آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ٹوئٹر اور فیس بک نے ٹرمپ کی پوسٹ پر متنبہ کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ’کھلے عام دھوکہ دہی کی اجازت دے گا‘ اور اس سے ’سڑکوں پر پُرتشدد واقعات بڑھیں گے۔‘

    فیس بک اور ٹوئٹر دونوں نے ان کے اس پیغام پر تنبیہ کے لیبل لگا دیے ہیں تاکہ صارفین کو بتایا جاسکے کہ ایسا درست نہیں۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹ اس وقت تک گنے جاسکیں گے جب تک انھیں الیکشن کے دن پر بھیجا گیا ہوگا۔

    ٹوئٹر نے اس پیغام کو ’گمراہ کن‘ قرار دیا ہے جبکہ فیس بک نے پوسٹ پر لکھا ہے کہ امریکہ میں ’ووٹر فراڈ بہت نایاب ہے۔‘

  2. امریکہ کا صدارتی انتخاب: آج رات کون جیت رہا ہے؟ کیا یہ جاننا ممکن ہے؟

    امریکہ کی کی مختلف ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے قواعد بھی مختلف ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف ریاستیں الگ الگ ٹائم پر اپنے نتائج کا اعلان کریں گی۔

    چند ریاستوں جیسے کہ فلوریڈا اور ایریزونا نے 3 نومبر سے ہفتوں قبل ہی بیلٹ پیپر پر کام شروع کر دیا تھا، اس کے برعکس وسکونسن اور پینسلوینیا نے ووٹوں کو الیکشن کے دن سے قبل چھوا بھی نہیں جس کا مطلب ہے کہ وہاں ووٹوں کی گنتی کا عمل سست ہو گا۔

    اس بارے میں الجھن میں مزید اضافہ کرنے کے لیے ڈاک کے ذریعے ووٹ کی وصولی کے لیے بھی ریاستوں میں ڈیڈ لائن مختلف ہے۔

    جیسے کہ جیارجیا میں تین نومبر تک یا اس سے پہلے وصول ہونے والے ووٹوں کو ہی گنتی میں شامل کیا جائے گا جبکہ ریاست اوہائیو میں 3 نومبر کی تاریخ تک پوسٹ کیے جانے والے تمام ووٹوں کو گنتی میں شامل کیا جائے گا۔

    ایسے میں ممکن ہے کہ کچھ ریاستوں کو اپنے نتائج مرتب کرنے میں ہفتوں کا وقت لگے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری سطح ہر اگلے صدر کا اعلان ہونے میں وقت لگے گا۔

  3. تصاویر: ووٹ ڈالنے کے لیے امریکی شہری پولنگ سٹیشن پہنچ گئے

    امریکہ میں آج بعض شہری کئی گھنٹوں سے قطاریں بنا کر کھڑے ہیں اور پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر ووٹ ڈالنے کے منتظر ہیں۔

    ملک بھر میں کئی مقامات کو پولنگ سٹیشن کا درجہ حاصل ہے۔ ان میں کچھ سکولز اور لائبریریاں شامل ہیں۔

  4. بائیڈن اور ٹرمپ الیکشن کا دن کیسے گزاریں گے؟

    امریکہ میں صدارتی انتخاب کا دن امیدواروں اور ان کے حامیوں دونوں کے لیے عموماً مصروف گزرتا ہے۔ پولنگ کے اختتام کے ساتھ انتظار کی گھڑیاں شروع ہوجاتی ہیں۔

    صدر ٹرمپ یہ دن وائٹ ہاؤس میں گزاریں گے۔ اس دوران وہ انٹرویوز دیں گے اور کیبل ٹی وی پر تقریبات کی کوریج دیکھتے رہے ہیں۔ (ہم یہ جانتے ہیں کہ انھیں ایسا کرنا پسند ہے۔)

    منگل کی صبح ٹرمپ فاکس نیوز پر اپنے پسندیدہ پروگرام کو فون پر انٹرویو دیں گے۔

    ٹرمپ کے لیے یہ دن نسبتاً کم مصروف رہے گا۔ انھوں نے گذشتہ تین دنوں کے دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں 14 ریلیوں سے خطاب کیا تھا۔ منگل کی شب ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ایک دعوت کی میزبانی کر رہے ہیں۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ نائب صدر مائیک پینس، اپنے خاندان اور انتخابی مہم کی ٹیم کے ساتھ ٹی وی پر نتائج کا انتظار کرتے رہیں گے۔

