آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں 10 ہزار سے زیادہ اموات، برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 ہزار نئے کیس

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 81 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہیں۔ منگل کو دنیا کے دوسری سب سے متاثرہ ملک برازیل میں وائرس کے تقریباً 35 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں مزید دو ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ضلع خیبر: قبائلی عمائدین کی کورونا پر انتظامیہ سے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز نے مختلف علاقائی عمائدین اور مشران کے ساتھ میٹنگ و جرگے منعقد کیے، جن میں عمائدین و مشران کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔

    قبائلی عمائدین کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ وہ احتیاطی تدابیر پر خود بھی عمل درآمد کریں گے اور دوسروں کو بھی اس کا پابند بنائیں گے۔ وہ لوگوں کو ماسک پہننے کا پابند بنائیں گے اور اگر ان کو کسی فرد میں کسی قسم کے کورونا علامات نظر آ جائیں تو اس کو احتیاطی تدابير کا پابند بنائیں گے۔

    اگر کسی گھرانے میں کوئی مثبت کیس آجائے تو وہاں نزدیک چند گھروں کو رضاکارانہ طور پر قرنطینہ کریں گے، بے جا اور بلاضرورت باہر آنا جانا بند کریں گے، اور قرنطینے میں موجود گھروں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں گے۔

    اعلامیے کے مطابق قبائلی عمائدین نے تمام کاموں کو رضاکارانہ طور پر انجام دینے کا وعدہ کیا اور انتظامیہ کو مکمل تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی۔

  2. وزیراعظم نے صوبوں کو متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کرنے کی ہدایت جاری کردی

    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج پیر کو ہوا جس میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال، آئندہ چند دنوں کے تخمینوں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر غور کیا گیا۔

    اجلاس میں ملک کے مختلف صوبوں میں کورونا مریضوں کے لیے موجود بیڈز، آکسیجن، وینٹی لیٹرز اور سہولیات کی موجودہ صورتحال اور اس میں اضافے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں کورونا ٹیسٹ کرنے والی 107 لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 25 ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، جبکہ شروع میں ان لیبارٹریوں کی تعداد محض دو تھی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں 4800 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جبکہ شروع میں ان کی کُل تعداد 700 تھی۔ موجود 4800 وینٹی لیٹرز میں مزید 1600 کا اضافہ بہت جلد ہو جائے گا۔

    اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں این-95 ماسک اور وینٹی لیٹرز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں اور جولائی تک تمام صوبوں کے مختلف ہسپتالوں میں کووڈ کے علاج کے لیے 2000 مزید بستروں کا اضافہ کر دیا جائے گا۔

    سمارٹ لاک ڈاؤن

    کورونا سے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے 20 بڑے شہروں میں ان مقامات کی نشاندہی کردی گئی ہے جہاں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے اور جہاں صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انتظامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں کورونا سے متعلق حفاظتی لباس اور ذاتی حفاظتی سامان کی تمام ضروریات با احسن طریقے سے پوری کی جار ہی ہیں۔

    وزیرِ اعظم نے کوویڈ مریضوں کے استعمال میں آنے والی چند ادویات اور انجیکشنز کی دستیابی میں مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے چئیرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مطلوبہ ادویات اور انجیکشن باآسانی میسر ہوں۔

    وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر برائے صنعت و پیداوار محمد حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، فوکل پرسن برائے کوویڈ ڈاکٹر فیصل سلطان، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور دیگر سینئر افسران نے اس اجلاس میں شرکت کی۔

  3. لاک ڈاؤن کی کہانی بیان کرنے والے فن پارے

    دنیا بھر کے بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ ایک طویل اور تکلیف دہ لاک ڈاؤن ہے۔ لیکن کچھ نوجوانوں سے آرٹ کے ذریعے اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے۔

    انگلینڈ میں سکستھ فارم کالجز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ’ایٹ ہوم‘ کے نام سے آن لائن نمائش میں تقریباً 140 طلبا نے حصہ لیا۔

