آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کیا اوہایو ایک مرتبہ پھر صدارتی انتخاب میں کلیدی اہمیت اختیار کرے گا؟

    18 الیکٹورل ووٹ رکھنے والی اوہایو کی ریاست کا شمار امریکہ کے صدارتی انتخاب میں کڑے مقابلے والی ریاستوں میں ہوتا آیا ہے۔

    گذشتہ 14 انتخابات میں اوہایو میں جیتنے والا امیدوار ہی وائٹ ہاؤس پہنچا ہے۔

    2016 میں یہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 فیصد کے فرق سے فتح حاصل کی تھی لیکن اس مرتبہ یہاں زیادہ سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    اوہایو میں ووٹنگ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے ختم ہوئی اور اب تک 89 فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں جن میں سے ٹرمپ نے 53 جبکہ بائیڈن نے 45 فیصد ووٹ لیے ہیں۔

    ریاست میں ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی کی حتمی تاریخ 13 نومبر ہے تاہم الیکشن کی شب نہ گنے جانے والے ووٹوں کی کل تعداد بتائی جائے گی۔

  2. قومی ایگزٹ پولز کے مطابق سفید فام ٹرمپ جبکہ سیاہ فام امریکی جو بائیڈن کے حامی

    امریکہ میں قومی ایگزٹ پولز یعنی ووٹنگ کے بعد کی عوامی رائے شماری کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 50 فیصد سفید فام امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں جبکہ تقریباً 90 فیصد سیاہ فام امریکییوں کی حمایت جو بائیڈن کو حاصل ہے۔

    اسی طرح ان نتائج کے مطابق ہسپانوی یا لاطینی نژاد امریکی آبادی، ایشیائی اور دیگر نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد جو بائیڈن کی حمایت کر رہے ہیں۔

    جبکہ اگر نسلی اعتبار سے کیے گئے ایگزٹ پولز کا جائزہ لیں تو نتائج کے مطابق 60 فیصد سفید فام مرد جبکہ 50 فیصد سے زیادہ سفید فام خواتین ٹرمپ کی حامی ہیں جبکہ 90 فیصد سے زیادہ سیاہ فام خواتین جو بائیڈن کا ساتھ دے رہی ہیں۔

    اگر تعلیم یافتہ افراد کی رائے کا جائزہ لیا جائے 60 فیصد سے زیادہ ایسے سفید فام امریکی جو گریجویٹ نہیں ہیں وہ ٹرمپ کے حامی ہیں جبکہ پڑھے لکھے سفید فام افراد کی زیادہ تر تعداد جو بائیڈن کی حمایت کر رہے ہیں۔

    اسی طرح اگر مذہب کی بنیاد پر امریکی عوام کی رائے کا جائزہ لیا جائے تو پروٹسنٹ، ہوں، کیتھولک ہوں یا دیگر مسیحی ہو، وہ ٹرمپ کے حامی ہیں جبکہ کسی بھی مذہب کو نہ ماننے والے افراد جو بائیڈن کی حمایت کر رہے ہیں۔

  3. بریکنگ, امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج: تازہ ترین صورتحال

    اگر آپ نے ابھی امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج جاننے کے لیے ہماری ویب سائٹ کھولی ہے تو تازہ ترین صورتحال کچھ اس طرح ہے۔

    اب ہم امریکہ کی مغربی ریاستوں تک آ گئے ہیں اور توقع ہے کہ دونوں امیدوار 100 سے زیادہ الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔ 31 ریاستوں کے متوقع نتائج کے بعد جو بائیڈن 192 ای سی ووٹس حاصل کر چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ 114 ووٹس کے ساتھ ہیں۔

    صدر بننے کے لیے کم از کم 270 ای سی ووٹس کی ضرورت ہے اور اب ساری نظریں کڑے مقابلے والی ریاستوں پر ہیں جہاں ووٹ گنے جا رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کے لیے انتہائی اہم ریاست فلوریڈا میں تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور وہاں صدر ٹرمپ کو سبقت حاصل ہے۔

    تاہم دیگر اہم ریاستوں جیسے جارجیا، پینسلوینیا، وسکونسن، مشی گن، اوہایو اور شمالی کیرولائینا میں سخت مقابلہ ہے۔

    مِڈ ویسٹ اور رسٹ بلٹ، جس میں پینسلوینیا، مشی گن، آیوا، وِسکونسن اور اوہایو شامل ہیں، کسی بھی طرح جا سکتی ہیں۔

