امریکہ میں ہلاکتیں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ، میکسیکو میں 5311 نئے متاثرین
امریکہ میں ہر ہفتے تقریباً پانچ ہزار لوگ وائرس سے ہلاک ہو رہے ہیں اور سب سے زیادہ متاثرہ امریکی شہروں میں حکام کے پاس مردہ خانوں میں جگہ ختم ہونے کے باعث لاشیں رکھنے کی جگہ باقی نہیں بچی ہے۔ پاکستان میں اس مرض سے اب تک دو لاکھ 64 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر جبکہ دو لاکھ پانچ ہزار سے زیادہ صحتیاب ہو چکے ہیں۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس: ماسک کی کون سی قسم وائرس کو کتنا روک سکتی ہے؟, ایما وولاکوٹ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
کپڑے اور کاغذ کے ماسک عوام میں کووِڈ-19 پھیلنے سے تو روک سکتے ہیں لیکن یہ کسی بھی طرح انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں استعمال کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔
این 95 ماسک زیادہ بہتر حفاظت فراہم کر سکتے ہیں تاہم چند ممالک میں حکومتوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ان ماسکس کی زیادہ خریداری نہ کریں تاکہ یہ طبی عملے کے زیرِ استعمال آ سکیں جو انفیکشن کے خطرے کی زیادہ زد میں ہیں۔
اس حوالے سے ہماری تفصیلی رپورٹ پڑھیے کہ کون سی قسم کا ماسک آپ کو کورونا سے کتنا تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
ایک ملک کے دو وزرائے اعظم میں کورونا وائرس کی تشخیص
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفیڈریشن آف بوسنیا کے وزیرِ اعظم فاضل نووالیچ کی طبعیت سربرینکا قتلِ عام کے 25 سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی تقریبات میں شرکت کے دوران خراب ہونی شروع ہوئی
سنہ 1990 کی دہائی میں شدید کشت و خون کے بعد جب ریاست یوگوسلاویہ کا شیرازہ بکھرا تو بلقان خطے میں بوسنیا ہرزیگووینا کے نام سے ایک نئی ریاست وجود میں آئی۔
نسلی بنیادوں پر تقسیم کی وجہ سے یہ ملک دو مختلف اکائیوں میں تقسیم ہوگیا جن میں سے ایک فیڈریشن آف بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا ہے جبکہ دوسری جمہوریہ سرپسکا ہے۔
دونوں اکائیوں کے مختلف آئین ہیں اور الگ الگ وزرائے اعظم ہیں۔
تاہم اب دونوں ہی میں ایک چیز مشترکہ ہے، کہ دونوں کے وزرائے اعظم میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
25 سالہ آرچر کو بدھ کی دوپہر تک انگلینڈ کے سکواڈ میں شامل تھے تاہم اب تک ان کے متبادل کھلاڑی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ انھوں نے بالخصوص کس قاعدے کی خلاف ورزی کی ہے تاہم انھوں نے اس حوالے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ میں نے دونوں ٹیموں کو مایوس کیا ہے۔'
آرچر کو اب پانچ دنوں کے لیے خود کو تنہا رکھنا ہوگا اور اس دوران ان کے کورونا وائرس کے لیے دو ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
اگر وہ انگلینڈ کے سکواڈ میں دوبارہ شامل ہونا چاہتے ہیں تو ان کے دونوں ٹیسٹ کے نتائج منفی آنے ضروری ہیں۔
پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر کا وینٹیلیٹرز کی کمی کے لیے حل
امریکہ میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث وینٹیلیٹرز کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
ایسے میں ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر سعود انور نے ایک ایسا آلہ بنانے میں مدد کی ہے جس سے ایک وینٹیلیٹر کے ذریعے سات افراد کو آکسیجن فراہم کی جا سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے ان کی اس کامیابی کو سراہا اور ان کی تعریف کی۔
ہمارے ساتھی ونیت کھرے نے ان سے بات کی اور اس بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر سعود نے کیا کہا، دیکھیں اس ویڈیو میں
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
گیشا: جاپان کی روایتی فنکار جن کا روزگار کورونا کے سبب خطرے میں ہے
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنکوئکو نامی گیشا فن کے مظاہرے کے لیے تیار ہو رہی ہیں
پھولوں کے نقوش والے ہلکے رنگ کے دیدہ زیب لباس، سر پر نفاست سے باندھی گئی وگز اور چہرے پر میک اپ جاپان کی روایتی فنکاروں کی پہچان ہیں جنھیں گیشا کہا جاتا ہے۔
انھیں ان کی پرمغز باتوں، خوبصورتی اور روایتی فنون میں ان کی مہارت کے لیے جانا جاتا ہے۔
ویسے تو عمومی طور پر ہی زمانے کی تبدیلی کے ساتھ گیشاؤں کے روزگار کو خطرہ تھا، مگر جب سے جاپان میں کورونا وائرس کے سبب ہنگامی صورتحال اور سماجی دوری کے سخت ضوابط کا نفاذ کیا گیا ہے، تب سے ان روایتی فنکاروں کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس فن سے وابستہ چند خواتین سے بات کر کے ان کے مسائل جاننے کی کوشش کی ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشناکوکو کہتی ہیں کہ کسی زمانے میں اس علاقے میں اتنی گیشا ہوتی تھیں کہ انھیں نام بھی یاد نہیں ہوتے تھے تاہم اب صرف چند ہی باقی بچی ہیں
اکوکو نامی گیشا 80 سال کی ہو چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ٹوکیو شہر میں گیشاؤں کے علاقے آکاساکا میں کسی زمانے میں 400 سے زیادہ گیشائیں ہوتی تھیں۔ 'پہلے ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مجھے ان کے نام بھی یاد نہیں ہوتے تھے۔ تاہم اب صرف 20 ایسی خواتین رہ گئی ہیں اور اب کام اتنا نہیں کہ نئی خواتین کو تربیت دی جا سکے، خاص طور پر اب۔‘
کورونا وائرس کے سبب لوگوں نے اپنے اخراجات کم کیے ہیں اور اب کئی لوگ پرتعیش بند کمروں میں گیشاؤں کے ساتھ وقت نہیں گزارنا چاہتے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنکوئکو چہرے پر ماسک پہن کر فن کا مظاہرہ کر رہی ہیں تاہم یہ ان کے لیے مشکل ہوتا ہے
ان کے کام میں 95 فیصد کمی آ چکی ہے اور سماجی دوری کی پابندیاں بھی اپنی جگہ موجود ہیں: یعنی گاہکوں کے لیے مشروبات نہ ڈالنا، ان سے ہاتھ تک نہ ملانا، دو میٹر دور بیٹھنا وغیرہ۔ ان کی بڑی وگز کے ساتھ ان کے لیے ماسک پہننا مشکل ہوتا ہے اس لیے زیادہ تر وہ ماسک نہیں پہنتیں۔
اکوکو کہتی ہیں: 'جب آپ قریب بیٹھتے ہیں تو باتوں میں جذبات ابھر کر آتے ہیں مگر جب آپ دو میٹر دور بیٹھے ہوں تو گفتگو برباد ہوجاتی ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنمیک اپ آرٹسٹ مٹسوناگا کندا (درمیان) کہتے ہیں کہ ان کے تمام ایونٹس منسوخ ہو چکے ہیں
ٹوکیو میں گیشاؤں کے لیے چھ مشہور علاقے ہیں جن میں صرف اکاساکا میں ہی 30 سال قبل تک 120 گیشائیں تھیں۔ اب پورے ٹوکیو میں کُل 230 ایسی خواتین باقی بچی ہیں۔
اکوکو کہتی ہیں کہ ان فنکاروں کی آمدنی صفر تک آ چکی ہے۔
'میرے پاس تو پھر بھی کچھ ذریعہ معاش ہے مگر مجھ سے کم عمر کئی فنکار مسائل کی شکار ہیں۔'
ایسی تمام خواتین 10 لاکھ ین کی حکومتی سبسڈیز کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔ لیکن مایو نامی 47 سالہ گیشا کہتی ہیں کہ کورونا کی دوسری لہر کا تصور بھی خوفناک ہے۔
انڈیا میں متاثرین کی یومیہ تعداد میں روز افزوں اضافہ ریکارڈ, کروتیکا پاٹھی، بی بی سی نیوز، دلی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں متاثرین کی یومیہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور رواں ہفتے میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق یومیہ 27 ہزار سے لے کر 29 ہزار تک نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق مغربی ریاست مہاراشٹر میں بدھ کے روز آٹھ ہزار نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد دو لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ریاست نے یہاں پر اب تک 10 ہزار ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔ اس کے دارالخلافہ ممبئی میں ایک لاکھ سے زیادہ متاثرین موجود ہیں۔
اس کے دارالخلافہ بنگلور کو انڈیا کی سلیکون ویلی قرار دیا جاتا ہے اور اسے رواں ہفتے کے اوائل میں متاثرین کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
تقریباً 50 ہزار متاثرین کے ساتھ یہ ریاست ملک میں چوتھی سب سے زیادہ متاثر ریاست ہے۔
امریکہ اور برازیل کے بعد انڈیا کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جہاں اب تک نو لاکھ سے زیادہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ 24 ہزار 309 اموات ہو چکی ہیں۔
اسد عمر کے مریضوں کی مثبت شرح کم ہونے کے دعوے اور ماہرین کی رائے میں اختلاف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے مطابق چند لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں کمی ٹیسٹنگ میں کمی کی وجہ سے ہو رہی ہے۔
اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں انھوں نے کہا کہ جون کے وسط میں ٹیسٹ کے نتائج مثبت آنے کی شرح 22 فیصد تھی۔
انھوں نے کہا کہ اگر اس لحاظ سے دیکھا جاتا تو گذشتہ روز کیے گئے 24 ہزار 262 ٹیسٹوں کے نتیجے میں 5500 نئے متاثرین سامنے آتے جبکہ اصل تعداد دو ہزار 145 تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں مثبت ٹیسٹ آنے کی شرح میں 60 فیصد کمی ہوئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اس حوالے سے چند دن قبل بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ میں ماہرین نے اس خیال سے اختلاف کیا تھا۔ ٹیسٹنگ کے حوالے سے تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات تو درست ہے کہ ملک میں یومیہ ٹیسٹنگ کی تعداد میں گذشتہ ایک ماہ میں کمی آئی ہے۔
اس کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ جتنے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، چاہے روزانہ ایک ہزار، دس ہزار یا ایک لاکھ، ان میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو کہ کورونا میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ یعنی ہم اس شرح کا جائزہ لیں کہ کُل کیے گئے ٹیسٹ میں سے کتنے لوگوں میں مرض کی تصدیق ہوتی ہے۔
آج سے لگ بھگ ایک ماہ قبل سات جون کو یہ شرح 20 فیصد تھی، آٹھ جون کو 18 فیصد، نو جون کو 22 فیصد اور 10 جون کو بھی 22 فیصد کے قریب رہی۔
اس کے برعکس پانچ جولائی کو یہ شرح 15 فیصد، چھ جولائی کو یہ 11 فیصد اور سات جولائی کو یہ 13 فیصد رہی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں علامات ظاہر نا کرنے والے کورونا کے مریضوں کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے۔
اس کے علاوہ پالیسی میں تبدیلی کے بعد اب بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کی ٹیسٹنگ بھی نہیں کی جا رہی ہے۔
كورونا ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمود شوکت نے اس بارے میں بتایا کہ حکومت کی جانب سے سمارٹ سیمپلنگ متعارف کروائی گئی تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ درست نہیں ہے کہ ایک چھوٹی سی آبادی پر کیے جانے والے ٹیسٹوں کے نتیجے سے پورے شہر، صوبے یا پاکستان میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا اندازہ لگایا جائے۔
ان کا مزيد کہنا تھا کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہم بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کر سکیں، اسی وجہ سے ہم نے اپنے وسائل کو بچانے کے لیے پالیسیوں میں تبدیلی کی اور مسافروں کے ٹیسٹ بھی بند کیے۔
ہمارے دماغ کورونا وائرس کی وبا سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟
کورونا وائرس کی وبا نے ہم سب کو کسی نہ کسی طرح سے متاثر کیا ہے۔ اس وبا کے باعث جبکہ دنیا بھر کی معیشتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ ہمارے کام کاج کے طریقے، میل جول کی روایات اور بہت سے سماجی رویے تبدیل ہو چکے ہیں۔
اس ویڈیو میں دیکھیے کہ کیسے سماجی تنہائی، بیروزگاری، اور کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خوف وہ چند وجوہات ہیں جو عالمی وبا کے دنوں میں ہماری ذہنی صحت کو متاثر کر رہی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کیا کورونا وائرس آپ کو دوبارہ بھی متاثر کر سکتا ہے؟
آسٹریلیا: بے روزگاری کی شرح 22 سال کی بلند ترین سطح پر
،تصویر کا ذریعہReuters
آسٹریلیا میں جون کے مہینے میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد معاشی سرگرمیاں بحال ہوئیں اور بڑی تعداد میں بے روزگار لوگوں کو روزگار ملا، لیکن اس کے باوجود آسٹریلیا میں بے روزگار افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو جاری ہونے والے سرکاری ڈیٹا میں پایا گیا کہ اپریل اور مئی کے مقابلے میں جون میں مزید دو لاکھ 18 ہزار لوگوں کو ملازمتیں ملیں جو کہ روئٹرز کے ایک سروے کی پیشگوئی سے ایک لاکھ 12 ہزار زیادہ ہے۔
تاہم بے روزگاری کی شرح بھی 22 سال کی بلند ترین سطح یعنی 7.4 فیصد پر رہی کیونکہ ملازمتوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی کہ تمام بے روزگار لوگوں کو روزگار فراہم ہو سکے۔
آسٹریلیا میں جون میں بے روزگار افراد کی تعداد میں 69 ہزار 300 کا اضافہ ہوا اور اب یہاں نو لاکھ 92 ہزار 300 افراد بے روزگار ہیں۔
یہ تعداد 2008 کے عالمی مالیاتی بحران میں بے روزگاری سے تقریباً ایک تہائی زیادہ ہے۔
چین کا شہر ووہان لاک ڈاؤن سے کیسے نکلا؟
دنیا بھر میں افراتفری پھیلانے والی کورونا وائرس کی وبا کا آغاز وسطی چین کے بڑے شہر ووہان سے ہوا جس کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔
یہ شہر اس کے بعد 76 دن تک لاک ڈاؤن میں رہا۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے دو ماہ بعد وہاں زندگی کیسی ہے، جانیے اس ویڈیو میں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
جنوبی کوریا میں 61 نئے متاثرین، عراق سے واپس آنے والے ملازمین میں مرض کی تشخیص
جنوبی کوریا میں جمعرات کو 61 نئے مریض سامنے آئے ہیں جو کہ گذشتہ روز کے 39 نئے مریضوں کے مقابلے میں کافی زیادہ اضافہ ہے۔
ملک کے طبی حکام نے بتایا کہ 47 مریض بیرونِ ملک سے آنے والے افراد تھے جس میں سے 20 ایک جنوبی کوریائی تعمیراتی کمپنی کے ملازمین تھے جو عراق سے واپس آئے تھے۔
جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق حکام نے خبردار کیا ہے کہ عراق سے مزید ملازمین کی واپسی متوقع ہے جس کی بنا پر بیرونِ ملک سے آنے والے متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
آئی ایم ایف: عالمی معیشت ابھی مشکل وقت سے باہر نہیں آئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ بحالی کی علامات کے باوجود عالمی معیشت ابھی 'مشکل وقت سے باہر نہیں آئی ہے۔'
جی 20 ممالک کے وزرائے خزانہ کے نام ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ عالمی معیشت اب بھی چیلنجز کی زد میں ہے جس میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا امکان بھی ہے۔
انھوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے امدادی پروگرام جاری رکھیں۔
آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ رواں سال مجموعی قومی پیداوار میں 4.9 فیصد کی کمی آئے گی اور 'اگلے سال کے لیے صرف تھوڑی ہی بحالی متوقع ہے۔'
جارجیوا نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ جی 20 ممالک کی جانب سے 11 کھرب ڈالر کے پیکج نے بدترین نتائج سے محفوظ رکھا ہے مگر 'ان حفاظتی اقدامات کو ضرورت کے اعتبار سے نہ صرف برقرار رکھا جانا چاہیے، بلکہ کچھ معاملات میں انھیں وسیع کرنے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘
بنگلہ دیش: ٹیسٹ کیے بغیر ہزاروں منفی رپورٹس جاری کرنے والا ہسپتال مالک گرفتار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش میں ایک ہسپتال کے مالک کو ہزاروں کی تعداد میں ٹیسٹوں کے منفی نتائج جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محمد شاہد نے مبینہ طور پر مریضوں کو ٹیسٹ کیے بغیر ہی انھیں کورونا سے پاک قرار دیا تھا۔
پولیس نے 42 سالہ شاہد کو گرفتار کرنے کے لیے نو روز تک تلاش جاری رکھی جس کے بعد انھیں برقع پہن کر انڈیا فرار ہوتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔
ریپڈ ایکشن بٹالین کے ترجمان کرنل عاشق باللہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'ان کے ہسپتالوں نے کورونا وائرس کے 10 ہزار 500 ٹیسٹ کیے جن میں سے 4200 اصلی تھے اور باقی 6300 رپورٹس ٹیسٹ کیے بغیر ہی جاری کر دی گئی تھیں۔‘
اس کے علاوہ شاہد پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے حکومت سے ڈھاکہ میں موجود اپنے ہسپتالوں میں مفت علاج فراہم کرنے کے معاہدے کے باوجود سرٹیفیکیٹس اور وائرس کے علاج کے لیے پیسے لیے۔
آسٹریلیا بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے مزید ڈیڑھ ارب ڈالر کی سبسڈی دے گا
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے وزیرِ اعظم سکاٹ موریسن فروری میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں
آسٹریلیا کی حکومت کورونا وائرس کے سبب بڑھتی بیروزگاری کا مقابلہ کرنے کے لیے اجرت سبسڈی پروگرام کے تحت مزید ڈیڑھ ارب آسٹریلین ڈالر (1.1 ارب امریکی ڈالر) خرچ کرے گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو ملک میں کورونا کے 327 نئے متاثرین سامنے آئے جو کہ اپریل کے اوائل سے لے کر اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
سب سے زیادہ متاثرین ریاست وکٹوریا سے سامنے آئے ہیں جہاں اب تک متاثرین کی سب سے بڑی یومیہ تعداد ریکارڈ کی گئی۔
وکٹوریا آسٹریلیا کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے جس کا وبا کی تازہ لہر کے باعث ملک بھر سے رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے۔
اس کے دارالحکومت میلبورن کے 49 لاکھ شہریوں کو ضروری کاموں کے علاوہ گھر پر رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پاکستان میں گذشتہ روز 40 افراد ہلاک ہوئے، دو ہزار سے زائد نئے متاثرین سامنے آئے
پاکستان کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو ہزار 145 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک پاکستان بھر میں دو لاکھ 57 ہزار 914 نئے مریض سامنے آ چکے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 78 ہزار 737 صحتیاب ہوچکے ہیں۔
گذشتہ روز ملک میں کورونا کے 24 ہزار 262 ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
این سی او سی کے مطابق پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے 1825 وینٹیلیٹر مختص کیے گئے تھے تاہم ان میں سے صرف 330 پر ہی مریض موجود ہیں۔
ادارے نے یہ بھی مطلع کیا ہے کہ پاکستان کے 733 ہسپتالوں میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سہولیات موجود ہیں اور تین ہزار 321 مریضوں اس وقت مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
ضلع مظفرآباد: سمارٹ لاک ڈاؤن میں نرمی اگلے ہفتے تک بڑھا دی گئی, ایم اے جرال، صحافی
،تصویر کا ذریعہM.A Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سمیت ضلع مظفرآباد میں سمارٹ لاک ڈاؤن میں نرمی میں مزید ایک ہفتے کے لیے توسیع کر دی گئی ہے، البتہ دارالحکومت مظفرآباد کے تین علاقوں میں کورونا کے متاثرین میں غیر معمولی اضافے کے باعث ان علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن میں نرمی ختم کر دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر مظفرآباد بدر منیر کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ان تین علاقوں میں گوجرہ، دومیل سیداں اور اپر چھتر ہاؤسنگ سکیم کا علاقہ شامل ہے۔
ان کے مطابق ان علاقوں میں ضابطہ اخلاق پر عملدر آمد کروانے کے لیے مجسٹریٹ سمیت پولیس نفری تعینات ہوگی جبکہ ان علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر رینڈم سیمپلنگ کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر بدر منیر کے مطابق جمعے اور منگل کو دارالحکومت مظفرآباد میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا جبکہ ٹرانسپورٹ ضابطہ اخلاق کے مطابق چلے گی۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تنقید ’ناسمجھ‘ اور ’احمقانہ‘ ہے: ڈاکٹر فاؤچی
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں وبائی
امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان پر لگائے گئے
الزامات اور کردار کشی کی کوششوں کو ’ناسمجھ‘ اور ’احمقانہ‘ قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا
تھا کہ ’انتظامیہ کا ایسا کرنے سے صدر کو ہی نقصان پہچنے گا۔ یہ ان کا برا تاثر
قائم کرے گا۔‘
حالیہ دنوں میں ڈاکٹر
فاؤچی اور امریکی صدر کے درمیان کورونا وائرس کے وبا سے نمٹنے کے لیے امریکی
کوششوں کے اوپر اختلافات ہوئے ہیں اور وائٹ ہاؤس نے ڈاکٹر فاؤچی کو تنقید کا نشانہ
بنایا ہے۔
اتوار کو وائٹ ہاؤس نے
ایک فہرست جاری کی جس میں ڈاکٹر فاؤچی کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے دیے
گیے وہ بیانات تھے جو کہ بعد میں غلط ثابت ہوئے تھے۔
جان ہاپکنز یونی ورسٹی کے مطابق امریکہ میں یومیہ متاثرین کا نیا ریکارڈ، سپین میں 22 مئی کے بعد سب سے زیادہ نئے مریض
،تصویر کا ذریعہReuters
جان ہاپکنز یونی ورسٹی
کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں یومیہ نئے متاثرین کی
تعداد میں ایک بار پھر ریکارڈ اضافہ قائم ہوا جب گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 67000 سے زیادہ متاثرین کی تشخیص
ہوئی ہے۔
تاہم امریکہ کے سرکاری
ادارے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پیریونشن کے مطابق 60971 نئے متاثرین سامنے آئے
ہیں۔
ادھر یورپی ملک سپین
میں 390 متاثرین کی تشخیص ہوئی جو کہ 22 مئی کے بعد یومیہ متاثرین میں سب سے زیادہ
اضافہ ہے۔ ان میں سے اکثریت مریض شمال مشرقی علاقوں میں سامنے آئے ہیں۔
بریکنگ, دنیا بھر میں متاثرین کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی
،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی یونی ورسٹی جان
ہاپکنز کی جانب سے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کووڈ 19 کے مرض میں
مبتلا افراد کی کُل تعداد ایک کروڑ 35 لاکھ افراد سے زیادہ ہو چکی ہے اور 582473
افراد اس مرض کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔
گذشتہ ہفتے تک ایک
کروڑ 20 لاکھ افراد اس مرض سے متاثر تھے جس کے مطلب یہ ہے کہ اوسطاً یومیہ دو لاکھ
سے زیادہ متاثرین سامنے آ رہے ہیں۔
ان یومیہ متاثرین کی
تعداد میں سے ایک چوتھائی صرف امریکہ میں ہیں۔
کُل متاثرین کے اعتبار
سے دنیا کے دس سب سے متاثرہ ملک: