آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں 10 ہزار سے زیادہ اموات، برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 ہزار نئے کیس

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 81 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہیں۔ منگل کو دنیا کے دوسری سب سے متاثرہ ملک برازیل میں وائرس کے تقریباً 35 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں مزید دو ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ: ہائیڈروکسی کلوروکوین کا ایمرجنسی استعمال روک دیا گیا

    امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ اینڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کووڈ۔19 کے علاج کے لیے ہائیڈروکسی کلوروکوین کے ایمرجنسی استعمال کا حکم واپس لے لیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس دوا سے علاج کے لیے کہتے رہے ہیں۔

    ایف ڈے اے نے کہا ہے کہ تازہ ترین شہادتوں کے بعد یہ ماننا معقول نہیں ہو گا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوین اور اس سے متعلقہ دوا کلوروکوین کووڈ۔19 کے علاج کے لیے موثر ادویات ہیں۔

    ہائیڈروکسی کلوروکوین اور کلوروکوین کو کافی عرصے سے ملیریا، جلد کی بیماری لیوپس اور جوڑوں کے درد کے علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہائیڈروکسی کلوروکوین کے تشہیر کی بلکہ کچھ عرصہ وہ خود بھی اسے استعمال کرتے رہے۔ اگرچہ بہت سی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ یہ ادویات موثر نہیں ہیں اور ڈاکٹروں نے بھی خبردار کیا تھا کہ ان سے دل کے مسائل ہو سکتے ہیں، ایف ڈی اے نے کلینیکل ٹرائلز کے دوران اور ہسپتالوں میں ان کی اجازت دے دی تھی۔

    یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی طرف سے کیے گئے دنیا کے سب سے بڑے ٹرائلز کے بعد حال ہی میں کہا گیا تھا کہ ’کووڈ۔19 کی وجہ سے ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں میں ہائیڈروکسی کلوروکوین کا کوئی فائدہ مند اثر نہیں دیکھا گیا ہے۔‘

  2. بریکنگ, سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹے میں 1776 نئے متاثرین، 22 مزید ہلاکتیں

    صوبہ سندھ کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں صوبے میں کورونا وائرس کے 1776 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 55 ہزار 581 ہو گئی ہے۔

    صوبے میں گذشتہ روز 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہاں ہلاکتوں کی کُل تعداد 853 ہے۔

    اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔

  3. بلوچستان: کورونا وائرس کے 150 نئے متاثرین سامنے آ گئے

    بلوچستان میں کورونا کے 150 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 8327 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں اب تک کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 85 ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 15 جون 2020 کو کورونا کے 478 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 150 مثبت آئے ہیں۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 38 ہزار 196 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    یہاں پر مشتبہ مریضوں کی تعداد 38 ہزار 446 ہے جبکہ اب تک کورونا وائرس سے اب تک 2916 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  4. گلگت بلتستان میں 14 مزید افراد میں کورونا کی تصدیق، مجموعی تعداد 1143, محمد زبیر خان، صحافی

    گلگت بلتستان میں مزید 14 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سے دو افراد کا تعلق استور، دو کا دیامیر، ایک کا غذر، چار کا گلگت اور پانچ کا تعلق ہنزہ سے ہے۔

    اس کے بعد خطے میں مریضوں کی کُل تعداد 1143 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کی جانب سے ایک اور مریض کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔

    حکام نے مطلع کیا ہے کہ مزید 12 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ جس کے بعد صحت یاب مریضوں کی تعداد 728 ہوگئی ہے اور اس وقت زیر علاج مریضوں کی تعداد 398 ہے۔

    گلگت بلستان میں مجموعی طور پر 10 ہزار 810 ٹیسٹ ہوئے ہیں جس میں سے ابھی بھی 197 کے نتائج کا انتظار ہے۔

