کورونا: امریکہ میں کیلیفورنیا کے بعد فلوریڈا سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے. فلوریڈا میں مزید 9300 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیلیفورنیا کے بعد یہ امریکہ کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. وینٹیلیٹرز کی کمی کا حل

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    امریکہ میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث وینٹیلیٹرز کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایسے میں ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر سعود انور نے ایک ایسا آلہ بنانے میں مدد کی ہے جس سے ایک وینٹیلیٹر کے ذریعے سات افراد کو آکسیجن فراہم کی جا سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے ان کی اس کامیابی کو سراہا اور ان کی تعریف کی۔ ہمارے ساتھی ونیت کھرے نے ان سے بات کی اور اس بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر سعود نے کیا کہا، دیکھیں اس ویڈیو میں

  2. جرمنی میں زرعی علاقہ کورونا سے متاثر

    جرمنی میں زراعی علاقہ کورونا سے متاثر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمنی کی ریاست بواریا میں 174 کسانوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے بعد 500 مزید کسانوں کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    شہر میونخ کے مغربی جنوب کی جانب واقع میمنگ میں سکریننگ کا آغاز کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر سات کسان کووڈ 19 سے متاثر ہوئے تھے۔

    یہاں ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ’وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہمیں یہ اقدام کرنے ہوں گے تاکہ باقی آبادی بچ سکے۔‘

    سیاسی رہنماؤں نے مقامی آبادی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور کہا ہے کہ اس زرعی علاقے سے باہر وائرس نہیں پھیلا۔ ایک سکیورٹی ٹیم قرنطینہ کی نگرانی کر رہی ہے۔

    جرمنی میں گذشتہ مہینوں کے دوران کئی جگہوں پر وائرس اچانک پھیلا تھا۔ جون میں ایک گوشت کے پراسسنگ یونٹ میں 1500 سے زیادہ ملازمین میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی۔

  3. خیبر پختونخوا میں کورونا کے 177 نئے متاثرین، دو اموات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکام کے مطابق مزید 177 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ عالمی وبا سے گذشتہ روز دو اموات ہوئی ہیں۔

    صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 33397 ہے جبکہ کل 1178 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    اب تک 27119 افراد کورونا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں اب تک کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کل 203986 ٹسیٹ کیے گئے ہیں۔

  4. ٹوکیو کے ریستوران میں سماجی فاصلے پر عملدرآمد کا انوکھا طریقہ

    پتلے

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ریستوران میں سماجی فاصلے کا نفاذ کیسے ممکن؟ اس کا حل جاپان میں ایک ریستوران نے نکال لیا ہے۔

    دارالحکومت ٹوکیو میں ایک ریستوران میں خالی نشتوں کو پُتلوں کے ذریعے بھرا جا رہا ہے۔ ایسے میں شاید آپ کو بہترین لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے کو نہ ملے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک محفوظ طریقہ ہے۔

    پتلے

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  5. کراچی میں پارلرز کھولنے کے لیے احتجاج

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کراچی میں بیوٹیشنز اور پارلر مالکان نے احتجاج کیا ہے۔ اُن کا مطالبہ ہے کہ سیلونز اور بیوٹی پارلرز کو دوبارہ کھولا جائے۔ کورونا وائرس کی وبا کے باعث ان پارلرز کو بند کردیا گیا تھا۔ اور اب سندھ حکومت کی جانب سے ان پارلرز کی بندش میں ایک ماہ کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ تفصیل دیکھیے بلال احمد اور محمد نبیل کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں

  6. ہسپانوی وزیر خارجہ: سپین سیاحوں کے لیے ’محفوظ ملک‘ ہے

    ہسپانوی وزیر خارجہ: سپین سیاحوں کے لیے ’محفوظ ملک‘ ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہسپانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سپین سیاحوں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔ برطانیہ نے گذشتہ روز اپنے شہریوں کے لیے سپین سے واپسی پر 14 دن قرنطینہ کی شرط لازم کر دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپین میں وبا کی صورتحال ’کسی دوسرے یورپی ملک جیسی ہے‘ جبکہ ’حالات بالکل قابو میں ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وبا بارسیلونا، لیڈا اور ساراگوسا میں پھیلی ہے اور یہاں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ’سپین میں کووڈ 19 کے آدھے متاثرین میں علامات نہیں جو واضح اشارہ ہے کہ سپین اپنے شہریوں کے ٹیسٹ کر رہا ہے۔‘

