آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ میں ووٹ ڈالنا اتنا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟

    امریکہ میں کس کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے اور کس نظام کے تحت ووٹ ڈالے جانے چاہیئں، اس بحث نے سینکڑوں مقدمات اور ووٹر سپریشن (یعنی ووٹروں کو روکنے کی کوشش) کے دعوؤں کو جنم دے دیا ہے۔

    مگر امریکہ میں ووٹ ڈالنے میں رکاوٹیں کیا ہیں؟ ملک میں جلد ووٹ ڈالنے کے لیے شہریوں کی لگی لمبی قطاروں کو عوام میں جذبے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اسے ووٹنگ کے نظام میں مسائل کے شواہد کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    ملک کی 44 ریاستوں میں اس وقت 300 سے زیادہ مقدمات کیے جا چکے ہیں جن کا تعلق ایبسنٹی ووٹوں (یعنی جو لوگ پولنگ سٹیشن پر از خود آ کر ووٹ نہیں ڈالتے) کی گنتی سے ہے۔

    ان میں سوالات یہ ہیں کہ کس کو ارلی ووٹنگ کی اجازت ہے، اور ڈاک سے آنے والے ووٹوں کو کیسے گنا جائے گا۔ رپبلکن پارٹی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پابندیاں ووٹر فراڈ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ سب لوگوں کے ووٹ کے حق کو دبانے کی کوشش ہے۔

  2. کیا امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے صدر ٹرمپ کی شکست کا باعث بن سکتے ہیں؟

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے حالیہ ہفتے پریشان کُن رہے ہیں۔ رائے عامہ کے کئی جائزوں کے مطابق مقبولیت کے لحاظ سے وہ آئندہ صدارتی انتخابات میں اپنے مخالف امیدوار جو بائیڈن سے پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم مسائل کا شکار ہے جبکہ ان کا موجودہ دورِ صدارت بھی ایک کے بعد ایک بحران کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

  3. امریکہ کا اگلا صدر کون ہو گا؟ آپ فیصلہ کریں

  4. امریکی صدارتی انتخاب 2020: روس، چین اور ایران کس امیدوار کی فتح کے خواہش مند ہوں گے؟

    انٹیلیجنس کی اعلیٰ قیادت نے انتباہ کیا ہے کہ بیرونی طاقتیں ’کھل کر یا ڈھکے چھپے انداز میں‘ امریکی ووٹروں کو کسی ایک امیدوار کو ووٹ دینے کی جانب راغب کریں گی۔ بیرونی طاقتوں سے ان کی مراد روس، چین اور ایران ہیں۔

    ان تینوں کو ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ کر کے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امریکی انٹیلیجنس کی نظر میں ان میں ہر ایک کا اپنا ایک ہدف ہے اور اپنی منفرد صلاحیتیں ہیں۔

  5. امریکہ میں کڑے مقابلے والی ریاستوں میں کون سا امیدوار آگے؟

    ممکن ہے کہ آنے والے چند دنوں میں آپ ’سوئنگ سٹیٹس (کڑے مقابلے والی ریاستوں)‘ کا ذکر بہت زیادہ سنیں۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جن کے نتائج کسی کے بھی حق میں آسکتے ہیں۔ صدارتی انتخاب کے نتائج سے ان کے بارے میں واضح علم ہوسکتا ہے۔

    ماہرین سمجھتے ہیں کہ ان سوئنگ سٹیٹس کے نتائج کسی بھی امیدوار کے حق میں آسکتے ہیں۔ دیگر ریاستوں سے متعلق ماہرین واضح طور پر سمجھ لیتے ہیں کہ یہاں کون سا امیداوار جیت سکتا ہے۔ یعنی آیا ایک ریاست رپبلکن امیدوار کے ساتھ ہوگی یا ڈیموکریٹک امیدوار کے ساتھ۔

    لیکن سوئنگ سٹیٹس کو ایک خاص انعام کی طرح دیکھا جاسکتا ہے جو کسی امیدوار کی برتری کو بڑھا سکتی ہیں۔ صدر بننے کے لیے 270 الیکٹورل کالجز میں برتری ضروری سمجھی جاتی ہے اور اس میں سوئنگ سٹیٹس کا اہم کردار ہوتا ہے۔

    رواں سال فلوریڈا، پینسلوینیا، مشیگن، وسکانسن، شمالی کیرولائنا اور ایریزونا کو سوئنگ سٹیٹس یا کڑے مقابلے والی ریاستیں سمجھا جا رہا ہے۔

    ریئل کلیئر پالیٹکس نامی ادارے کے اندازوں کے مطابق بائیڈن کو ان میں سے دو ریاستوں میں واضح برتری حاصل ہے۔ جبکہ باقی تین میں انھیں کم برتری سے فتح حاصل ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ ان میں سے ایک ریاست میں فتح حاصل کر سکتے ہیں۔

    اکتوبر کے وسط سے کڑے مقابلے والی ان ریاستوں میں مہم تیز ہوچکی ہے۔ پیر تک اندازوں کے تحت ٹرمپ نے بائیڈن کی برتری کو دو پوائنٹس تک کم کردیا تھا۔

    اندازوں کے مطابق:

    • فلوریڈا میں بائیڈن کو فتح کے ساتھ 1.8 کی برتری حاصل ہوگی
    • مشیگن میں بائیڈن کو فتح کے ساتھ 5.1 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوگی
    • وسکانسن میں بائیڈن کو فتح کے ساتھ 6.7 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوگی
    • شمالی کیرولائنا میں ٹرمپ کو فتح کے ساتھ 0.2 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوگی
    • ایریزونا میں بائیڈن کو فتح کے ساتھ 0.9 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوگی
  6. ٹرمپ اور بائیڈن نے انتخابی مہم کے اپنے آخری خطاب میں کیا کہا؟

    انتخابی مہم کے آخری گھنٹوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حریف جو بائیڈن نے امریکہ کے بارے میں واضح طور پر مختلف نظرییے پیش کیے۔

    پیر کے روز جو بائیڈن نے پینسلونیا اور اوہائیو میں انتخابی مہم چلائی جبکہ ٹرمپ نے وسکونسن، مشیگن، شمالی کیرولینا اور پنسلونیا کا دورہ کیا۔

    ٹرمپ نے مشیگن کے شہر گرینڈ ریپڈس میں آدھی رات کو اپنا آخری خطاب کیا، جہاں انہوں نے سنہ 2016 کے الیکشن سے قبل بھی اپنا آخری خطاب کیا تھا۔ ان کی تقریر میں متنبہ کیا گیا کہ بائیڈن معیشت کو بند کر دیں گے اور امریکی ملازمتوں کو بیرون ملک منتقل کریں گے۔

    انھوں نے اپنے خطاب میں کہا: ’ہم باآسانی مشیگن کی ریاست سے جیت جائیں گے۔ ہمیں اسے گذشتہ بار کی طرح ہی کرنا ہے لیکن بس آئیے مجھے تھوڑا سا زیادہ مارجن دیں۔‘

    بائیڈن نے اپنا آخری خطاب پنسلونیا کے شہر پٹسبرگ میں کیا، ایک ایسی ریاست جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ انتخاب کے نتائج میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

    ووٹ کو ’امریکہ کی روح کی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے سابق نائب صدر نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ملک کو ٹھیک کر دیں گے اور وہی کریں گے جو ٹرمپ کرنے میں ناکام رہے۔۔۔ امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پا لیں گے۔‘

    بائیڈن نے ٹرمپ کو ایک خطرناک صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم افراتفری سے تنگ آ چکے ہیں، ٹویٹس، غصے، نفرت، ناکامی اور غیر ذمہ داری سے ہماری بس ہو چکی ہے۔‘

  7. بریکنگ, ورمونٹ میں پولنگ کا آغاز

    امریکہ کی مشرقی ریاست ورمونٹ میں پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ 1992 سے اس ریاست میں ڈیموکریٹ امیدوار ہی کامیاب ہوتا آیا ہے اور اکثر تمام کاؤنٹیز میں یہی جماعت جیتتی ہے۔ 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ یہاں صرف ایک کاؤنٹی سے جیت پائے تھے۔

  8. امریکی صدارتی انتخاب میں ووٹنگ کب سے کب تک جاری رہے گی؟

    امریکہ رقبے کے لحاظ سے ایک بہت بڑا ملک ہے اور اس کی 50 ریاستیں نو مختلف ٹائم زونز میں واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں ووٹنگ کے آغاز اور اختتام کا وقت ایک سا نہیں۔