  5. کورونا وائرس: برطانیہ میں 38 ہلاکتیں

    برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ڈومینیک راب نے کرورنا وائرس کے متعلق روزانہ کی بریفنگ میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں برطانیہ میں سبھی سیٹنگز میں کووڈ۔19 کی وجہ سے کل 38 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے مزید 1,056 تصدیق شدہ کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کے تجربات سے یہ سامنے آیا ہے کہ انفیکشنز میں دوسری سپائیک کا خطرہ موجود ہے، اسی وجہ سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے دوکانوں کے کھلنے کو ایک ’بہت زیادہ منظم عمل‘ بتایا۔

  6. لندن میں 80 فیصد مسافروں نے ماسک پہنے: ٹی ایف ایل

    پیر سے لاگو ہونے والے قوانین کے مطابق ہر مسافر پر لازم ہے کہ وہ انگلینڈ میں سفر کرتے ہوئے منہ ڈھانپے، چاہے وہ ماسک پہنے، سکارف یا بندانا۔

    یہ اقدامات کووڈ۔19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ لندن میں لاک ڈاؤن کے بعد کاروبار اور دوکانیں کھل گئی ہیں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک مصروف ہو گئے ہیں۔

    صرف مخصوص امراض میں مبتلا افراد، معذور اور 11 سال سے کم عمر بچے ہی اس پابندی سے استثنیٰ ہوں گے۔

    ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ تبدیلی ٹھیک طریقے سے قبول کی جا رہی ہے، اور مسافروں کی ایک بڑی تعداد چہرے پر کچھ نہ کچھ پہن رہی ہے۔ اگرچہ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو 100 پاؤنڈ تک جرمانہ ہو سکتا ہے لیکن شروع شروع میں اس پر بھی زیادہ سخت رویہ نہیں رکھا جائے گا۔

    ابھی زیادہ زور صرف اس بات پہ ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ قوانین کیا ہیں، اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ ان پر عمل کریں۔

    سکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز میں مسافروں کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ پر اپنا منہ ڈھانپیں، حالانکہ ان کو اس بات کا مشورہ ضرور دیا گیا ہے۔

  7. کورونا وائرس: فرانس میں پابندیوں میں کافی حد تک کمی

    فرانس کے صدر ایمینوئل میکران نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی جانے والی بہت سی پابندیوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔

    فرانس کے طول و عرض میں ریستوران اور کیفیز کھولے جا رہے ہیں اور دوسرے یورپی ممالک میں سفر کی بھی اجازت ہو گی۔

    لوگ ریٹائرمنٹ ہومز میں اپنے خاندان والوں کو بھی مل سکیں گے۔ یاد رہے کہ کووڈ۔19 کی وجہ سے ریٹائرمنٹ ہومز بہت بری طری متاثر ہوئے تھے۔

    پیر سے جرمنی، بیلجیئم، کروشیا اور سوئٹزرلینڈ یورپی ممالک کے ساتھ اپنی سرحدیں پوری طرح کھول رہے ہیں۔

    برطانیہ سے ان چار ممالک میں جانے والے مسافروں کو وہاں پہنچنے کے بعد قرنطینہ میں نہیں رکھا جائے گا، لیکن جب وہ واپس برطانیہ آئیں گے تو پھر لازمی قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔

    دریں اثنا برطانیہ اور سپین سے فرانس جانے والے مسافروں کو وہاں پہنچنے کے بعد دو ہفتے کے قرنطینہ میں رہنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

    فرانس میں مئی 2022 میں انتخابات ہوں گے اور کووڈ۔19 کے حوالے سے صدر میکران کی طرف سے کیے گئے فیصلوں کا اثر انتخابات کے نتائج پر پڑ سکتا ہے۔

  8. بریکنگ, پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 16 نئے متاثرین، صفر ہلاکتیں, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 16 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 663 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق یہاں 20 مزید مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحتیاب مریضوں کی تعداد 274 ہوگئی ہے۔

    علاوہ ازیں یہاں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کوئی ہلاکت ریکارڈ نہیں کی گئی ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق اب تک اس خطے میں 11 ہزار 290 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 53 کے نتائج آنے باقی ہیں۔

  9. ’بچے اور بوڑھی والدہ دربدر ہیں اور ہم یہاں پاکستان میں پھنسے ہیں‘

  10. بریکنگ, صوبہ خیبر پختونخوا میں 459 نئے مریض، 32 مزید افراد ہلاک

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مزید 459 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 18 ہزار 472 ہوگئی ہے۔

    صوبائی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق یہاں مزید 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں ہلاکتیں 707 تک پہنچ گئی ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں اب تک اس مرض سے متاثر ہونے والے 4692 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  11. لندن شاپنگ: ’یہ زبردست آزادی ہے‘

    مرکزی لندن کی مشہور سڑک آکسفورڈ سٹریٹ پر واقع سیلفرجز سٹور کے سامنے قطار میں کھڑے شاپنگ کے منتظر افراد میں مفت پانی تقسیم کیا جا رہا ہے جبکہ سٹور کے ایک دروازے کے باہر جو ڈیوک سٹریٹ میں کھلتا ہے ایک گلوکار گانا گا رہا ہے۔

    شمالی لندن کی ہاناہ مان جو سٹور میں مسکارا اور دھوپ سے بچنے کی کریم خریدنے آئی ہیں کہتی ہیں کہ دوبارہ شاپنگ کرنا ایک ’زبردست آزادی‘ ہے۔

    انھوں نے پی اے ایجنسی کو بتایا کہ ’مجھے شاپنگ سے پیار ہے، سو میں نے سوچا کہ میں باہر نکلوں اور وہ چیزیں خریدوں جو میں چاہتی ہوں۔‘

    ’میں نے سوچا کہ سبھی دوکانیں کھلی ہوں گی، سو جب میں یہاں آئی تو ذرا مایوسی ہوئی، لیکن یہ ایک زبردست آزادی ہے کیونکہ ہمارے پاس جانے کی جگہیں بہت محدود ہیں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کو وائرس کے متعلق کوئی تشویش ہے تو انھوں نے کہا ’بالکل نہیں۔ میں اس سے ڈری ہوئی نہیں ہوں۔ میری پرورش اس طرح ہوئی کہ جو ہونا ہے وہ ہونا ہے۔‘

  12. گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان سے انصاف ڈاکٹرز فورم کے وفد کی ملاقات

    گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان سے انصاف ڈاکٹرز فورم کے وفد کی گورنر ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے۔ انصاف ڈاکٹرز فورم نے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کو کورونا وائرس اور پلازمہ عطیہ کرنے کی مہم کا سرپرستِ اعلیٰ مقرر کر دیا۔

    گورنر ہاؤس سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق انصاف ڈاکٹرز فورم نے گورنر کو کورونا وائرس اور کورونا سے صحتیاب افراد کے پلازمہ عطیہ کرنے کی مہم سے متعلق معلومات فراہم کیں۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ وہ انصاف ڈاکٹرز فورم کی پلازمہ عطیہ کرنے کی مہم کو مکمل سپورٹ کریں گے اور مہم کو درپیش مسائل حل کیے جائیں گے۔

  13. انڈیا کے شہر چنئی میں دوبارہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ

    انڈیا کے جنوبی شہر چنئی میں حکام نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ سے جمعے کے روز سے دوبارہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

    ملک کی ریاست تمل ناڈو کی حکومت نے اعلان کیا کہ اس لاک ڈاؤن کا اطلاق چنئی کے علاوہ کچھ اور قریبی اضلاع میں بھی کیا جائے گا اور یہ جون کے آخر تک جاری رہے گا۔

    انڈیا کے ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق چنئی کی کچھ آبادیوں میں کورونا وائرس بہت شدت سے واپس آیا ہے۔ چینل کے مطابق اتوار کے روز شہر میں 1415 نئے کیس سامنے آئے اور اب شہر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی کل تعداد 31896 ہے۔

