوئی تو وہ صدر منتخب ہو سکتے ہیں۔
ہم سب ہی کئی گھنٹوں سے اس ریاست میں مزید نتائج کا انتظار کر رہے ہیں جس کے کل الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 20 ہے۔ جن دو کاؤنٹیز میں گنتی ابھی جاری ہے ان میں ایلیگھینی کاؤنٹی جس میں شہر پٹزبرگ شامل ہے اور اس کے علاوہ فلاڈیلفیا بھی شامل ہیں۔ دونوں علاقوں میں ڈیموکریٹک جماعت کو خاصی حمایت حاصل ہے۔
اس وقت جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر 28833 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کی بدھ کی صبح چھ لاکھ ووٹوں کی برتری ختم کرتے ہوئے یہ برتری حاصل کی ہے۔
یہاں ڈیموکریٹس کو اعشاریہ چار فیصد کی برتری حاصل ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ برتری مزید نتائج آنے کے بعد اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھ جائے گی۔
یہ وہ برتری ہے جس کے بعد دوبارہ گنتی کی شرط لازم نہیں ہوتی ہے۔ عمر صابر جو فلاڈیلفیا کہ کمشنر ہیں اور ایک ڈیموکریٹ بھی ہیں انھوں نے سی این این کو بتایا کہ ’صبر کریں، یہ کوئی مائیکرو ویو میں بننے والا کھانا نہیں ہے ۔۔۔ ان نتائج کے بعد کہیں جنگ بھی ہو سکتی ہے۔‘
پینسلوینیا میں ووٹوں کی گنتی میں سست روی کی وجہ یہ ہے کہ ریاست نے ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی الیکشن کے دن تک شروع نہیں کی تھی۔
عام حالات کے برعکس اس مرتبہ دس گنا زیادہ ڈاک کے ذریعے ووٹ کاسٹ کیے گئے جس کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹرمپ کا ٹوئٹر کے ذریعے بغیر ثبوت دیے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری
سنیچر کے روز جب امریکی صبح کے وقت اٹھیں گے تو انھیں معلوم ہو گا کہ ان کے موجودہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹوئٹر پر بغیر ثبوت دیے صدارتی انتخاب کے بارے میں الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بار ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ ’پینسلوینیا میں ووٹوں کی گنتی کے دوران فراڈ کیا جا رہا ہے۔‘
پینسلوینیا کی عدالتوں کی جانب سے یہ فیصلہ پہلے ہی سنایا جا چکا ہے کہ ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ایسے ووٹوں کی گنتی کی جا سکتی ہے جن پر تین نومبر یا اس سے پہلے کی ڈاک کی مہر لگائی گئی ہو۔
ٹوئٹر کی جانب سے ان کی اس ٹویٹ پر بھی انتباہ جاری کیا جا چکا ہے۔
امریکی ریاست نیواڈا میں کیا ہو رہا ہے؟
حالانکہ امریکی ریاست نیواڈا کے محض چھ الیکٹورل ووٹ ہیں لیکن اسے انتخابی نتائج میں خاصی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہاں اس وقت جو بائیڈن کو 22657 ووٹوں کی برتری حاصل ہے اور اب تک 91 فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں۔
ریاست کہ اکثر دیہی علاقے صدر ٹرمپ کے حامی دکھائی دے رہے ہیں لیکن بائیڈن کو زیادہ آبادی والی کاؤنٹیز میں برتری حاصل ہے۔ حالانکہ ان کی برتری ابھی اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن اس میں وقت کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
زیادہ تر ووٹ جن کی گنتی ابھی باقی ہے وہ کلارک کاؤنٹی کے ہیں اور یہاں لاس ویگاس میں ڈیموکریٹس کو خاصی مقبولیت حاصل ہے۔
اس وقت ریاست میں جذبات اپنے عروج پر ہیں۔ ٹرمپ کے حامیوں نے کلارک کاؤنٹی الیکشن سینٹر کے باہر جمعرات اور جمعے کی رات مظاہرے کیے تھے اور ان مظاہروں کو ’چوری کو روکو‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی تک ووٹر فراڈ کے الزام کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں دیے گئے۔
سنیچر کے روز نیواڈا میں مزید نتائج سامنے آنے کی توقع ہے اور یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک مکمل نتائج سامنے آ جائیں گے۔
نیواڈا میں ووٹوں کی گنتی میں سست روی پر متعدد میمز شیئر کی جا رہی ہیں اور بے چینی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس سال ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی کثیر تعداد کے باعث ووٹوں کی گنتی کی رفتار سے زیادہ یہ اہم ہے کہ حتمی نتیجہ مصدقہ ہو۔
امریکی صدارتی انتخاب اس بار اتنا منفرد کیوں ہیں؟
امریکہ میں اس سال ہونے والا صدارتی انتخاب تاریخ میں سب سے منفرد ہے۔۔۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے یہ ویڈیو دیکھیں۔
امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے لیے کب کب طویل انتظار کرنا پڑا؟
امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کا انتظار اب بھی کیا جا رہا ہے اور چاہے آپ جس بھی امیدوار کی فتح چاہتے ہوں یہ انتظار اب خاصا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن یہ اتنظار اتنا طویل نہیں ہے جتنا اس سے قبل دیکھنے میں آیا ہے۔ سنہ 2000 کے انتخاب میں امریکیوں کو صدارتی انتخاب کا نتیجہ جاننے میں 35 روز لگے۔
یہ نتائج اس لیے بھی منفرد تھے کہ ان کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کیا تھا اور جارج بش فاتح قرار پائے تھے۔
سات نومبر کو پولنگ کے اختتام کے بعد جب گنتی کا عمل شروع ہوا تو ایل گور مجموعی طور پر ووٹوں کے اعتبار سے بش سے آگے تھے لیکن ایلکٹورل کالج ووٹوں کے اعتبار سے معاملہ فلوریڈا کے نتائج پر منحصر تھا۔
کیونکہ دونوں کے درمیان یہاں کانٹے کا مقابلہ تھا اس لیے یہاں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی گئی۔ ایل گور کی ٹیم کی جانب سے چار کاؤنٹیز میں ہاتھ سے گنتی کرنے کی بات پر بش کی جانب سے اپیل دائر کر دی گئی۔
بالآخر 12 دسمبر کو سپریم کورٹ کی جانب سے بش کے حق میں فیصلہ آیا۔
مگر امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کا یہ انتظار بھی سب سے طویل نہیں تھا۔
فاتح کے لیے سب سے طویل انتظار کا ریکارڈ سنہ 1876 کے انتخاب کو حاصل ہے جس میں حتمی نتائج کے لیے چار ماہ لگے تھے۔
یہ انتخاب سات نومبر کو ہوئے تھے اور ان کا نتیجہ دو مارچ 1877 کو سامنے آیا تھا۔ ایک غیرجانبدارانہ کمیٹی نے ردرفورڈ ہیز کو ایک الیکٹورل کالج ووٹ سے فاتح قرار دیا تھا۔
امریکی انتخاب پر پاکستانیوں کی میمز
صدارتی انتخاب تو امریکہ میں ہو رہا ہے جہاں فی الحال ووٹوں کی گنتی جاری ہے لیکن پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین بھی اس میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔
ٹرمپ اور بائیڈن دونوں صدارتی امیدواروں کی جانب سے فتح کے دعوؤں پر پاکستان میں ایسی مزاحیہ میمز شیئر کی جا رہی ہیں جو پاکستانی سیاست سے منسوب کی جاتی ہیں۔ مزید بتا رہی ہیں تابندہ کوکب۔
امریکی عوام نتائج کا طویل انتظار کیسے برداشت کر رہے ہیں؟
امریکہ میں ایک طرف ملک میں الیکشن حکام کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کا عمل تاحال جاری ہے تو دوسری جانب مختلف ریاستوں میں جو بائیڈن صدر ٹرمپ پر برتری بھی حاصل کر رہے ہیں۔
لوگوں نے اپنی گھبراہٹ اور پریشانی کو کم کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر میمز شیئر کرنے شروع کیے۔ ان میمز کو شیئر کرنے میں ایک طرف تو امریکی عوام پیش پیش تھے تو دوسری جانب ایران، برازیل اور چین سے بھی لوگ اس تاخیر پر مزاحیہ تبصرے کر رہے تھے۔
کیا امریکی میڈیا ٹائیکون روپرٹ مرڈاک اب ٹرمپ کے حامی نہیں رہے؟
فاکس نیوز، دی نیویارک پوسٹ اور دی وال سٹریٹ جرنل کے مالک روپرٹ مرڈاک اور ان کا میڈیا ایک عرصے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں سے رہا ہے لیکن شاید اب لہجے میں کچھ تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
مرڈاک کے تمام میڈیا ادارے اس وقت اپنے قارئین اور ناظرین کو ٹرمپ کی ممکنہ شکست کے لیے تیار کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو صدر ٹرمپ سے علیحدہ کر کے پیش کر رہے ہیں۔
