قازقستان میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ، پنجاب میں 646 نئے متاثرین، 13 ہلاکتیں

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 14 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 31 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ قازقستان میں کورونا کے متاثرین میں اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن کے میئر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے دو ہفتوں میں ہسپتالوں میں بستر کم پڑ سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. انڈیا: کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو ’گڑھوں میں اچھالنے‘ پر حکام کی معذرت

    corona

    جنوبی انڈین ریاست کرناٹک میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو گڑھوں میں پھینکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ریاستی حکام نے معافی مانگ لی ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں حفاظتی لباس پہنے اہلکاروں کو کالے تھیلوں میں لپٹی لاشوں کو گہرے گڑھوں میں پھینکتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ریاست کے بیلاری ضلع کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور ان افراد کے خاندان سے معذرت کی ہے۔

    یہ لاشیں ان آٹھ افراد کی تھیں جو کووڈ 19 سے ہلاک ہوئے تھے۔ کرناٹک میں اب تک کووڈ 19 سے 246 اموات ہوئی ہیں۔

  2. روسی صدر سے ملنے کے لیے ایک انوکھی شرط کیا ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کی کورونا وائرس سے حفاضت کے لیے ایک خاص ڈس انفیکشن سرنگ قائم کی گئی ہے۔

    روسی صدر سے ملنے آنے والے ہر شخص کو اس میں سے گررنا پڑتا ہے۔ مزید تفصیلات فرقان الہی کی اس ویڈیو میں۔۔

  3. کورونا وائرس: یورپ کی تازہ صورتحال

    Europe

    ،تصویر کا ذریعہReu

    بدھ کو یورپ میں کورونا کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہیں کیونکہ چند ممالک نے لاک ڈاؤن کے اگلے مرحلے میں اپنی سرحدیں کھول دی ہیں۔

    اس کے علاوہ یورپ میں ہونے والی اہم پیشرفت میں درج ذیل شامل ہیں

    • یورپی یونین نے 15 ممالک کے شہریوں کو یورپ میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ محفوظ سفری فہرست کے ممالک میں یورپی بلاک کے ممالک سمیت کینیڈا، جاپان اور نیوزی لینڈ شامل ہیں جبکہ اس فہرست میں ان ممالک کو خارج کیا گیا ہے جہاں کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان ممالک میں روس، برازیل اور امریکہ شامل ہیں۔
    • یونان سے بین الاقوامی پروازوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یونان میں کل 104 پروازوں کے آمد و رفت متوقع ہے تاہم برطانیہ اور سویڈن سے مسافروں کو 15 جولائی تک ملک میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔
    • پرتگال اور سپین کے درمیان سرحد کو بھی کھول دیا گیا ہے۔ تاہم پرتگال لسبن میں کورونا کے بڑھتے کیسز کو روکنے کے لیے دوبارہ لاک ڈاؤن لگا رہا ہے۔ اور اس نے سویڈن کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ زائرین کی بڑی تعداد میں آمد کو روکنے کے لیے فی الوقت اپنی سرحد بند رکھے۔
    • یکم جولائی سے آسٹریا اور نیدرلینڈز میں قحبہ خانوں کو کھلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم کورونا کی وبا کے باعث دنیا بھر میں سیکس ورکرز بہت متاثر ہوئے ہیں۔
  4. کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے میں آپ کو کتنا وقت لگتا ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کووڈ 19 سے مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن صحت یابی کا دورانیہ مختلف لوگوں میں مختلف ہوسکتا ہے۔

    کم علامات والے متاثرین ایک ہفتے میں صحت یاب ہوسکتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق سنگین معاملات میں یہ دورانیہ ایک سال سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

  5. پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کے لیے مزید اقدامات

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے ڈین کی طرف سے کورونا کمپلیکس میں بیڈز کی تعداد 500 تک بڑھانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    ایل ایچ آر کے ڈین پروفیسر عبداللطیف خان کا کہنا تھا کہ یہ صوبے کا سب سے بڑا ہسپتال ہے اور اس کی بڑی زمہ داری ہے اس لیے مریضوں کو ہر ممکن سہولیات دے رہے ہیں جس کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔

    ایل ایچ آر میں اب تک کورونا کے 250 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں جن کی عمریں 50 سے 80 سال کے درمیان تھیں۔

