آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کے لیے جارجیا میں جیت برقرار رکھنا کیوں ضروری ہے؟

    ہمیں کب معلوم ہو گا کہ جارجیا میں کون جیتا اور یہ نتیجہ اہم کیوں ہے؟

    سنہ 2016 میں ٹرمپ نے اس ریاست میں پانچ پوائنٹس کی برتری سے فتح حاصل کی تھی۔ اس ریاست میں ڈیموکریٹس کو آخری مرتبہ سنہ 1992 میں فتح حاصل ہوئی تھی جب بِل کلنٹن یہاں سے جیتے تھے۔ اب سنہ 2020 میں اس ریاست میں پھر مقابلہ ہے۔

    زیادہ تر مبصرین کے خیال میں جارجیا وہ ریاست ہے جس کے 16 ایلیکٹورل کالج ووٹ بائڈن سے زیادہ ٹرمپ کے لیے اہم ہیں۔ بائڈن اگر یہ ریاست جیت جاتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو گی لیکن اندازوں کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو بائڈن کے لیے صدر کا انتخاب جیتنے کے اور بھی راستے کھلے ہیں۔

    ’ٹرمپ نے اتوار کو جارجیا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کو معاشی مندی اور معاشی ترقی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس ریاست پر ریپبلیکن گرفت کمزور ہوئی ہے۔ جو بائڈن کو امید ہے کہ سیاہ فام اور مضافاتی علاقوں کے ووٹر وہ دو گروپ ہیں جو انھیں اس ریاست میں جتوا سکتے ہیں۔

    اس صدارتی انتخاب میں جارجیا میں قبل از وقت ووٹنگ کی شرح نے ماضی کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور سنہ 2016 کے مقابلے میں زیادہ ووٹ پڑنے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ اس ریاست کے نتائج رات کے دوران سامنے آ جائیں گے لیکن یہاں ماضی میں ووٹنگ سے متعلق مسائل رہے ہیں۔ ایک خاندان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ انھیں ووٹ ڈالنے کے لیے 11 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔

  2. بریکنگ, مغربی ورجینیا میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی متوقع

    اب تک دس ریاستوں کے متوقع نتائج سامنے آئے ہیں جن کے مطابق صدر ٹرمپ کے 42 الیکٹورل ووٹ جبکہ ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کے 44 الیکٹورل ووٹ ہیں۔

    مغربی ورجینیا وہ تازہ ترین ریاست ہے جہاں صدر ٹرمپ کی کامیابی متوقع ہے۔

  3. قومی ایگزٹ پولز کیا بتاتے ہیں؟

    امریکہ میں قومی ایگزٹ پولز یعنی ووٹنگ کے بعد کی عوامی رائے شماری کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 35 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کورونا کا بہت بری طرح مقابلہ کیا جبکہ تقریباً 30 فیصد کا کہنا ہے کہ یہ کارکردگی مناسب رہی ہے۔

    اس عوامی ایگزٹ پول کے مطابق اب تک پانچ اہم مسائل میں سے سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ اس ایگزٹ پول کے مطابق دوسرا بڑا مسئلہ نسلی امتیاز، تیسرا مسئلہ کورونا وائرس، چوتھا مسئلہ جرائم اور شہری تحفظ اور پانچواں مسئلہ صحت کا قرار دیا گیا ہے۔

    قومی ایگزٹ پول میں 45 فیصد سے زیادہ امریکی عوام نے انتخابی عمل پر انتہائی بھروسے اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ صرف پانچ فیصد سے کم افراد کو انتخابی عمل پر بالکل بھی اعتماد نہیں ہے۔

  4. بریکنگ, امریکی ریاست ٹینیسی میں ٹرمپ کی کامیابی متوقع

    اب تک امریکہ میں نو ریاستوں کے متوقع نتائج سامنے آئے ہیں جس کے مطابق صدر ٹرمپ کے 37 اور جو بائیڈن کے 44 الیکٹورل کالج ووٹ ہیں۔

    ٹینیسی وہ تازہ ترین ریاست ہے جہاں کے متوقع نتیجے کے مطابق صدر ٹرمپ کامیاب ہو جائیں گے۔

  5. بریکنگ, متوقع نتائج میں ابھی تک کسی ریاست نے 2016 کے نتائج سے پارٹی نہیں بدلی!

