امریکہ میں ہلاکتیں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ، میکسیکو میں 5311 نئے متاثرین

امریکہ میں ہر ہفتے تقریباً پانچ ہزار لوگ وائرس سے ہلاک ہو رہے ہیں اور سب سے زیادہ متاثرہ امریکی شہروں میں حکام کے پاس مردہ خانوں میں جگہ ختم ہونے کے باعث لاشیں رکھنے کی جگہ باقی نہیں بچی ہے۔ پاکستان میں اس مرض سے اب تک دو لاکھ 64 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر جبکہ دو لاکھ پانچ ہزار سے زیادہ صحتیاب ہو چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں اس سے 200 سے زیادہ ممالک میں 25 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں وہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 71 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

    دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے جن چیزوں کو اس کوشش میں سب سے اہم قرار دیا ہے ان میں سے ایک اس بیماری کی تشخیص کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کی ٹیسٹنگ کا عمل ہے۔

    دنیا میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کا عمل مختلف ممالک میں مختلف رفتار سے جاری ہے۔ امریکہ میں جہاں ابتدا میں اس عمل میں سست رفتاری دکھائی دی وہ اب دنیا میں سب سے متاثرہ ملک بن چکا ہے اور اب وہاں ٹیسٹنگ کے عمل میں تیزی آئی ہے۔

  2. روس نے برطانیہ کے ’بے بنیاد‘ ہیکنگ الزامات کی تردید کر دی

    پتن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی صدر ولادمر پتن کے ترجمان دمتری پیسکوو نے اس برطانیہ کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس ویکسین بنانے والے ادارے روسی ہیکرز کے نشانے پر ہیں۔

    روسی صدر کے ترجمان کے مطابق یہ الزام بے بنیاد ہے اور روس کا اس سے ’کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس برطانیہ میں ادویات اور تحقیق کے اداروں کی ہیکنگ کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔

    ’ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ روس اس میں ملوث نہیں۔ ہم ان الزامات کو نہیں مانتے جیسے ہم 2019 کے انتخابات کے حوالے سے الزامات کو نہیں مانتے۔‘

  3. کیا کورونا وائرس آپ کو دوبارہ بھی متاثرہ کر سکتا ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کیا آپ کورونا وائرس سے دوبارہ متاثر ہوسکتے ہیں؟ آپ کا نظام مدافعت کسی بھی وائرس سے بچاؤ میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اینٹی باڈیز کیسے متاثرہ جسم کو آئندہ اس بیماری سے بچا سکتی ہیں۔ جانیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  4. آزمائش کے دوران ممکنہ ویکسینز کے ’حوصلہ افزا‘ نتائج, فرگس والش، طبی نمائندے

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    ابتدائی آزمائش میں برطانیہ اور امریکہ میں بنائی جانے والی ممکنہ ویکیسنز کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں جس کے بعد موثر ویکسین کی جلد تیاری کی امید بڑھ گئی ہے۔

    امریکہ میں ہونے والی تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ آزمائش کے دوران کم سے کم دو ممکنہ ویکسینز نے رضاکاروں میں بہتر مدافعتی نتائج آئے ہیں اور اس کے کوئی برے اثرات بھی نہیں پڑے۔

    اسی طرح کے نتائج آکسفورڈ یونیورسٹی سے آئندہ ہفتے سامنے آنے والے اعداد و شمار سے بھی متوقع ہیں۔

    اس وقت تقریباً درجن بھر ویکسینز آزمائشی مرحلے سے گزر رہی ہیں جبکہ دیگر 140 ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔

    تاہم چند سائنسدانوں نے ایسے رضاکاروں کو سامنے آنے کی اپیل کی ہے جو وائرس سے متاثر ہونے کے لیے تیار ہیں۔

  5. انگلینڈ میں مزید 19 ہلاک، شمالی آئرلینڈ اور ویلز میں کوئی ہلاکت نہیں

    مانچیسٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمانچیسٹر میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک سروس، جس میں سماجی دوری کا خاص خیال رکھا گیا