    ’ان کی نشاندہی کے بعد ان سے سماجی فاصلے کی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کروایا جاتا ہے۔‘

  7. بنگلہ دیش کے چڑیا گھر میں شرح پیدائش میں اضافہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ایسا لگ رہا ہے جیسے بنگلہ دیش کے ایک چڑیا گھر میں جانور لاک ڈاؤن کی تنہائی میں زیادہ پُرسکون محسوس کر رہے ہیں۔

    بنگلہ دیش نیشنل زو کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کی آمد پر پابندی کے بعد سے جانوروں کی شرح پیدائش میں اضافہ ہوا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے چڑیا گھر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ’جانور کھانا ٹھیک طرح کھا رہے ہیں کیونکہ انھیں دیکھنے کوئی نہیں آرہا۔ اور ہجوم نہ ہونے سے ان کی افزائش بہتر ہے۔‘

  8. فرانس اور جرمنی میں وبا کی نئی لہر سے نمٹنے کے لیے تیاریاں

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سپین میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن یورپ میں سپین کے علاوہ فرانس اور جرمنی بھی ایسے ملک ہیں جہاں وائرس کی دوسری لہر کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں اور نئے متاثرین کی آمد کے ساتھ حکام میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

    فرانس میں لگاتار دوسرے روز کورونا کے 1000 سے زیادہ یومیہ متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ مئی میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تھی۔

    فرانس یورپ میں عالمی وبا سے سب سے زیادہ ماثرہ ممالک میں سے ہے۔ یہاں کل 217000 متاثرین اور قریب 30 ہزار اموات ہوئی ہیں۔

    جمعے کو فرانس کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ 16 ایسے ممالک سے آنے والے افراد کے ٹیسٹ کیے جائیں گے جہاں وائرس کے پھیلاؤ کا زیادہ خدشہ ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ معیشت کو بچانے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا جائے گا۔ فرانس نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ سپین کے مغربی جنوب میں واقع کیٹالونیا سفر نہ کریں۔

    جرمنی میں جمعے کو متاثرین کی تعداد 815 ریکارڈ کی گئی۔ یہ مئی کے وسط کے بعد سے سب سے بڑا اضافہ ہے۔ سنیچر کو یہ تعداد 781 رہی۔

    جرمنی کے وزیر صحت نے کہا تھا کہ مستقبل میں امریکہ، برازیل اور ترکی سے آنے والے مسافروں کے ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں۔

  9. بندش سے سیہون شہر کی معیشت کیسے متاثر ہو رہی ہے

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں شہباز قلندر کے مزار کا شمار ملک کے بڑے مزارات میں ہوتا ہے ، کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث یہ مزار تقریباً پانچ ماہ سے بند ہے ، اس بندش سے سیہون شہر کی معیشت کیسے متاثر ہو رہی ہے ، دیکھتے ہیں ریاض سہیل اور محمد نبیل کی اس رپورٹ میں

  10. ایران میں کورونا کے 2000 سے زیادہ نئے متاثرین کی تصدیق

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران میں اتوار کے روز کورونا وائرس کے 2333 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ ملک میں مئی کے وسط کے بعد سے نئے متاثرین میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ روز 216 اموات ہوئیں جبکہ کووڈ 19 سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 15700 ہے۔

    ایران نے اپریل میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی تھی۔ نئے اقدامات میں مساجد کھولنے کے علاوہ شاپنگ مالز اور بین الاصوبائی سفر کی اجازت دی گئی تھی۔

    ابتدائی طور پر وبا ایران کے شہروں قم اور تہران تک محدود تھی لیکن اب حالیہ پھیلاؤ میں عراق کے ساتھ موجود صوبہ خوزستان میں بھی کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    صدر حسن روحانی نے شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ اور ہجوم میں ماسک پہننے کا حکم دیا ہے۔

    دریں اثنا تہران میں حکام نے بعض کاروبار اور عوامی اجتماعات پر دوبارہ پابندی عائد کر دی ہے۔

  11. سندھ میں کورونا کے 713 نئے متاثرین، 16 اموات

    کووڈ 19 پاکستان

    پاکستان میں صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق گذشتہ روز صوبے میں کورونا کے 713 نئے متاثرین اور 16 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس طرح سندھ میں کورونا وائرس کے کل مصدقہ متاثرین کی تعداد 118311 ہوچکی ہے جبکہ عالمی وبا سے یہاں تاحال 2151 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    سندھ میں صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 107403 بتائی گئی ہے۔

    مراد علی شاہ کے مطابق: ’زیر علاج مریضوں میں 8137 گھروں اور 16 آئسولیشن سینٹرز میں ہیں۔ 418 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ 415 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔‘

    ’کراچی میں 298 (نئے) کسیز سامنے آئے ہیں۔‘

  12. بریکنگ, ’ہر اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں حالات گذشتہ ماہ کے مقابلے بہتر ہیں‘

    ’ہر اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں حالات گذشتہ ماہ کے مقابلے بہتر ہیں‘

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم کی معاون خصوصی تانیہ ایدروس نے کہا ہے کہ ’ہماری حکومت نے ڈیٹا کی مدد سے فیصلہ کیے اور شفاف طریقہ کار اپنایا تاکہ عوام ان فیصلوں کا جائزہ لے سکیں۔‘

    ’کووڈ 19 سے ہونے والی اموات اور نئے متاثرین کم ہو رہے ہیں۔‘

    ’طویل مدتی حکمت عملی بنائی تاکہ مستقبل کی وباؤں کا بھی سامنا کیا جاسکے۔ پاکستان میں این سی او سی کا قیام مثالی ہے۔ صوبوں، وفاق اور فوج نے مل کر تمام فیصلے کیے۔‘

    ’ہم نے آغاز میں پیشگوئی کر لی تھی تاکہ تیاری کر سکیں۔۔۔ این سی او سی میں سب کی مشاورت سے فیصلے ہوئے۔۔۔ محدود وسائل کے باوجود وبا کے پھیلاؤ کو قابو میں رکھنے کی حالت میں ہیں۔‘

    اس موقع پر ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ’ہر اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں حالات گذشتہ ماہ کے مقابلے بہتر ہیں۔ شرح اموات، نئے متاثرین، مثبت ٹیسٹ ان تمام اعداد و شمار سے یہ ثابت ہوتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب نظام پر دباؤ پڑا تو طبی عملہ متاثر ہوا۔۔۔ انتظامی اداروں کو نقصان پہنچا۔۔۔ (اب) ہر فرد کو ذمہ داری لینا ہوگی۔‘

    ’عید کے دوران قوائد و ضوابط پر عملدرآمد ضروری ہے۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ماسک پہننا، فاصلہ رکھنا اور سماجی فاصلہ ضروری ہوگا۔

  13. بریکنگ, شبلی فراز: یہ جنگ سے بھی زیادہ خطرناک حالات ہیں

    ’عمران خان نے ایسی حکمت عملی بنائی کہ صحت اور روزگار دونوں ساتھ چل سکیں‘

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اسلام آباد میں اتوار کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ’ہم نے کچھ عرصے کے لیے لاک ڈاؤن کیا لیکن اس کے نتائج دیکھ کر فیصلہ ہوا کہ یہ ممکن نہیں۔‘

    ’لیڈرشپ نے فیصلہ کیا کہ ہم لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے۔۔۔ عمران خان نے ایسی حکمت عملی بنائی کہ صحت اور روزگار دونوں ساتھ چل سکیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ لاک ڈاؤن کا مشورہ دے رہے تھے ان کا مقصد غریبوں کا خیال نہ رکھنا تھا۔‘

    ’کئی ممالک ہمارے ماڈل کی پیروی کرنا چاہتے تھے۔۔۔ احساس پروگرام کے ذریعے ایک کرو 31 لاکھ لوگوں کو پیسے پہنچائے گئے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا کے بحران کی وجہ سے ’جنگ سے بھی زیادہ خطرناک حالات‘ ہیں۔

    ’ہماری معیشت بالکل تباہ و برباد ہوسکتی تھی۔ ہمارے ملک میں خانہ جنگی ہوسکتی تھی۔ (لیکن) ہماری فوڈ کی سپلائی تک خراب نہیں ہوئی۔ چیزیں مہنگی سستی ضرور ہوئیں۔ یہ حالات عام حالات نہیں ہیں۔ یہ جنگ سے بھی زیادہ خطرناک حالات ہیں۔‘

  14. پمز کے آئی سی یو میں سانس لینی مشکل لیکن ٹوٹنی آسان ہے, فرحت جاوید، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پمز کے آئی سی یو میں سانس لینی مشکل لیکن ٹوٹنی آسان ہے

    دروازے کی دوسری طرف سب سے مشکل کام سانس لینا اور سب سے آسان اس کا ٹوٹنا ہے۔

    ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہاں آنے والوں کی تکلیف اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ منتیں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں زہر کی گولی دی جائے کہ یہ اذیت ختم ہو۔

    یہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے بنا انتہائی نگہداشت کا یونٹ یعنی آئی سی یو ہے۔ یہاں آنے والوں کی حالت اس قدر تشویشناک ہے کہ ان کی سانس کی ڈوری مشینوں سے جڑی ہے۔

    اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آئسولیشن سینٹر کی عمارت الگ تھلگ ہے۔ ’شروع میں تو لوگ اس عمارت کے قریب سے بھی نہیں گزرتے تھے۔‘ اب بھی اس کے گرد ربن لگے ہیں اور ہر وقت سکیورٹی کا عملہ ڈیوٹی پر تعینات رہتا ہے تاکہ کوئی اندر نہ جا سکے۔

    اس عمارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کو ہر وقت نگہداشت کی ضرورت ہے۔ ان میں سے بیشتر کی پھیپھڑے ختم ہو چکے ہیں، انھیں دیگر کئی بیماریاں ہیں جو کورونا وائرس نے مزید بگاڑ دی ہیں۔

    ان سب کی زندگی کی ڈور زندگی بچانے والی مشینوں سے جڑی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں سے بیشتر میں ایک اور بات بھی مشترک ہے۔۔۔ وہ یہ کہ انھیں گمان تھا کہ ’کورونا وائرس سازش ہے‘، ’محض فلو ہے‘ یا بس ’ہمیں نہیں ہو گا۔‘

  15. سمارٹ لاک ڈاؤن آخر لگایا کیسے جاتا ہے اور حکومت کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کس علاقے کو بند کرنا ہے

    کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔

    لیکن سمارٹ لاک ڈاؤن آخر لگایا کیسے جاتا ہے اور حکومت کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کس علاقے کو بند کرنا ہے۔ ہمارے ساتھی عمر دراز اور فرقان الٰہی نے اس ویڈیو میں جاننے کی کوشش کی ہے۔

  16. ’ہوسکتا ہے شیطانی وائرس ملک میں داخل ہو گیا ہو‘ کم جونگ ان

    دفد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب واقع کیسونگ شہر کو سیل کردیا ہے۔

    شمالی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے جنوبی کوریا سے سرحد کے اس پار آنے والے شخص میں کورونا وائرس کی موجودگی کے خدشے کے پیشِ نظر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

    شمالی کوریا کے رہنما، کم جونگ ان نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے اور اپنے پولیٹ بیورو کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

    کے سی این اے کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کم جونگ ان کے حوالے سے بتایا ہے کہ رہنما کا کہنا تھا ’ہوسکتا ہے شیطانی وائرس ملک میں داخل ہو گیا ہو۔‘

    اگر تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ شمالی کوریا میں پہلا باضابطہ کووڈ 19 کیس ہو گا۔ اس سے قبل شمالی کوریا نے وائرس سے پاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

    اگرچہ تجزیہ کاروں نے اس دعوے پر شبہ ظاہر کیا ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امکان یہی ہے کہ شمالی کوریا میں کورونا وائرس پہلے ہی پڑوسی ملک چین سے داخل ہوچکا ہو۔

    شدگد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سرکاری میڈیا نے بتایا کہ تین سال قبل یہ شخص جنوبی کوریا روانہ ہوا تھا لیکن گذشتہ ہفتے وہ سرحد پار سے کیسونگ واپس آگئے۔

    جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ سرحد پار کی گئی ہو اور اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

