امریکہ میں ہلاکتیں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ، میکسیکو میں 5311 نئے متاثرین

امریکہ میں ہر ہفتے تقریباً پانچ ہزار لوگ وائرس سے ہلاک ہو رہے ہیں اور سب سے زیادہ متاثرہ امریکی شہروں میں حکام کے پاس مردہ خانوں میں جگہ ختم ہونے کے باعث لاشیں رکھنے کی جگہ باقی نہیں بچی ہے۔ پاکستان میں اس مرض سے اب تک دو لاکھ 64 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر جبکہ دو لاکھ پانچ ہزار سے زیادہ صحتیاب ہو چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ایران میں کورونا وائرس سے طبی عملے کے کم از کم 140 افراد ہلاک

    iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران میں حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے طبی عملے کی تعداد 140 ہو چکی ہے جبکہ 5000 سے زیادہ وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    ساتھ ساتھ انسانی حقوق پر کام کرنے والے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی رپورٹ میں تخمینہ لگایا ہے کہ اب تک دنیا بھار میں تین ہزار سے زیادہ طبی عملہ کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکا ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ یہ تعداد شاید اصل اموات سے کہیں کم ہوں۔

  2. برازیل کے صدر بولسونارو کا کورونا وائرس ٹیسٹ پھر سے مثبت

    bolso

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    خبر رساں ادارے رؤئٹرز کے مطابق سات جولائی سے کووڈ 19 کے مرض میں مبتلا برازیل کے صدر جئیر بولسونارو نے دارالحکومت برازیلیا میں صحافیوں کو بتایا کہ دوبارہ ٹیسٹ کرانے پر انھیں معلوم ہوا ہے کہ وہ ابھی بھی کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔

    برازیلین صدر نے کہا ہے کہ ان کی طبیعت ناساز نہیں ہے اور ٹیسٹ منفی آنے پر وہ کام دوبارہ شروع کر دیں گے۔

    واضح رہے کہ بولسونارو نے ماضی میں کئی بار اس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اس ’فلو‘ کہا ہے۔

    برازیل اس وقت امریکہ کے بعد دونوں کل متاثرین اور کل اموات کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

  3. بریکنگ, پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 494 نئے متاثرین کی تشخیص، آٹھ مزید اموات

    table

    صوبہ پنجاب کی جانب سے دیے گئے تازہ ترین اعداد و شمار کے بعد پاکستان میں اب تک کل متاثرین کی تعداد بڑھ کر 257827 ہو چکی ہے اور اموات کی کل تعداد 5425 ہو گئی ہے۔

    پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 7493 ٹیسٹس کیے گئے جس کے نتیجے میں 494 نئے متاثرین کی شناخت ہوئی جبکہ آٹھ افراد کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔

    پنجاب میں اب تک کل صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 64247 ہو چکی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. سویڈن: گروہی مدافعت کے تصور پر شکوک کا اظہار

    سویڈن

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سویڈن میں صحت کے حکام نے ہرڈ امیونٹی یا گروہی مدافعت کی حکمتِ عملی پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ایک بڑی آبادی کو ابھی بھی کورونا وائرس کا خطرہ ہے۔

    ہرڈ امیونٹی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک بڑی آبادی کسی متعدد بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کر لیتی ہے، چاہے وہ کمیونٹی ٹرانسمیشن کے ذریعے ہو یا ویکسینیشن کے ذریعے۔

    سویڈن نے اپنے سبھی ہمسایہ ممالک سے زیادہ کورونا وائرس کے کیس رپورٹ کیے ہیں۔ اب تک وہاں 76 ہزار 492 انفیکشنز اور 5 ہزار 572 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

    سویڈن نے مکمل لاک ڈاؤن کی پالیسی نہیں اپنائی تھی، بلکہ رضاکارانہ سماجی دوری اور محدود پابندیوں کو ترجیح دی تھی، جیسا کہ بڑے اجتماعات پر پابندی۔

