آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں 10 ہزار سے زیادہ اموات، برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 ہزار نئے کیس

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 81 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہیں۔ منگل کو دنیا کے دوسری سب سے متاثرہ ملک برازیل میں وائرس کے تقریباً 35 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں مزید دو ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پوتن: امریکہ کے مقابلے روس نے کورونا پر ’بہتر انداز میں قابو پا لیا ہے‘

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ امریکہ کے مقابلے میں روس نے کورونا وائرس پر بہتر انداز سے قابو پایا ہے اور ان کا ملک کورونا وائرس کے وبا سے ہونے والے کم سے کم نقصانات سے ابھر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کورونا وائرس کا بحران سیاست کی نظر ہو گیا۔

    پوتن نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ’ہم بہتر انداز میں کام کر رہے ہیں اور کم سے کم نقصانات کے ساتھ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ابھر رہے ہیں۔۔۔ لیکن (امریکہ) میں ایسا نہیں ہورہا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے مقابلے میں روس کے وفاقی اور علاقائی سطح کے حکام نے اختلاف رائے کے بغیر ایک ٹیم کی طرح کام کیا ہے۔

    پوتن کا کہنا تھا ’میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ (روسی) حکومت یا علاقوں کے حکام میں سے کوئی یہ کہے کہ ہم حکومت یا صدر کی ہدایات کو نہیں مانیں گے۔‘

    528،964 تصدیق شدہ مریضوں کے ساتھ برازیل اور امریکہ کے بعد، روس تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اموات کی تعداد 6948 ہے جو امریکہ (115،000 اموات) سمیت دیگر بہت سے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

    تاہم اکثر ماہرین روسی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمارپر شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔

  2. بریکنگ, پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا میں بھی کورونا کی تصدیق

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے انھوں نے تصدیق کی کہ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور باقی گھر والوں کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

  3. بریکنگ, یاسمین راشد: کم از کم دو ہفتوں تک لاہور کے حساس علاقوں کو سیل کر رہے ہیں

    پنجاب کی صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا ہے کہ لاہور کے بعض حساس علاقے جہاں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے انھیں کم از کم دو ہفتوں کے لیے کل رات 12 بجے سے سیل کیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    یاسمین راشد نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ کے علاقوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور متاثرین بڑھتے ہیں تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی آبادی پانچویں نمبر پر سب سے زیادہ ہے۔ نیوزی لینڈ اور تائیوان سے موازنہ ٹھیک نہیں۔ نیوزی لینڈ کی آبادی آدھے لاہور سے بھی کم ہے۔‘

    ’ٹی وی پر ہر بندہ ماہر بنا ہوا ہے۔‘

  4. بریکنگ, یاسمین راشد: کل رات 12 بجے سے لاہور کے کچھ علاقے سیل کر دیے جائیں گے

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اعلان کیا ہے کہ کل رات 12 بجے سے دارالحکومت لاہور کے ان علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا جن میں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

    انھوں نے پیر کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ: ’لاہور کے جن علاقوں میں کورونا کے متاثرین زیادہ ہیں انھیں سیل کیا جا رہا ہے۔ کل 12 بجے کے بعد ان علاقوں کو بند کر دیا جائے گا۔ ان میں شاہدرہ اور والڈ سٹی کے کچھ علاقے، مزنگ، شادباغ، ہربنس پورہ، گلبرگ اور کینٹ کے کچھ علاقے، تقریباً مکمل نشتر ٹاؤن اور علامہ اقبال ٹاؤن کے کچھ علاقے شامل ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ کمشنر لاہور اور سی سی پی او لاہور کی مدد سے اس حکم پر عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔

    یاسمین راشد نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں، دوا خانے اور کچھ کاروبار کھلے رہیں گے۔ ’جیسے حفاظتی لباس بنانے والی فیکٹری۔‘

  5. انڈیا: گذشتہ ایک روز میں کووڈ 19 کے 11,502 نئے متاثرین, کل تعداد 332,424 ہوگئی

    انڈیا میں حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید 11502 افراد متاثر ہوئے جبکہ 325 اموات ہوچکی ہیں۔

