آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ نے فلوریڈا میں برتری کیسے برقرار رکھی؟

    ڈیموکریٹ جماعت فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کی حمایت کم کرنا چاہتی تھی تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

    فلوریڈا میں تقریباً تمام ووٹ گنے جا چکے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ اپنی برتری کی بنیاد پر یہ ریاست جیت جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کو یہاں 51 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ بائیڈن کو 48 فیص ووٹ ملے ہیں۔

    سنہ 2016 کے انتخاب میں صدر ٹرمپ نے دو پوائنٹس سے اس ریاست میں اپنی جیت یقینی بنائی تھی۔ بائیڈن یہاں ہیلری سے بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔

    رائے شماری کے جائزوں میں بتایا گیا تھا کہ فلوریڈا کی سفید فام آبادی میں سے 61 فیصد ووٹ ٹرمپ کے حق میں جائیں گے۔ یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے لاطینی ووٹ حاصل کیے جس کی مدد سے انھیں بائیڈن پر سبقت حاصل ہوئی۔

    بائیڈن کو عمر رسیدہ افراد نے زیادہ ووٹ ڈالے جبکہ 30 سے 44 سال عمر کے زیادہ تر افراد میں ٹرمپ مقبول رہے۔

  2. امریکی انتخاب کی تازہ صورتحال کیا ہے؟

    امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کی تازہ ترین صورت حال پر بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو۔۔۔

  3. روسی ٹی وی: امریکی انتخاب ’پاگل پن‘ کا نام ہے, بی بی سی مانیٹرنگ

    روسی میڈیا کے لیے یہ سوال اہم نہیں کہ امریکہ اور روس کے لیے کس صدارتی امیدوار کی کامیابی بہتر ثابت ہو گی بلکہ روسی ذرائع ابلاغ کا اپنے لوگوں کو اہم پیغام یہ ہے کہ امریکہ افراتفری کا شکار ہے اور اس کی جمہوریت ناکام ہو رہی ہے اور سب سے اہم یہ کہ امریکہ دوسروں کو یہ سکھانے کی پوزیشن میں نہیں کہ کیا غلط اور کیا ٹھیک ہے۔

    روس کے سرکاری چینل روسیا 24 پر سڑکوں میں چیختے اور لڑتے لوگوں کی ویڈیوز نشر کی جا رہی ہیں۔

    روس کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینل این ٹی وی نے کہا ہے کہ امریکی انتخاب ’پاگل پن‘ کا نام ہے جبکہ ’بدامنی کی توقعات‘ کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

  4. ’ٹرمپ کے دھوکہ دہی کے الزامات نے مجھے اداس کیا‘, بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو

    امریکی صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کو ووٹ دینے والی آمنہ نے لندن سے بی بی سی ریڈیو 5 کو بتایا کہ آج صبح جاگنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی دھاندلی کے بارے میں ’بے بنیاد‘ دعوے نے انھیں اداس کر دیا ہے۔

    انھوں نے کہا: ’میں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میں بیرون ملک سے وقت پر اپنا ووٹ بھیج سکوں۔ ہمارے فوجی بیرون ملک سے ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس نے مجھے بہت اداس کیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’مجھے سچ میں امید ہے کہ جو بھی جیتتا ہے، ہم بحیثیت قوم اتحاد اور امن قائم کرنا شروع کر سکتے ہیں لیکن اب میری امید ختم ہونا شروع ہو گئی ہے۔‘

  5. امریکہ میں صدر کیسے منتخب ہوتے ہیں؟

    امریکہ کے صدر کا انتخاب براہ راست امریکی ووٹر نہیں کرتے، بلکہ ’الیکٹورل کالج‘ کے نام سے جانے والے ممبروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے، جانیے اس ویڈیو میں

  6. بریکنگ, وسکونسن میں ابتدائی گنتی میں بائیڈن کو برتری حاصل

    کڑے مقابلے کی ریاست وسکونسن میں اب تک 99 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے جس میں جو بائیڈن کو ٹرمپ پر سبقت حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ سنہ 2016 کے امریکی انتخاب میں ٹرمپ نے اس ریاست میں ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کو 30 ہزار سے کم ووٹوں سے شکست دی تھی۔

    بائیڈن کی کم برتری کے باوجود، یہاں مقابلہ توقعات سے زیادہ کڑا ہوسکتا ہے۔

    وسکونسن کے نتائج یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کون پہنچے گا۔

  7. امریکی شہریوں نے اپنے پسندیدہ امیدوار کو کس بنیاد پر ووٹ دیا؟

    اختتامی رائے شماری (ایگزٹ پولز) میں ہم اس حوالے سے کچھ حد تک جان سکے ہیں کہ امریکی شہریوں نے اپنے پسندیدہ امیدوار کو کس بنیاد پر ووٹ دیا۔

    قومی سطح پر ایک تہائی افراد کا کہنا تھا کہ ان کے لیے معیشت ایک اہم معاملہ ہے اور اسی کی بنیاد پر انھوں نے صدارتی الیکشن میں ووٹ ڈالا۔ ہر 10 افراد میں سے دو نے نسلی تعصب اور 17 فیصد نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کو اہم قرار دیا۔

    ٹرمپ کو ووٹ دینے والے کئی افراد نے معیشت کو ترجیح دینا تسلیم کیا جبکہ بائیڈن کو ووٹ دینے والے بعض افراد کے مطابق نسلی تعصب اور وائرس اہم موضوعات تھے۔

    ووٹرز اس حوالے سے منقسم رہے کہ امریکی معیشت کیسی جا رہی ہے۔ 48 فیصد نے کہا معیشت ’اچھی حالت‘ میں ہے جبکہ 50 فیصد نے کہا کہ ’یہ اچھی ہے نہ بُری۔‘

    50 فیصد افراد نے کہا کہ امریکہ نے وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ’کچھ حد تک بُرے‘ اقدامات کیے جبکہ 48 فیصد نے کہا کہ ملکی اقدامات ’کچھ حد تک اچھے تھے۔‘

    ووٹرز کی اکثریت (87 فیصد افراد) نے محققین کو بتایا کہ ان کی ریاست میں ووٹوں کی گنتی ٹھیک ہو گی اور انھیں اس نظام پر اعتماد ہے۔

  8. جرمن وزیر دفاع کو امریکہ میں ’دھماکہ خیز صورتحال‘ نظر آ رہی ہے

    جرمنی کی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اپنی بے بنیاد فتح کے اعلان نے امریکہ کے صدارتی انتخاب کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔

    بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا: ’یہ ایک بہت ہی دھماکہ خیز صورتحال ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ انتخابی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کے نتائج پر تنازع سےامریکہ میں ’آئینی بحران‘ پیدا ہو سکتا ہے۔

    جرمن وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی اس انتخاب کا فیصلہ نہیں ہوا کیوںکہ ابھی بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔‘

  9. ڈونلڈ ٹرمپ یا جو بائیڈن میں سے کس کی جیت پاکستان کے لیے بہتر ہو گی؟

    1980 کی دہائی کی طرح اب وہ حالات نہیں رہے جب پاکستان کی قدامت پسند سیاسی جماعتیں کھل کر رپبلکن صدارتی امیدواروں کی حمایت کیا کرتی تھیں، آج کے دور میں سیاسی و سرکاری حلقے اپنی پسند چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    لیکن پاکستانی تجزیہ کاروں کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ یا جو بائیڈن میں سے کس کی جیت پاکستان کے لیے بہتر ہو گی؟

  10. ٹرمپ کے فتح کے دعوے پر فیس بک کی تنبیہ

    امریکی انتخاب 2020 کے نتائج آنے سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدارتی دوڑ جیت گئے ہیں۔ اس پر فیس بک نے اپنے ردعمل میں تنبیہ جاری کی ہے۔

    فیس بک کے ایک نمائندے نے این بی سی نیوز کو بتایا: ’جیسے ہی صدر نے قبل از وقت فتح کے دعوے کرنا شروع کیے، ہم نے فیس بک اور انسٹاگرام کے صارفین کو نوٹیفیکیشن جاری کیے تاکہ سب جان سکیں کہ ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور فاتح کی پیشگوئی نہیں کی گئی۔‘

    یاد رہے کہ پنسلوینیا، مشیگن اور وسکانسن جیسی امریکی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور یہ کڑے مقابلے والی ریاستیں سمجھی جاتی ہیں۔ الیکشن کے عملے کے مطابق ان ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی اور تصدیق میں چند روز لگ سکتے ہیں۔

    ٹوئٹر نے بھی اس سے قبل نتائج سے متعلق گمراہ کن معلومات کے حوالے سے اقدامات کیے تھے۔

  11. امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج اب تک کہاں پہنچے ہیں؟

    ٹرمپ اور بائیڈن دونوں کے مطابق وہ ’جیتنے والے‘ ہیں لیکن اب تک ہم یہ جانتے ہیں:

    • وائٹ ہاؤس تک جانے کے لیے 270 الیکٹورل کالج میں فتح درکار ہے۔ بائیڈن کے پاس ابھی 224 الیکٹورل کالج ہیں جبکہ ٹرمپ 213 پر ہیں لیکن ابھی ان لاکھوں ووٹوں کی گنتی باقی ہے جو ڈاک کے ذریعے درج کرائے گئے۔
    • متوقع نتائج میں ہی کڑا مقابلہ ظاہر ہو رہا ہے۔ شاید مکمل نتائج کئی دن تک معلوم نہ ہوسکیں۔
    • ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پہلے ہی فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈاک کے ذریعے ووٹوں کے معاملے میں مبینہ بدعنوانی پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ تاہم انھوں نے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے۔
    • بائیڈن نے ان الزامات کو رد کیا ہے۔ ان کی انتخابی مہم کی مینجر جین او میلے نے کہا ہے کہ ابھی تک گنتی نہ ہونے والے ووٹوں کے بارے میں ٹرمپ کا بیان ’اشتعال انگیز، غیر معمولی اور غلط تھا۔‘ بائیڈن کے مطابق جب تک آخری ووٹ نہیں گن لیا جاتا، الیکشن ختم نہیں ہوگا جبکہ ’ہم جیت کی راہ پر ہیں۔‘
    • امریکی انتخاب میں ریکارڈ ٹرن آؤن (کل آبادی میں سے ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد) متوقع ہے۔ ووٹنگ کے دوران امیدواروں کے خلاف مظاہرے بھی دیکھے گئے۔
  12. دنیا بھر میں امریکہ کے صدارتی انتخاب کی شہ سرخیاں, بی بی سی مانیٹرنگ

    امریکہ کا صدارتی انتخاب دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا اور ایشیا کے دیگر ذرائع ابلاغ نے امریکہ میں ممکنہ ’بدامنی‘ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    ایران کے چینل پریس ٹی وی پر ’خانہ جنگی کا خطرہ‘ ایک اہم موضوع گفتگو بنا ہوا ہے اور ایک ٹی وی میزبان کے مطابق یہ انتخاب ’خوفناک‘ نظر آ رہا ہے۔

    انڈیا کے اخبار دا انڈین ایکسپریس کی ویب سائٹ پر موجود ہیڈ لائن میں ’امریکی ریاستوں میں بے چینی‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے اخبار ایکسپریس ٹریبون کی ہیڈ لائن میں کہا گیا ہے کہ ’بے چین امریکیوں نے چہرے پر ماسک پہن کر ووٹ ڈالا اور دکانوں پر سائن بورڈز کی بھرمار ہے۔‘

    فرانس کے ایک اخبار میں ایک کالم نگار نے لکھا: ’یہ سب سے بڑی لڑائی ہے اور امریکیوں نے اسے سمجھ لیا ہے۔‘

    ترکی کے این ٹی وی نے کہا: ’بائیڈن وہ کارکردگی ظاہر نہیں کر سکے جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی‘۔ مزید کہا کہ ٹرمپ ’خوش ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ دوبارہ منتخب ہوں گے۔‘

    یوکرین کے ایک ٹی وی چینل نے امریکی انتخاب پر کچھ ایسا تبصرہ کیا ہے: ’ماحول میں گہما گہمی ہے۔ بائیڈن اور ٹرمپ میں کانٹے کا مقابلہ ہے اور ہر فریق اپنی فتح کی تقریر کی تیاری کر رہا ہے۔‘

  13. ٹرمپ کی ٹویٹ میں ہجوں کی غلطی، سوشل میڈیا پر تبصرے

    رات گئے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ٹویٹ کو ٹوئٹر نے ’متنازع‘ اور ممکنہ طور پر ’گمراہ کن‘ قرار دیا تھا کیونکہ انھوں نے ایک بے بنیاد دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس اس انتخاب کو ’چوری‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لیکن اس کے علاوہ ان کی اس پوسٹ میں ہجوں کی بھی غلطی تھی جس کا پولینڈ کے سوشل میڈیا پر خواب مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

    پولینڈ کی قدامت پسند حکومت کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور امریکہ جرمنی سے اپنے فوجی بھی وہاں تعنیات کر رہا ہے۔

    تو پولینڈ کے چند منچلوں نے ٹرمپ کی اس غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ وہ بالکل بھی ’بند نہیں ہیں۔‘

    دراصل ٹرمپ نے پولز (انتخاب) کی جگہ پولز (پولینڈ کے شہریوں) لکھا دیا تھا۔

  14. بریکنگ, ہوائی میں بائیڈن کی جیت متوقع

    امریکی ریاست ہوائی میں ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی جیت متوقع ہے۔ بائیڈن کو یہاں 65.1 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

    ہوائی سنہ 1959 میں امریکی ریاست بنی اور تب سے اب تک یہاں صرف دو مرتبہ رپبلکن صدارتی امیدوار جیت پائے ہیں۔

    امریکی صدارتی انتخاب 2020 میں اب تک 50 میں سے 41 ریاستوں کے متوقع نتائج جاری ہوئے ہیں۔

  15. کڑے مقابلے والی ریاستوں میں کون جیت سکتا ہے؟, انتھونی زورچر، بی بی سی، شمالی امریکہ

    ایریزونا، جورجیا، وسکانسن، مشیگن اور پنسلوینیا میں ٹرمپ اور بائیڈن کے بیچ کڑا مقابلہ متوقع ہے اور ان کے نتائج اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

    ایسا لگ رہا ہے کہ ایریزونا بائیڈن کے حق میں فیصلہ سنائے گا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو وسکانسن، مشیگن اور پنسلوینیا میں سے تین ریاستوں میں جیتنا ہوگا تاکہ اپنی فتح یقینی بنا سکیں۔

    بائیڈن تینوں میں ٹرمپ سے پیچھے ہیں لیکن ابھی کئی ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔

    پنسلوینیا میں ابھی 14 لاکھ ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے اور ایسا ہونے میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔ مشیگن اور وسکانسن کے بڑے شہروں کے نتائج آنا بھی ابھی باقی ہیں اور رائے شماری کے مطابق یہاں بائیڈن کی جیت ہو سکتی ہے۔

    دریں اثنا جورجیا کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ منگل سے قبل تک یہاں ٹرمپ کی حمایت زیادہ تھی۔ اگر یہاں بائیڈن جیت گئے تو پھر انھیں صرف ایک مزید وسطی ریاست میں فتح درکار ہو گی۔

  16. بائیڈن کا ٹرمپ کو جواب: ’اشتعال انگیز اور غیر معمولی‘

    امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی انتخابی ٹیم نے صدر ٹرمپ کے قبل از وقت فتح کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

    جو بائیڈن کی انتخابی مہم کی مینجر جین او میلے نے کہا ہے کہ ابھی تک گنتی نہ ہونے والے ووٹوں کے بارے میں ٹرمپ کا بیان ’اشتعال انگیز، غیر معمولی اور غلط تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ اشتعال انگیز تھا کیونکہ یہ امریکی شہریوں کے جمہوری حقوق چھیننے کی کوشش ہے۔

    ’یہ غیر معمولی تھا کیونکہ ہماری تاریخ میں پہلے کبھی بھی کسی صدر نے قومی انتخابات میں امریکیوں کی آواز ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔‘

    او میلے ڈیلن نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان غلط تھا کیونکہ قانون میں ہر جائز ووٹ کی گنتی کی ضرورت ہوتی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا ’جو بائیڈن اور کملا ہیرس تمام امریکیوں کے ووٹوں کی گنتی کے حق کے لیے کھڑے ہوں گے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انھوں نے کس کو ووٹ دیا۔‘

  17. برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ کو امریکہ کے ووٹنگ عمل پر ’مکمل اعتماد‘

    برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ڈامنک راب نے کہا ہے کہ امریکی انتخاب میں دونوں جماعتوں کی جانب سے جو بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں، اس کے باوجود ’مجھے امریکہ کے (انتخابی) ادارے پر پورا اعتماد ہے۔‘

    ڈامنک راب نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ انتخابی دوڑ میں ’چیک اینڈ بیلنس‘ حتمی نتیجہ برآمد کرے گا۔

    انھوں نے مزید کہا: ’میں اس بارے میں پُراعتماد ہوں کہ رپبلکن جیتے یا ڈیموکریٹ، برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات بہترین ہیں۔‘

  18. بریکنگ, 50 میں سے 41 ریاستوں کے متوقع نتائج: بائیڈن کو برتری حاصل

  19. نہیں، ٹرمپ ابھی نہیں جیتے!, ریئلٹی چیک

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب جیت گئے ہیں جبکہ ابھی کئی ریاستوں میں موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی نہیں ہوئی اور بازی کسی بھی وقت پلٹ سکتی ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں ایک دعوت کی میزبانی کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’ہم یہ انتخاب جیتنے لگے ہیں۔ صاف کہوں تو ہم الیکشن جیت گئے ہیں۔‘

    امریکہ میں تاحال جورجیا، وسکانسن، پنسلوینیا اور مشیگن میں نتائج کا اعلان ہونا باقی ہے۔ شہری علاقے، جن میں سے بعض ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کرتے ہیں، میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور حتمی اعلان نہیں ہوا۔

  20. امریکی الیکشن میں باقی کے نتائج کب آئیں گے اور آگے کیا ہو سکتا ہے؟

    اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج کا اعلان کب ہوگا تو اس کا ممکنہ جواب یہ ہوسکتا ہے:

    • شاید ہمیں مکمل نتائج کے لیے آئندہ چند روز تک انتظار کرنا پڑ جائے۔ اس صورتحال کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ مشیگن، وسکانسن اور پنسلوینیا جیسی ریاستوں میں ابھی ڈاک کے ذریعے درج کردہ ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے۔
    • وکلا بھی صدارتی انتخاب میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نتائج پر اپنی تشویش اور مبینہ بدانتظامی کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نتائج میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
    • غیر یقینی صورتحال کے ساتھ بدامنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ بدامنی زیادہ ہوگی یا کم اور کہاں کہاں اس کے پھیلنے کے خدشات ہیں۔