آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکی صدارتی انتخاب 2020: اب تک کوئی فیصلہ کیوں نہیں ہو سکا؟

    فی الحال ہم یہ نہیں جانتے کہ امریکہ کا اگلا صدر کون بننے جا رہا ہے کیونکہ ابھی تک بہت سے ووٹوں کی گنتی نہیں ہو پائی ہے جس سے اس بات کا واضح تعین ہو سکے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یا جو بائیڈن میں سے کون جیتے گا۔

    درحقیقت اس وبائی مرض کے دوران ہونے والے انتخاب کے دوران پوسٹل ووٹوں کی بڑی تعداد کو گننے کے لیے جتنا وقت درکار ہے، اس کی وجہ سے حتمی نتائج آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

    اور اگر نتائج کو کسی امیدوار کی جانب سے قانونی طور پر چیلنج کیا جاتا ہے تو اس صورت میں فیصلہ ہونے میں ہفتوں بھی لگ سکتے ہیں۔

  2. جارجیا کی ریاست اتنی اہم کیوں ہے؟

    جو بائیڈن کو جارجیا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر کم از کم 900 ووٹوں کی برتری حاصل ہو گئی ہے جبکہ صرف چند ہزار ووٹوں کی گنتی ہی ابھی باقی ہے۔

    جو بائیڈن کی جارجیا میں کامیابی سے انھیں اس ریاست کے 16 الیکٹورل کالج ووٹ مل جائیں گے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد وہ صدر بننے کے لیے درکار الیکٹورل کالج ووٹ سے صرف ایک قدم کی دوری پر ہوں گے۔

    جو بائیڈن کی اس ریاست میں کامیابی سے صدر ٹرمپ کے واضح کامیابی کے دعوے کی بھی تردید ہو گی۔ اگر ٹرمپ جارجیا کے علاوہ باقی رہ جانے والی تمام ریاستوں میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں(جو تقریباً نا ممکن ہے) تو وہ صرف 269 الیکٹورل کالج ووٹ لے سکیں گے اور دونوں امیدواروں کے درمیان ڈرا ہو جائے گا۔

  3. بریکنگ, جارجیا میں بائیڈن کو ٹرمپ پر سبقت حاصل

    چند لمحے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے خبر دی تھی کہ جارجیا میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو سبقت حاصل ہے تاہم اب بی بی سی کے رزلٹ سسٹم اور امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق بھی بائیڈن کو جارجیا میں 917 ووٹوں سے ڈونلڈ ٹرمپ پر سبقت حاصل ہے۔

  4. ’کمزور‘ پشت پناہی پر ٹرمپ کے بیٹوں کا ربپلکنز پر حملہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں نے رپبلکن پارٹی کو صدر کی پشت پناہی کرنے میں ناکامی پر ڈانٹا ہے کیونکہ وہ دوبارہ انتخاب میں کامیابی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈان جونیئر نے جماعت پر ’کمزور‘ ہونے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ڈان جونیئر کے بھائی ایرک نے خبردار کیا ہے کہ ’ہمارے ووٹر کبھی آپ کو نہیں بھولیں گے۔‘

  5. امریکہ کے صدارتی انتخاب میں شکست کیسے تسلیم کی جاتی ہے؟

    سنہ 1986 میں امریکہ کے صدارتی انتخاب کے امیدوار ولیئم جیننگز برائن نے اپنے حریف ولیئم میکنلی کو ایک مختصر ٹیلیگرام بھیج کر اپنی شکست کو تسلیم کیا اور ان کے اس اقدام نے بعد میں آنے والوں کے لیے بھی ایک مثال چھوڑی۔

    اس کے بعد سے ہر امیدوار نے اس روایت کو برقرار رکھا ہے، چاہے صدارتی انتخاب کتنا ہی تلخ رہا ہو۔

    اپنی شکست کو قبول کرنے کی کوئی قانونی یا آئینی ضرورت تو نہیں لیکن ایسا کرنے سے انکار پر عدالت میں چیلنجز کا راستہ کھل جاتا ہے۔

  6. نتائج کا اب بھی انتظار، امریکہ میں کیا ہو رہا ہے؟

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کے حتمی نتائج آنے میں تو ابھی کچھ وقت لگے گا لیکن اس دوران امریکہ میں کئی جگہوں پر مظاہرے بھی دیکھے گئے ہیں۔

    اب امریکہ میں کیا صورتحال ہے، اس بارے میں واشنگٹن ڈی سی سے ہمارے ساتھی ونیت کھرے نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں ثمرہ فاطمہ سے بات کی۔۔۔

  7. ٹرمپ مہم کے مقدمے: لنڈسے گراہم کا مالی معاونت کے لیے پانچ لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور رپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹرمپ کے انتخابی دفتر کے مقدموں کی مالی معاونت کے لیے پانچ لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لنڈسے گراہم نے کہا کہ بے ضابطگیوں کے الزامات زمین ہلا دینے والے ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’میں آج صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے یہاں موجود ہوں، وہ میرے ساتھ کھڑے ہیں، ان کی ہی وجہ سے ہم سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے والے ہیں۔‘

    ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کی قانونی ٹیم کو جو رقم دی گئی ہے، وہ گراہم کی اپنی انتخابی مہم کے فنڈز سے آئے گی۔

  8. فلاڈیلفیا: ووٹوں کی گنتی کے مرکز پر حملے کے منصوبے کی تحقیقات

    فلاڈیلفیا میں پولیس پنسلوینیا کنونشن سینٹر، جہاں ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے، پر حملہ کرنے کے ایک منصوبے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    اے بی سی نیوز کا کہنا ہے کہ لوگوں کا ایک گروپ، جو ممکنہ طور پر ایک خاندان ہے، حملہ کرنے کے لیے ہمر ایس یو وی میں ورجینیا سے سفر کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

    پولیس نے اس گاڑی کو قبضے میں لے کر ایک آدمی کو گرفتار کر لیا ہے۔

  9. جیت کے لیے پر امید بائیڈن کی ’سکیورٹی بڑھا دی جائے گی‘

    واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق امریکی خفیہ سروس جمعے کے روز سے صدارتی انتخاب میں جیت کے لیے پر امید جو بائیڈن کی سکیورٹی کو بڑھا دے گی۔

    جو بائیڈن کی انتخابی ٹیم نے خفیہ سروس کو بتایا کہ وہ جمعے کے روز اپنی فتح کے دعوے کی تقریر کر سکتے ہیں۔

    خفیہ سروس کی ترجمان کیتھرین ملہوان نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی سینئر شخصیات کی سکیورٹی کے انتظامات پر بات نہیں کرتی۔ بائیڈن کے معاونین نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  10. ٹرمپ کے انتخابی دفتر نے نیواڈا میں مقدمہ دائر کر دیا

    کئی ریاستوں میں قانونی کارروائی کے بعد ٹرمپ کے انتخابی دفتر نے نیواڈا میں بھی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    اس مقدمے میں شواہد فراہم کیے بغیر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کلارک کاؤنٹی میں بے ضابطگیوں نے انتخابات کو متاثر کیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایسی تمام ریاستیں جن میں جو بائیڈن کو سبقت حاصل ہے، ٹرمپ وہاں پر انتخابی فراڈ اور بے ضابطگیوں کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

  11. ٹرمپ کے سابق مشیر کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا

    ٹرمپ کے سابق مشیر سٹیو بینن کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا ہے۔

    اپنے فیس بک، یوٹیوب اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں بینن نے کہا تھا کہ ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹفر رے کو ٹرمپ انتظامیہ کے دوسرے دور میں پھانسی دی جانی چاہیے اور ان کے سروں کو ’نیزوں پر لگانا‘ چاہیے۔

    اس ویڈیو کو فیس بک اور یوٹیوب نے بعد میں ہٹا دیا۔ ٹوئٹر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’اس اکاؤنٹ نے ان کی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

  12. امریکی صدارتی انتخاب 2020: ٹرمپ یا بائیڈن، جیت کس کے لیے آسان ہو گی؟

    امریکہ کے صدارتی انتحاب میں فتح سے ہمکنار ہونے والے امیدوار کا تعین ہونے میں ابھی اور وقت لگے گا تاہم امریکی عوام کی جانب سے ڈالے گئے 16 کروڑ ووٹوں کی گنتی کے عمل کے دوران متوقع نتائج کی کچھ کچھ تصویر نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہے۔

    فریقین کی جانب سے جیت کے دعوؤں کے بعد صدارتی انتحاب کی دوڑ کے مقابلے کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے اور اس کانٹے دار مقابلے کے فیصلے کا دارومدار محض ایریزونا، نیواڈا، جورجیا اور پنسلوینیا کی ریاستوں سے ملنے والے نتائج تک محدود ہو گیا ہے۔

  13. ابھی تک واضح نہیں کہ حتمی نتائج کب آئیں گے, پیٹر باؤس، نامہ نگار شمالی امریکہ

    غیر یقینی کی صورتحال جاری ہے۔ الیکشن ہوئے تین دن گزر چکے ہیں، ووٹوں کی گنتی ابھی بھی جاری ہے، مقدمے دائر کیے جا رہے ہیں اور ملک حالت اضطراب میں ہے۔

    کڑے مقابلے کی چند ریاستوں میں ابھی بھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ امریکہ کے صدارتی اتنخاب 2020 کا فاتح کون ہے۔

    صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران شواہد فراہم کیے بغیر ایک بار پھر اس دعوے کو دہرایا کہ وہ الیکٹورل فراڈ کا نشانہ بنے ہیں۔

    ڈاک کے ذریعے بڑی تعداد میں بھیجے گئے ووٹ جن کی گنتی ابھی باقی ہے، جو بائیڈن کے حق میں جاتے نظر آ رہے ہیں اور سابق نائب صدر گنتی میں تھوڑے آگے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے اپنا مقدمہ سپریم کورٹ لے جانے کی دھمکی دی ہے جبکہ جو بائیڈن نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ ’انتخابی تحفظ کی لڑائی میں تاریخ کی سب سے بڑی کوشش کر رہے ہیں۔‘ اس سے قبل انھوں نے امریکی شہریوں کو نتائج کے انتظار میں صبر کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

    یہ ابھی تک واضح نہیں کہ حتمی نتیجہ کب آئے گا تاہم الیکٹول کالج میں ٹرمپ کے جیتنے کے امکان کم دکھائی دے رہے ہیں۔

  14. نیواڈا کے بیلٹ کاؤنٹرز کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا

    نیواڈا میں کاؤنٹی رجسٹرار جو گلوریا نے کہا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے معاملے میں ہم کسی کو بھی ہمارا کام کرنے سے روکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے گنتی کے مقام پر موجود ہیں اور دیگر حفاظتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عملہ محفوظ رہے۔

    واضح رہے کہ جو بائیڈن کو نیواڈا میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم ٹرمپ کے انتخابی دفتر نے شواہد فراہم کیے بغیر مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی ہے۔

  15. امریکی صدارتی انتخاب: ہم تنائج کے کتنے قریب ہیں؟

    امریکہ کی چند ریاستوں میں ابھی بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور اس وقت تمام تر توجہ چار اہم ریاستوں پر مرکوز ہے:

    جیارجیا: یہاں سے ابھی تک ڈونلڈ ٹرمپ آگے ہیں تاہم جمعرات کے روز ان کی برتری 18000 ووٹوں سے کم ہو کر 1800 ووٹوں تک آ گئی۔ اب تک 15 ہزار سے بھی کم ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔

    نویڈا: یہاں بائیڈن کی برتری 8000 ووٹوں سے بڑھ کر 11 ہزار ووٹوں تک آ گئی ہے۔

    پنسلوینیا: ٹرمپ کو یہاں 160،000 ووٹوں سے برتری حاصل تھی تاہم جمعرات کو ہونے والی گنتی کے بعد اب یہ فرق صرف 25 ہزار ووٹوں کا رہ گیا ہے جبکہ 220،000 ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے۔

    ایریزونا: ایریزونا میں بائیڈن کی برتری 69000 ووٹوں سے گر کر 46000 ووٹوں تک آ گئی ہے جبکہ یہاں ابھی 220,000 ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔

  16. سنہ 2000 کے امریکی انتخاب: جب فلوریڈا کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    امریکہ کی ریاست فلوریڈا شاید اس بار ووٹوں کی گنتی کا مرکز نہیں ہو سکی لیکن 20 سال قبل ہونے والے امریکی انتخاب کا فیصلہ یہی ہوا تھا۔

    ڈیموکریٹ امیدوار الگورے اور ربپلکن امیدوار جارج ڈبلیو بش کے درمیان یہاں کڑا مقابلہ تھا لیکن الیکشن ڈے پر ایسا لگا کہ الگورے یہاں سے جیت جائیں گے۔

    گورے کو واضح طور پر مقبول ووٹ حاصل تھا تاہم الیکٹورل کالج میں معاملات مختلف تھے۔

    گورے کی ٹیم نے چار کاؤنٹیز میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا اور انتخاب کے کئی ہفتوں بعد امریکہ کی سپریم کورٹ نے جارج بش کے حق میں فیصلہ سنایا۔

  17. رک سینٹورم: ٹرمپ کے دعوے ’خطرناک‘ ہیں

    رپبلکن پارٹی کے ایک سابق سینٹر رک سینٹورم نے ٹرمپ کی جمعرات کو کی گئی پریس کانفرنس کو ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

    سی این این پر بات کرتے ہوئے سابق سینٹر نے کہا کہ ٹرمپ کے ریمارکس ’مایوس کن اور چونکا دینے‘ والے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ میں پر امید ہوں کہ رپبلکنز اس وقت میں کھڑے ہو جائیں گے اور وہ کہیں گے جو الیکشن کی سالمیت کے لیے ضروری ہے۔‘

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے خطاب میں جائز ووٹوں کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے میڈیا پر ’مداخلت‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

  18. ووٹوں کی گنتی میں اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے؟

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کے بعد اب بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ بینسلوینیا ان ریاستوں میں سے ہے جہاں اب بھی ووٹ گنے جا رہے ہیں۔ اس ریاست کے شہر فیلاڈیلفیا سے دیکھیے ہماری یہ رپورٹ۔۔۔

  19. جج نے ٹرمپ کی پنسلوینیا میں گنتی روکنے کی کوشش رد کر دی

    پنسلوینیا میں ایک وفاقی جج نے گنتی روکنے کے لیے ٹرمپ مہم کی درخواست کو رد کر دیا ہے۔

    جج پال ڈائمنڈ نے ٹرمپ مہم کی ان شکایات کا جواب بھی دیا ہے جن میں کہا گیا تھا رپبلکن پارٹی کے نگرانوں کو گنتی کے مقام تک مساوی رسائی نہیں دی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں رپبلکن اور ڈیموکریٹس کو نگرانی کے لیے 60 نمائندے بھیجنے کی اجازت نہیں۔

  20. بائیڈن: ’ہمیں ٹرمپ کے ووٹوں کی گنتی سے متعلق دعوؤں سے لڑنا ہو گا‘

    ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے اپنی تازہ ٹویڈس میں ایک بار پھر ہر ووٹ کی گنتی پر زور دیا ہے۔

    بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ ’انتخابی تحفظ کی لڑائی میں تاریخ کی سب سے بڑی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ کڑے مقابلے والی ریاستیں، جن میں پنسلوینیا اور جارجیا شامل ہیں، میں ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کی بائیڈن پر برتری میں فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