    چنئی کی، جس کا پرانا نام مدراس تھا، کل آبادی 15 ملین ہے۔ انڈیا میں کل متاثرین 332000 ہیں اور اس اعتبار سے وہ دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔

    انڈیا میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد تقریباً 10 ہزار ہے۔

  14. ’لاک ڈاؤن کے آغاز میں لاکھوں نے بہت زیادہ گھبراہٹ محسوس کی‘, مشیل رابرٹس، بی بی سی نیوز آن لائن

    آفس آف دی نیشنل سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق لاک ڈاؤن کے پہلے ہفتوں میں برطانیہ میں رہنے والے بالغوں میں گھبراہٹ یا اضطرب اپنے عروج پر تھا۔

    3 اپریل سے 10 مئی تک کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ:

    • جن لوگوں نے اضطراب کی اعلیٰ سطح کی کیفیت بیان کی ان کی تعداد لاک ڈاؤن سے پہلے اس طرح کی کیفیت سے دوچار افراد سے دو گنا زیادہ تھی۔
    • عمر رسیدہ افراد نوجوانوں سے زیادہ مضطرب تھے، 75 سال اور اس سے زیادہ کی عمر کے افراد نے 16 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں سے زیادہ اضطرابی کیفیت بیان کی تھی۔ اکیلے رہنے کا احساس مضطرب افراد میں سب سے زیادہ تھا۔
    • والدین کے لیے کام اور ہوم سکولنگ کی ذمہ داری کے درمیان دوڑ دباؤ کا ایک بڑا ذریعہ تھی۔
  15. پشاور کے چار علاقوں میں 'سمارٹ لاک ڈاؤن' نافذ کر دیا گیا

    خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے چار علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

    ان علاقوں میں اشرفیہ کالونی، چنار روڈ یونیورسٹی ٹاؤن، دانش آباد اور سیکٹر ای ٹو فیز ون حیات آباد شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان علاقوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے متاثرین کی وجہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں سے ان آؤٹ انٹری بند رہے گی لیکن ان علاقوں میں صرف ضروری اشیاء خوردنوش، میڈیکل اور جنرل سٹور، تندور اور ایمرجنسی سروس کی دکانیں کھلی رہیں گی، جبکہ ان علاقوں کی مساجد میں صرف پانچ افراد کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس کو سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  16. بی پی کو تیل کی قیمتوں میں کمی کے پیش نظر ساڑھے 17 ارب ڈالر نقصان کا امکان

    کورونا وائرس کی وبا کے بعد مختلف حکومتوں کی طرف سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اقدامات کے پس منظر میں پٹرولیم کمپنی بی پی نے پیشینگوئی کی ہے کہ کئی دہائیوں تک تیل کی قیمتیں کم رہیں گی۔

    کمپنی کے مطابق اب سے سنہ 2050 تک برینٹ کروڈ کے ایک بیرل کی قیمت اوسطاً 55 ڈالر رہے گی۔

    کمپنی نی تیل کی قمت میں اس کمی کے امکان کے پیش نظر اپنی مالیت میں بھی 13ارب ڈالر اور ساڑھے 17 ارب ڈالر کے درمیان کم کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ مہینے ہی بی پی نے تیل کی مانگ میں کمی کی وجہ سے 10 ہزار نوکریاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    کورونا وائرس کی وبا کے بعد دنیا بھر میں لگنے والی پابندیوں کی وجہ سے تیل کی مانگ میں کمی آئی تھی اور اس کے ساتھ ہی ایک وقت میں اس کی قیمت 20 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہو گئی تھی۔ یاد رہے کہ سال کے آغاز میں یہ قیمت 66 ڈالر تھی۔

  17. ملک بھر کی جیلوں میں کورونا متاثرین کی تعداد 1077: جسٹس پراجیکٹ پاکستان, محمد زبیر خان، صحافی

    غیر سرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1077 ہوگئی ہے، جبکہ جیلوں میں تین مریض کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