    تازہ ترین ایگزٹ پولز کے مطابق جو بائیڈن کی ریاست ڈیلاویئر، میری لینڈ، میساچیوسٹس، نیو جرسی اور دارالحکومت ڈسٹرک آف کولمبیا میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

    ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کی اوکلاہوما میں کامیابی متوقع ہے۔

  6. بریکنگ, 16 مزید ریاستوں میں پولنگ مکمل

    امریکہ کے صدارتی انتخاب 2020 میں مزید 16 ریاستوں میں پولنگ مکمل ہو چکی ہے۔ ان میں ایلاباما، کنیٹیکٹ، ڈیلاویئر، فلوریڈا، النائے، مین، میری لینڈ، میساچیوسٹس، میسیسپی، میزوری، نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، اوکلاہوما، پینسلوینا، روڈ آئی لینڈ اور ٹیناسی شامل ہیں۔

  7. بریکنگ, امریکی ریاست ورمونٹ میں جو بائیڈن کی کامیابی متوقع

    امریکی صدارتی انتخابات میں اب تک نو ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اب تک ریاست انڈیانا میں صدر ٹرمپ جبکہ ورمونٹ میں جو بائیڈن کی کامیابی متوقع ہے۔

    اس طرح اب تک متوقع نتائج کے مطابق صدر ٹرمپ کے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 11 جبکہ بائیڈن کے پاس الیکٹورل کالج میں تین ووٹ ہیں۔

  8. بریکنگ, اوہایو، شمالی کیرولائنا، مغربی ورجنیا میں بھی پولنگ مکمل

    اب تک امریکہ میں نو ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں تین تازہ ترین ریاستوں میں اوہایو، کیرولائنا اور مغربی ورجینیا شامل ہیں۔

  9. امریکی صدارتی انتخاب 2020 تصاویر میں!

  10. بریکنگ, چھ ریاستوں میں ووٹنگ ختم

    امریکہ میں چھ ریاستوں میں ووٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ ان میں انڈیانا، جارجیا، کینٹکی، جنوبی کیرولائنا، ورمونٹ اور ورجینیا شامل ہیں۔

    ریاست انڈیانا میں صدر ٹرمپ کی کامیابی متوقع ہے۔

    اندازوں کے مطابق جنوبی کیرولائنا اور کینٹکی کا فیصلہ صدر ٹرمپ کے حق میں ہونے کا امکان ہے اور ورمونٹ اور ورجینیا کا فیصلہ بائیڈن کے حق میں جانے کا امکان ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جارجیا کس کے حق میں فیصلہ دیتا ہے۔

    عام طور پر رپبلکن پارٹی کے حق میں جانے والی یہ ریاست اگر بائیڈن کے حق میں ووٹ دیتی ہے تو یہ بہت بڑا اپ سیٹ ہو گا۔

  11. بریکنگ, ڈونلڈ ٹرمپ کی ریاست انڈیانا میں کامیابی متوقع

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریاست انڈیانا میں کامیابی متوقع ہے۔

    یہ ریاست امریکی نائب صدر مائیک پینس کی آبائی ریاست ہے اور سابق امریکی صدر براک اوباما نے سنہ 2008 میں یہاں کانٹے کے مقابلے کے بعد فتح حاصل کی تھی۔ اس ریاست کے 11 الیکٹورل کالج ووٹ ہیں۔

  12. ووٹنگ کی شرح: کیا پچھلے ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں؟, لورا ٹریولین، بی بی سی ورلڈ نیوز امریکہ پریزنٹر

    امریکہ کے سنہ 2020 کے صدارتی انتخاب میں ووٹنگ کی شرح مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ قبل از وقت ووٹنگ کے ماہر اور یونیورسٹی آف فلوریڈا سے منسلک پروفیسر مائیکل میکڈونلڈ کا کہنا ہے کہ اوریگون وہ پانچویں ریاست ہے جہاں سنہ 2016 کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

    ٹیکساس، ہوائی، مونٹانا، اور واشنگٹن کے بعد اوریگن میں ووٹنگ کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ لوگوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے بہت جوش و خروش پایا گیا ہے۔ ان ریاستوں میں ہوائی، اوریگن اور واشنگٹن وہ ریاستیں ہیں جنھیں کانٹے کے مقابلے والی ریاستیں نہیں کہا جاتا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس انتخاب میں لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی اہمیت کو سمجھا جائے۔

    ٹیکساس اور مونٹانا وہ ریاستیں ہیں جہاں سینیٹ کے انتخابات میں بھی سخت مقابلہ ہوتا ہے۔

    10 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے قبل از ووٹنگ میں حصہ لیا اور کروڑوں افراد اس وقت اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔

  13. کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے کورونا کی وبا کے دوران 20 لاکھ لوگوں کی زندگی بچی؟

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدارت کے دوران اپنی بہت سی کامیابیاں گنوائیں۔ ہم پہلے بھی اپنے تجزیوں کے دوران دیکھ چکے ہیں کہ ان میں سے کچھ دعوے غلط ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔

    انھوں نے فاکس نیوز پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی وجہ سے کورونا کے 20 لاکھ مریضوں کی جان بچی تھی۔ لیکن ان کا یہ دعوی غلط ہے۔

    20 لاکھ کا نمبر مارچ میں امپیریل کالج لندن کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری سطح پر کسی طرح کے اقدامات نہ ہونے اور عوام کی طرف سے بھی کوئی تدبیر اختیار نہ کرنے کی صورت میں اتنی تعداد میں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

    امریکہ میں اب تک دو لاکھ تیس ہزار سے زیادہ لوگ کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

  14. انڈیانا اور کینٹکی کے کچھ حصوں میں پولنگ کا وقت ختم

    متعدد ریاستوں میں پولنگ کا وقت اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ کینٹکی، جہاں شام میں ووٹ کرنے والوں کی لمبی قطاریں نظر آ رہی تھیں، اور انڈیانا کے کچھ حصوں میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔

    یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں رپبلکن ریاستوں میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔

  15. بریکنگ, ملک بھر میں ہماری کارکردگی بہترین ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دو امریکی ریاستوں کے کچھ حصوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے فوراً بعد ایک ٹویٹ سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’ملک بھر میں ہماری کارکردگی بہترین ہے۔ شکریہ۔‘

    خیال رہے کہ ابھی صرف ریاست انڈیانا اور کینٹکی کے کچھ حصوں میں پولنگ بند ہوئی ہے۔

  16. بائیڈن کی نتائج میں تاخیر کی صورت میں حکمتِ عملی ’غیر واضح‘

    امریکہ میں پولنگ کا عمل جاری ہے اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اچھے نتائج کے لیے ’پرامید‘ ہیں۔

    تاہم ڈیموکریٹک امیدوار نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ اگر آج رات تک الیکشن کے نتائج کا اعلان نہیں کیا جاتا تو ان کی حکمتِ عملی کیا ہو گی۔

    بائیڈن نے اہم ریاست پینسلوینیا کے دورے سے اپنی آبائی ریاست ڈیلاویئر میں واپسی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت بہت کچھ ہو رہا ہے۔۔۔ ہم اس پر غور کریں گے۔‘

    ’اگر کچھ کہنے کے لیے ہوا تو میں کہہ دوں گا، اگر ایسا نہ ہوا تو میں اگلے روز ووٹوں کی گنتی کا انتظار کروں گا۔‘

    یہ تیسری مرتبہ ہے کہ جو بائیڈن صدارتی دوڑ میں شریک ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وہ دو بار صدر باراک اوباما کے نائب صدر کے طور پر منتخب ہو چکے ہیں۔

  17. نواڈا میں صحرائی گرمی اور سورج کی تپش میں ووٹنگ کے لیے قظار میں کھڑے ہونا آسان نہیں, جیمز کلیٹن، شمالی امریکہ میں نیکنالوجی رپورٹر

    میں آج لاس ویگس کے ایک پولنگ سٹیشن میں گیا جہاں لوگوں نے مجھے بتایا کہ انھیں ووٹ ڈالنے کے لیے ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔

    اس صحرائی علاقے میں سورج کی تپش میں ووٹ ڈالنے والوں کے لیے کسی سایہ کا انتظام نہیں تھا۔ لوگ پانی تقسیم کر رہے تھے۔ کچھ افراد تیاری کے ساتھ آئے تھے کیونکہ ان کے پاس چھتریاں تھیں۔ جن لوگوں سے بھی میری بات ہوئی ان سب نے کہا کہ چاہے جتنی بھی دیر لگے وہ ووٹ ڈال کر ہی جائیں گے۔

    منگل کی صبح لاس ویگس کی کلارک کاونٹی کی انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ انھیں کچھ تکنیکی مشکلات در پیش تھیں اس لیے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر ووٹنگ تاخیر سے شروع ہوئی۔

  18. بریکنگ, امریکہ میں واضح انتخابی نتیجے کی امید میں بازار حصص کا مثبت رد عمل

    امریکہ میں اس امید پر کہ صدارتی انتخاب کا فیصلہ واضح برتری سے ہو جائے گا ڈاؤ جونز کے دن کا اختتام 552 پوائنٹ کے اضافے پر ہوا۔ امریکی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک نے بھی الیکشن کے دن کے اختتام پر ایک اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ دیکھا۔

    این بی سی کے مطابق منگل کے دن کے یہ اعداد و شمار کسی بھی صدارتی انتخاب کے دن کا شیئر مارکیٹ کا دوسرا بہترین رزلٹ ہے۔

    ’سیونز رپورٹ‘ کے بانی ٹام ایسیئی کے مطابق مارکیٹ کے لیے واضح نیتجہ اہم ہوتا ہے اور اس ہفتے سب سے بڑا خطرہ سخت مقابلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاملہ عدالتوں تک جانے کی صورت میں مارکیٹ کے صورتحال بدل بھی سکتی ہے۔

    صدر ٹرمپ کی طرف سے انتخابی مہم کے دوران کئی بار انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھائے جانے اور بڑے پیمانے پر ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی مخالفت کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس میں ان کے اس بیان کو بھی دہرایا گیا کہ انتخابی نتائج کا فیصلہ منگل کی رات کو کر دیا جانا چاہیے حالانکہ ریاستوں کو نتائج کی تصدیق میں ہفتے بھی لگ جاتے ہیں۔

    این بی سی نے لکھا کہ مارکیٹ میں منگل کا مثبت نتیجہ صرف ایک ہفتے قبل ہی سات ماہ کی بد ترین کارکردگی کے بعد سامنے آیا ہے جب امریکہ میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے مریضوں اور یورپ سے لاک ڈاؤن کی خبروں کی وجہ سے ڈاؤ جونز میں 940 پوائنٹ کی کمی دیکھی گئی تھی۔

  19. امریکی صدارتی انتخاب پر کتنا خرچہ ہوتا ہے؟

    امریکی صدارتی انتخاب کی مہمات اصل انتخاب سے کئی سال پہلے شروع ہوجاتی ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے رواں سال یہ انتخابی مہمات مختلف طریقے سے چلائی گئیں، تاہم 3 نومبر کو ہونے والے انتخاب سے قبل بہت بھاری رقوم خرچ کی گئیں۔

    امریکی صدارتی انتخاب میں اندازاً کتنا خرچہ آتا ہے اور یہ خرچہ اٹھاتا کون ہے؟ جاننے کے لیے دیکھیے یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔

  20. بریکنگ, اگلے ایک گھنٹے میں پولنگ بند ہونا شروع ہو جائے گی

    امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں پولنگ کا عمل اگلے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں بند ہونا شروع ہو جائے گا۔ گرینچ وقت کے مطابق گیارہ بجے انڈیانا اور کنٹیکی میں پولنگ مکمل ہو جائے گی۔ یہ دونوں پہلی ریاستیں ہیں جہاں ووٹنگ کا سلسلہ مکمل ہو رہا ہے۔

    کانٹے کے مقابلے والی ریاستوں میں سے جارجیا وہ پہلی ریاست ہو گی جہاں ووٹنگ مکمل ہوگی اور اسی ریاست کے نتائج سب سے پہلے آنے کی توقع ہے۔

    اس کے آدھے گھنٹے کے بعد شمالی کیرولینا میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گا۔