    ملک کی کچھ ریاستوں جیسے کہ نیو ہیمپشائر میں ووٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ مشرقی ریاستوں جیسے کہ ورمونٹ میں ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے (پاکستان کے وقت کے مطابق دوپہر دو بجے) شروع ہوئی ہے اور یہاں ووٹر سخت سرد موسم میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

    اس کے برعکس ہوائی کی ریاست میں موسم خوشگوار ہے اور یہاں ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے یا پاکستانی وقت کے مطابق رات دس بجے شروع ہو گی

    یہاں کچھ امریکی ریاستوں میں پولنگ کے آغاز کے اوقات دیے جا رہے ہیں:

    • کنیٹیکٹ، انڈیانا، کینٹکی، مین، نیو جرسی، نیویارک، ورجینیا (صبج چھ بجے، پاکستانی وقت کے مطابق شام چار بجے)
    • ڈیلاویئر، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا، فلوریڈا، جورجیا، الینوائے، لوئیزیانا، مشیگن، میزوری، پینسلوینیا، رہوڈز جزائر، جنوبی کیرولائنا (صبج سات بجے، پاکستانی وقت کے مطابق شام پانچ بجے)
    • کولوراڈو، مونٹانا، نبراسکا، نیو میکسیکو، یوٹاہ، وایومنگ (صبج نو بجے، پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے)
    • کیلیفورنیا، آئیداہو، نیوادا (صبج دس بجے، پاکستانی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے)
  9. صدارتی انتخاب کے دوران ممکنہ بدامنی سے بچنے کے لیے کاروبار تیار

    امریکہ میں صدارتی انتخاب کے ساتھ کئی کاروبار بدامنی کی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر مناسب انتظامات کر رہے ہیں۔

    ریٹیل کے معروف نام جیسے سیکس ففتھ ایونیو، نارڈسٹروم اور میڈیکل سٹور سی وی ایس ان بڑی کمپنیوں میں شامل ہیں جنھوں نے الیکشن کے دوران ضروری انتظامات کیے ہیں۔

    والمارٹ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ امریکہ میں عارضی طور پر اپنے سٹورز پر سے اسلحہ اور بندوقوں سے متعلق سامان ہٹا رہے ہیں کیونکہ ان نے مطابق ’شہروں میں بدامنی‘ کا خدشہ موجود ہے۔ تاہم اگلے ہی روز کمپنی نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

    پولیس کے مطابق کیلیفورنیا میں روڈیو ڈرائیو نامی شاپنگ کمپلیکس نے منگل کے روز اپنے سٹور بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مالیاتی مارکیٹوں پر بھی انتخاب کے اثرات ہونے کا خدشہ ہے۔

  10. امریکی صدارتی انتخاب 2020: دونوں امیدواروں نے کیا وعدے کیے ہیں؟

    امریکہ کے شہریوں کو دو امیدواروں کے درمیان انتخاب کا سامنا ہے، جن کی اپنے ووٹرز کو بہت مختلف سیاسی پیشکش ہیں۔ دونوں امیدواروں نے امریکی شہریوں سے کیا وعدے کیے ہیں؟

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی معیشت بحال کرنے، روزگار پیدا کرنے، امریکی تجارتی مفادات کا تحفظ اور امیگریشن کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف کو جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔

    جو بائیڈن نے ملازمین کے لیے نئے معاشی مواقع، ماحولیاتی تحفظ اور صحت عامہ کو بحال کرنے کے علاوہ بین الاقوامی اتحاد کو فروغ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

  11. پانچ ووٹوں کی مدد سے جو بائیڈن کی پہلی فتح

    جو بائیڈن نے اپنی پہلی فتح حاصل کر لی ہے۔ نیو ہیمپشائر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تمام پانچ ووٹ بائیڈن کے حق میں ڈالے گئے ہیں۔ یہ گاؤں سب سے پہلے نتائج کا اعلان کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔

    ڈیکسوِل نوچ نامی یہ گاؤں امریکہ اور کینیڈا کے بیچ سرحد میں واقع ہے۔ یہاں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ووٹ ڈالے گئے تھے اور اس طرح گذشتہ 60 سال سے اس گاؤں نے اپنی یہ روایت برقرار رکھی ہے۔

    یہاں کے رہائشی لیس اوٹن کہتے ہیں کہ وہ پوری زندگی رپبلکن پارٹی کے حامی رہے ہیں لیکن اس بار انھوں نے بائیڈن کو ووٹ ڈالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں ان سے کئی باتوں پر متفق نہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمیں وہ چیز ڈھونڈنی ہوگی جو ہمیں متحد کرتی ہے، نہ کہ جو تفریق پیدا کرتی ہے۔‘