    ایل آر ایچ کے کورونا کمپلیکس میں اس وقت 58 مریض زیر علاج ہیں۔

  6. بریکنگ, کورونا وائرس: پنجاب میں761 نئے متاثرین، کل تعداد 76,262 ہوگئی

    Figures

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 761 نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد صوبے میں کورونا کے متاثرین کی مجموعی تعداد 76262 ہو گئی ہے۔

    صوبائی محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے ترجمان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث مزید 35 اموات ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی کل تعداد 1762 ہو چکی ہے۔

    محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے ترجمان کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 27,488 ہو چکی ہے۔

    صوبے میں اب تک کل 501,509 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

  7. ٹوکیو میں ڈزنی لینڈ پارک کو چار ماہ بعد عوام کے لیے کھول دیا گیا

    Disney Land

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ڈزنی لینڈ تھیم پارک کو چار ماہ بعد عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    ٹوکیوڈزنی سی سمیت یہ پارک ایشیا میں آخری ڈزنی تھیم پارک ہے جسے بدھ کے روز عوام کے لیے دوبارہ کھولا گیا ہے۔

    تاہم پارک کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ یہاں آنے والے مہمانوں کو متحرک انداز میں سماجی فاصلہ اختیار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں اور اس کے ریسزورٹ میں محدود اوقات میں جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔

    چین میں جہاں سے اس کورونا کی وبا کا آغاز ہوا تھا شنگھائی ڈزنی لینڈ پارک کو مئ میں عوام کے لیے کھولا گیا جبکہ ہانگ کانگ میں جون کے آخر میں اس تھیم پارک کو کھولا گیا تھا۔

  8. انڈیا میں کورونا کے سب سے زیادہ متاثرین جون میں سامنے آئے

    انڈیا

    انڈیا میں کورونا کے متاثرین اور ہلاکتوں میں سب سے زیادہ اضافہ جون کے ماہ کے دوران دیکھنے میں آیا ہے۔

    ٹائمز آف انڈیا اخبار کے مطابق گذشتہ ماہ کے دوران انڈیا میں چار لاکھ سے زائد کورونا متاثرین کی تصدیق کی گئی جبکہ 12 ہزار سے زائد اموات ہوئی۔

    انڈیا کے وزارت صحت کے مطابق ملک میں اب تک کورونا کے متاثرین کی کل تعداد 586092 ہے جبکہ اس وائرس کے باعث اب تک 17400 اموات ہو چکی ہیں۔

    ان اعداد و شمار کے جائزے کے بعد ملک میں کورونا کے متاثرین کی تعداد میں تقریباً 70 فیصد اضافہ صرف جون کے ماہ میں دیکھنے میں آیا ہے۔

    ماہرین نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ملک میں وبا کا عروج مون سون کے آغاز کے وقت آئے گا جو عموماً جولائی اور اگست کے مہینے ہیں۔

  9. سکاٹ لینڈ کے پائلٹ نے ویتنام کے ہسپتال میں وینٹیلیٹر پر 68 دن کیسے گزارے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہCHO RAY HOSPITAL

    ’اگر میں دنیا کے کسی بھی اور ملک میں ہوتا تو شاید اب تک میں مر چکا ہوتا۔ شاید وہ 30 دن بعد وینٹیلیٹر کا سوئچ آف کر دیتے۔‘

    یہ کہنا ہے سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ پائلٹ سٹیفن کیمرون کا جنھوں نے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد لگاتار 68 دن وینٹیلیٹر پر گزارے۔

  10. میلبرن میں تین لاکھ افراد سے لاک ڈاؤن کی پیروی کرنے کی درخواست

    australia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا میں مزید 73 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور وبا نے میلبرن شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

    دو ہفتوں سے یہاں روزانہ کی بنیاد پر 10 سے زائد نئے مریض سامنے آ رہے ہیں جس کے بعد ریاست کی جانب سے شہر کے 36 علاقوں میں لاک ڈاؤن وہاں کے مقامی وقت کے مطابق آج رات 12 بجے کے بعد سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پچاس لاکھ افراد کے آبادی والے شہر میں اس لاک ڈاؤن سے تین لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوں گے اور یہ لاک ڈاؤن چار ہفتے تک نافذ کیا جا رہا ہے۔

    آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاست کے پریمیئر ڈینیئل اینڈریوز نے کہا کہ وسیع پیمانے پر کی جانے والی ٹیسٹنگ کے بعد انھیں خوشی ہے کہ انفیکشن ریٹ میں ’تسلسل‘ آیا ہے۔

    تاہم انھوں نے خبردار کیا اگر عوام نے غیرذمہ داری کا ثبوت دیا تو پوری ریاست میں لاک ڈاؤن کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جن علاقوں میں لاک ڈاؤن کا اطلاق ہو رہا ہے ان تمام خاندانوں سے درخواست ہے کہ اگر ہم اگلے چار ہفتوں کے دوران ساتھ مل کر کام کریں ہم اس صورتحال پر دوبارہ قابو پا سکتے ہیں۔‘

    آسٹریلیا میں اب تک 7700 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 104 اموات بھی ہوئی ہیں۔

  11. کیا چمگادڑ کورونا وائرس پھیلاتے ہیں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کیا چمگادڑ صرف بدنام ہیں یا وہ واقعی کورونا وائرس پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

    مزید جانیے اس معلوماتی ویڈیو میں۔

  12. امریکہ نے دنیا بھر میں ریمڈیسیور کی تقریباً تمام خوراکیں خرید لیں

    giliead

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے مطابق انھوں نے دوا ریمڈیسیور کی دنیا بھر میں تقریباً تمام خوراکیں خرید لی ہیں۔ یہ دوا امریکہ میں حکام کی جانب سے تصدیق شدہ وہ پہلی دوا ہے جس کے ذریعے کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کیا جا سکتا ہے اور یہ کمپنی جیلیئڈ سائنسز کی جانب سے تیار کی جاتی ہے۔

    اس دوا کے ذریعے اس وائرس سے بیمار افراد کو جلد صحتیاب ہونے میں مدد ملتی ہے۔

    محکمہ صحت اور انسانی سروسز کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرمپ نے جیلیئڈ کے ساتھ ایک ’بہترین‘ معاہدہ کیا جس کے تحت دوا کی پانچ لاکھ خوراکیں خریدی گئی ہیں جو جیلیئڈ کی جولائی میں پیداوار کا 100 فیصد ہے جبکہ جبکہ اگست اور ستمبر میں 90 فیصد ہے۔

    ریمڈیسیور کے ایک کورس میں اوسطاً چھ اعشاریہ دو پانچ خوراکیں مریض کو دی جاتی ہیں۔

  13. ’اپنی من پسند دواؤں کا استعمال نہ کریں‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ہر ایک کی نظر طبی تحقیق کی جانب ہے کہ کب اس بیماری کا علاج دریافت ہوگا۔ لیکن جب بھی مثبت نتائج کے بعد کسی نئی دوائی کا نام سامنے آتا ہے تو پاکستان میں اس کی قلت یا پھر قیمت میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔

    خود سے اپنی من پسند کی ادویات کو بازار سے لے کر کھانے کے کیا نقصانات ہیں، یہ بتا رہی ہیں ڈاکٹر تمکنت منصور اس وی لاگ میں۔۔۔

  14. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4133 نئے مریض، 91 اموات

    سٹیسٹ

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4133 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 91 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    گذشتہ روز ملک میں 22418 ٹیسٹ کیے گئے یعنی گذشتہ روز ملک میں انفیکشن ریٹ 18 اعشاریہ چار فیصد رہا۔

    ملک میں اب تک کل دو لاکھ 13 ہزار سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ 4395 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    اب تک ملک میں کل 100802 افراد اس وائرس سے صحتیاب ہوئے ہیں۔

  15. جمہوریہ چیک میں کورونا وائرس کی ’علامتی الوداعی‘ پارٹی

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    عالمی ادارہ صحت نے رواں ہفتے خبردار کیا تھا کہ عالمی وبا ابھی ختم ہونے میں بہت وقت لگے گا تاہم یورپی ملک جمہوریہ چیک میں ایک پارٹی منعقد ہوئی جس کے ذریعے کورونا وائرس کو ’علامتی طور پر الوداع‘ کہا گیا۔

    منگل کے روز ہزاروں مہمان پراگ کے چارلس برج پر ایک 500 میٹر لمبے ٹیبل کے گرد جمع ہوئے اور گھر سے بنا کر لائے گئے کھانے پینے کی اشیا بانٹیں۔

    prague

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس دوران سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا گیا، جبکہ مہمانوں کو اپنے ساتھ کھڑے افراد کے ساتھ کھانا کھانے کا کہا گیا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو ان ممالک کے لوگوں کے لیے نئی ہیں جو اس وقت بھی لاک ڈاؤن میں ہیں۔