    اس طرح ملک میں کووڈ 19 کے کل متاثرین کی تعداد 332424 ہوگئی ہے۔ انڈیا میں اب تک 9520 افراد کورونا کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    کورونا میں مبتلا 153106 متاثرین زیرِ علاج ہیں جبکہ 169798 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    انڈیا کورونا سے چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

  6. عالمی وبا سے کیا مراد ہے؟

    کووِڈ 19 چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا۔ یہ محلق وائرس اب دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل چکا ہے اور اسے عالمی وبا قرار دیا گیا ہے۔

    پینڈیمک یا عالمی وبا کی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک وائرس نیا ہو اور وہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں باآسانی منتقل ہو جاتا ہو۔ لیکن آخر عالمی وبا ہوتی کیا ہے؟

  7. انگلینڈ: پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننا لازم، شاپنگ کے لیے دکانیں کھل سکیں گی

    پیر سے انگلینڈ کے پبلک ٹرانسپورٹ پر ہر شخص کو سفر کرنے کے دوران ماسک پہننا پڑے گا۔ پولیس اہلکار سمیت 3000 اضافی عملہ اسے یقینی بنائے گا۔

    ایسے مسافر جنھوں نے ماسک نہ پہننا ہو انھیں فوری ماسک پہننے کا کہا جائے گا۔ اگر وہ انکار کرتے ہیں تو انھیں ٹرین یا بس میں سوار ہونے نہیں دیا جائے گا یا ان پر 100 پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    اس اصول کا اطلاق ایسے افراد پر نہیں ہوگا جو کسی مخصوص بیماری میں مبتلا ہیں، معذور ہیں یا جن کی عمر 11 سال سے کم ہے۔

    ریلوے سٹیشنز پر آئندہ دنوں کے دوران لاکھوں ماسک تقسیم کیے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ماسک گھر پر بھی بنائے جاسکتے ہیں، جیسے ایک سکارف۔

    ٹرانسپورٹ کی طرح ہسپتالوں میں بھی تمام افراد کے لیے ماسک پہننا لازم ہوگا۔

    دوسری طرف انگلینڈ میں تقریباً تین ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد غیر غروری شاپنگ کی دکانیں بھی پیر سے کھولی جا رہی ہیں۔

    چڑیا گھروں اور عبادت گاہوں کو بھی کھلنے کی اجازت ہوگی۔ لیکن لوگ سماجی فاصلے کے ساتھ صرف انفرادی عبادات کر سکیں گے۔

    لوگوں کو نئے اصولوں کے تحت ایک دوسرے سے دو میٹر کی دوری پر رہنا ہوگا اور عمارات کے اندر ماسک پہننے ہوں گے۔

  8. کورونا کے مریضوں میں ’بلڈ کلاٹ‘ کے ممکنہ علاج پر سب کی نظریں

  9. ’کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے مقامی ٹیسٹنگ کٹس کی کمرشل تیاری جلد شروع ہوجائے گی‘

    پاکستان میں حال ہی میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے پہلی مرتبہ مقامی سطح پر کٹس بنائی گئی ہیں جنھیں ادویات کے نگراں ادارے ڈریپ نے کمرشل استعمال کے لیے منظور کر دیا ہے۔

    عرب نیوز کو دیے ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر تیار کردہ ان ٹیسٹ کی مدد سے کووڈ 19 کی ٹیسٹنگ میں بچت کی جاسکے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کٹس نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے تیار کی ہیں اور یہ 90 فیصد درست نتائج دیتی ہیں جو کہ درآمد شدہ کٹس کے مقابلے 20 فیصد بہتر ہے۔

    وفاقی وزیر نے اس حوالے سے بھی اپنی امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں وینٹیلیٹرز بھی تیار کر لیے جائیں گے جبکہ چار مشینوں کی طبی آزمائش اپنے آخری مرحلے پر پہنچ گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آزمائش ختم ہونے کے بعد کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ وہ وینٹیلیٹر تیار کرنا شروع کریں۔

  10. وبا کے دنوں میں خواجہ سرا تو ’گھروں سے بھی نہیں نکل سکتے‘

  11. ’آسٹریلیا کی معیشیت کو بحال ہونے میں دو سال لگیں گے‘

    آسٹریلوی حکومت نے آج معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر لانے کے لیے تعمیرات اور دیگر بنیادی منصوبوں کا ایک خاکہ پیش کیا۔