    آئیے آپ کو لاک ڈاؤن کی کہانی بیان کرنے والے چند فن پارے دکھاتے ہیں۔

  4. انڈیا: ٹرین کی بوگیوں میں ’آٹھ ہزار بستروں کی گنجائش پیدا کی جائے گی‘

    انڈیا میں حکام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دارالحکومت دلی میں کووڈ 19 کے بڑھتے متاثرین کے پیش نظر ٹرین کی 500 بوگیوں کو عارضی ہسپتال کے وارڈز میں تبدیل کر کے ان میں آٹھ ہزار بستوں کی گنجائش پیدا کی جائے گی۔

    وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو ایمرجنسی پیکیج کا اعلان کیا جس میں کہا گیا کہ ٹیسٹنگ میں تیزی لائی جائے گی۔

    انڈیا امریکہ، برازیل اور روس کے بعد چوتھے نمبر پر سب سے متاثرہ ملک ہے۔ یہاں اب تک تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    انڈیا نے اپریل میں ٹرین کی بوگیوں کو قرنطینہ اور آئسولیشن وارڈ میں تبدیل کرنا شروع کیا تھا۔ اس دوران عالمی وبا کی بدولت ٹرین کی سروس معطل جسے اب جزوی طور پر بحال کردیا گیا ہے۔

  5. سرینگر میں کورونا: فیشن ڈیزائنر سے ماسک بنانے تک کا سفر

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پوری دُنیا میں لاک ڈاون شروع ہونے سے کئی ماہ قبل ہی کشمیر میں عام زندگی معطل تھی اور طویل کرفیو کے بعد لوگ زندگی کی بحالی کی تگ و دو کر رہے تھے۔مارچ کے وسط میں جب لاک ڈاؤن ہوا تو سرینگر رہائشی مقبول فیشن ڈیزائنر نے کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں اپنا حصہ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔

  6. برطانیہ میں شاپنگ کی اجازت ملتے ہی لندن کی آکسفورڈ سٹریٹ پر ہجوم

    برطانیہ میں تقریباً تین ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد آج غیر غروری شاپنگ کی دکانیں کھل گئی ہیں۔

    لندن کے کئی علاقوں میں کچھ دکانوں کے باہر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں جن میں بظاہر سماجی دوری کے اصولوں کا خیال نہیں کیا جا رہا۔

  7. برطانیہ: لیسٹر کے میئر نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر معافی مانگ لی

    برطانیہ میں لیسٹر کے مئیر نے دوسری مرتبہ لاک ڈاؤن کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر عوام سے معافی مانگی ہے اور اسے ’فیصلے میں کوتاہی‘ قرار دیا ہے۔

    سر پیٹر سولسبری نے تسلیم کیا ہے کہ وہ لیزلی سمرلینڈ کے گھر ان سے ملنے گئے تھے اور رات وہیں گزاری تھی۔ اس دوران حکومتی ہدایات میں اس کی ممانعت تھی۔

    اخبار دی سن نے ان کی تصاویر شائع کیں جن میں وہ سمرلینڈ کے گھر کی کھڑکی پر چڑھ کر اس میں داخل ہو رہے ہیں۔

    سر پیٹر نے کہا ہے کہ ’ان سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں‘ نے بھی لاک ڈاؤن کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

    لاک ڈاؤن کے آغاز پر انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر نے الگ گھروں میں رہنے والے جوڑوں کو ملاقات نہ کرنے کی تجویز دی تھی۔

    71 سالہ لیبر سیاست سر میٹر نے کہا کہ ان کے لیے ملاقات نہ کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ ان کا یہ رشتہ پچھلے پانچ سال سے قائم ہے اور وہ ان کے خاندان کا ساتھ دینا چاہتے تھے۔

    ’ہم پانچ ہفتوں سے الگ تھے اور اس دوران لیزلی بیمار ہوگئیں مگر اس کا تعلق کورونا سے نہیں تھا۔‘