    جمہوریہ چیک میں اب تک 12 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ 1 کروڑ آبادی والا ملک ہے جہاں 350 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    prague

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس تقریب کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اس کا انعقاد اس لیے ممکن ہو سکا کیونکہ ملک میں سیاح نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ کتنے قریب بیٹھے ہیں اور مقامی موسیقاروں کی سے محظوظ ہو رہے ہیں۔

  16. مزید آٹھ امریکی ریاستوں کے شہریوں پر نیویارک آمد پر قرنطینہ کی شرط لگا دی گئی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیویارک کے گورنر نے کہا ہے کہ مزید آٹھ ریاستوں کے شہریوں کو نیویارک آمد پر 14 دن قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ ایک وقت میں وائرس سے بُری طرح متاثر نیویارک میں اب کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ان آٹھ ریاستوں میں کیلیفورنیا، جارجیا، آئیووا، آئیڈہو، نیواڈا، ٹینیسی اور دیگر ریاستیں شامل ہیں۔ فلوریڈا، ایریزونا، ٹیکساس اور جنوبی کیرولائنا پہلے سے اس فہرست میں شامل ہیں۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حکم سے تقریباً آدھی امریکی آبادی متاثر ہوگی۔

    منگل کے روز نیویارک میں کورونا کے مزید 28 متاثرین اور 13 اموات سامنے آئی تھیں۔

  17. کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ 19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیا آپ کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ بھی کورونا وائرس نشانہ بنا سکتا ہے؟ کچھ مریض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیمار کیوں ہیں؟ کیا یہ مرض ہر سردی میں واپس آئے گا؟ کیا ویکسین کارگر ثابت ہو گی؟ کیا امیونٹی پاسپورٹ کی مدد سے ہم میں سے کچھ لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں؟ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کن طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے؟

    دنیا میں کووڈ-19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں یہ سوالات بھی تواتر سے پوچھے جانے لگے ہیں۔

    ان تمام سوالات میں جو ایک چیز مشترک ہے وہ ہے امیون سسٹم یا مدافعتی نظام اور ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

  18. اٹلی کے ایک گاؤں میں کورونا کے ’40 فیصد متاثرین میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک نئی تحقیق کے مطابق اٹلی کے ایک گاؤں میں کورونا وائرس سے متاثرہ جن لوگوں کو قرنطینہ کیا گیا تھا ان میں سے 40 فیصد میں مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

    اٹلی اور برطانوی ماہرین کی اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور مقامی سطح پر لاک ڈاؤن کی مدد سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔‘

    اس گاؤں کی آبادی صرف 3200 افراد پر مشتمل تھی اور یہاں ملک میں 21 فروری کو پہلی ہلاکت کے بعد دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ اس پورے گاؤں میں ٹیسٹنگ کی گئی تھی۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ گاؤں کی 2.6 فیصد آبادی یعنی 73 لوگوں میں کورونا وائرس موجود تھا۔ دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے بعد صرف 29 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ دونوں مرتبہ تقریباً 40 فیصد کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

    تاہم وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام افراد کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

    تحقیق کی سربراہ پروفیسر انڈریا کرسینٹی کے مطابق خاموشی سے پھیلنے والے اس وائرس کو قابو کیا جاسکتا ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’تمام شہریوں کی ٹیسٹنگ، یہ جانے بغیر کہ ان میں علامات ہیں یا نہیں، سے وبا کو روکا جاسکتا ہے۔‘

  19. کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟

    امیر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

    یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

    ایسے میں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ کیا امیر ممالک کورونا وائرس ویکسین کی ذخیرہ اندوزی کر سکتے ہیں۔؟

  20. کورونا وائرس سے بچنے کے لیے یہ پانچ باتیں بہت اہم ہیں

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    اگر آپ کو شبہ ہے کہ آپ کورونا وائرس کا شکار ہیں، یا آپ کسی ایسے شخص سے رابطے میں رہے ہیں جسے کورونا وائرس ہو چکا ہے، یا کسی ایسی جگہ ہو کر آئے ہیں جہاں اس وائرس کے بہت سارے کیسز موجود ہیں، تو خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیں۔

    لیکن اس خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے اور اس کا درست طریقہ کیا ہے؟

    خود ساختہ تنہائی کے بارے میں یاد رکھنے والی پانچ اہم باتیں جانیے ہماری ساتھی ثمرہ فاطمہ کی اس ڈیجیٹل ویٹیو میں۔