  17. سپین سے آنے والوں کے لیے برطانیہ کے قرنطینہ قواعد کیا ہیں؟

    چرچر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حکومت کا کہنا ہے کہ سپین میں پہلے ہی موجود لوگ اپنی باقی چھٹیوں کے لیے وہیں ٹھہر سکتے ہیں، لیکن آج سے واپس آنے والوں کو دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔

    ان قواعد کا اطلاق کینری اور بلیئرک جزیروں سمیت سپین میں کہیں سے بھی آنے والے مسافروں پر ہوتا ہے۔

    برطانیہ کی حکومت اب صرف ضروری سفر کے لیے ہی سپین جانے کا مشورہ دے رہی ہے اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    انگلینڈ، ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں سپین سے آنے والے تمام مسافر نئے رہنما قواعد سے متاثر ہوں گے۔

    dge

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  18. درگاہ لعل شہباز قلندر کھولنے کا مطالبہ: ’کاروبار کا واحد ذریعہ مزار ہے جو چار ماہ سے بند پڑا ہے‘

    dgd

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سیہون شریف کے شہریوں اور دکانداروں نے درگاہ لعل شہباز قلندر کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سیہون میں شہریوں اور دوکانداروں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے ایک ریلی منعقد کی۔

    ریلی کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ حضرت لعل شھباز قلندر کے مزار کو ایس او پیز کے تحت کھولا جائے۔

    مظاہرین کے مطابق مزار قلندر لعل شہباز بند ہونے سے سیہون کا کاروبار تباہ ہوگیا ہے، اور سیہون کی معیشیت متاثر ہورہی ہے مگر کوئی نوٹس نہیں لے رہا۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیہون کے رہائشیوں کے لیے کاروبار کا واحد ذریعہ مزار ہے جو چار ماہ سے بند پڑا ہے۔

  19. ’لاک ڈاؤن کے بعد بھی انڈین مسلمان مزدوروں کے لیے زندگی آسان نہیں ہو گی‘

    cxbc

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ندیم خان انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں رہتے ہیں اور گذشتہ پندرہ، بیس سال سے سکرین پرنٹنگ کے شعبے میں کام کر رہے تھے۔

    رواں برس مارچ کے مہینے میں انڈیا میں کووِڈ 19 لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد وہ یہ کام چھوڑ کر گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

    اب وہ کبھی کبھار رکشہ ٹھیلا چلا کر گزر اوقات کے لیے کچھ پیسے کما لیتے ہیں، البتہ یہ کام کرتے ہوئے وہ ایسے علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں جہاں انھیں اُن کی مذہبی شناخت کی وجہ سے کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہو۔

    35 سالہ ندیم خان نے مجھے بتایا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ گذشتہ دنوں ان کے ایک جاننے والے، جو ٹھیلے پر پھل بیچنے کا کام کرتے ہیں، کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک علاقے سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔

    ندیم خان کے مطابق اُس علاقے کے رہائشیوں نے اُن کے جاننے والے پھل فروش سے کہا کہ وہ دوبارہ اس علاقے میں نہ آئیں ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔

    انڈین تحقیقی ادارے سینٹر فار ایکوٹی سٹڈیز کے مطابق مسلمان مزدوروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے بعد اُن کو دوبارہ کام پر لوٹنے میں ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بارے میں مزید پڑھیے

    sgs

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  20. جاپان: ٹوکیو میں 239 نئے متاثرین کی تصدیق، شہر میں کورونا وائرس ہائی الرٹ جاری

    شفش

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جاپانی میڈیا کے مطابق، ٹوکیو کے عہدیداروں نے اتوار کے روز کورونا وائرس کے 239 نئے متاثرین کی تصدیق کی۔ حکومت کی جانب سے ہنگامی حالت ختم کرنے کے بعد دارالحکومت متاثرین کی بڑھتی تعداد پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    شہر میں چھٹے دن نئے متاثرین کی کل تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    اگرچہ دوسرے ممالک میں دسیوں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کے مقابلے میں جاپان، کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں سے کافی حد تک بچا ہوا ہے لیکن ٹوکیو نے نئے متاثرین کے بعد کورونا وائرس الرٹ کو اعلی سطح تک کر دیا ہے۔