    پنجاب میں 104 قیدی، سندھ میں 971، اور خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ایک ایک متاثر ہیں۔

    تنظیم کے مطابق پاکستان بھر میں سب سے زیادہ متاثرہ جیل سینٹرل جیل کراچی ہے جہاں پر 894 قیدی متاثر ہیں۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق پاکستان بھر کی 114 جیلوں میں سے 25 جیلوں میں اس وقت کورونا کے مریض موجود ہیں۔

    جے پی پی کے مطابق جیلوں میں قیدیوں کی کُل گنجائش 63 ہزار 147 ہے جبکہ اس وقت موجود قیدی 73 ہزار 242 ہے۔

  18. معیشت کی بحالی کے لیے ڈینمارک کے شہریوں کو کیش ملے گا

    ڈینمارک یورپ کے ان ممالک میں سے ایک ہے جنھوں نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن متعارف کرایا تھا، اور وہ ان ممالک میں بھی شامل ہے جنھوں نے سب سے پہلے اسے اٹھایا، اور کچھ پابندیوں کو تو اپریل کے وسط میں ہی نرم کر دیا گیا تھا۔

    اب سیاستدانوں نے عوام کی مدد کے لیے کئی اقتصادی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں کیش ہینڈ آؤٹس اور کمپنیوں کے لیے امداد بھی شامل ہے۔ ڈینمارک کی معیشت دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے زیادہ بری حالت میں ہے۔

    تقریباً 9.1 ڈالر فروزن (منجمد) ہالی ڈے الاؤنس فنڈ سے ادا کیے جائیں گے۔ پبلک ہیلتھ بینیفٹس والے شہریوں کو اس کے علاوہ ایک ہزار کرونر کا وظیفہ دیا جائے گا، اور مشکلات کا شکار کمپنیوں کے لیے 10 ارب کرونر مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیرِ مالیات نکولائی وامن نے کہا ہے کہ کیش شاید کئی مہینے جاری نہ کیا جا سکے، لیکن انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ ابھی سے خرچ کرنا شروع کر دیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ کو آئیس کریم، کپڑوں اور گھر کی دوسری چیزوں کے لیے پیسے کی ضرورت ہے، تو آپ مطمئن ہو کر یہ سوچ کر خرچ کریں کہ پیسہ اکتوبر میں آ رہا ہے۔‘

  19. پنجاب میں جولائی کے وسط سے پولیو مہم دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ

    پنجاب میں انسدادِ پولیو مہم جولائی کے وسط سے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس ضمن میں محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے پولیو مہم کو دوبارہ شروع کرنے کے ایس او پیز کے حوالے سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔

    محکمے کے ایک اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر پولیو مہم عارضی طور پر معطل تھی، مگر چونکہ کورونا وائرس کی طرح پولیو وائرس بھی نسلوں کے لیے خطرہ ہے اس لیے پولیو مہم کو زیادہ دیر بند رکھنے کے کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتے۔

  20. وبا کی نئی لہر کے بعد بیجنگ میں جنگی بنیادوں پر پابندیاں

    بیجنگ میں کورونا وائرس کے درجنوں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی ڈسٹرکٹس نے سکولوں کو بند کر دیا ہے، سکیورٹی چیک پوائنٹس متعارف کرائے ہیں اور لوگوں کو کہا ہے کہ وہ وائرس کے لیے ٹیسٹ کرائیں۔

    کھیلوں اور اینٹرٹینمنٹ کی جگہوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے اور سپر مارکیٹس اور دفاتر میں درجہ حرارت کو دوبارہ چیک کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

    ایک سینیئر لوکل گورنمنٹ اہلکار نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کو جنگی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔

    وبا کے پھیلاؤ کو شہر کی سب سے بڑی تھوک کی مارکیٹ سے منسوب کیا جا رہا ہے اور اس مارکیٹ کے جنرل مینیجر کے ساتھ دیگر مقامی اہلکاروں کو بھی برخاست کر دیا گیا ہے۔