امریکہ میں ووٹر ریاست کی سطح پر فیصلہ دیتے ہیں اور پھر ان ریاستوں کے الیکٹورل کالج کے ووٹ جمع کر کے ملک کے صدر کا فیصلہ ہوتا ہے۔
اس بار کے انتخابی مقابلے میں ابھی تک تمام ریاستوں کے نتائج سامنے نہیں آئے اور ووٹنگ کے رجحانات بھی واضح نہیں کہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کون جیتے گا۔
صدر ٹرمپ کا فلوریڈا، اوہایو اور ٹیکساس کی بڑی ریاستوں سے جیتنا یقینی سمجھا جا رہا ہے لیکن دوسری بار صدر بننے کے لیے ان کا ابھی کئی اور ریاستوں میں جیتنا ضروری ہے۔
ڈیموکریٹک جماعت کے امیدوار جو بائیڈن کی کامیابی کے لیے کئی راستے کھلے ہیں لیکن ان کی بھی جیت یقینی نہیں ہے۔
وہ کون سی ریاستیں ہیں جن کے نتائج کا اعلان ہونا باقی ہے؟
ایریزونا: روایتی طور پر رپبلکن ریاست جہاں اس بار کانٹے کا مقابلہ ہے۔ اس وقت تک 86 فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں اور جو بائیڈن آگے ہیں۔ کئی امریکی نشریاتی اداروں نے یہاں سے بائڈن کی جیت کے امکان کا اعلان کر دیا ہے لیکن بی بی سی نے ابھی ایسا نھیں کیا۔
جارجیا: ایک اور ریاست جو روایتی طور پر رپبلکن پارٹی کے حق میں جاتی ہے لیکن اس بار وہاں سخت مقبلہ ہے۔ اس وقت تک صدر ٹرمپ کو یہاں معمولی برتری حاصل ہے۔ لیکن ریاست کے علاقے ایٹلانٹا اور اس کے نواحی علاقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے جہاں پر ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
شمالی کیرولائنا: یہاں پر 95 فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں اور صدر ٹرمپ کو یہاں بھی معمولی برتری حاصل ہے۔
نیواڈا: یہاں پر جو بائیڈن کو توقع سے زیادہ سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور انھیں انتہائی معمولی برتری حاصل ہے۔
وسکانسن: سنہ 2016 میں صدر ٹرمپ یہاں سے جیتے تھے لیکن اس سے پہلے دو دہائیوں تک یہ ریاست ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں ووٹ دیتی رہی ہے۔
یہاں تقریباً تمام ووٹ گنے جا چکے ہیں اور جو بائیڈن کو معمولی برتری حاصل ہے لیکن صدر ٹرمپ کے حامی کہہ چکے ہیں کہ وہ یہاں پر دوبارہ گنتی چاہتے ہیں۔
مشیگن: یہاں بھی بائیڈن کو معمولی برتری حاصل ہے لیکن ابھی ڈیٹرائٹ جیسے کچھ ڈیموکریٹک جماعت کے حامی علاقوں کے ووٹ گنے جانے ہیں۔
پینسلوینیا: 20 الیکٹورل ووٹوں کے ساتھ صدارتی انتخاب میں یہ ایک اہم ریاست ہے۔ یہاں پر صدر کو قابل ذکر برتری حاصل ہے۔
تاہم یہاں بھی بڑی تعداد میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی باقی ہے اور جمعہ تک حتمی نتیجہ آنے کا امکان نہیں۔ اس ریاست میں بھی رپبلکن پارٹی کی طرف سے قانونی کارروائی کی بات کی جا رہی ہے۔