فاکس نیوز نے تو الیکشن کی رات ہی صدر ٹرمپ کو اس وقت طیش میں آنے پر مجبور کیا جب انھوں نے ریاست ایریزونا میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کی متوقع فتح کا اعلان کر دیا۔
تاہم اس کے بعد سے چینل، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ووٹر فراڈ سے متعلق غیر مصدقہ اور بغیر کسی ثبوت کے سامنے آنے والے الزامات کو نظر انداز کر رہا ہے۔
فاکس نیوز کے میزبان بریٹ بائیر نے جمعہ کے روز کہا کہ ’ہم نے اب تک ایسا کچھ دیکھا نہیں ہے، نہ ہی ہمیں یہ پیش کیا گیا ہے۔
تاہم فاکس نیوز ہی کہ شان ہینیٹی جو صدر ٹرمپ کے خاصے قریب ہیں نے جمعرات کی شام اعلان کیا کہ ’امریکیوں کا حق ہے کہ وہ اس حوالے سے شکوک کا اظہار کریں۔۔۔ اور نتائج کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائیں۔‘
ٹرمپ اب تک بارہا ووٹوں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا چکے ہیں تاہم انھوں نے کسی فراڈ سے متعلق ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے اور ان کا جائزہ لینے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اب تک کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ نہیں دیکھا۔
فاکس نیوز جس نے 2016 میں صدر ٹرمپ کو اقتدار میں لانے میں مدد دی تھی اب ٹرمپ کی ممکنہ شکست کے لیے لوگوں کو تیار کر رہے ہیں اور انھیں مشورے دے رہے ہیں کو انھیں اس دوران کیسا رویہ اپنانا چاہیے۔
میزبان لارا انگراہم جنھیں ٹرمپ کے قریبی سمجھا جاتا ہے نے آن ایئر کہا کہ ’اگر کوئی ایسا وقت آتا ہے کہ ٹرمپ کو اپنے خلاف آنے والا نتیجہ ماننا پڑتا اور ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا کبھی نہ ہو، لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو صدر ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ ایسا پروقار انداز میں کریں۔‘
اس وقت ہارنا جب آپ کو یہ معلوم ہو کہ الیکشن کے مراحل غیر منصفانہ تھے، یہ یقیناً برداشت کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں بتا رہی کہ کون ہار رہا ہے اور کون جیت رہا ہے لیکن صدر ٹرمپ اگر ہارتے ہیں تو یہ یقیناً مشکل ہو گا۔ ان کے ورثے کی اہمیت میں صرف اسی وقت اضافہ ہو گا جن وہ اس ملک کو آگے لے کر چلنے پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔
مرڈاک کے اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے بھی ایک کالم شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے دی پریزیڈینشل اینڈ گیم یعنی صدارت کے اختتام کے مراحل۔
اس میں لکھا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کو ہارنے سے نفرت ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ وہ آخری وقت تک مقابلہ کریں گے۔ تاہم اگر فتح ان کے حصے میں آتی ہے تو ان کے اور ملک کی خاطر بہتر یہ ہو گا کہ وہ امریکی جمہوری روایات کا پاس رکھیں اور اپنا عہدہ پروقار انداز میں چھوڑیں۔
مرڈاک کے جریدے نیویارک پوسٹ میں بھی دو ایسے کالم شائع ہوئے جس میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ ٹرمپ الیکشن ہار جائیں گے۔
نیویارک میں ہمارے نامہ نگار سے اب تک کی تازہ ترین صورتحال جانیے, پینسلوینیا میں اہم نتائج پاکستان کے وقت کے مطابق شام سات بجے سامنے آئیں گے
امریکی صدارتی انتخاب میں چار کڑے مقابلے والی ریاستوں میں اب تک کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے اور ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی برتری ان تمام ریاستوں میں بڑھ رہی ہے۔
پینسلوینیا میں اہم نتائج پاکستان کے وقت کے مطابق شام سات بجے سامنے آئیں گے جو، جو بائیڈن کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ پینسلوینیا کے 20 ایلیکٹورل کالج ووٹ ہیں۔
امریکی صدارتی انتخاب 2020 میں اب تک کی صورتحال
چھ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کے باوجود ہم ابھی تک وائٹ ہاؤس پہنچے والے امیدوار کا نام نہیں جان پائے ہیں۔
ابھی تک جو بائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے اور جیت کے لیے (270 ووٹ) بائیڈن کو صرف 17 الیکٹورل کالج ووٹوں کی ضرورت ہے۔
جمعہ کی رات ایک تقریر میں بائیڈن نے واضح طور پر فتح کا اعلان کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ’واضح اکثریت کے ساتھ انتخاب جیتنے والے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے ملک میں تقسیم کو تسلیم کیا اور امریکیوں پر زور دیا کہ ’غصہ اور دوسروں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں‘۔
انھوں نے مزید کہا: ’ہم ایک دوسرے کے مخالف ہوسکتے ہیں، لیکن ہم دشمن نہیں ہیں۔‘
کڑے مقابلے والی ریاستوں میں یہ صورتحال ہے:
- پنسلوینیا، جہاں بائیڈن کو فی الحال 28،883 ووٹوں سے برتری حاصل ہے، باقی بچ جانے والی ریاستوں میں سے اس ریاست کے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور یہاں سے جیتنے کا مطلب ہے کہ بائیڈن کو ملنے والے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 270 سے تجاوز کر جائے گی
- ایریزونا میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے، جہاں بائیڈن 29،861 ووٹوں کے ساتھ ٹرمپ سے آگے ہیں
- نیواڈا میں بھی 22،657 ووٹوں کے ساتھ ڈیموکریٹک امیدوار کو برتری حاصل ہے
- جبکہ جارجیا میں بائیڈن اور ٹرمپ کے ووٹوں کے تعداد تقریباً یکساں ہے اور دونوں کے درمیان صرف 4،395 ووٹوں کا فرق ہے۔ جارجیا کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہاں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے گی۔
فیکٹ چیک: کورونا اور معیشت پر بائیڈن کا موقف, کرسٹوفر جائلز، بی بی سی ریئلیٹی چیک
گذشتہ رات اپنی تقریر کے دوران کورونا وائرس کےمتاثرین کی بڑھتی تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جو بائیڈن نے دعوی کیا کہ ’پورے ملک میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہوتی جا رہی ہے‘۔
یقینی طور پر بائیڈن کا یہ کہنا درست ہے کہ تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد میں نمایاں طور پر اضافہ ہو رہا ہے۔
سی ڈی سی کے مطابق، 5 نومبر کو 117،998 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔
یہ وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد سے اب تک متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے (حالانکہ یہ وبا شروع ہونے کے ابتدائی مہینوں میں ٹیسٹنگ کی کمی کا مطلب ہے کہ اس وقت مقدمات رپورٹ ہونے کی تعداد کم تھی)۔ ایک مہینہ پہلے تک یومیہ متاثرین 40،000 کے قریب تھے۔
سی ڈی سی نے ’پیش گوئی کی ہے کہ 28 نومبر 2020 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 450،000 سے 960،000 نئے متاثرین رپورٹ کیے جائیں گے۔‘
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق تقریباً ہر ریاست میں متاثرین میں اضافہ ہورہا ہے اور حالیہ ہلاکتوں کی تعداد 236،099 ہے۔
بائیڈن نے معیشت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ’20 ملین سے زیادہ افراد بے روزگار ہیں۔‘ لیکن یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف لیبر کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 21.5 ملین امریکی بے روزگاری کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
امریکی صدارتی انتخاب 2020: روس، چین اور ایران کس امیدوار کی فتح کے خواہش مند ہوں گے؟
انٹیلیجنس کی اعلیٰ قیادت نے انتباہ کیا ہے کہ بیرونی طاقتیں ’کھل کر یا ڈھکے چھپے انداز میں‘ امریکی ووٹروں کو کسی ایک امیدوار کو ووٹ دینے کی جانب راغب کریں گی۔ بیرونی طاقتوں سے ان کی مراد روس، چین اور ایران ہیں۔
ان تینوں کو ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ کر کے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امریکی انٹیلیجنس کی نظر میں ان میں ہر ایک کا اپنا ایک ہدف ہے اور اپنی منفرد صلاحیتیں ہیں۔