آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ: صدارتی انتخاب کی کشیدہ رات، ٹرمپ مخالف مظاہرین سڑکوں پر

    امریکہ میں صدارتی انتخاب کا وقت ختم ہونے اور ووٹوں کی گنتی کے آغاز کے بعد ہی ٹرمپ مخالف مظاہرین نے واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا جو کشیدہ صورتحال میں تبدیل ہو گیا۔

    سینکڑوں مظاہرین نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں احتجاج کرتےہوئے آتش بازی کی اور نعرے بازی کی۔

    مظاہرین کی جانب سے ’اگر ہمیں انصاف نہیں ملا تو انھیں چین نہیں ملے گا‘ کے نعرے لگائے گئے۔

    این بی سی واشنگٹن کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر مظاہرین پر امن تھے تاہم وائٹ ہاؤس کے باہر سے چند جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جس کے بعد جھڑپ کے نتیجہ میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    سی بی ایس کی نمائندہ کرسٹیناروفنی نے ٹویٹ کیا کہ ’بظاہر چند سموک بم استعمال کیے گئے ہیں۔‘

    اس کے علاوہ لاس اینجلس، کیلی فورنیا، شمالی کیرولینا، پورٹ لینڈ، اوریگون اور نیو یارک سٹی سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہے۔

  2. کیا ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں میں فراڈ کا خدشہ ہے؟

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخاب سے قبل بھی ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹس پر بڑی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ فراڈ کا باعث بنتا ہے لیکن ان کے یہ تمام دعوی بغیر کسی ثبوت کے تھے۔

    امریکہ میں متعدد تحقیقی رپورٹس کے مطابق ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں فراڈ کا امکان 0.0009 فیصد سے بھی کم ہے۔

    ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جس کے تحت یہ پوسٹل بیلٹ محفوظ بنائے جاتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد پینسلوینیا کے گورنر ٹام وولف نے ٹویٹ کی کہ ان کی ریاست میں دس لاکھ پوسٹل ووٹ گننے باقی ہیں اور وہ اپنی عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ایسا ہی ہوگا۔

  3. صدر ٹرمپ کے خطاب پر رپبلکنز، قدامت پسند تجزیہ نگاروں کی تنقید

    امریکہ میں کئی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے جہاں لاکھوں ووٹوں کو ابھی شامل کرنا ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے خطاب میں دعوی کیا ہے کہ وہ الیکشن جیت گئے ہیں۔

    ان کے اس بیان کے بعد رپبلکن جماعت کہ اراکین اور کئی قدامت پسند ماہرین نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور صدر کے خطاب پر خدشات کا اظہار کیا۔

    اے بی سی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے مشیر اور سابق گورنر نیو جرسی کرس کرسٹی نے صدر ٹرمپ کی تقریر کو غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمت عملی کے طور پر اور بطور صدر، دونوں طرح یہ تقریر نامناسب تھی۔

    سابق رپبلکن سینیٹر رک سینٹورم نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے خطاب سے ’بہت پریشان‘ ہیں۔ انھوں نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فراڈ کا لفظ استعمال کرنا میرے خیال میں غلط تھا۔‘

    قدامت پسند تجزیہ نگار بین شپیرو نے بھی ٹویٹ میں تبصرہ کیا کہ ’صدر ٹرمپ کا خطاب بہت غیر ذمہ دارانہ تھا۔‘

  4. امریکہ میں نتائج کا انتظار اور مظاہرے

  5. امریکی ریاست نیبراسکا ایک غیرمعمولی انتخابی معرکہ

    کنزرویٹو ریاست نیبراسکا ایک غیر معمولی انتخابی معرکہ ثابت ہوئی ہے۔ یہاں ایک ایسی صورتحال بن گئی ہے جہاں ریاست یا اس کا ایک حصہ یہ فیصلہ کرے گا کہ امریکہ کا اگلا صدر کون ہو گا۔

    اب تک کے متوقع نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو یہاں برتری حاصل ہے لیکن حیران کن طور پر ان کے حریف جو بائیڈن بھی یہاں سے پانچ الیکٹورل ووٹوں میں سے ایک حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    ایسا اس لیے ہے کہ کیونکہ نیبراسکا امریکہ کی 50 میں سے ان دو ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں الیکٹورل کالج ووٹ کو ووٹنگ کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔

    جو بائیڈن متوقع طور پر اس ریاست کے ایک اہم ضلع ’ڈسٹرکٹ ٹو‘ سے جیت رہے ہیں۔ اس ضلع میں اس ریاست کا سب سے بڑا شہر اوماہا بھی شامل ہے۔

    اگر صدارتی انتخاب کا مقابلہ سخت ہوا اور اگر جو بائیڈن ایریزونا، وسکونسن اور مشی گن سے کامیابی حاصل کر لیتے ہیں اور پنسلوینیا سے ہار جاتے ہیں تو اوماہا سے جیت ان کے صدر بننے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

  6. بریکنگ, ’امریکی عوام کے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے، میرے نزدیک تو ہم الیکشن جیت چکے ہیں‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک وہ الیکشن جیت چکے ہیں۔

    ’امریکی عوام کے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے، میرے نزدیک تو ہم الیکشن جیت چکے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی جماعت مکمل طور پر جیت کی جانب گامزن تھی لیکن ان کے ساتھ اور امریکی عوام کے ساتھ فراڈ کیا جا رہا ہے جو کہ ’ہمارے ملک کے لیے باعث شرمندگی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ ان انتخاب کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے سپریم کورٹ میں جا رہے ہیں اور اس کے سلسلے میں وہ سپریم کورٹ سے رابطہ کریں گے۔

  7. نتائج جاننے کے لیے کن ریاستوں پر توجہ دینا ہوگی؟

    50 ریاستیں، کروڑوں ووٹ اور دو امیدوار۔

    فلوریڈا میں متوقع نتائج ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

    ایریزونا میں 1996 کے بعد سے رپبلکنز کو کبھی بھی جیت نہیں ملی اور دوسری جانب جو بائیڈن امید کر رہے ہیں کہ یہاں کہ کم عمر لاطینی ووٹرز انھیں ریاست میں جیت دلوا دیں۔

    وسکونسن اور پنسلوینیا: ان دونوں ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ گننا بھی شروع نہیں کیے ہیں اور ممکنہ طور پر اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

  8. بائیڈن منیسوٹا کی بدولت ایک مرتبہ پھر آگے

    ریاست منیسوٹا کے متوقع نتائج کے بارے میں میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ریاست ڈیموکریٹ امیدوار کا ساتھ دینے والی ہے۔

    منیسوٹا عموماً ڈیموکریٹ ریاست ہی رہی ہے اور 60 برس میں سوائے 1972 کے یہاں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ جماعت کے امیدوار جیتتے رہے ہیں۔

  9. بریکنگ, ٹرمپ پہلی بار دوڑ میں آگے نکل گئے, نیبراسکا میں ٹرمپ کے چار، بائیڈن کا ایک الیکٹورل ووٹ متوقع نتائج کے مطابق

    ریاست مونٹانا ووٹنگ کو دیکھتے ہوئے متوقع نتیجے کے تحت صدر ٹرمپ کے حصے میں گیا ہے۔

    اس ریاست میں 1968 سے لے کر آج تک صرف ایک بار رپبلکنز کو شکست ہوئی جب یہاں 1992 میں بل کلنٹن نے کامیابی حاصل کی تھی۔

    دوسری جانب نیبراسکا کی ریاست میں صدر ٹرمپ نے چار الیکٹورل ووٹس حاصل کر لیے لیکن 2016 کی نسبت اس بار یہاں کا ایک ای سی جو بائیڈن کے نام گیا ہے۔

    امریکہ کی 50 میں سے دو ریاستیں ایسی ہیں جہاں ای سی ووٹ کو ووٹنگ کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔

  10. بریکنگ, ٹوئٹر کا صدر ٹرمپ کی ٹویٹ پر انتباہی پیغام

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ووٹنگ کے بعد الیکشن کی رات کو کی جانے والی ایک ٹویٹ پر انتباہی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر’ اس میں صدارتی انتخاب کے متعلق غلط معلومات ہو سکتی ہیں۔‘

    ٹوئٹر نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ انتخاب سے متعلق مستند معلومات تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حریف جو بائیڈن کے امریکی ریاست ڈیلاویئر میں خطاب کے فوری بعد ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اطمینان رکھیں ابھی ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    ٹرمپ نے لکھا کہ ’ہمیں واضح اکثریت حاصل ہے لیکن یہ ہمارا الیکشن چوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم انھیں کبھی ایسا کرنے نہیں دیں گے۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹ نہیں ڈالے جا سکتے۔‘

    صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اکثر ووٹ ’چوری‘ کرنے کے بے بنیاد دعوے کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا وہ جلد خطاب کرنے والے ہیں۔

  11. ریاست ٹیکساس ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ

    الیکٹورل کالج میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ 38 ووٹ رکھنے والی ریاست ٹیکساس رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ دیتی دکھائی دے رہی ہے۔

    یہ کوئی انہونی نہیں کیونکہ گذشتہ 10 صدارتی انتخابات میں یہاں سے رپبلکنز ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ 2016 میں بھی ٹرمپ نے یہاں باآسانی فتح حاصل کی تھی۔

  12. رہوڈ آئی لینڈ بائیڈن کا حامی

    رہوڈز آئی لینڈ سے جو بائیڈن کی کامیابی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ امریکہ کی رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ریاست اور ڈیموکریٹس کا گڑھ تصور کی جاتی ہے۔ 1998 سے یہاں سے ہر الیکشن میں ڈیموکریٹ امیدوار ہی کامیاب ہوا ہے

  13. ایریزونا کے گورنر کا متوقع نتائج پر اختلاف

    امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز نے امریکی ریاست ایریزونا میں جوبائیڈن کی برتری کا اعلان کیا ہے مگر ریاست کے رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر ڈاؤگ ڈیوسے کا کہنا ہے کہ ’اتنی جلدی بھی کیا ہے۔‘

    امریکی ریاست ایریزونا کے گورنر کا رات گئے ٹویٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’کوئی بھی اعلان کرنے سے قبل ایک دفعہ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل کر لی جائے۔‘

    ابھی ریاست کے ایک چوتھائی ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے۔ سنہ 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ریاست سے صرف ساڑھے تین فیصد سے برتری حاصل کی تھی۔ تاہم اس مرتبہ ڈیموکریٹس یہاں سے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ یہاں کیا فیصلہ ہوتا ہے اس کے لیے لگتا ہے کہ ہمیں کچھ دیر اور انتظار کرنا ہوگا۔

  14. امریکی ریاست ایریزونا بائیڈن کے لیے امید کی کرن, انتھونی زورچر، بی بی سی نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    امریکی صدارتی انتخاب کے امیدوار جو بائیڈن کے لیے شمالی امریکہ کی بیشتر ریاستیں مثلاً فلوریڈا، جورجیا اور ٹیکساس سے جو اب تک موصول ہونے والے نتائج مایوس کن رہے ہیں لیکن ریاست ایریزونا جو بائیڈن کے لیے ایک امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔

    قبل از وقت انتخاب کے لیے ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ڈیموکریٹس کو یہاں سے واضح اکثریت حاصل ہے اور جو بائیڈن سنہ 2016 کے انتخاب کے اس ریاست سے نتائج بدلنے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

    اگر بائیڈن اس سرحدی ریاست سے اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ان کے صدارتی دفتر تک کا سفر کچھ کم مشکل ہو جائے گا۔

    ماضی میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے والی تین ریاستیں مشیگن، وسکونسن، پینسلوینیا، جو کہ ہلیری کلنٹن ہار گئی تھیں، میں سے اگر دو بھی بائیڈن کے حق میں چلی جاتی ہیں اور وہ اس کے علاوہ نیبراسکا اور میئن میں کامیابی حاصل کر لیں تو ان کی پوزیشن مستحکم ہو سکتی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایریزونا سے مقبول سینیٹر جان مکین کی وفات سے قبل سنہ 2018 میں عوامی سطح پر ان سے لڑائی مول لی تھی، جبکہ ان کی بیوہ نے رواں برس جو بائیڈن کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

    تاہم ٹرمپ نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایریزونا میں متعدد انتخابی ریلیوں کا انعقاد کیا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس بار یہ ریاست ڈیموکریٹس کے امیدوار جو بائیڈن کی حمایت میں سامنے آئے گی۔

  15. ایک اور ریاست ٹرمپ کے نام, آیووا کے عوام کا ایک بار پھر ٹرمپ پر اظہارِ اعتماد

    ریاست آیووا کے متوقع نتائج کے مطابق عوام نے یہاں ایک مرتبہ پھر ٹرمپ کو ووٹ دیا ہے۔

    یہ ریاست 1988 سے ڈیموکریٹس کو منتخب کرتی آ رہی تھی لیکن 2016 میں یہاں ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی اور اس مرتبہ بھی نتیجہ ان کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

  16. آخری ووٹ گنتی تک الیکشن جاری رہے گا: جو بائیڈن

    امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا ہے کہ آخری ووٹ کی گنتی تک صدارتی انتخاب کا محاذ گرم رہے گا۔

    امریکی ریاست ڈیلاویئر میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن نے اپنے حامیوں کا حوصلہ بڑھایا

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم درست سمت میں جا رہے ہیں اور یہ صدارتی انتخاب ہم ہی جیتیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ وقت لگ رہا ہے اور لگے گا۔ شاید بات کل صبح تک جائے یا شاید اس سے بھی آگے۔ لیکن ہم جہاں ہیں اس صورتحال پر خوش ہیں۔‘

  17. بریکنگ, فلوریڈا صدر ٹرمپ کے نام

    ریاست فلوریڈا نے جس پر سب کی نظریں جمی تھیں، اس الیکشن کے متوقع نتائج کے مطابق صدر ٹرمپ کا ساتھ دیا ہے۔ 29 الیکٹورل ووٹوں والی یہ ریاست ماضی میں صدارتی انتخاب میں فیصلہ کن رہی ہے۔

    2000 میں اسی ریاست کی مدد سے جارج ڈبلیو بش وائٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ چار برس قبل اس ریاست نے ٹرمپ کو منتخب کیا تھا لیکن اس سے قبل دو مرتبہ اوباما کے لیے ووٹ دیا تھا۔

  18. بریکنگ, 50 میں سے 34 ریاستوں کے متوقع نتائج جاری, اوہایو اور آئیڈاہو ٹرمپ کے، ورجینیا بائیڈن کے حصے میں

    امریکہ کے صدارتی انتخاب میں مزید تین ریاستوں کے متوقع نتائج سامنے آنے کے بعد اب 50 میں سے 34 ریاستوں کے ایسے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

    ان تین ریاستوں میں سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اوہایو اور آئیڈاہو میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اوہایو کا نتیجہ اس لیے اہم ہے کیونکہ گذشتہ 200 سالوں میں اس ریاست سے جیتنے والا امیدوار صدارتی انتخاب جیتا ہے۔

    ورجینیا کی ریاست متوقع طور پر ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کے پاس چلی گئی ہے جس کی مدد سے وہ مزید 13 الیکٹورل ووٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

  19. امریکی صدارتی انتخاب: ’توقع سے زیادہ سخت مقابلہ ثابت ہوا‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ انتخابی مہم کے مشیر برائن لانزا کا کہنا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب واضح طور پر توقع سے زیادہ سخت مقابلہ ثابت ہوا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کی سابقہ انتخابی مہم کے مشیر کا کہنا تھا کہ چاہے سنہ 2000 میں انتخاب کا فیصلہ ایک امریکی ریاست فلوریڈا نے طے کیا تھا مگر اس مرتبہ شاید اس مرتبہ جیت میں پانچ ریاستیں اپنا کردار ادا کریں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آخر کا ہم اس سے زیادہ کڑا مقابلہ دیکھ رہے ہیں جس کی پیش گوئی سیاسی پنڈتوں اور پولز میں کی گئی تھی، اور ہمیں اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی حق میں یہ بات جاتی ہے کہ انھوں نے تمام تر غیرضروری باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی توجہ صرف جیت کے لیے کیا کرنا چاہیے پر مرکوز رکھی ہے۔‘

  20. امریکی صدارتی انتخاب: کس امیدوار کی یقینی جیت کہاں متوقع ہے؟

    امریکی انتخاب میں ڈیموکریٹک اور رپبلکن جماعتوں کی اپنی اکثریتی ریاستیں ہوتی ہیں جہاں سے ان کی کامیابی عمومی طور پر یقینی ہوتی ہے۔ لیکن انتخاب میں جیت کا سارا دار و مدار سوئنگ سٹیٹس یعنی کڑے مقابلے والی ریاستوں پر ہوتا ہے۔

    جو بائیڈن کی 14 ریاستوں میں جیت متوقع ہے۔ وہ ریاستیں مندرجہ ذیل ہیں:

    ورمونٹ، ڈیلاوئیر، میری لینڈ، میساچیوسٹس، نیو جرسی، نیو یارک، کنکٹیکٹ، کولوراڈو، نیو میکسیکو، نیو ہیمپشائر، الےنوائے، کیلیفورنیا، اوریگن، واشنگٹن، اور واشنگٹن ڈی سی

    صدر ٹرمپ کی کل 17 ریاستوں میں جیت متوقع اور وہ مندرجہ ذیل ہیں:

    انڈیانا، کنٹکی، اوکلاہوما، ٹینیسی، مغربی ورجینیا، آرکنساس، جنوبی ڈکوٹا، شمالی ڈکوٹا، الاباما، جنوبی کیرولینا، نیبراسکا، نیبراسکا تھرڈ ڈسٹرکٹ، یوٹاہ، میزوری، کنساس، وئیومنگ، مسی سسیپی دیگر ریاستیں کڑے مقابلے یعنی سوئنگ سٹیٹس ہیں۔