آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. نائب صدر کی ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کون ہیں؟

    امریکہ میں رواں برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹ جماعت کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے نائب صدر کے امیدوار کے لیے سینیٹر کملا ہیرس کا انتخاب کیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی سیاہ فام خاتون کو بطور امیدوار اس عہدے کے لیے چنا گیا ہے۔ کملا ہیرس کے بارے میں جاننے کے لیے دیکھیے یہ ویڈیو۔

  2. روسی سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے بائیڈن کی مخالفت

    روس کے سرکاری ذرائع ابلاغ ’آر ٹی‘ نے امریکی صدارتی انتخاب 2020 کی ابتدائی مہم سے لے کر اب تک جو بائیڈن کی مخالفت کی ہے۔

    3 نومبر کو انتخاب کے روز سے قبل بھی تمام ایسے ٹویٹ اور تجزیے شائع کیے گئے جو بائیڈن کے خلاف ہیں۔

    آر ٹی کے ادارتی صفحوں پر امریکی انتخاب سے متعلق 30 سے زیادہ تحاریر میں سے صرف چند ایک میں ٹرمپ پر تنقید کی گئی۔

    ایک تحریر میں بائیڈن پر روسی اسلحے کے معاہدے کی پیشکش کو مسترد کرنے پر تنقید کی گئی جبکہ دو میں روس اور چین کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے پر بائیڈن کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔

    لیکن بعض تحاریر میں ٹرمپ اور بائیڈن دونوں پر تنقید کی گئی۔ ان میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی صدارتی نظام بدانتظامی کا شکار ہے۔

    روسی سرکاری ذرائع ابلاغ میں اکثر خبروں میں ڈیموکریٹک پارٹی اور بائیڈن دونوں کی مخالفت کی گئی ہے۔

  3. میلانیا ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنا ووٹ ڈال دیا

    امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا کی کاؤنٹی پام بیج میں اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ہے۔

    جب صحافیوں نے پوچھا کہ انھوں نے ایک ہفتہ قبل اپنے شوہر کے ساتھ ووٹ کیوں نہیں ڈالا تو انھوں نے بتایا: ’آج الیکشن کا دن ہے، تو میں آج یہاں آ کر اپنا ووٹ کاسٹ کرنا چاہتی تھی۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر اور ان کی اہلیہ نے ایک برس قبل ہی نیویارک سے اپنی رہائش کو فلوریڈا منتقل کیا ہے۔

  4. ’کورونا کا شکار افراد بھی پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ ڈال سکتے ہیں‘

    امریکہ میں وبائی امراض کی روک تھام اور بچاؤ کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق ایسے ووٹرز جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، وہ بھی پولنگ سٹیشن جا کر اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

    ایسے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ پولنگ سٹیشن پہنچنے پر انتحابی عملے کو یہ بتائیں کہ ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور مندرجہ ذیل اقدامات کریں:

    • ماسک پہنیں
    • دوسروں سے کم از کم چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں
    • ووٹ ڈالنے سے پہلے اور بعد میں اپنے ہاتھ دھوئیں یا سینیٹائر کا استعمال کریں
    • اپنے دائرہ اختیار میں ووٹ ڈالنے کے متبادل پر غور کریں جس سے رابطہ کم سے کم ہو
    • کوشش کریں کہ کم رش کے اوقات میں ووٹ ڈالیں
    • اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس ووٹ ڈالنے کے لیے تمام متعلقہ دستاویزات ہوجود ہوں تاکہ آپ کو زیادہ دیر پولنگ سٹیشن پر رکنا نہ پڑے۔
  5. کیا آپ بائیڈن کے چہرے والا ماسک یا ٹرمپ کی حمایت والی ٹوپی پہن کر ووٹ ڈال سکتے ہیں؟

    صدارتی امیدوار بائیڈن کے چہرے والا ماسک یا ٹرمپ کی حمایت والی ٹوپی انتخابی مہم کی مشہور علامتیں بن گئی ہیں لیکن کسی پولنگ سٹیشن میں یہ پہن کر داخل ہوتے ہوئے آپ کو احتیاط برتنا ہو گی۔

    ہر ریاست کے پولنگ سٹیشنز کے قریب سیاسی مہم چلانے کے اپنے قوانین ہیں، جن کے مطابق پوسٹرز، پلے کارڈز اور رائے دہندگان کو متاثر کرنے کی کوئی کوششوں پر پابندی ہے۔

    مثال کے طور پر 15 ریاستیں ایسی ہیں جو مہم کا لباس پہننے پر پابندی عائد کرتی ہیں۔

    ان پابندیوں کا اطلاق پولنگ سٹیشن سے ایک مقررہ فاصلے پر ہوتا ہے اور ہر ریاست میں مختلف قوانین ہیں۔

  6. ٹرمپ یا بائیڈن، رائے عامہ کے جائزے کیا کہتے ہیں؟

    رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکہ کے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ لیکن یہ جائزے کتنے معتبر ہیں؟ بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں ہمارے ساتھی خالد کرامت نے نیو یارک میں موجود صحافی سلیم رضوی سے اس بارے میں بات کی۔۔۔

  7. انتخاب کے دن امریکہ میں کیا صورتحال؟

    کروڑوں امریکی منگل کی صبح تین نومبر کو ووٹنگ کے لیے جمع ہوں گے جہاں وہ ملک کی 59 ویں صدارتی انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    نو کروڑ امریکی انتخاب کے دن سے پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔

    انتخاب کے دن امریکہ میں کیا صورتحال ہے، اس بارے میں واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار ونیت کھرے نے ہمارے ساتھی خالد کرامت سے بات کی۔۔۔

  8. اسقاط حمل، منشیات سے متعلق فیصلے بھی ووٹرز کو کرنے ہیں

    امریکی صدارتی انتخاب کے دوران ووٹرز اپنی ریاست میں کچھ اہم فیصلوں کے حوالے سے بھی اپنی رائے دیں گے۔ بیلٹ پیپر پر ووٹرز سے مقامی یا ریاستی سطح پر کچھ زیر غور قوانین کے حوالے سے پوچھا جا رہا ہے۔

    ووٹرز کے سامنے کچھ اہم سوالوں میں سے کچھ یہ ہیں:

    • اوریگن میں ووٹرز سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا ہیروئن اور کوکین جیسی سخت منشیات کو کم مقدار میں رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
    • کئی ریاستوں میں ووٹرز سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا بھنگ کو تفریحی اور طبی دونوں مقاصد کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیے۔
    • اسقاط حمل کے حقوق بھی زیر غور ہیں۔ کولوراڈو میں ایک زیر غور قانون کے مطابق 22 ہفتوں بعد اسقاط حمل پر پابندی ہوگی۔ صرف اس کی تب اجازت ہوگی اگر حاملہ خاتون کی زندگی کا معاملہ ہو۔
  9. امریکی صدارتی انتخاب کو سمجھنے کا آسان طریقہ

    اگر آپ امریکی صدارتی انتخاب 2020 کو آسان الفاظ میں سمجھنا چاہتے ہیں تو صرف یہ چار باتیں جان لیں:

    • امریکہ میں صدارتی نظامِ حکومت ہے۔ یہاں دو جماعتیں نمایاں رہتی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن جبکہ رپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
    • ہر چار سال بعد نئے صدر کے لیے الیکشن ہوتے ہیں۔ اس صدارتی انتخاب کی ووٹنگ میں صرف 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگ حصہ لے سکتے ہیں۔
    • دونوں امیدوار الیکٹورل کالج کی بنیاد پر الیکشن لڑتے ہیں۔ ہر ریاست میں آبادی کے لحاظ سے الیکٹورل کالج قائم کیے جاتے ہیں۔ کل 538 میں سے صدر بننے کے لیے کم از کم 270 الیکٹورل کالجز میں فتح درکار ہوتی ہے۔
    • ساری توجہ ٹرمپ اور بائیڈن پر مرکوز ہے لیکن ووٹر درحقیقت اپنے علاقے میں کانگریس کے اراکین کو بھی چُن رہے ہوتے ہیں۔
  10. امریکہ میں صدارتی انتخاب کیسے ہوتے ہیں؟

    امریکہ کے صدر کا انتخاب براہ راست امریکی ووٹر نہیں کرتے، بلکہ ’الیکٹورل کالج‘ کے نام سے جانے والے ممبروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے، جانیے اس ویڈیو میں

  11. نیویارک میں ووٹنگ جاری لیکن لوگوں کا رش نہیں

    نیویارک میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے تاہم سینٹ فرانکس کالج کے پولنگ سٹیشن میں ووٹرز کی قطاریں نظر نہیں آئیں۔

    قبل از وقت انتخاب نیویارک میں خاصا مقبول رہا اور تقریباً دس لاکھ افراد نے ووٹ ڈالا اور شاید یہاں رش نظر نہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔

  12. پنسلوینیا میں جو بائیڈن کا خطاب: گھر آ کر اچھا لگا

    امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے منگل کو یعنی الیکشن کے روز پنسلوینیا میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا ہے۔

    اس دوران وہ لوگوں سے ڈیموکریٹنگ پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اختتامی اپیل کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں گھر واپس آکر اچھا لگ رہا ہے۔ ’مڈل کلاس نے یہ ملک بنایا، والسٹریٹ نے نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ قدامت پسندوں کے مظاہرے دیکھ کر انھوں نے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ امریکہ کو متحد کیا جاسکے۔

    پنسلوینیا بھی ان سوئنگ سٹیٹس (کڑے مقابلے والی ریاستوں) میں سے ہے جہاں اندازوں کے مطابق بائیڈن کو برتری حاصل ہے۔ سنہ 2016 میں یہاں سے ٹرمپ نے 0.7 فیصد سے برتری حاصل کی تھی۔

  13. ڈونلڈ ٹرمپ:’سب سے مشکل ملک امریکہ ہے‘

    صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت پر بات کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آپ کو ایسے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو آنکھوں میں دھول جھول سکتے ہیں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے نزدیک روس، چین یا شمالی کوریا میں سب سے زیادہ مشکل ملک کون سا ہے تو انھوں نے کہا ’سب سے مشکل ملک امریکہ ہے۔‘

    اس انٹرویو میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس وقت ہی فتح کا اعلان کریں گے جب نتائج واضح ہوں گے۔

  14. کینیڈا کے شہری ’ووٹ نہ ڈالیں‘

    امریکہ میں صدارتی انتخاب کی گہما گہمی کے دوران کینیڈا کے ایک مزاحیہ ٹی وی شو نے اپنے شہریوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ ’ووٹ مت ڈالیں۔‘

    یہ اس لیے کہ امریکی الیکشن میں کینیڈین شہری حصہ نہیں لے سکتے۔ شو میں کہا گیا کہ ’آپ کینیڈین ہیں، یاد ہے نا؟

    ’ہر نیوز چینل اور رپورٹر کہہ رہا ہے کہ آپ کے ووٹ معنی رکھتے ہیں۔ لیکن ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔‘

  15. سوشل میڈیا پر ٹرمپ اور بائیڈن کی مہم جاری

    امریکہ میں صدارتی انتخاب کے روز ریلیاں تو ختم ہوگئی ہیں لیکن سوشل میڈیا پر دونوں بڑے امیدواروں کی جانب سے تشہیری مہم جاری ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ’ووٹ! ووٹ! ووٹ!‘ کہہ کر اپنے حامیوں کا حوصلہ بڑھایا ہے۔

    جبکہ بائیڈن نے لکھا کہ ’اب بات یہاں آپہنچی ہے۔‘

  16. ٹرمپ کے مطابق وہ کڑے مقابلے والی تمام ریاستوں میں ’جیت جائیں گے‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو فاکس نیوز پر اپنے ایک پسندیدہ پروگرام پر انٹرویو دیا ہے۔

    اس میں وہ گذشتہ دنوں کئی ریلیوں کے باعث کچھ تھکے ہوئے محسوس ہوئے۔ ٹرمپ پُراعتماد ہیں کہ وہ بائیڈن کو آسانی سے ہرا دیں گے۔

    انھوں نے فون پر اس انٹرویو کے دوران کہا کہ ’ہم بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں۔۔۔ مجھے لگتا ہے ہم جیت جائیں گے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ تمام سوئنگ سٹیٹس (کڑے مقابلے والی ریاستوں) میں جیت جائیں گے۔ ان میں فلوریڈا، ایریزونا، شمالی کیرولائنا اور پنسلوینیا شامل ہیں۔

    ان کے مطابق ’ہمیں لگتا ہے کہ ہم ہر جگہ اچھے جا رہے ہیں۔‘

    تاہم انھوں نے اعتراض کیا کہ فاکس نیوز نے رواں انتخاب میں ان کی حمایت اس طرح نہیں کی جیسی 2016 میں کی تھی۔ ’پچھلی مرتبہ کے مقابلے اس بار یہ فرق ہے۔‘

  17. آئین اور معاشرتی رویّوں کے اعتبار سے کیا امریکہ واقعی آزاد ہے؟

    امریکی سیاست میں ایک روایت ہے، اقتدار کی پرامن منتقلی۔ کوئی ہارے یا جیتے، وہاں صدارتی انتخاب کے تناظر میں بغاوتیں نہیں ہوتیں۔

    ہاں عدالتیں انتخاب کے نتائج تعین کرنے میں ملوث ہو سکتی ہیں یا نتائج میں تاخیر ہو سکتی ہے مگر امریکی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر ایک صدر نے انتخاب سے قبل اقتدار کی پرامن منتقلی کی گارنٹی دینے سے انکار کیا ہے۔

    امریکہ میں ریاستی ادارے کافی مضبوط ہیں اور اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ ملک میں انتخاب کے نتائج کے بعد بغاوت ہو جائے مگر جس بات پر بہت سے لوگ اتفاق کریں گے وہ یہ ہے کہ اگر صدر ٹرمپ ہارتے ہیں تو ملک میں ان کی ووٹر بیس پرتشدد مظاہرے کر سکتی ہے۔

  18. جو بائیڈن اور ان کا خاندان منگل کو گرجا گھر گیا

    امریکہ کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے منگل کی صبح ڈیلاویئر میں اپنے خاندان کے ہمراہ ایک مقامی گرجا گھر کا دورہ کیا ہے۔

    یہاں قبرستان میں بائیڈن کی پہلی اہلیہ اور بیٹی دفن ہیں جو 1972 کے ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔

    بائیڈن کے ایک بیٹے کی قبر بھی یہاں ہے جن کی موت 2015 میں 46 سال کی عمر میں دماغ کے کینسر سے ہوئی تھی۔

    بائیڈن کے والدین کی قبریں بھی یہیں پر ہیں۔

  19. کیا رائے شماری کے اندازے قابلِ بھروسہ ہیں؟

    تمام نظریں امریکی صدارتی انتخاب پر مرکوز ہیں اور بہت سے لوگ مختلف سروے اور رائے شماری کی مدد لیں گے یہ جاننے کے لیے کہ اگلا امریکی صدر کون ہوگا؟

    لیکن 2016 کے صدارتی انتخاب میں رائے شماری کرنے والوں کو اس وقت دھچکا لگا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو شکست دے دی۔ کیا اُس وقت رائے شماری غلط ہوئی تھی، اور اگر ایسا ہے تو کیا حالیہ انتخاب میں سروے اور رائے شماری پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟

  20. ’ہینڈ سینیٹائزر بیلٹ پیپر کو خراب کر سکتے ہیں‘

    کورونا وائرس کی وبا کا امریکہ کے صدارتی انتخاب پر گہرا اثر ہے لیکن آج جب لوگ اپنا ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں تو یہ وائرس ایک اور انداز میں بھی اس الیکشن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    امریکہ کے وبائی امراض کے کنٹرول اور بچاؤ کے ادارے (سی ڈی سی ) نے خبردار کیا ہے کہ ایسے سینیٹائزر جن میں الکوحل شامل ہے، بیلٹ پیپر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بیلٹ پیپر جو سینیٹائزر سے گیلے ہیں وہ زیادہ آسانی سے ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتے ہیں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں پھنس سکتے ہیں۔

    سی ڈی سی کے مطابق ووٹرز کے لیے پولنگ سٹیشنز پر ہینڈ سینیٹائزر موجود ہوں گے تاہم ووٹرز پر زور ڈالا گیا ہے کہ وہ بیلٹ پیپر کو پکڑنے سے پہلے اس بات کی یقین دہانی کر لیں کہ ان کے ہاتھ خشک ہیں۔