  8. پنجاب میں کل 54138 متاثرین، 1031 اموات, صوبے کے متاثرہ شہروں کی فہرست

    پنجاب میں اب تک کورونا کے 54138 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ اموات کی کل تعداد 1031 ہے۔

    گذشتہ ایک روز کے دوران 1537 نئے متاثرین اور 62 اموات کا اضافہ ہوا ہے۔ اب تک کورونا سے 17,710 صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    اس وقت سب سے زیادہ متاثرین لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان میں ہیں۔

  9. پیرو کا گرجا گھر کورونا وائرس متاثرین کی تصاویر سے بھر گیا

    پیرو میں ایک آرچ بشپ نے دارالحکومت لیما میں واقع اپنے گرجا گھر کو کووڈ 19 متاثرین کی پانچ ہزار سے زیادہ تصاویر کے ساتھ بھردیا ہے۔

    اس کے ساتھ ہی انھوں نے تنبیہ کی ہے کہ اس وبائی بیماری کی وجہ سےآنے والے معاشی بحران کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بھوک سے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق متاثرین میں وہ پولیس افسران، فائر مین اور گلیوں میں جھاڑو دینے والے شامل ہیں جو مناسب طبی امداد حاصل کیے بغیر ہی دم توڑ گئے۔

    اے پی نیوز ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز ماس کے دوران نشر کیے جانے والے ایک پیغام میں آرچ بشپ کارلوس کاسٹیلو نے ملک کے صحت کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس نظام کی بنیاد لوگوں کے ساتھ رحم اور یکجہتی کے بجائے شخصیات اور ان کا کاروبار ہے۔‘

    پیرو میں کورونا وائرس سے اب تک 6688 اموات ہوئی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 229،736 ہے۔

  10. فضائی سفر میں شدید کمی کے باوجود چین کا نئی ائیر لائن لانچ کرنے کا اعلان

    چین کی دوسری سب سے بڑی ایئر لائن کورونا وائرس کے باعث فضائی سفر میں شدید کمی کے باوجود ایک نیا کیریئر لانچ کرنے والی ہے۔

    چائنہ ایسٹرن نے چین کی سب سے بڑی آن لائن ٹریول ایجنسی، ٹرپ ڈاٹ کام سمیت متعدد کمپنیوں سے شراکت داری کی ہے۔

    نئی ائرلائن کی توجہ کا مرکز ہینان جزیرے ہو گا جو آزادانہ تجارت کا مرکز ہے اور یہاں آٹھ لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں۔

    دنیا بھر میں فضائی کمپنیوں کو شدید بحران کا سامنا ہے اور وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔۔ اسی نقطہ نظر سے کئی ماہرین نے چینی ائیر لائن کے لانچ کے وقت پر سوال اٹھایا ہے۔

  11. کورونا کا اینڈی باڈی ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے؟

    پاکستان میں کئی لیبارٹریاں کورونا وائرس کے لیے اینٹی باڈی ٹیسٹ کر رہی ہیں۔ برطانوی ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے بھی کورونا وائرس کے لیے ایک نیا اینٹی باڈی ٹیسٹ منظور کرلیا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور اس کی اہمیت کیوں زیادہ ہے۔

  12. بریکنگ, اجمل وزیر: جن علاقوں میں متاثرین زیادہ ہیں وہاں سمارٹ لاک ڈاؤن کریں گے

    خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ صوبے کے جن علاقوں میں متاثرین زیادہ ہیں وہاں سمارٹ لاک ڈاون کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام اضلاع میں یونین کونسل کی سطح تک ہم نے متاثرین کا جائزہ لیا ہے اور ان علاقوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کروائیں گے اور وزیرِ اعظم کی ہدایات کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں 15 ہزار پیٹرول پمپس کا معائنہ کرنے کے بعد 437 پیٹرول پمپس سیل کردیے گئے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 12 دنوں میں دو لاکھ سے زائد کارروائیاں کی گئیں اور آئندہ بھی ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلے دن سے یہ موقف ہے کہ نرمیوں کا مقصد کاروبار کو رواں دواں رکھنا ہے اورجہاں ایس او پیز پر عمل درآمد ہو گا وہاں مزید نرمیاں کریں گے ورنہ ایکشن لیں گے۔

    صوبائی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جہاں ضرورت پڑے گی ان سب اضلاع میں فوج سے بھی مدد طلب کی جائے گی۔

  13. لاہور کے کون سے متاثرہ علاقے سیل ہونے جا رہے ہیں؟

    اوپر دی گئی ایک تصویر میں آپ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا نقشہ دیکھ سکتے ہیں۔

    اس میں دکھایا گیا ہے کہ شہر کے کن علاقوں میں کووڈ 19 کے مریض سب سے زیادہ ہیں۔ ان علاقوں کو ہاٹ سپاٹس کہا گیا ہے۔ جن علاقوں پر سرخ رنگ سے نشان لگایا گیا ہے انھیں منگل کی شب 12 بجے جزوی طور پر سیل کیا جا رہا ہے تاکہ یہ اس عالمی وبا کو پھیلنے سے روکا جسکے۔

    صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کے مطابق ان میں شاہدرہ اور والڈ سٹی کے کچھ علاقے، مزنگ، شادباغ، ہربنس پورہ، گلبرگ اور کینٹ کے کچھ علاقے، تقریباً مکمل نشتر ٹاؤن اور علامہ اقبال ٹاؤن کے کچھ علاقے شامل ہیں۔

    ان علاقوں کو کم از کم دو ہفتوں تک سیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے بعد صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

    یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں صرف ضروری اشیا و ادویات کی دکانیں اور صنعتیں کھلی رہیں گی۔

    نیشنل آئی ٹی بورڈ کے سربراہ شباہت علی شاہ کے مطابق اسی تصویر کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور کے کچھ علاقے سیل کیے جائیں گے۔

  14. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر: وزیرِ ٹرانسپورٹ میں کورونا کی تشخیص، مظفر آباد میں لاک ڈاؤن میں سختی, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر ٹرانسپورٹ ناصر ڈار بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوگئے ہیں۔ انھوں نے خود کو گھر پر آئسولیٹ کر لیا ہے

    خطے کے وزیراعظم کے پریس سیکرٹری راجہ وسیم نے بتایا کہ اب تک اس خطے میں دو وزرا اور قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سمیت تین افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے.

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب دارالحکومت کی حد تک لگائے جانے والے لاک ڈاون کا دائرہ کار ضلع مظفرآباد کے دیہی علاقوں تک بڑھا دیا ہے جبکہ لاک ڈاون میں مزید سختی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اس خطے کے وزیراعظم کے ترجمان راجہ وسیم نے بتایا کہ گذشتہ روز وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں کا بغیر پروٹوکول اچانک دورہ کیا جہاں انھوں نے تاجروں اور عام لوگوں کو طے شدہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے دیکھا جس کے بعد وزیراعظم نے کورونا وائرس کا مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے انتظامیہ کو ہدایت کی وہ لاک ڈاون کا دائرہ کار ضلع مظفرآباد کی سطح تک بڑھا دیں اور لاک ڈاون میں مزید سختی کریں۔

    راجہ وسیم نے بتایا کہ مظفرآباد کو پاکستان کے دیگر صوبوں سے ملانے والے دونوں داخلی و خارجی راستوں کوہالہ اور برارکوٹ سے ماسوائے مریضوں، مال بردار گاڑیوں اور محکمہ صحت کے عملے و گاڑیوں کے علاوہ ہر قسم کی آمد و رفت معطل ہے۔

    جبکہ ضلع مظفرآباد میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل ہے اور نجی ٹرانسپورٹ کے استعمال پر بھی سخت چیکنگ رکھی جا رہی ہے۔ بلاوجہ یا احتیاطی تدابیر کے بغیر باہر نکلنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور جرمانے کیے جا رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق مظفرآباد میں 296 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ سات افراد وائرس کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ضلع میرپور ہے جہاں اب تک 73 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ چار افراد وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

  15. بریکنگ, پاکستان کے ان 20 شہروں کی فہرست جاری جہاں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا جاسکتا ہے

    پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) نے 20 ایسے شہروں کی نشاندہی کی ہے جہاں کووڈ 19 کے متاثرین کی تعداد زیادہ ہے اور وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    ان میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، سوات، حیدرآباد، سکھر، سیالکوٹ، گجرات، گھوٹکی، لاڑکانہ، خیرپور، ڈی جی خان، مالاکنڈ اور مردان شامل ہیں۔

    این سی او سی نے کہا ہے کہ اس بات کا تعین ٹی ٹی کیو (یعنی ٹریک، ٹریس اور قرنطینہ) کی حکمت عملی سے کیا گیا ہے جبکہ یہاں کورونا کے پھیلاؤ کے ایسے ہاٹ سپاٹس موجود ہیں جن سے وبا مزید پھیل سکتی ہے۔

    اس حکمت عملی کے تحت ان شہروں میں ٹیسٹنگ تیز کرنے اور یہاں بعض علاقے سیل کرنے کی ضرورت ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے تحت کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے این سی او سی نے پورے پاکستان میں ممکنہ کووڈ کلسٹرز اور ہاٹ سپاٹس کا ایک جامع جائزہ لیا ہے۔

  16. پیرو کی ملیشیا قرنطینہ کی خلاف ورزی پر ’کوڑے مار سکتی ہے‘

    پیرو میں موجود ایک ملیشیا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے بنائے گئے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کوڑے مارے جاسکتے ہیں۔

    خطے میں برازیل کے بعد پیرو میں کووڈ 19 کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔

    کجماراکا کے علاقے میں اس کے صدر الادینو فرنینڈس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو فون پر بتایا کہ: ’جرم کے مطابق آپ کو کوڑے مارے جاسکتے ہیں۔۔۔ سخت جرم پر آپ کو 15 کوڑے مارے جاسکتے ہیں۔‘

    یہ ملیشیا اپنے زیر انتظام علاقوں میں مرغیوں کی چوری سے لے کر میئر، جج یا کسی اہلکار کی بدعنوانی پر انھیں سزائیں دینے کے لیے بھی مشہور ہے۔

  17. خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں آکسیجن سلینڈرز کی قلت کا خدشہ, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافے کی وجہ سے آکسیجن سلینڈرز کی کمی کا خدشہ پایا جاتا ہے۔

    محکمہِ صحت کے حکام نے حکومت سے کہا ہے کہ ہسپتالوں کو فوری طور پر وافر مقدار میں آکسیجن سلینڈر فراہم کیے جائیں۔

    ضلع سوات میں محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال میں اس وقت 85 مریض ایسے ہیں جنھیں آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے اور ہسپتال میں اوسطاً دو گھنٹوں میں 300 سے 350 آکسیجن کے سلینڈرز خالی ہو جاتے ہیں۔

    حکام نے بتایا کہ چند روز پہلے آکسیجن کے سلینڈر سوات، بٹ خیلہ اور مردان سے بھی دستیاب نہیں تھے جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے لاہورمیں آکسیجن فراہم کرنے والی کمپنی سے رابطہ کیا۔ اس کمپنی کے ذریعے ایک کنٹینر سوات پہنچا تھا لیکن لاہور سے سلینڈرز لانے میں خاصا وقت ضائع ہو جاتا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس رفتار سے مریضوں میں اضافہ ہوا تو آئندہ آکسیجن کی کمی کا مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا حل آکسیجن پلانٹ کی تنصیب ہے جس پر جلد از جلد کام شروع ہونا چاہیے۔

    ضلع ہنگو کے ضلعی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے محکمہ صحت کے حکام کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 110 بستروں کا یہ ہسپتال کووڈ 19 کے مریضں کے لیے مختص ہے لیکن یہاں ضرورت مند مریضوں کو آکسیجن سلینڈروں کے زریعے فراہم کی جا رہی ہے جو کہ مستقل حل نہیں ہے اس لیے ہسپتال میں آکسیجن پلانٹ فوری طور پر نصب کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر آکسیجن پلانٹ کی تنصیب کا کام انتہائی تیز رفتاری سے بھی کیا جائے تو اس میں ایک ماہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریض فروری کے آخری ہفتے میں آنا شروع ہو گئے تھے لیکن وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے اس بارے میں کوئی اقدامات نہیں کیے تھے۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان کے مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال میں کورونا وائرس یونٹ کے انچارج ڈاکٹر فواد مروت نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ضلع میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے اور اس وقت تمام بیڈ مریضوں سے بھر گئے ہیں جنھیں زیادہ تعداد میں آکسیجن سلینڈرز کی ضرورت ہے ۔

    انھوں نے کہا ہے کہ متاثرہ مریضوں کی عمریں 40 سے 50 سال کے درمیان ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ انھوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ احتیاط کریں اور ماسک کا استعمال ضرور کریں۔

    مفتی محمود ہسپتال کے سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شاہ جہاں نے بی بی سی کو بتایا کہ آکسیجن سلینڈر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کی سپلائی ڈیرہ اسماعیل خان میں محدود ہے اور اگر مریضوں میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو طبی عملے کے لیے اس پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔

  18. انٹرنیٹ پر موجود افواہوں کی حقیقت

    کیا لیموں کے رس سے کورونا کا علاج ہو سکتا ہے؟ ایسے سوال اور ان سے جُڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے، جانیے بی بی سی کی عالیہ نازکی سے۔۔۔

  19. ویتنام نے وائرس کو پھیلنے سے کیسے روکا؟

    چین کے ساتھ ایک طویل سرحد اور نو کروڑ 70 لاکھ کی آبادی والے ملک ویتنام میں کووڈ 19 کے صرف 330 متاثرین سامنے آئے اور ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔

    تو ویتنام نے متاثرین کی تعداد کم کیسے رکھی؟

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ویتنام کے پاس فیصلے کرنے کے لیے وقت بہت کم تھا اور اس نے وقت کا بہترین استعمال کیا۔

    ویتنام نے ایسے اقدامات کیے جن پر عمل کرنے کے لیے دیگر ممالک کو کئی ماہ لگے، جیسے سفری پابندیاں، باریک بینی سے جائزہ اور آخر میں چین کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کرنا۔

    ملک میں حکام نے ایسی جگہوں پر لوگوں کی چیکنگ کی جہاں سے وائرس پھیلنے کا خدشہ زیادہ تھا۔

    مارچ کے وسط تک ویتنام میں ہر نئے آنے والے شخص اور متاثرہ فرد کے رابطے میں رہنے والوں کو 14 دن تک قرنطینہ میں رکھا جاتا رہا۔

    اس حکمت عملی پر کم خرچا ہوا لیکن اس میں انتظامیہ کو زیادہ محترک رہنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی اتنی دیر نہیں ہوئی اور دیگر ممالک بھی ویتنام سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

  20. بریکنگ, یاسمین راشد: کچھ مریض گھر سے سوچ کر آتے ہیں کہ انھیں وینٹیلیٹر چاہیے

    پنجاب کی صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا ہے کہ صوبے میں وینٹیلیٹرز کی قلت نہیں ہے اور یہ غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ وینٹیلیٹر کی قلت ہوگئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ: ’لوگوں کا خیال ہے کہ ہر شخص وینٹیلیٹر پر جائے گا۔ فون پر فرمائش کی جاتی ہے کہ ہمیں وینٹیلیٹر کی ضرورت ہے۔ مریض گھر سے سوچ کر آتے ہیں کہ ہمیں وینیٹیلر چاہیے۔ حالانکہ یہ اس کے بغیر ٹھیک ہوسکتے ہیں۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’ہم وینٹیلیٹر پر مریض تب ڈالتے ہیں جب 15 لیٹر آکسیجن پر بھی مریض کی سانس ٹھیک نہ ہورہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہمارے مریضوں کی بڑی تعداد صحتیاب ہو رہی ہے۔