    انگلینڈ میں کورونا وائرس ٹیسٹ میں مثبت تصدیق ہونے والے مزید 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان مریضوں کی عمریں 52 سے 91 کے درمیان تھیں اور سبھی کو صحت کے کچھ نہ کچھ مسائل ضرور تھے۔

    شمالی آئرلینڈ اور ویلز میں کوئی نئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، جبکہ سکاٹ لینڈ میں کورونا وائرس سے صرف ایک موت کی اطلاع ہے۔

    برطانیہ کے باقی اعداد و شمار حکومت بعد میں شائع کرے گی۔

    دری اثنا برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کے جمعرات کو آنے والے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں جن افراد کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا ان میں سے 66 افراد کی موت ہو گئی ہے۔

    اسی طرح برطانیہ میں ہر طرح کی سیٹنگز میں اب تک کل ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 45 ہزار 119 ہو گئی ہے۔

  6. کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے ؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج کل فلُو یا نزلے زکام کا موسم ہے، جسے دیکھیں چھینکیں مارتا یا ناک صاف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جسے زکام ہوتا ہے وہ خود ہی کہہ دیتا ہے کہ مجھ سے دور رہیں کہیں آپ کو بھی جراثیم نہ لگ جائیں۔

    یا پھر آپ خود ہی اس متاثرہ شخص کے پاس جانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا ہر سال ہوتا ہے، تاہم اس مرتبہ ایک بات نئی ضرور ہے۔

    آپ لندن میں ٹرین میں بیٹھیں ہیں اور ایک دم کسی کو چھینک یا چھینکیں آنے لگتی ہیں تو پہلے تو لوگ آپ کو غور سے دیکھنے لگتے ہیں اور اس کے بعد آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے دور جانے لگتے ہیں۔

  7. کولمبیائی اپنے گھروں کے باہر سرخ جھنڈے کیوں لٹکا رہے ہیں؟

    کولمبیا

    ،تصویر کا ذریعہٰClaudia

    کولمبیا میں اس وقت کووڈ۔19 کے 1 لاکھ 65 ہزار سے زیادہ متاثرین ہیں اور وہاں اموات کی تعداد تقریباً 5 ہزار 800 کے قریب ہے۔ انفیکشنز میں اضافے کی وجہ سے ملک میں لگے لاک ڈاؤن میں بھی دو ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے اور اب یہ 1 اگست تک رہے گا۔

    کافی ورکنگ کلاس محلوں کے لیے اس کا مطلب ہے کہ انتہائی ضروری آمدنی کے بغیر مزید وقت گزارنا۔

    اور کئی محلوں میں لوگ اپنے گھروں کے باہر سرخ جھنڈے حکومت کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے لٹکا رہے ہیں۔

    کلاڈیا، لا پرسیویرانشیا میں کوڑا اٹھانے کے ادارے میں کام کرتی ہیں، جو دارالحکومت بوگوٹا کے نواح میں واقع ہے۔ انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام آؤٹ سائیڈ سورس کو بتایا کہ ’وبا کے پہلے حصے میں ہم میں سے کوئی بھی ری سائیکلر کام نہیں کر سکا، اور کیونکہ وہاں کوئی مدد نہیں تھی، اس لیے ہم نے سرخ جھنڈے لگا دیے۔‘

    ’اور ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی مدد نہیں آئی۔ اور یہ صرف ساتھ والا محلہ ہے۔‘

  8. ’روسی ہیکرز کورونا وائرس ویکسین بنانے والے اداروں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں قومی سکیورٹی سروسز کے گروپ نے خبردار کیا ہے کہ روسی ہیکرز ایسے اداروں کو نشانہ بنانے والے ہیں جو ویکسین تیار کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کا کہنا ہے کہ ’ان کو تقریباً یقین ہے کہ‘ یہ روسی انٹیلیجنس سروسز کا حصہ ہیں۔‘

    ان کے مطابق ہیکرز کے اس گروہ نے میل ویئر استعمال کر کے کووڈ 19 کی ویکسین بنانے سے متعلق معلومات اکھٹی کی ہیں۔

    این سی ایس سی کے ڈائریکٹر آف آپریشنز پال چیچیسٹر کا کہنا ہے کہ یہ ’غلط‘ ہے۔

  9. چین کا شہر ووبان لاک ڈاؤن سے کیسے نکلا؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    وسطی چین کا بڑا شہر ووہان سے کورونا کی وبا کا آغاز ہوا اور پھر شہر 76 دن تک لاک ڈاؤن میں رہا۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے دو ماہ بعد وہاں زندگی کیسی ہے؟

  10. چین کے سینما گھر دوبارہ کھلنے کے بعد کیسا منظر پیش کریں گے؟, کیری ایلن، بی بی سی ماانیٹرنگ

    چین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پیر سے چین میں سینما گھروں کو عام عوام کے لیے کھول دیا جائے گا لیکن سینما گھر کا منظر یکسر تبدیل ہو گا۔

    چائنا فلم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے حکام کو کڑی ہدایات دی گئی ہیں جن کے تحت سینما گھر صرف ایسے علاقوں میں کھلیں گے جہاں وبا کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً ہر جگہ سوائے دارالحکومت بیجنگ کے۔

    سینما گھروں میں کل گنجائش کا 30 فیصد ہی پر کیا جا سکے گا جبکہ فلم دیکھنے والوں کو ایک سیٹ چھوڑ کر بیٹھنے کا کہا جائے گا، ان کا درجہ حرارت چیک کیا جائے گا اور ایک میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنے کا بھی کہا جائے گا۔ فیملی کے اراکین اور ڈیٹ پر آئے افراد میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔

    سینما میں کھانے پینے کی کسی چیز کی اجازت نہیں ہو گی اور سینما جانے والوں کو ہر وقت ماسک پہنے رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ تمام افراد کو ٹکٹس کی خریداری آن لائن کرنی ہو گی۔

    اس کے علاوہ وہ طویل دورانیے کی فلم بھی نہیں دیکھ سکیں گے۔ سرکاری ادارے کے مطابق کوئی بھی فلم دو گھنٹے سے زیادہ کی نہیں ہو سکتی اور فلم کے دوران صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے لیے لمبے وقفے دیے جائیں گے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ متعدد فلموں کو آخری لمحات میں سین کاٹے جائیں گے جو چین میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

  11. چین کی معیشت برے دور کے بعد بہتری کی جانب گامزن

  12. صدر ٹرمپ نے ماسک پہ کوئی قانون نہیں توڑا، وائٹ ہاؤس کی تردید

    صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایٹلانٹا کے دورے کے دوران سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کی ہدایات پر عمل کیا ہے۔

    یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایٹلانٹا کی میئر کیشا لانس بوٹمز نے دعویٰ کیا کہ صدر نے شہر کے ایئر پورٹ پر ماسک نہ پہن کر قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

    یہ ایئرپورٹ ایٹلانٹا شہر کی ملکیت ہے، جہاں اس وقت ماسک پہننے کا قانون نافذ ہے۔

    ٹرمپ وہاں پراجیکٹس کے ڈھانچوں پر ایک خطاب کرنے گئے تھے۔ وہ ایئر پورٹ سے باہر نہیں نکلے۔

    سی این این سے بات کرتے ہوئے میئر کیئشا لانس بوٹمز نے کہا: ’سو ماسک نہ پہن کر، صدر ٹرمپ نے اینٹلانٹا شہر کا قانون توڑا ہے، لیکن مجھے کسی طرح اس بات پر حیرت نہیں ہو رہی ہے کہ وہ ہمارے شہر کے قوائد اور ضوابط کو خاطر میں نہیں لائے۔‘

