ہر کوئی ووٹوں کی گنتی کے انتظار میں ہے۔ لیکن کچھ ووٹوں کی تعداد سے نسل اور سیاست کے متعلق ایک دلچسپ کہانی سامنے آتی ہے۔
پینسلوینیا اور جارجیا میں ایگزٹ پولز سے کچھ ایسی صورتحال سامنے آئی:
پینسلوینیا میں، بائیڈن کے حامیوں میں 76 فیصد سفید فام، 15 فیصد سیاہ فام، 7 فیصد لاطینی اور ایک فیصد ایشین افراد تھے۔
امریکی مردم شماری کے مطابق اس ریاست میں 81 فیصد سفید فام افراد رہائش پذیر ہیں۔
پینسلوینیا میں زیادہ ترسفید فام ووٹروں نے صدر ٹرمپ کو ووٹ دیے جن کی تعداد 97 فیصد بنتی ہے، جبکہ انھیں صرف ایک فیصد سیاہ فام ، 2 فیصد لاطینی اور ایک فیصد سے بھی کم ایشیائی افراد کے ووٹ ملے۔
بائیڈن کے سات فیصد ووٹروں کا یہ بھی کہا تھا کہ انھوں نے 2016 میں ٹرمپ کو ووٹ دیے تھے۔ جبکہ ٹرمپ کے چار فیصد ووٹرزکا کہنا تھا کہ انھوں نے کلنٹن کو ووٹ دیے تھے۔
جارجیا میں، جہاں 60 فیصد سفید فام اور 32 فیصد سیاہ فام افراد رہتے ہیں، بائیڈن کو غیر سفید ووٹروں کی زبردست حمایت ملی۔
ایگزٹ پولز کے مطابق جن لوگوں نے بائیڈن کے حق میں ووٹ دیا ان میں 53 فیصد سیاہ فام، 35 فیصد سفید فام، 8 فیصد لاطینی اور 2 فیصد ایشین شامل تھے۔
ٹرمپ کو ایک بار پھر سے سفید فام رائے دہندگان کی جانب سے زیادہ حمایت ملی۔ ان کے حامیوں میں 85 فیصد سفید فام، سات فیصد سیاہ فام، چھ فیصد لاطینی اورایک فیصد ایشین شامل تھے۔
مجموعی طور پر جارجیا سے بائیڈن کو 35 فیصد سفید فام افراد کے ووٹ اور 65 فیصد غیر سفید افراد کے ووٹ ملے جبکہ ان کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کو 85 فیصد سفید فام اور 15 غیر سفید فام افراد کے ووٹ حاصل ہوئے۔