    کورونا وائرس سے متاثرہ دیگر ممالک کے مقابلے میں آسٹریلیا کی معیشت کی تیزی سے بحال ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

    او ای سی ڈی نے پیش گوئی کی ہے کہ وہ 2020 کے باقی مہینوں میں دوسری ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے آسٹریلیا کی معیشت بہت کم متاثر ہو گی اس کے علاوہ ملک میں بے روزگاری کی سرکاری شرح کو 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردیا گیا ہے۔

    تاہم وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا کہ معیشت کی بحالی میں ابھی دو سال لگیں گے۔ انھوں نے کہا ’ابھی ہمیں ایک پہاڑ سر کرنا ہے۔‘

    آسٹریلیا میں ہر دن چند نئے متاثرین رپورٹ ہو رہے ہیں لیکن ملک میں جولائی کے آخر میں سرحدیں کھولنے کے علاوہ تقریباً تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں وائرس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

  12. کورونا وائرس سے صحت یابی کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟

  13. کورونا وائرس: سب سے زیادہ اموات کن ممالک میں ہوئیں؟

    وہ چھ ممالک جہاں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات ہوئیں:

    امریکہ 115,730

    برازیل 43,332

    برطانیہ 41,783

    اٹلی 34,345

    فرانس 29,410

    سپین 27,136

  14. ’پاکستان میں 1200 مقامات پر سمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا ہے‘

    پاکستان کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ: ’ٹی ٹی کیو کی حکمت عملی (یعنی ٹریک، ٹریک اور قرنطیہ) کے تحت دو لاکھ کی آبادی والے مظفرآباد میں مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔‘

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس وقت کورونا کے 647 متاثرین موجود ہیں۔ صرف مظفرآباد میں کووڈ سے 296 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ملکی دارالحکومت اسلام آباد کے دو سیکٹر، جن کی کل آبادی 50 ہزار ہے، میں بھی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ جبکہ پورے ملک میں ایسے 1200 مقامات ہیں جہاں سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر دفاتر، صنعتوں، ٹرانسپورٹ، بازاروں اور دکانوں میں حفاظتی تدابیر پر عمل یقینی بنایا جائے گا۔

    ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 10557 مقامات پر حفاظتی تدابیر کی خلاف ورزی ہوئی۔ 1252 سے زیادہ بازار، 12 صنعتیں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 1148 افراد کو متنبہ کیا گیا، ان پر جرمانے عائد کیے گئے یا ان کے کاروبار سیل کیے گئے۔‘

    حکومت کے مطابق مخصوص ٹیموں کے ذریعے ایس او پیز پر عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔

    بیان کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 16، گلگت بلتستان میں 28، خیبرپختونخوا میں 222، پنجاب میں 801 اور اسلام آباد میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی 801 دکانوں کو سیل کیا گیا ہے۔

  15. کیا کووِڈ 19 کا ماحول پر اثر دیرپا ہوگا؟

    چونکہ صنعتیں، ذرائع نقل و حمل اور کاروبار بند ہیں، اسی وجہ سے فضا میں کاربن کے اخراج میں ایک دم کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر موجودہ وقت کا گذشتہ برس کے انھی مہینوں سے موازنہ کیا جائے تو نیویارک میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے فضائی آلودگی میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    چین میں رواں برس کے آغاز پر گیسوں کے اخراج میں 25 فیصد کمی ہوئی کیونکہ لوگوں کو گھروں میں رہنے کا پابند کر دیا گیا تھا، فیکٹریوں کے دروازے بند کر دیے گئے تھے اور سنہ 2019 کی آخری سہ ماہی کے مقابلے میں ملک کے بجلی بنانے والے چھ بڑے کارخانوں میں کوئلے کا استعمال 40 فیصد کم رہا۔

  16. بریکنگ, وائرس پھیلنے کا خطرہ: بیجنگ کے مزید 10 علاقوں کو سیل کر دیا گیا

    چین کے شہر بیجنگ میں اچانک خوراک کے ایک بازار سے منسلک کئی نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد مزید 10 علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بیجنگ میں اس حالیہ پھیلاؤ کا مرکز زن فادی کی ایک تھوک فروشی منڈی ہے جو ایشیا کا سب سے بڑا بازار ہے اور بیجنگ کی زرعی پیداوار کا 80 فیصد اسی بازار سے برآمد کیا جاتا ہے۔

    بازرا بند کردیا گیا ہے اور دسیوں ہزار قریبی رہائشیوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ شہر بھر بازار جانے والوں اور ان کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد کی نشاندہی کے لیے ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔

    کچھ سکولوں نے کلاسیں معطل کر دی ہیں۔

    بیجنگ شہر کی حکومت کے ترجمان سو ہیجیانگ نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے ’وبا کے پھیلاؤ کا خطرہ بہت زیادہ ہے لہذا ہمیں فیصلہ کن اقدامات کرنے کے ضرورت ہے۔‘

  17. ہانگ کانگ: ڈزنی لینڈ تھیم پارک 18 جون سے کھل رہا ہے

    ہانگ کانگ میں ڈزنی لینڈ تھیم پارک 18 جون سے عوام کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ تھیم پارک کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پارک میں آنے والے کی تعداد کم رکھی جائے گی تاکہِ کورونا وائرس کے حوالے سے حفاظتی اقدامات پر عمل ممکن ہو سکے۔

    چین کے زیر اقتدار اس شہر میں حال ہی میں چند نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اب تک متاثرین کی مجموعی تعداد 1110 اور 4 اموات ہوئی ہیں۔

    پارک میں موجود زیادہ تر خریداری اور کھانے پینے کی جگہیں ’محدود صلاحیت‘ کے ساتھ دوبارہ کام شروع کردیں گی جبکہ سماجی دوری کے اقدامات قطاروں، ریستوران اور دیگر سہولیات میں نافذ کیے جائیں گے۔

    ہوٹل سروسز بھی آہستہ آہستہ دوبارہ شروع کی جائیں گی۔

    ڈس انفیکشن زیادہ کثرت سے کی جائے گی اور سیر کے لیے آنے والوں کے لیے جگہ جگہ ہینڈ سینٹائزر فراہم کیے جائیں گے۔

    پارک میں آنے والوں کو درجہ حرارت چیک کروانا، چہرے پر ماسک پہننا اور اپنی صحت سے متعلق ایک اعلامیے پر دستخط کرنا لازم ہوں گے۔

  18. چین: کورونا وائرس کے 49 نئے مریض، 36 کا تعلق بیجنگ سے

    چین کے محکمہ صحت نے پیر کو بتایا ہے کہ 14 جون کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا کے کل 49 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ تعداد 13 جون سے کم ہے جس دوران 57 متاثرین کی نشاندہی ہوئی تھی۔

    خبر رساں روئٹرز کے مطابق محکمہ صحت نے کہا ہے کہ ان میں سے 39 متاثرین میں وائرس کی مقامی منتقلی ہوئی۔

    بیجنگ میں 36 نئے متاثرین ہیں۔ 13 جون کے اعداد و شمار میں بھی بیجنگ میں اتنے ہی متاثرہ افراد کی تصدیق ہوئی تھی۔

    ملک میں نئے متاثرین میں اچانک اضافے کے بعد وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    14 جون کے اعداد و شمار میں 10 غیر ملکی افراد میں کورونا کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ جبکہ 18 اے سمپٹومیٹک کیسز (ایسے متاثرین جن میں علامات ظاہر نہ ہوں) کی تصدیق ہوئی ہے۔

    چین میں اب تک 83181 افراد کووڈ 19 سے متاثر ہوچکے ہیں۔ جبکہ کل 4634 اموات ہوئی ہیں۔

    چین کورونا کے اے سمپٹومیٹک کیسز کو مصدقہ متاثرین میں شمار نہیں کرتا۔

  19. کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

    کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔جانیے ویکسین کی ایک ہزار سال قدیم تاریخ بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  20. بریکنگ, پاکستان: کورونا وائرس کے 5248 نئے مریض، مزید 97 اموات

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 5248 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس دوران مزید 97 اموات کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

    کووڈ 19 سے اموات کی کل تعداد اب 2729 ہوگئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے نئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی کل تعداد 144478 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 8471 افراد زیر علاج ہیں۔

    اب تک کووڈ 19 سے 53721 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