    ملک کے سب سے اعلیٰ ماہرِ وبائیات ایندرز ٹیگنیل نے پہلے امید ظاہر کی تھی کہ گروہی مدافعت اس حکمتِ عملی کا اگر مقصد نہیں تو کم از کم ضمنی پیداوار ضرور ہو گی۔

    منگل کو ایک سینیئر صحت کی اہلکار، کیرن ٹیگمارک ویزل، نے کہا کہ سویڈن کی ایک بڑی آبادی کورونا وائرس سے ابھی تک انفیکٹ نہیں ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ وہ متاثر ہو سکتی ہے۔

    اس ماہ کے آغاز میں سپین میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی ہرڈ امیونٹی کے ذریعے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے امکانات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

    سویڈن

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  5. لاک ڈاؤن کی ’دھنیں‘: ترکی کے دور گاؤں میں ایک غیر ملکی بینڈ کے شب و روز

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہTANGO MALUCO

    وبا کے دوران سفر کے منصوبے رک گئے، سرحدوں پر پہرے لگ گئے اور ہر طرح کے مقامات بند ہو گئے۔

    اس کی وجہ سے نوجوانوں کے ایک بینڈ کے لیے مسائل کا طوفان کھڑا ہو گیا، جو صرف سڑک کے ذریعے ایشیا کا ایک چکر لگانا چاہتا تھا۔ اس سال کے آغاز سے یہ بینڈ ترکی کے ایک گاؤں میں پھنسا ہوا ہے۔

    اس بینڈ میں ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے دو بھائی اور ان کی دو گرل فرینڈز ہیں جن کا تعلق سوئٹزرلینڈ اور سپین سے ہے۔

    بینڈ جس کا نام ٹینگو مالوکو ہے اس وقت ترکی کے ایک دور افتادہ گاؤں ایرینلر میں رہ رہا ہے۔

    گروہ کی ایک رکن مرجام ایلنبروک نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت گاؤں میں پھنس گئے جب ان کے روٹ پر ایک دم سرحدیں بند کر دی گئیں۔

    گروہ نے وہاں اپنا وقت ضائع نہیں کیا بلکہ نت نئی چیزیں سیکھیں۔ مقامی لوگوں سے سیکھا کہ گاؤں کی مخصوص ڈشز کس طرح تیار کرنی ہیں، کھیتی کیسے کرنا ہے اور گائے کے دودھ سے دہی کیسے جمانا ہے۔

    ترکی کا ایک گاؤں

    ،تصویر کا ذریعہTANGO MALUCO

  6. بریکنگ, بلوچستان میں کورونا کے مزید 83 مریض

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے 83 نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 11322 ہوگئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد127 ہو گئی ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 15جولائی 2020 کو کورونا کے 499 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 83 پازیٹو آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 54668 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 43346 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر 120629 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔

    صوبے میں کورونا وائرس سے اب تک 8002 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  7. زوم میٹنگ میں آخر گدھے کا کیا کام؟

  8. برطانیہ میں کل ہلاکتیں 45 ہزار سے تجاوز کر گئیں

    حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ وائرس سے اب تک 45 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    تصدیق شدہ مریض اور روزانہ کے حساب سے ہونے والی ہلاکتوں میں کمی آ رہی ہے، لیکن ابھی بھی مقامی طور پر تیزی سے پھیلنے والی انفیکشنز پر تشویش پائی موجود ہے۔

    برطانیہ کے اعداد و شمار
  9. بریکنگ, گلگت بلتسان، 42 نئے مریض، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 38 تک پہنچ گئی, محمد زبیر خان، صحافی

    محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق وہاں 42 نئے مریضوں کے ساتھ کل کورونا متاثرین کی تعداد 1750 ہوگئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ گگت بلتستان میں بدھ کو مجموعی طور پر 131 ٹیسٹ کیے گئے۔

    اب تک وہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 38 ہوچکی ہے۔

    13 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی صحت مند افراد کی تعداد 1389 ہوچکی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت زیر علاج مریضوں کی تعداد 323 ہے۔

  10. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک روز میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض, ایم اے جرال، صحافی

    KASHMIR

    ،تصویر کا ذریعہM A JARRAL

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ صحت کے فوکل پرسن برائے کووڈ 19 ڈاکٹر ندیم الرحمن کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس خطے میں 494 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گے جن میں 39 خواتین سمیت 83 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جو ایک دن میں اب تک بڑی تعداد ہے۔

    فوکل پرس کے مطابق خطے میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 1771 تک پہنچ گی ہے اور متاثر ہونے والے افراد میں چار ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

    ڈاکٹر ندیم الرحمن کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے والے افراد میں 17 خواتین سمیت 34 افراد مظفرآباد، ایک شخص راولاکوٹ، 10 خواتین سمیت 22 افراد میرپور، 3 افراد بھمبر اور 11 خواتین سمیت 23 افراد کوٹلی سے ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں صحتیاب مریضوں کی تعداد 1061 ہوگی ہے۔

    ڈاکٹر ندیم الرحمان کے مطابق اب تک اس خطے میں 21 ہزار ایک سو بیس مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گے ہیں۔

  11. کورونا وائرس: لاک ڈاؤن میں محبت اور ندامت، اپنی سابقہ محبت سے تعلق بحال کرنے کی کہانیاں

    لاک ڈاؤن نے لوگوں کو اپنے پرانے معاشقوں کے بارے میں سوچنے پر بھی مجبور کیا ہے جو اچانک ختم ہو گئے تھے۔

    یہ ان چند کہانیوں کا انتخاب ہے جو ہمیں ان لوگوں نے بھیجی ہیں جنھوں نے ہماری ایک کہانی 'لاک ڈاؤن میں میرے سابق محبوب کی جانب سے موصول ہونے والا معذرت نامہ' پر اپنا ردعمل پیش کیا۔

    SOMSARA RIELLY

    ،تصویر کا ذریعہSOMSARA RIELLY

  12. انڈیا: 18 برسوں میں پہلی بار تجارتی سرپلس

    india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں 18 برسوں میں تجارتی سرپلس یعنی وہ مقدار جس پر ملک کی برآمدات کی قیمت اس کی درآمد کی قیمت سے زیادہ ہے، دیکھنے کو ملا ہے۔

    اشیا کی برآمدات سے متعلق تاجروں نے 12 اعشاریہ چار فیصد برآمدات کے معاہدے کیے جبکہ درآمدات 47 اعشاریہ 6 فیصد کم ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں معمولی سا تجارتی سرپلس دیکھنے کو ملا۔

    بدھ کو جاری ہونے والے کامرس منسٹری کے ڈیٹا کے مطابق ٹریڈ سرپلس 790 ملین امریکی ڈالر یعنی ایک ارب 9 کروڑ رہا۔

    ایسا تب ہوتا ہے جب کسی ملک میں اشیا کی برآمدات ایک خاص وقت تک اس کی درآمدات سے زیادہ ہو جائیں۔

    اس سے پہلے انڈیا میں تجارتی سرپلس سنہ 2002 کی ابتدا میں دیکھا گیا تھا۔ فنانشل فرم رفینیٹی کے مطابق اس وقت برآمدات اور درآمدات کے درمیان ایک کروڑ امریکی ڈالر کا فرق دیکھا گیا تھا۔

    اس بار جون میں یہ سرپلس خام تیل، سونا اور دیگر انڈین صنعتی پراڈکٹس کی درآمدات میں کمی کی وجہ سے دیکھا گیا ہے۔

  13. ہمیں بھلا دیا گیا ہے، ٹیسلا کے ورکرز کا دکھ

    ٹیسلا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ان رپورٹس کے بعد کہ کیلیفورنیا میں ٹیسلا کے ایک پلانٹ پر 100 سے زیادہ ملازمین میں کووڈ۔19 کے مثبت ٹیسٹ کی تصدیق ہوئی ہے، وہاں موجود باقی ملازمین نے اپنی حفاظت کے متعلق تشویش ظاہر کی ہے۔