    اس کے بعد بدھ کو وائٹ ہاؤس نے براہ راست تو میئر کو مخاطب نہیں کیا لیکن یہ ضرور کہا کہ صدر نے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کی ہدایات پر عمل کیا تھا۔

  13. کورونا وائرس کے حوالے سے بی بی سی اردو کا خصوصی خبرنامہ

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  14. گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انڈین ریاست بہار میں 600 سے زیادہ اموات، ایک بار پھر لاک ڈاؤن نافذ

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    انڈیا میں گذشتہ چند روز سے کورونا وائرس کے نئے کیسز اور اموات میں اضافہ کے بعد مقامی حکام کی جانب سے متعدد ریاستوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔

    اب تک تقریباً درجن بھر ریاستوں کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ انڈیا میں اب تک نو لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ کیے جا چکے ہیں جبکہ صرف بدھ کے روز ہی 30 ہزار کیسز سامنے آئے تھے۔

    جمعرات کو ریاست بہار میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ شمال میں موجود اس ریاست کی سرحدیں نیپال سے لگتی ہیں۔ 10 کروڑ کی آبادی والی اس ریاست میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 600 سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں۔

    یہ پابندیاں 15 روز کے لیے لگائی گئی ہیں اور یہاں تمام سکول، مندر اور غیرضروری کاروبار بند رہیں گے۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی گئی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک کا رش عام دنوں جیسا ہے۔

  15. ایکٹیمرا انجکشن سے سنا مکی تک: کوورنا کے علاج میں یہ سب کس حد تک مددگار؟

    ایکٹیمرا

    ،تصویر کا ذریعہROCHE

    دنیا بھر میں جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے وہیں اس کی ویکسین کی تیاری کی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

    تاحال اس بیماری کا علاج دریافت نہیں کیا جا سکا ہے لیکن پاکستان میں اس وبا کے آغاز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات کی بھرمار دیکھی گئی جس میں مختلف ادویات، جڑی بوٹیوں یا پھر کھانے پینے میں روزمرہ استعمال ہونے والی اشیا کو اس بیماری سے صحت یابی میں مددگار یا پھر اس کا علاج ہی قرار دے دیا گیا۔

    یہ بات جہاں ادرک اور کلونجی یا ملیریا کے علاج میں استعمال ہونی والی دوائی کلوروکوئین سے شروع ہوئی وہیں آج کل اکٹیمرا نامی انجیکشن اور سنامکی نامی جڑی بوٹی کا شہرہ ہے اور ایسی ادویات و جڑی بوٹیوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کا استعمال کورونا کے مریض کے جسم میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

  16. کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ، سپین کا 92700 نیولے ذبح کرنے کا اعلان

    نیولے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین میں ایراگون خطے کی حکومت نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ وہ متعدد نیولوں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد 92700 نیولوں کو ذبح کریں گے۔

    مئی کے مہینے میں حکام نے لا پویبلا ڈی ولویردے میں ایک آبی نیولوں کے فارم کو اس وقت بند کیا جب وہاں کے سات کارکنان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ اس کے بعد سے یہاں نیولوں کو زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے۔

    حالانکہ ان نیولوں میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور نہ ہی ان کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن پھر بھی سوموار کے روز کیے جانے والے ٹیسٹس میں 90 میں سے 78 نیولوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وائرس دوسرے جانوروں میں نہ پھیل سکے۔

    ایراگون کے محکمہ ذراعت کے حکام کے مطابق ’اب تک اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ کیا انسانوں سے جانوروں میں یا جانوروں سے انسانوں میں یہ وائرس منتقل ہو رہا ہے‘ اور ’یہ فیصلہ حفاظتی بنیادوں پر لیا گیا ہے۔‘

  17. کورونا وائرس ویکسین کے ٹرائل کے لیے رضاکاروں کی اپیل

    رضاکار

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    سو سے زیادہ ممتاز شخصیات نے جن میں نوبیل انعام یافتہ ہستیاں بھی شامل ہیں ایک کھلے خط میں ان رضاکاروں کے لیے اپیل کی ہے جنھیں ویکسین دینے کے بعد کورونا وائرس لگایا جائے گا۔

    امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کو لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ یہ ’چیلنج ٹرائلز‘ ویکسین بنانے میں تیزی لا سکتے ہیں۔

    اس کے مطابق ٹرائلز میں نوجوان اور صحت مند رضا کار حصہ لیں گے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے کووڈ۔19 ویکسین پروگرام کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ اس طرح کی تحقیق قابلِ عمل اور معلوماتی ہونی چاہیئے۔

    اس وقت دنیا بھر میں ویکسین کے تقریباً 23 ٹرائل ہو رہے ہیں۔

    یہ جاننے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ یہ ویکسین کام کرے گی اور وہ یہ ہے کہ کافی زیادہ رضاکاروں کو ویکسین دینے کے بعد ان کی روزانہ کی زندگی میں انھیں وائرس سے دوبارہ روشناس کرایا جائے اور دیکھا جائے کہ وہ انفیکٹڈ ہوتے ہیں یا نہیں۔

  18. پاکستانی نژاد ڈاکٹر نے امریکہ میں وینٹیلیٹر کی کمی حل ایجاد کر لیا

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    امریکہ میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث وینٹیلیٹرز کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    ایسے میں ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر سعود انور نے ایک ایسا آلہ بنانے میں مدد کی ہے جس سے ایک وینٹیلیٹر کے ذریعے سات افراد کو آکسیجن فراہم کی جا سکتی ہے۔

    طبی ماہرین نے ان کی اس کامیابی کو سراہا اور ان کی تعریف کی۔ ہمارے ساتھی ونیت کھرے نے ان سے بات کی اور اس بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی۔

    ڈاکٹر سعود نے کیا کہا، دیکھیں اس ویڈیو میں

  19. سپین میں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کو آج خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ عالمی وبا کے باعث اب تک ملک میں 28 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ان کی یاد میں آج منعقدہ تقریبات اس بات کی عکاس ہیں کہ اس وبا نے ملک کو کتنا زیادہ متاثر کیا ہے اور ملک کے صحت کے نظام پر دباؤ ڈالا ہے۔

    ایک شخص جو اس وائرس کے باعث ہلاک ہوا تھا اس کے بھائی نے اس تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ ایسے سانحے کے دوران ہمدردی دکھانے کی بہت اہمیت ہے۔

    کیٹولینیا کے ایک طبی کارکن نے بتایا کہ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اس وبا کے دوران کتنی مشکلات کا سامنا کیا۔

    ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی یہ تقریب لاک ڈاؤن نرم کرنے کے متعدد ہفتوں بد منعقد کی گئی ہے تاہم ملک میں اب بھی اس حوالے سے خوف موجود ہے۔

    لاک ڈاؤن نرم کرنے کے بعد میں سپین میں چھوٹے پیمانے پر وبا کا پھیلاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔

  20. کورونا وائرس کو سمجھنے کے لیے ’R` نمبر کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورورنا وائرس کے خطرے کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ لیکن نہایت اہم چیز ریپروڈکشن نمبر ہے جسے عرف عام میں اس کے مخفف ’آر‘ سے شناخت کیا جاتا ہے۔

    یہ نمبر دنیا بھر میں حکومتوں کی رہنمائی کر رہا ہے کہ وبا کے دوران انسانی جانیں بچانے کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے اور یہ ہمیں ایسے اشارے دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کہ کس حد تک لاک ڈاؤن اٹھایا جا سکتا ہے۔

    مگر یہ نمبر کیا ہے اور اس کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے، بی بی سی کے نامہ نگار برائے صحت جیمز گیلیگہر کی رپورٹ میں جانیے۔