    ابھی پورے نتائج نہیں آئے ہیں لیکن بائڈن نے ایریزونا میں مضبوط سبقت حاصل کر لی ہے۔ اگر بائڈن ایریزونا میں جیت گئے تو یہ صدر ٹرمپ کا بڑا نقصان ہوگا کیونکہ یہ ریاست ریپبلیکن پارٹی کا مضبوط گڑھ رہی ہے۔

    تاہم سن بیلٹ کہلائے جانے والی ریاستوں میں سے ایک اہم ریاست ٹیکساس میں صدر ٹرمپ کے جیتنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    کانٹے کے مقابلے والی دو ریاستوں جارجیا اور شمالی کیرولائینا میں گنتی جاری ہے۔

    اگر صدر ٹرمپ کو دوبارہ منتخب ہونا ہے تو انھیں فلوریڈا اور پینسلوینیا میں کامیاب ہونا ہو گا۔ دیگر ریاستوں میں اب تک غیر متوقع نتائج سامنے نہیں آئے ہیں

  4. قومی ایگزٹ پولز کے مطابق جو بائیڈن کو نوجوانوں کی حمایت حاصل

    امریکہ میں قومی ایگزٹ پولز یعنی ووٹ ڈالنے کے بعد دی جانے والی رائے کے نتائج کے مطابق ملک کا نوجوان طبقہ جو بائیڈن کا حامی دکھائی دیتا ہے۔ اس پول کے مطابق 18 سے 29 برس کی عمر کے درمیان افراد جو بائیڈن کے حامی ہیں جبکہ قومی ایگزٹ پولز کے مطابق صرف 65 برس سے زیادہ عمر کے افراد ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں۔

    اسی طرح قومی ایگزٹ پولز کے مطابق کالج گریجویٹ یعنی تعلیم یافتہ افراد کی زیادہ تر تعداد جو تقریباً 60 فیصد ہے ڈیموکریٹس کے امیدوار جو بائیڈن کے حامی ہیں۔

    اسی طرح اگر قومی ایگزٹ پولز میں صنف کے اعتبار سے بات کی جائے تو تقریباً 50 فیصد مرد جو بائیڈن کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ ملک میں 55 فیصد سے زیادہ خواتین بھی جو بائیڈن کی حامی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں صرف چالیس فیصد خواتین کے ٹرمپ کی حق میں اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

  5. مزید چار امریکی ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم

    امریکہ کی چار مزید ریاستوں کیلیفورنیا، آئیڈاہو، اوریگن اور واشنگٹن میں پولنگ کا وقت خم ہو گیا ہے۔

    کیلیفورنیا، اوریگن اور واشنگٹن سے ڈیموکریٹس کو ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سب سے زیادہ 55 الیکٹورل ووٹ ہیں۔

    تاہم امریکی ریاست آئیڈاہو رپبلکن حامی ریاست ہے اور اس کی وجہ شاید پارٹی عہدیداروں کی بڑی تعداد کا تعلق یہاں سے ہونا ہے۔

  6. بریکنگ, امریکہ کی مغربی ریاستوں کے متوقع نتائج آنے شروع، بائیڈن کی ٹرمپ کے خلاف برتری میں اضافہ

    امریکہ کی مغربی ریاستوں میں متوقع نتائج آنے شروع ہو گئے ہیں اور کیلیفورنیا کے 55 الیکٹورل ووٹس ڈیموکریٹک پارٹی کو متوقع طور پر مل رہے ہیں۔

    ریاست اوریگن اور واشنگٹن بھی ڈیموکریٹک اکثریتی ریاستیں ہیں۔ اوریگن 1988 سے ڈیموکریٹک جماعت کے حق میں ووٹ ڈال رہا ہے۔

    ادھر صدر ٹرمپ نے مزید دو ریاستوں میں متوقع طور پر جیت حاصل کر لی ہے جن میں کنساس اور ویئومنگ شامل ہیں۔ کنساس نے گذشتہ 80 سالوں میں صرف ایک بار ڈیموکریٹس کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔

  7. امریکی ریاست شمالی کیرولینا سے رپبلکن کے 25 سالہ امیدوار کی کامیابی متوقع

    امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ میڈیشن کاؤتھون امریکی ریاست شمالی کیرولینا سے متوقع طور پر کامیاب ہو رہے ہیں۔

    اے پی کے مطابق امریکی ریاست شمالی کیرولینا کے جس نشت سے متوقع طور پر 25 سالہ میڈیسن کامیاب ہو رہے ہیں اسے ٹرمپ کے اہم ساتھ مارک میڈوز نے خالی کیا تھا۔

    میڈیسن نے رواں برس موسم گرما میں رپبلکن کنونشن سے بھی خطاب کیا تھا۔

  8. بریکنگ, 50 ریاستوں میں سے 26 کے متوقع نتائج جاری

    اب تک 26 ریاستوں کے متوقع نتائج سامنے آ چکے ہیں جن کے مطابق جو بائیڈن کو معمولی سبقت حاصل ہے۔

  9. امریکی ریاست آیووا صدارتی انتحاب کے لیے اہم کیوں ہے؟

    امریکی صدارتی انتخاب میں ریاست آیووا کیوں اہم ہے اور ہمیں کب علم ہو گا کہ یہاں سے کون کامیاب ہوا ہے۔

    سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست آیووا سے بڑی الیکٹورل تبدیلی کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔

    انھوں نے ڈیموکریٹس کی امیدوار ہیلری کلنٹن کو نو فیصد سے زیادہ ووٹوں سے ہرایا تھا۔ واضح رہے کہ اس ریاست سے پہلے دو مرتبہ باراک اوبامہ جیت چکے تھے۔

    ٹرمپ نے سنہ 2016 کے انتخاب میں آیووا کے چھ الیکٹورل ووٹ حاصل کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ریاست میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں گے۔

    اس بار بھی انتخابی پولز سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ کو ریاست میں معمولی برتری حاصل ہے لیکن نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور الیکٹورل ووٹ ڈیموکریٹس کے حق میں بھی جا سکتے ہیں۔

    قبل از انتخاب ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے اور انتخابی عملہ پر امید ہے کہ وہ شب تک نتائج کا اعلان کر سکے گے۔

    تاہم ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ نو نومبر کو پہنچیں گے اور ان کی گنتی بھی ہونا ہے۔

    ریاست آیووا میں اب سے کچھ دیر قبل ہی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا ہے۔

  10. بریکنگ, مزید تین ریاستوں کے متوقع نتائج صدر ٹرمپ کے نام، نیو ہیمپشائر کا متوقع نتیجہ بائیڈن کے حق میں

    تین مزید ریاستیں جن میں لوئیزیانا، یوٹاہ اور نیبراسکا متوقع طور پر صدر ٹرمپ کے نام ہو گئی ہیں۔ یہ نتائج حیران کن نہیں ہیں اور 2016 میں بھی یہ رپبلکن امیدوار نے ہی جیتی تھیں۔

    لوئیزیانا نے گذشتہ پانچ صدارتی انتخاب میں رپبلکنز کے حق میں ووٹ ڈالا ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے یوٹاہ میں 2016 انتخاب میں 46 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

    دوسری جانب نیو ہیمپشائر سے گنے جانے والے ووٹس کے مطابق ریاست کا متوقع نتیجہ جو بائیڈن کے حق میں جا رہا ہے جہاں سے وہ چار ای سی ووٹس حاصل کر لیں گے۔

  11. بریکنگ, نیو میکسیکو ریاست کے متوقع نتائج جو بائیڈن کے حق میں

    نیو میکسیکو ریاست کے پانچ ای سی ووٹس متوقع طور پر ڈیمو کریٹک امیدوار جو بائیڈن کے حق میں جا رہے ہیں۔

    ماضی میں یہ ریاست سوئنگ سٹیٹ کہلائی جاتی تھی تاہم حالیہ عرصے میں یہ ڈیموکریٹس کی جانب چلی گئی ہے۔ ہیلری کلنٹن نے 2016 میں یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی جہاں لاطینی ووٹرز نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔

  12. بریکنگ, ’صدر ٹرمپ امریکی قوم سے رات میں خطاب کریں گے‘

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سینیئر مشیر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ آج رات قوم سے خطاب کریں گے کیونکہ وہ اپنی طاقت کا اظہار کرنا اور اپنا بیانیہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ مشیر نے یہ سی بی ایس ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے۔

    ’جی ہاں صدر آج رات خطاب کریں گے۔ چاہے وہ اپنی جیت کا اعلان نہ بھی کریں انھیں اپنا بیانیہ پیش کرنا ہے۔‘

    مشیر نے کہا کہ صدر وائٹ ہاوس کے ایسٹ روم سے خطاب کریں گے۔

    کئی سینیئر مشیروں کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ’سرخ سراب‘ کی اصطلاح کے مسلسل استعمال کرنے پر صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں جھنجھلاہٹ *پائی جاتی ہے۔ سرخ سراب اس جانب اشارہ ہے کہ کئی ریاستوں میں جہاں یہ اندازے لگائے گئے ہیں کہ صدر ٹرمپ جیت رہے ہیں وہاں ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے ووٹوں کا حساب نہیں لگایا گیا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زیادہ تر ڈیموکریٹ ووٹ ہیں۔

    ریپبلیکن پارٹی کا رنگ لال ہے۔

    مشیر کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ صدر ٹرمپ آج رات کی صورتحال سے منہ نہیں موڑ سکتے اس لیے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔

  13. الیکشن کا دن مجموعی طور پر پُرسکون رہا

    صدارتی انتخاب سے پہلے امریکہ میں بندوقوں اور پستولوں کی فروخت میں اضافے کی وجہ سے بری طرح تقسیم ملک کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ تشدد اور امن و امان کی خراب صورتحال کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

    تاہم صرف چند ہی پولنگ سٹیشنوں اور سڑکوں پر کچھ واقعات کی اطلاعات سامنے آئیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق شکاگو میں ایک شخص نے پولیس کو بتایا کہ پولنگ سٹیشن کے قریب کچھ لوگوں نے ان کی گاڑی پر بیس بال کے بلوں سے حملہ کیا۔

    اس کے علاوہ شمالی کیرولائینا میں ٹرمپ کی ٹوپی پہنے ہوئے ایک شخص کو پولیس نے گرفتار کیا کیونکہ اس نے ایک ریلی میں شریک لوگوں کو دھمکیاں دی تھیں۔

    مجموعی طور پر امریکیوں کی اکثریت پرامن طور پر ووٹ ڈالنے کے لیے نکلی۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ اس لیے باہر نہیں نکلے کیونکہ وہ قبل از ووٹنگ میں حصہ لے چکے تھے۔ اس صدارتی انتخاب میں 10 کروڑ لوگوں نے الیکشن کے روز سے قبل ہی ووٹ ڈال دیا تھا۔

    ایف بی آئی ان آٹومیٹڈ کالز کی بھی تحقیق کر رہی ہے جنھیں غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

  14. چار مزید امریکی ریاستوں میں پولنگ کا عمل مکمل

    امریکہ کی چار ریاستوں آئیووا، مونٹانا، نیواڈا اور یوٹا میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ان ریاستوں میں سےآئیووا، نیواڈا اور یوٹا کے چھ چھ الیکٹورل ووٹ ہیں اور مونٹانا کے تین۔

  15. امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹرانس جینڈر سینیٹر منتخب

    امریکہ میں بی بی سی کے نشریاتی پارٹنر سی بی ایس اور خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی ریاست ڈیلا ویئر نے امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ٹرانس جینڈر کو بطور سینیٹر منتخب کیا ہے۔

    سارہ میکبرائڈ امریکہ کی تاریخ میں پہلی ٹرانس جینڈر ہوں گی جو بطور سینیٹر اپنی خدمات انجام دیں گی۔

    سارہ نے اوبامہ انتظامیہ کے ساتھ بطور انٹرن کام کیا تھا اور اس برس وہ ریاست ڈیلاویئر کے ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ضلع سے منتخب ہوئی ہیں۔

    وہ ایل جی بی ٹی افراد کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں اور ماضی میں انھوں نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ایڈوکیسی گروپ کے ساتھ بطور نیشنل پریس سیکرٹری بھی کام کیا ہے۔

    ایل جی بی ٹی وکٹری فنڈ کے مطابق اس وقت چار ایل جی بی ٹی افراد ریاست کے قانون سازی کے معاملات میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    وکٹری فنڈ کی صدر انیسے پارکر کا سارہ کی فتح پر کہنا تھا کہ ’یہ فتح بہت سے ایسے ٹرانس جینڈر افراد کو امید دے گی جو روشن مستقبل کے خواہاں ہیں۔‘

  16. بریکنگ, 18 ریاستوں کے متوقع نتائج جاری، جو بائیڈن کی کولوراڈو میں متوقع جیت

    ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے متوقع طور پر ریاست کولوراڈو میں جیت حاصل کر کے یہاں کے نو ای سی ووٹس حاصل کر لیے ہیں۔

    یہ ریاست سوئنگ سٹیٹس میں سے ایک ہے۔ گذشتہ تین انتخابات میں یہاں ڈیموکریٹس کی جیت ہوئی لیکن اس سے پہلے کے 40 سالوں میں یہاں رپبلکنز کی سبقت رہی ہے۔

    ادھر شمالی ڈکوٹا میں توقع ہے کہ صدر ٹرمپ ریاست کے تین ای سی ووٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ 1940 سے لے کر یہ ریاست رپبلکنز کا گڑھ رہی ہے اور اس عرصے میں صرف ایک ڈیموکریٹک امیدوار لنڈن جانسن نے یہاں کامیابی حاصل کی تھی۔

  17. امریکی صدارتی انتخاب میں ریاست ٹیکساس کیوں اہم ہے؟

    ہمیں کب علم ہوگا کہ امریکی ریاست ٹیکساس سے کون جیتا اور یہ اہم کیوں ہے؟

    امریکی ریاست ٹیکساس کی امریکی صدارتی انتخاب میں بہت اہمیت ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہاں کے 38 الیکٹورل ووٹ ہیں جو ریاست کیلیفورنیا کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔

    سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹس کی امیدوار ہیلری کلنٹن کو نو فیصد ووٹوں سے ہرا کر آسانی سے اس ریاست سے کامیاب ہوئے تھے۔

    یہ حیرانی کی بات نہیں تھی کیونکہ سنہ 1980 میں رونلڈ ریگن کی فتح کے بعد سے ٹیکساس نے ہمیشہ رپبلکن کے حق میں ووٹ کیا ہے۔

    تو پھر اس برس کے صدارتی انتخاب میں اس کی اتنی اہمیت کیوں؟

    زیادہ تر انتخابی پول میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیاب کی توقع کی گئی ہے لیکن ان میں سے چند ایک میں یا تو ان کو انتہائی معمولی برتری ہے حتیٰ کہ چند ایک میں تو جو بائیڈن کو آگے دکھایا گیا ہے۔

    دہائیوں میں پہلی مرتبہ اس ریاست میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔

    ریاست میں بڑھتی ہوئی لاطینی آبادی اور نوجوان ووٹروں کی بڑھتی تعداد دو ایسی وجوہات ہیں کہ ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ ریاست ان کے حق میں ووٹ دے گی۔

    ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کملا ہیرس کو یہاں انتخابی مہم کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

  18. بریکنگ, 16 ریاستوں کے متوقع نتائج سامنے آ گئے، جو بائیڈن آگے

    سنہ 1992 سے ڈیموکریٹس کے حق میں ووٹ ڈالنے والی ریاست کنکٹیکٹ متوقع طور پر اس بار بھی اسی ڈگر پر جا رہی ہے اور توقع ہے کہ یہاں کے سات ای سی ووٹس جو بائیڈن کو مل جائیں گے۔

    ادھر جنوبی ڈکوٹا کے تین ای سی ووٹس صدر ٹرمپ کے حق میں گئے ہیں۔ اس ریاست نے 1968 کے انتخاب سے لے کر آج تک صرف رپبلکن امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔

  19. بریکنگ, ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی نیو یارک سے جیت متوقع‘ آرکنساس صدر ٹرمپ کے نام

    صدر ٹرمپ کا خود تعلق نیو یارک کی ریاست سے ہے لیکن اس ریاست نے گذشتہ تین دہائیوں سے ڈیموکریٹک امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا جس کی بدولت ریاست کے 29 الیکٹورل کالج کے ووٹ حاصل کر لیے ہیں اور اب ان کی مجموعی تعداد 73 ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے آرکنساس میں متوقع طور پر جیت حاصل کر لی ہے جس کی مدد سے اب وہ 48 پر پہنچ گئے ہیں۔

  20. فلوریڈا کے ابتدائی نتائج

    فلوریڈا کے مشرقی علاقے سے تیزی سے نتائج آ رہے ہیں جن کے مطابق صدر ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائڈن کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

    پنیلاس کاؤنٹی جیسے علاقے میں جو بائڈن کی کارکردگی سنہ 2016 میں ہلری کلنٹن کی کارکردگی سے بہتر نظر آ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس کاؤنٹی سے ایک فیصد کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار یہاں سے 75 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد جو بائڈن کے صدر ٹرمپ کے 46 فیصد کے مقابلے میں 52 فیصد ووٹ ہیں۔

    بائڈن کے یہاں سے اب تک 248ّ620 ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے یہاں سے سنہ 2016 میں 239201 لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔

    اسی طرح میامی ڈیڈ کے علاقے میں جسے ڈیموکریٹک پارٹی کا علاقہ سمجھا جاتا ہے صدر ٹرمپ کو اب تک سنہ 2016 کے مقابلے میں زیادہ ووٹ مل رہے ہیں۔ یہاں جو بائڈن کو اب تک 45 فیصد کے مقابلے میں 54 فیصد سے برتری حاصل ہے جبکہ ان سے زیادہ بڑی لیڈ متوقع تھی۔

    امریکی صدارتی انتخاب میں فلوریڈا کا مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے اور اس بار بھی یہاں یہی رجحان نظر آ رہا ہے۔