    ’میرے ووٹ سے رپبلکن کے حامیوں کو پیغام جاتا ہے کہ وہ واپسی کر سکتے ہیں۔ ان اقدار پر آنا ضروری ہے جن پر تاریخی اعتبار سے قدامت پسند حکومت قائم رہی ہے۔‘

    دریں اثنا ملز فیل، جو یہاں سے جنوب پر واقع ہے، میں صدر ٹرمپ بائیڈن کے پانچ ووٹوں کے مقابلے اپنے 16 ووٹوں سے جیت گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ڈیکسوِل نوچ کے نتائج اکثر ملک بھر کے نتائج سے مطابقت نہیں رکھتے جیسا 2016 میں ہوا تھا جب انھوں نے ہیلری کلنٹن کی حمایت کی تھی۔

    کورونا وائرس کے باعث ہارٹس لوکیشن نامی ایک تیسرے گاؤں میں جلدی الیکشن اور جلدی نتائج دینے کی روایت قائم نہ رہ سکی۔

  12. امریکہ کے لیے ’چچا سام‘ کی اصطلاح کیسے وجود میں آئی؟

    امریکی حکومت اور انتظامیہ کو عام طور پر ’انکل سیم‘ یا چچا سام کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ 1812 میں برطانیہ کے ساتھ امریکہ کی آخری جنگ کے زمانے میں دریائے ہڈسن کے کنارے ٹرائے کے مقام پر البرٹ اینڈرسن نامی ایک ٹھیکے دار کو امریکی فوج کے لیے گوشت اور مختلف اشیا کی فراہمی کا کام سونپا گیا۔

    حکومت امریکہ کی جانب سے اس کام کی نگرانی کا فریضہ ایبنزر ولسن انجام دیتا تھا جبکہ البرٹ اینڈرسن کی جانب سے ان اشیا کو اس کا چچا سیموئیل ولسن فراہم کیا کرتا تھا جسے اس کے کارکن عام طور پر ’انکل سیم‘ کہا کرتے تھے۔

  13. چین امریکہ کے صدارتی انتخاب میں کیا دیکھ رہا ہے؟, زایئون فینگ، بی بی سی چین

    امریکہ میں صدارتی امیدوار جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بحث کی ہے کہ امریکہ کس کی قیادت میں چین کی طرف سے چیلنجز کا مقابلہ مناسب انداز میں کر سکتا ہے لیکن بیجنگ کے نقطہ نظر سے اس انتخاب کی سب سے بڑی کہانی یہ نہیں کہ اگلے چار برسوں میں کون امریکہ کی قیادت کرے گا بلکہ یہ ہے کہ کیا آیا امریکی جمہوریت کمزور ہوئی ہے۔

    چین میں میڈیا کو بڑے پیمانے پر امریکی انتخاب کی کوریج سے باز رکھا گیا ہے کیونکہ بیجنگ انتخابی مداخلت کے الزامات سے بچنا چاہتا ہے۔ چین کی ریاستی میڈیا کی کوریج کا فوکس صدارتی دوڑ کی بجائے انتخابی عمل کی افراتفری اور امریکہ میں صحت عامہ کے شدید بحران پر مرکوز ہے۔

    گذشتہ کچھ مہینوں میں امریکہ میں شہری بدامنی اور سیاسی انتشار چین میں ایک اہم پروپیگنڈہ مواد رہا ہے، جہاں حکومت جمہوری نظام پر اپنے سیاسی نظام کی برتری ثابت کرنے کے لیے بے چین دکھائی دیتی ہے۔

    چین میں مقیم 1.4 ارب افراد کے لیے غیر ملکی میڈیا تک رسائی زیادہ تر بند ہے لیکن چینی سوشل میڈیا ویبو پر امریکی صدارتی امیدواروں کا مذاق اڑانے میں کوئی کمی نہیں۔

    دنیا بھر کے لوگ آج کی رات کچھ نہ کچھ واضح ہونے کی امید کر رہے ہیں لیکن شاید اس کی اطلاع اتنی جلدی نہ آئے۔

  14. امریکی صدارتی انتخاب 2020: نتائج کب آئیں گے، ان میں تاخیر کیوں ہو سکتی ہے؟

    جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ہار کی صورت میں ممکن ہے وہ نتائج کو تسلیم نہ کریں، تو کئی لوگ یہ سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ انتخاب کا نتیجہ آنے میں کتنا وقت لگے گا۔

    ایسے لوگوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ امریکی انتخابات میں ووٹنگ ختم ہونے کے بعد سے لے کر حتمی نتائج آنے میں کئی دن یا کچھ ہفتے بھی لگ سکتے ہیں!

    اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ کورونا کی وبا کے باعث امریکیوں کی ایک بڑی تعداد ڈاک کے ذریعے اپنے ووٹ ابھی سے ہی بھجوا چکی ہے، جن کی گنتی کرنے میں زیادہ وقت درکار ہوگا۔

  15. امریکہ میں عالمی وبا کے باعث قبل از انتخاب ووٹ 10 کروڑ کے قریب

    امریکہ میں ’الیکشنز پراجیکٹ‘ کے اعداد و شمار کے مطابق 9 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ افراد نے صدارتی انتخاب سے قبل ووٹنگ میں حصہ لے لیا ہے۔

    انھوں نے ایسا خود پولنگ بوتھ جا کر یا ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈال کر کیا ہے۔

    سنہ 2016 کے برعکس قبل از انتخاب ووٹنگ کی یہ تعداد کافی زیادہ ہے۔ 2016 کے صدارتی انتخاب میں مجموعی طور پر 13 کروڑ 80 لاکھ ووٹ ڈالے گئے تھے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے ریکارڈ ٹرن آؤن (کل آبادی میں سے ووٹنگ میں حصہ لینے والوں کی تعداد) کا امکان ہے۔

    کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران لوگوں کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ووٹنگ کے عمل کے دوران وائرس کی منتقلی بڑھ سکتی ہے تو ماہرین کے مطابق شاید اس لیے کئی لوگوں نے قبل از وقت ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

    گذشتہ صدارتی انتخاب میں ٹرن آؤٹ 58.1 فیصد تھا جبکہ اس مرتبہ امید ہے کہ یہ 60 فیصد سے آس پاس ہوسکتا ہے۔ سب سے زیادہ قبل از وقت ووٹ کیلیفورنیا میں ڈالے گئے ہیں۔ اس کے بعد ٹیکساس اور فلوریڈا کا نمبر آتا ہے۔

    پولز کے مطابق رپبلکن پارٹی کے مقابلے ڈیموکریٹک پارٹی ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو زیادہ ترجیح دیتی ہے۔

    صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ الیکشن کے روز ووٹرز کی ایک ’سرخ لہر‘ نکلے گی۔ شاید انھیں جیتنے کے لیے اسی لہر کی ضرورت پڑے۔۔۔

  16. لیڈی گاگا: ’جو کو ووٹ دیں، وہ ایک اچھے انسان ہیں‘

    گلوکارہ لیڈی گاگا انتخابی دن کے موقع پر مغربی پینسلوینیا میں جو بائیڈن کی انتخابی مہم میں شامل ہو گئی ہیں۔

    انھوں نے جو بائیڈن کے حمایتیوں کو بتایا: ’جو کو ووٹ دیں۔ وہ ایک اچھے انسان ہیں۔‘

  17. ڈونلڈ ٹرمپ یا جو بائیڈن: کس کی جیت پاکستان کے لیے بہتر ہو گی؟

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فیصلہ ساز اور اہم افراد بھی امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاباب میں اپنی اپنی پسند رکھتے ہیں لیکن 1980 کی دہائی کی طرح اب وہ حالات نہیں رہے جب پاکستان کی قدامت پسند سیاسی جماعتیں کھل کر رپبلکن صدارتی امیدواروں کی حمایت کیا کرتی تھیں۔

    لیکن منگل تین نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں خطے کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کے نزدیک ان دونوں امیدواروں میں سے پاکستان کے لیے بہتر کون ثابت ہوگا؟ جاننے کے لیے ہمارے ساتھی عمر فاروق کا مضمون پڑھیے۔

  18. امریکی صدر کا انتخاب درحقیقت کون کرتا ہے؟

  19. امریکی صدارتی انتخاب 2020: اہم معاملات پر جو بائیڈن کا کیا موقف ہے؟

  20. امریکی صدارتی انتخاب 2020: اہم معاملات پر صدر ٹرمپ کہاں کھڑے ہیں؟