    دوسری طرف جو بائیڈن الیکشن کے روز پینسلوینیا میں ان ووٹرز کو منانے میں لگے رہیں گے جنھوں نے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ ڈالیں گے۔

    سابق نائب صدر اپنے آبائی شہر سکرینٹن اور پھر فلاڈلفیا میں بھی تقریبات میں حصہ لیں گے۔

    پھر وہ ڈیلاویئر میں اپنے موجودہ گھر میں نتائج کا انتظار کریں گے۔ منگل کو بائیڈن یہیں سے خطاب کریں گے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ جِل بائیڈن اور نائب صدر کی امیدوار کملا ہیرس ہوں گی۔

  5. امریکی الیکشن پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی ٹاپ ٹرینڈ

    3 نومبر کو صدارتی انتخاب کی پولنگ ویسے تو امریکہ میں ہو رہی ہے لیکن یہ سوشل میڈیا کے عالمی ٹرینڈز میں نمایاں ہے۔

    پاکستان میں بھی امریکی صدارتی الیکشن کی بات چیت ہو رہی ہے۔ کوئی ٹرمپ کی حمایت کر رہا ہے تو کوئی پُراعتماد ہے کہ جیتے گا تو صرف بائیڈن ہی۔

    ٹوئٹر پر سدرہ لکھتی ہیں کہ ’میرا ایک حصہ پُرامید ہے کہ بائیڈن جیتے گا لیکن میرے میں ایک دوسرا حصہ چاہتا ہے کہ ٹرمپ جیت جائے گا۔‘

  6. امریکہ کے صدارتی انتخاب 2020: انڈیا میں ’تکہ‘ کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟, شروتی مینن، بی بی سی ریئلٹی چیک

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کے دن انڈیا کے ٹوئٹر پر ایک انڈین ڈش ٹاپ ٹرینڈ بنی ہوئی ہے اور اس ڈش کا نام ہے پنیر تکہ۔ لیکن پنیر تکے کا امریکی انتخاب سے کیا تعلق ہے؟

    انڈین نژاد امریکی شہری، پرامیلا جیا پال جن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے، نے نائب صدر کے عہدے کی امیدوار کملا ہیرس کے اعزاز میں الیکشن کی شام یہ ڈش بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ کملا ہیرس کی والدہ انڈیا میں پیدا ہوئی تھیں اور کملا اکثر انڈین کھانوں سے اپنی محبت کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔

  7. ٹرمپ اور بائیڈن کے منشور میں کیا فرق؟

    امریکہ کے صدارتی انتخاب میں تقریباً ایک مہینے کا وقت رہ گیا ہے اور انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ اس ویڈیو میں امریکہ میں موجود صحافی صباحت ذکریہ بتا رہی ہیں کہ اس انتخاب میں دونوں امیدواروں کے منشور میں کیا فرق ہے اور امریکی شہری کن پہلوؤں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

  8. امریکہ کی وہ ریاستیں جہاں پولنگ جاری ہے

    امریکہ کی 50 ریاستیں نو مختلف ٹائم زونز میں واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں ووٹنگ کے آغاز اور اختتام کا وقت ایک نہیں۔

    یہاں کچھ ایسی امریکی ریاستوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جہاں پولنگ کا آغاز ہو چکا ہے:

    نیو ہیمپشائر میں ووٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ مشرقی ریاستوں جیسے کہ ورمونٹ میں ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے (پاکستان کے وقت کے مطابق دوپہر دو بجے) شروع ہوئی اور یہاں ووٹر سخت سرد موسم میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

    کنیٹیکٹ، انڈیانا، کینٹکی، مین، نیو جرسی، نیویارک، ورجینیا میں صبج چھ بجے (پاکستانی وقتی کے مطابق شام چار بجے) ووٹنگ کے عمل کا آغاز ہوا۔

    ڈیلاویئر، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا، فلوریڈا، جورجیا، الینوائے، لوئیزیانا، مشیگن، میزوری، پینسلوینیا، رہوڈز جزائر، جنوبی کیرولائنا میں بھی صبج سات بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام پانچ بجے) پولنگ شروع ہوئی۔

  9. امریکہ کے دو سابق اٹارنی جنرل ’الیکشن نتائج تسلیم نہ کرنے‘ کے سخت مخالف

    دو سابق امریکی اٹارنی جرنیلوں نے انتخابی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کرنے کے خلاف متنبہ کیا ہے۔

    ایرک ہولڈر ڈیموکریٹک صدر باراک اوبامہ کے دور میں اٹارنی جنرل تھے جبکہ مائیکل مکسے نے رپبلکن صدر جارج ڈبلیو بش کے ماتحت اپنی خدمات سرانجام دی تھیں۔

    واشنگٹن پوسٹ اخبار میں چھپی ایک تحریر میں دونوں نے کہا کہ وہ ماضی میں قانون اور پالیسی کے معاملات پر متفق نہیں تھے اور اب بھی ایسا ہی ہے۔

    انھوں نے مشترکہ طور پر لکھا کہ آئین میں پہلی ترمیم لوگوں کو اپنی رائے دینے کا حق دیتی ہے۔ ’اس میں یہ حق نہیں دیا گیا کہ لوگ سیاسی نتائج کو تبدیل کردیں۔‘

    انھوں نے لکھا ہے کہ ’سیاسی رہنماؤں کو کسی کو پُرتشدد واقعات پر اکسانا نہیں چاہیے۔‘

  10. تصویر: امریکہ میں الیکشن کمیشن کا عملہ پولنگ سے قبل حلف لے رہا ہے

    امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے روز یہ تصویر اٹلانٹا میں فلٹن کاؤنٹی میں لی گئی۔ اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا عملہ حلف لے رہا ہے۔

  11. مائیک پینس کون ہیں؟

    امریکی انتخابات میں نائب صدر کی دوڑ میں موجودہ نائب صدر مائیک پینس بھی شامل ہیں۔ لیکن خود کو ’اصولوں کا پابند قدامت پسند‘ کہنے والے مائیک پینس کون ہیں؟ جاننے کے لیے دیکھیے یہ ویڈیو

  12. ایک ’طویل بحران‘ کی پیشگوئی اور دیگر عالمی سرخیاں, بی بی سی مانیٹرنگ

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کے نتائج عالمی سطح پر زبردست اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تو حیرت کی بات نہیں کہ اس بارے میں سرخیاں دنیا بھر میں سامنے آ رہی ہیں۔

    روس میں آج صبح چینل ون کے ناظرین کو بتایا گیا کہ اس الیکشن کے ’ایک طویل سیاسی بحران میں بدلنے کا خطرہ ہے۔‘

    ایران میں آج صبح پریس ٹی وی نے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بارے میں اطلاع دی۔

    اس انٹرویو میں جواد ظریف نے کہا: ’اگر امریکہ ایران کے خلاف اپنے ناروا سلوک کو روکنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ایک مختلف کہانی ہو گی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وائٹ ​​ہاؤس میں کون بیٹھا ہے۔‘

    ترکی کا میڈیا ٹرمپ کے صدر اردوغان کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے حق میں نظر آیا ہے۔

    چین کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اس ہیڈ لائن کے ساتھ ایک تحریر شائع کی ہے: الیکشن کے روز پریشانی، عالمی وبا کے پھیلاؤ کا خدشہ جبکہ امیدواروں کی آخری کوششیں۔‘

  13. ٹرمپ جونیئر کا حامیوں کو پیغام: لبرلز کو دوبارہ رُلا دیں

    الیکشن کی مہم کے دوران صدر ٹرمپ کے بچے ان کی حمایت میں ان کے ساتھ رہے ہیں۔

    وسکانسن میں گذشتہ روز ایک ریلی کے دوران صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کے سب سے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بھی تھے۔ حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ جونیئر نے جو بائیڈن اور میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور لوگوں سے ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کل خود اور اپنے دوستوں کے ساتھ ووٹ ڈالنے جائیں۔ یہ کرنے سے نہ صرف آپ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا سکیں گے بلکہ لبرلز کو دوبارہ رُلا سکیں گے۔‘

    ’باہر نکلیں۔ وسکانسن! باہر نکلیں اور ایسا ہی کریں۔‘

    صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا نے اس موقع پر بتایا کہ انھیں اپنے والد پر بہت فخر ہے۔

    ’سیاستدانوں کے برعکس وہ بھولے نہیں ہیں کہ وہ آپ کے لیے کیوں لڑ رہے ہیں۔۔۔ واشنگٹن ڈونلڈ ٹرمپ کو نہیں بدل سکا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کو بدل دیا ہے۔‘

  14. ٹوئٹر قبل از وقت کامیابی کے دعوؤں پر تنبیہی لیبل لگائے گا

    ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ امریکی انتخابات میں امیدواروں سمیت کسی بھی صارف کو قبل از وقت کامیابی کا اعلان نہیں کرنے دے گا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ اگر واضح ترویج سے پہلے کسی بھی ٹوئٹ میں کامیابی کا دعویٰ کیا گیا تو اس کے ساتھ تنبیہی لیبل لگایا جائے گا۔

    فیس بک نے بھی ایسے ہی ایک اقدام کا اعلان کیا تھا۔

    اس کے علاوہ ٹوئٹر وقتی طور پر ری ٹویٹ کا طریقہ بھی تبدیل کر دے گا اور صارفین کو ٹوئٹر کے ساتھ اپنا کچھ پیغام لکھنے کے لیے کہا جائے گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو عام ری ٹوئٹ ہی ہوگی۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ ‘اگرچہ اس کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے کچھ مسئلہ ہوگا جو صرف ری ٹوئیٹ کرنا چاہتے ہیں، ہمیں امید ہے کہ لوگ سوچیں گے کہ وہ کسی ٹویٹ کو مشہور کیوں کر رہے ہیں اور اس سے لوگ اپنے خیالات کا بھی اظہار کریں گے۔‘

    ‘یہ تبدیلیاں 20 اکتوبر سے الیکشن کے اختتام تک ہوں گی۔‘

  15. پاکستانی نژاد امریکی شہری کسے ووٹ دیں گے؟

    امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جن میں بہت سے حالیہ امریکی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل بھی ہیں۔ لیکن یہ پاکستانی نژاد امریکی شہری کس صدارتی امیدوار کو ووٹ دیں گے؟ ایسے چند ووٹرز سے ملوا رہی ہیں صحافی صباحت زکریا۔

  16. امریکہ میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا صدارتی امیدوار ہار سکتا ہے

    انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سال ووٹر ٹرن آؤٹ ریکارڈ توڑ سکتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ ممکن ہے کہ عوام کے زیادہ سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار فاتح نہ ہو۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں صدر کا انتخاب براہِ راست عام ووٹر نہیں کرتے بلکہ یہ کام الیکٹورل کالج کا ہے۔

    امریکہ کی ہر ریاست میں الیکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد اس کی آبادی کے تناسب سے طے ہوتی ہے جبکہ الیکٹرز کی کل تعداد 538 ہے۔

    امریکہ کا صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 538 میں سے 270 یا اس سے زیادہ الیکٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

  17. امریکہ میں صدر بننے کے خواہشمند باقی 1214 امیدوار اپنی مہم کیسے چلا رہے ہیں؟

    امریکہ میں صدارتی نظام گذشتہ 230 برس سے نافذ ہے اور اس عرصے میں جتنے بھی صدور آئے ان کا تعلق کسی نہ کسی پارٹی سے تھا ماسوائے امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے جو آزاد امیدوار کی حیثیت سے اس عہدے کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

    امریکی سیاست میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک جماعتیں ہی زیر بحث رہتی ہیں جو نہ صرف میڈیا کوریج بلکہ سیاسی مہم کے لیے عطیات حاصل کرنے میں بھی بالادستی حاصل کر لیتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایسا ہونے سے کسی تیسرے امیدوار کے جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

    اس طرح کے ’نامساعد‘ حالات میں اب کون ایسا امیدوار ہو گا کہ جو کہے کہ میں ہر صورت انتخابی مہم کا حصہ بنوں گا۔

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی نو اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن مکمل ہونے تک کُل 1216 امیدواروں نے فیڈرل الیکشن کمیشن میں اپنے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ (یہ اور بات ہے کہ ان امیدواروں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔)

    بی بی سی نے اِن 1216 امیدواروں میں سے تین امیدواروں سے بات کی ہے کہ وہ اس انتخاب میں کیوں حصہ لے رہے ہیں اور وہ کیوں اپنے آپ کو امریکی عوام کے ووٹوں کے حقدار سمجھتے ہیں۔

    ان تین افراد میں ایک شعبہ موسیقی سے منسلک ہیں، ایک آئی ٹی ایکسپرٹ ہیں جبکہ تیسرے امیدوار کرپٹو کرنسی میں ارب پتی ہیں۔

  18. رپبلکن پارٹی کے ’ایشین-امریکی گروہ‘ نے بائیڈن کی حمایت کا اعلان کردیا

    امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے ایک ایشین امریکی گروہ نے جو بائیڈن کی حمایت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس نے اپنے ہزاروں اراکین سے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ ڈالیں۔

    سنہ 2016 کے دوران امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے اس گروہ نے ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اب اس گروہ کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’2016 میں اگر آپ نے ٹرمپ کو ووٹ ڈالا تو یہ ٹھیک تھا۔ کئی قدامت پسندوں نے ایسا ہی کیا تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ باہر سے ایک بندہ آکر نظام کو ہلا دے۔ لیکن اب وہ پوری عمارت کو تباہ کر رہا ہے۔‘

    بیان کے آخر میں تنظیم کا کہنا تھا کہ ’جو بائیڈن کو ووٹ دیں اور امریکہ کو بچائیں۔‘

  19. اتنخابی مہم کا اختتام، ٹرمپ وائٹ ہاؤس، بائیڈن اپنے آبائی گھر چلے گئے

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کے امیدواروں کے لیے آخری چند روز کسی میراتھن سے کم نہیں تھے۔

    صدر ٹرمپ نے پیر کے روز چار ریاستوں میں پانچ انتخابی ریلیوں میں شرکت کی جس کے بعد وہ وائٹ ہاؤس چلے گئے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ منگل کے روز اپنا زیادہ تر وقت وائٹ ہاؤس میں ہی گزاریں گے۔

    ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن الیشکن کا دن امریکی ریاست پنسلونیا کے شہر سکرینٹن میں گزاریں گے جو ان کا آبائی گھر ہے اور فلاڈیلفیا میں ڈیموکریٹ پارٹی کا گڑھ ہے۔

  20. امریکی صدارتی انتخاب کے تین ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟, جان سوپل، مدیر بی بی سی شمالی امریکہ

    امریکہ کی انتخابی مہم غیر معمولی، کبھی کبھی پریشان کن اور یقینی طور پر ناقابل تصور رہی۔

    امریکی انتخاب کے نتائج کے حوالے سے تین ممکنہ منظر نامے ہیں:

    1۔ جو بائیڈن کی آسان جیت: پہلا ممکنہ نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو بائیڈن باآسانی انتخاب جیت جائیں جو کہ عوامی جائزوں کے نتائج کے عین مطابق ہو گا۔

    2۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حیران کن جیت: گذشتہ انتخاب کی طرح ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت، جو کہ عوامی جائزوں کو مکمل طور پر غلط ثابت کر دے اور صدر ٹرمپ دوسرے عہد صدارت کے لیے منتخب ہو جائیں۔

    3۔ بائیڈن کی بھاری اکثریت سے کامیابی: تیسرا منظر نامہ بائیڈن کی کامیابی نہیں بلکہ بھاری اکثریت سے کامیابی ہے، جیسے ماضی میں رونلڈ ریگن کی جمی کارٹر کے خلاف جیت یا بش سینئیر کی مائیکل ڈکاکس کے خلاف جیت تھی۔

    4۔ اور ایک غیر متوقع نتیجہ(لیکن یہ 2020 ہے): 270 الیکٹورل کالج ووٹوں کی دوڑ، وہ جادوئی نمبر جو صدارت کے عہدے پر فائز کرتا ہے، بائیڈن کا نمر 269 اور ٹرمپ کا نمبر بھی 269 ہو۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا لیکن کیا ایسا ہونا واقعی ناممکن ہے؟ آخر یہ 2020 ہے۔