اگر آپ اس حوالے سے الجھن کے شکار ہیں تو یہ قابلِ فہم ہے۔
امریکہ میں کوئی قومی انتخابی ادارہ نہیں ہے جو انتخابی نتائج کا اعلان کرے اور یاد رکھیں کہ امریکی صدارتی انتخاب ایسے ہے جیسے پورے ملک میں 50 مختلف انتخابات ہو رہے ہوں۔
ہر امیدوار کو فتح کے لیے 270 الیکٹورل کالج ووٹ درکار ہیں جو کہ ریاستیں جیتنے سے حاصل ہوتے ہیں، زیادہ تعداد میں عوامی ووٹ حاصل کرنے سے نہیں۔
کسی قومی انتخابی نظام کی عدم موجودگی میں امریکی عام طور پر بڑے میڈیا اداروں کی ’ڈیسیژن ڈیسک‘ یعنی فیصلہ سنانے والی ڈیسک کی جانب سے کسی ریاست میں کسی مخصوص امیدوار کی فتح کے اعلان کا انتظار کرتے ہیں۔
میڈیا ادارے یہ فیصلہ ووٹ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے سناتے ہیں اور اس لیے ہر کسی کا انتخابی نقشہ مختلف نظر آتا ہے۔
آج ایک انتخابی تجزیاتی گروپ ڈیسیژن ڈیسک ایچ کیو نے جو بائیڈن کی پینسلوینیا میں فتح متوقع قرار دے کر انھیں فاتح قرار دے دیا۔
اس تجزیاتی گروپ کی معلومات کا استعمال کرنے والے میڈیا ادارے مثلاً ووکس اور بزنس انسائیڈر نے اپنی خبروں کی بنیاد اسی پر رکھی ہے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس اور فاکس نیوز نے پہلے ہی جو بائیڈن کی ایریزونا میں فتح متوقع قرار دے دی ہے جس کی وجہ سے یہ میڈیا ادارے بائیڈن کو 264 الیکٹورل ووٹس کا حامل قرار دے رہے ہیں جبکہ بی بی سی اب بھی بائیڈن کے لیے 253 کا عدد رپورٹ کر رہا ہے۔
بی بی سی میں ہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے ذریعے ایڈیسن ریسرچ کا ڈیٹا استعمال کر رہے ہیں اور امریکہ میں ہمارا پارٹنر سی بی ایس نیوز بھی یہی کر رہا ہے۔
ہم نے اب تک پینسلوینیا اور ایریزونا میں کسی کو متوقع فاتح قرار نہیں دیا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک ایسا کرنا بہت قبل از وقت ہوگا۔
ایک چیز بہرحال واضح ہے، اور وہ یہ کہ بائیڈن فی الوقت اچھی پوزیشن میں ہیں اور ٹرمپ پر ان کی برتری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مگر کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
اس وقت ہم آپ سے صرف یہی کہہ سکتے ہیں: انتظار فرمائیے۔