روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ میں کورونا
وائرس متاثرین اور اس وائرس سے ہلاکتوں کی بلند تعداد کی وجہ ‘گہرے داخلی بحران’کو قرار
دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ روس امریکہ کے مقابلے میں وبا سے بہتر انداز میں نمٹا
ہے۔
ریاستی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ روسی حکومت یا خطوں
میں کوئی یہ کہے گا کہ ہم حکومت یا صدر کی بات نہیں مانیں گے۔’
انھوں نے کہا: ‘مجھے لگتا ہے کہ امریکہ میں مسئلہ یہ ہے کہ اس
معاملے میں پارٹی مفادات کو معاشرے اور عوام کے مفادات سے اوپر رکھا گیا ہے۔’
امریکہ میں اب تک کورونا وائرس کے 20 لاکھ سے
زیادہ مصدقہ متاثرین ہیں اور یہاں ایک لاکھ 15 ہزار افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے
ہیں۔ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
دوسری جانب روس میں وائرس سے پانچ لاکھ 28 ہزار
افراد متاثر ہوئے ہیں جو امریکہ اور برازیل کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی تعداد
ہے۔
یہاں پر اموات کی تعداد سرکاری طور پر 6948
بتائی جا رہی ہے تاہم اس پر تنازعات بھی ہیں۔
ملک میں اب اُن لوگوں کو بھی کووڈ 19 سے ہلاکتوں
کے زمرے میں شمار کیا جا رہا ہے جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا مگر ان کی ہلاکت
کی بنیادی وجہ کورونا نہیں لکھی گئی تھی۔
ماسکو شہر کے حکام نے بدھ کو کہا تھا کہ نئے سسٹم
کے تحت ہوسکتا ہے کہ صرف مئی کے مہینے میں 5000 سے زیادہ لوگ دارالحکومت ماسکو میں
ہلاک ہوئے ہوں۔