    ایک انڈسٹری بلاگ کے مطابق ممکنہ طور پر تقریباً 1500 ملازمین میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    عملے کا کہنا ہے کہ ان کی تشویش نظر انداز کی گئی اور سماجی دوری اور صحت عامہ کے قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

    ٹیسلا کے ملازم برینٹن فلپس نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’مجھے بھلا دیا گیا ہے، ہم سب محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیا گیا ہے۔‘

    ’ایک دن کوئی بیمار پڑتا ہے اور ہمیں پتہ چلتا ہے، اگلے دن تین سے چار لوگ جو اس کے ساتھ کام کرتے تھے، چلے جاتے ہیں تو ہمیں کچھ نہیں بتایا جاتا۔‘

    عملے کا کہنا ہے کہ کپمنی نے انھیں کہا ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کریں کہ انھیں بخار ہے یا وہ بہتر محسوس نہیں کر رہے تو وہ گھروں پر رہیں، لیکن فلپس نے سی بی ایس کو بتایا کہ یہ بہت سے ورکرز کے لیے قابلِ عمل آپشن نہیں ہے۔

    فری مونٹ پلانٹ میں 10 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں۔ ٹیسلا نے مقامی میڈیا میں اس مسئلے پر بات نہیں کی ہے۔

    شروع میں کیلیفورنیا میں لاک ڈاؤن لگنے کے بعد پلانٹ کو بند کر دیا گیا تھا، لیکن ٹیسلا کے سربراہ ایلن مسک بڑی جدو و جہد کے بعد اسے مئی میں کھلوانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

  14. بریکنگ, 30 سال بعد دنیا میں بچے ضروری ویکسین تک رسائی سے محروم

    vaccination

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً 30 سال کے بعد دنیا بھر میں بہت سے بچے بیماریوں سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکوں اور ویکسن تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بیماریوں سے بچاؤ جن میں تشنج، کالی کھانسی اور پولیو بھی شامل ہیں کے لیے ویکسین لگوانے والے بچوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ رواں برس کے پہلے چار ماہ کے دوران دیکھا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ کورونا سے بچوں کو ان بیماریوں کے مقابلے میں کم خطرہ ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ویکسین انسانی صحت کی تاریخ کا سب سے مضبوط ہتیھار ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت نے گذشتہ روز ہی اعلان کیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو معمول کے مطابق ہسپتالوں میں جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے ملک گیر پولیو مہم بھی متاثر ہوئی اور 100 سے زیادہ بچے پولیو کا شکار ہو چکے ہیں۔

  15. امریکی ہسپتال ٹرمپ انتظامیہ کو رپورٹ کریں، سی ڈی سی کو نہیں

    سی ڈی سی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ہسپتالوں کو کہا گیا ہے کہ وہ 15 جولائی سے کووڈ۔19 کے مریضوں کے متعلق اعداد و شمار واشنگٹن میں صحت کی وفاقی ایجنسی کو دیں نا کہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کو۔

    سی ڈی سی، جو ایک صحت کا سرکردہ انسٹیٹیوٹ ہے، روایتی طور پر امریکہ کے وبا کے ردِ عمل کی باگ ڈور سنبھالتا ہے۔ صحت کے ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اب ڈیٹا کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، یہ کم شفاف ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر تحقیق کاروں کے کام کو متاثر کر سکتا ہے۔

    اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق جس نے سب سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کی ان نئی ہدایات کے متعلق رپورٹ کیا تھا، ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز (ایچ ایچ ایس) کا ڈیٹا بیس اب یہ ڈیٹا لے گا اور اس تک عوام کی رسائی نہیں ہو گی۔

    ایچ ایچ ایس کے ترجمان مائیکل کاپوٹو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سی ڈی سی کا نظام ناکافی تھا اور اس کے ڈیٹا رپورٹ کرنے میں ایک ہفتے کا فرق تھا۔

    یہ تبدیلی وائٹ ہاؤس اور پبلک ہیلتھ کے ماہرین میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔

  16. برطانیہ: لاک ڈاون کے آغاز میں کریڈٹ کارڈ پر خرچ آدھا ہو گیا

    credit card

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے آغاز میں لوگوں نے کریڈٹ کارڈ پر چیزیں خریدنا کم کر دی تھیں اور اس کا استعمال تقریباً آدھا رہ ہو گیا تھا۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے اپنے اخراجات کنٹرول میں رکھے اور بڑی چیزیں خریدنے سے اجتناب کیا۔

    یو کے فنانس کے مطابق لاک ڈاؤن کے بعد پورے پہلے مہینے، اپریل، میں کریڈ کارڈوں پر تقریباً 8.7 ارب پاؤنڈ خرچ کیے گئے جو گذشتہ برس اپریل میں خرچ کیے جانے کا تقریباً آدھا بنتا ہے۔

    بینکنگ کے تجارتی ادارے نے بتایا کہ یہ آخری معاشی بدحالی کے بعد سب سے کم خرچ ہے۔

    چھٹیوں کے منصوبوں کی منسوخی اس میں ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

    یو کے فنانس کے مطابق کورونا وائرس کے نوکریوں پر ہونے والے غیر یقینی اثرات کی وجہ سے کئی لوگوں نے گھروں کے لیے بڑی چیزوں کو خریدنے کے منصوبے ترک کر دیے ہیں۔

  17. امیر لوگ گھروں میں ہی ’منی آئی سی یو‘ کا انتظام کروا رہے ہیں

  18. پشاور کی مویشی منڈی میں انتظامات

    پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کورونا سے بچاؤ کے لیے عید کی آمد سے پہلے مویشی منڈیوں میں کیے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. سپین کے مشہور سیاحتی مقامات بارز بند کر رہے ہیں

    میورکا

    ،تصویر کا ذریعہget

    سپین چاہتا ہے کہ لوگ چھٹیاں منانے وہاں آئیں اور اس کی کورونا وائرس سے بری طرح متاثر سیاحت کی صنعت کو سہارا دیں۔

    لیکن اخبار میورکا ڈیلی بلیٹن کے مطابق میورکا جزیرے پر سیاحوں کے برے رویے کی وجہ سے وزارتِ سیاحت نے ماگالوف کے کچھ حصوں میں بارز کو بند کر دیا ہے۔

    یہ علاقہ برطانوی اور جرمن سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔

    نشے میں مست سیاحوں کو ویڈیوزT جن میں وہ صاف کورونا وائرس کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں اختتامِ ہفتہ پر کافی شیئر کی گئیں۔

    دریں اثنا سپین کے کیٹالونیا علاقے میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پیر کو وہاں لاک ڈاؤن لگا دیا گیا تھا۔

  20. اسلام آباد میں 8 دن بعد یومیہ مریضوں کی تعداد پھر 100 سے زیادہ ہو گئی

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ دارالحکومت میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 100 کے ہندسے کو ایک بار پھر عبور کر چکی ہے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں ڈسٹرکٹ محکمہ صحت کی جانب سے عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ پرہجوم جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں اور صفائی کا خیال رکھیں۔

    تفصیلات کے مطابق 15 جولائی کو سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد 113 ہو گئی ہے۔ ان میں 61 مرد اور 52 خواتین شامل ہیں۔

    گذشتہ روز کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 94 تھی۔

    بی بی سی کی نامہ نگار آسیہ انصر سے گفتگو میں ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا کہ گذشتہ آٹھ روز سے یہ تعداد 100 سے کم تھی مگر اب ہم اس سے اوپر چلے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اصل چیز ایس او پی پر عملدرآمد کرنا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام