آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں 10 ہزار سے زیادہ اموات، برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 ہزار نئے کیس

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 81 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہیں۔ منگل کو دنیا کے دوسری سب سے متاثرہ ملک برازیل میں وائرس کے تقریباً 35 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں مزید دو ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. سائنسدان وائرس کے لیے متعدد مؤثر ویکسین کے لیے پُرامید

    کووڈ 19 کی ویکسین پر کام کرنے والے ایک سائنسدان کا کہنا ہے کہ انھیں ‘کافی یقین ہے’ کہ وائرس کے لیے کئی مؤثر ویکسین تیار کر لی جائیں گی۔

    امپیریئل کالج لندن میں ایک ویکسین ٹیم کی سربراہی کرنے والے پروفیسر روبن شیٹوک نے بی بی سی کے اینڈریو مار شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: ‘مجھے لگتا ہے کہ کسی بھی دوسری ویکسین کی طرح ہمارے پاس اس ویکسین کو بنانے کا بھی امکان ہے، مگر کامیابی کی پیشگوئی کرنا بے وقوفی ہے کیونکہ کسی بھی انفرادی ویکسین کے ناکام ہونے کا کافی بڑا خطرہ ہوتا ہے، اور جو اہم ہے وہ یہ کہ دنیا بھر میں کئی ویکسین بنا سکنے کی وجہ سے ہمیں یقین ہے کہ ان میں سے کچھ کام ضرور کریں گی۔’

    پروفیسر شیٹوک نے کہا کہ ان کی ٹیم ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ویکسین پر کام کر رہی ہے جسے اس سے پہلے انسانوں پر نہیں آزمایا گیا ہے۔

    وائرس کو بڑھا کر اسے غیر فعال کرنے کے بجائے وہ وائرس سے حاصل کردہ جینیاتی مواد سے اینٹی باڈیز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  2. ملک بھر میں کورونا سے 53 ڈاکٹروں سمیت طبی عملے کے 68 ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ, محمد زبیر خان، صحافی

    پرووینشل ڈاکٹر ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے طبی عملے کی تعداد 68 ہوگئی ہے جس میں 53 ڈاکٹر اور باقی نرسنگ سٹاف، پیرا میڈیکس اور دیگر سٹاف شامل ہے۔

    تنظیم کے ترجمان ڈاکٹر سلیم کے مطابق عید کے بعد سے طبی عملے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے اور ان کے ہلاک ہونے کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، اور گذشتہ آٹھ سے 10 دونوں میں متاثر اور ہلاک ہونے والے طبی عملے کی تعداد وبا کے سر اٹھانے کے بعد سے دوگنا سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ معاملہ یہاں تک نہیں ہے کہ طبی عملہ حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے سبب کورونا سے متاثر اور ہلاک ہوا ہے، بلکہ وہ عوام جن کے عزیز کورونا سے متاثر ہوتے ہیں ان کی جانب سے بھی ملک بھر کے طبی عملے کو تشدد کا سامنا ہے۔

    ڈاکٹر سلیم نے دعویٰ کیا کہ ان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کورونا کی وبا کے بعد عوام کی جانب سے ہسپتالوں اور طبی عملے پر تشدد کے 15 بڑے واقعات ہوچکے ہیں جن میں ملزمان گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔

    ڈاکٹر سلیم کا کہنا تھا کہ وہ چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طبی عملے اور ہسپتالوں کی حفاظت کے لیے فی الفور قانون سازی کرے تاکہ طبی عملہ ان حالات میں اپنے فرائض ادا کرسکے۔

    انھوں نے مزید مطالبہ کیا کہ طبی عملے کے ہلاک ہونے والے ارکان کے لیے شہدا پیکج کا اعلان کیا جائے اور ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔

  3. پاکستانی فوج کے افسر میجر فہیم کورونا کے باعث انتقال کر گئے

    پاکستانی فوج کے افسر میجر راجہ فہیم گذشتہ روز کوئٹہ میں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوگئے ہیں۔ وہ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر آصف ہارون راجہ کے بیٹے تھے۔

    ہماری نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ چونکہ وہ کورونا متاثر تھے، اس لیے ان کی نمازِ جنازہ میں کافی کم لوگوں کو آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

  4. لاطینی امریکہ کے ممالک میں مرض کے پھیلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ

    چلی، ارجنٹینا، پیرو اور کولمبیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووِڈ 19 کے ریکارڈ متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد لاطینی امریکہ میں کورونا وائرس پھیلنے کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

    مصدقہ متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافے کے بعد کئی طبی حکام کا کہنا ہے کہ یہ برِاعظم اب وبا کا مرکز بن چکا ہے۔ کئی حکومتوں کے پاس اب بھی ٹیسٹنگ کی ناکافی سہولیات ہیں، اس لیے خدشہ ہے کہ متاثرین کی اصل تعداد سامنے آنے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

    • برازیل میں سنیچر کو 20 ہزار 894 متاثرین سامنے آئے جو پورے برِاعظم کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہاں پر متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد امریکہ کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے۔
    • چلی کے وزیرِ اعظم سیبیسٹیئن پینیئرا نے وزیرِ صحت جیمی منیالیچ کو ملک میں ہلاکتوں کی تعداد رپورٹ کرنے پر تنازعے کی وجہ سے ہٹا دیا ہے۔
    • میکسیکو میں گذشتہ تین دنوں میں متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور فی الوقت یہ لاطینی امریکہ کا چوتھا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔
  5. بریکنگ, 2287 نئے متاثرین کے ساتھ سندھ ایک مرتبہ پھر پاکستان کا سب سے زیادہ متاثر صوبہ

    سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2287 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 53 ہزار 805 ہوگئی ہے۔

    اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے ایک مرتبہ پھر ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ بن گیا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سندھ سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 15 مریض ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد سندھ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 831 ہو گئی ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 11 ہزار 197 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ اب تک صوبے بھر میں دو لاکھ 98 ہزار 332 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت 27 ہزار 368 مریض زیر علاج ہیں اور اس وقت 573 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آج 80 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں جبکہ آج 1219 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو چلے گئے جس کے بعد صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 25 ہزار 606 ہوگئی ہے۔

    حکومتِ سندھ کے مطابق گذشتہ 42 گھنٹے میں سب سے زیادہ 1499 متاثرین سندھ کے دارالحکومت کراچی سے سامنے آئے ہیں۔

    سکھر سے 68، خیر پور 49، حیدرآباد 44، گھوٹکی 39، مٹیاری 38، شہید بے نظیر آباد 37، لاڑکانہ 22، سانگھڑ 20، میرپور خاص 15، کشمور 14، جامشورو 13، سجاول 10، شکار پور اور دادو سے 7، بدین 4، ٹھٹھہ اور نوشہروفیروز سے 3 اور قمبر سے 1 کیس رپورٹ ہوا۔

  6. دلی میں تھوکنے اور ماسک نہ پہننے پر جرمانہ دینا ہو گا

    دلی کے لیفٹیننٹ گورنر انیل بیجل نے سماجی دوری اور حفاظتی قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق نئے اصولوں کی منظوری دی ہے۔ نئے قواعد کے تحت اب لوگوں کو معاشرتی دوری اور حفاظت کے معیار پر عمل نہ کرنے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    دارالحکومت میں کورونا انفیکشن کے مریضوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد یہ نئے قواعد لاگو کیے گئے ہیں۔

    بیجل کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق جسمانی فاصلے کے اصولوں کی خلاف ورزی، عوامی مقامات اور دفاتر میں ماسک نہ پہننے اور عوامی مقامات پر تھوکنے پر 500 روپے جرمانہ ہوگا۔

    قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 1000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اگر جرمانہ فوری طور پر نہیں بھرا گیا تو آئی پی سی کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

  7. بریکنگ, اسد عمر: وزیر اعظم صرف آپ کو ڈرانے کے لیے نہیں کہہ رہے تھے

    پاکستان کے وفاقی وزیر اسد عمر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پہلے دو ماہ تک عوام نے نظم و ضبط دکھایا لیکن اس کے بعد ایسا نظر نہیں آیا جس کی وجہ سے روزبروز متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ: ’انڈیا میں تیزی سے اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہم صرف کورونا کے پھیلاؤ کی رفتار کم کر سکتے ہیں۔‘

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ جولائی کے آخر تک صوبوں میں دو ہزار مزید آکسیجن والے بستروں کا انتظام کیا جائے گا۔ سندھ میں 500، خیبر پختونخوا میں 400، پنجاب 500، بلوچستان 200، گلگت بلتستان میں 40، کشمیر میں 60 اور اسلام آباد میں 450 مزید بستروں کا اضافہ کیا جائے گا۔ ’صحت کے نظام کو بڑھانے کا کام جاری ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کے نظام کو بڑھانا بھی اہم ہے۔ ’ہم پہلے 500 ٹیسٹ کرتے تھے اور آج تقریباً 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ ہو رہے ہیں۔ صلاحیت اس سے بھی زیادہ موجود ہے۔‘

    ’آج فیصلہ کیا ہے کہ اگلے 4 سے 6 ہفتوں کے دوران ہم ڈیڑھ لاکھ ٹیسٹ روزانہ کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ اور روز کم از کم ایک لاکھ ٹیسٹ کیے جائیں گے۔‘

    اسد عمر نے بتایا کہ اگر وبا کے پھیلاؤ میں کمی نہ لائی گئی تو کوئی بھی نظام مفلوج ہوسکتا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’دو ماہ تک قوم نے نظم و ضبط دکھایا لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا۔۔۔ وزیر اعظم صرف آپ کو ڈرانے کے لیے متنبہ نہیں کر رہے تھے۔‘

    ان کا اشارہ وزیر اعظم عمران خان کی ان تقاریر کی جانب تھا جن میں وہ عوام سے سماجی فاصلہ اختیار کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

  8. بریکنگ, اسد عمر: جولائی کے آخر تک پاکستان میں 10 سے 12 لاکھ متاثرین ہوسکتے ہیں

    پاکستان کے وفاقی وزیر اسد عمر نے اسلام آباد میں اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو جولائی کے آخر تک ملک میں 10 سے 12 لاکھ متاثرین ہوسکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ: ’جب وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی تو ساتھ تاکید کی گئی کہ حفاظتی تدابیر پر عمل سے کورونا کا پھیلاؤ کم ہوگا ورنہ تیزی آئے گی۔‘

    ’بد قسمتی سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جون کے وسط تک تقریباً ڈیڑھ لاک متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ: ’اگر تبدیلی نہ کی گئی تو ماہرین بتا رہے ہیں کہ جون کے آخر تک دگنا اضافہ ہوچکا ہوگا۔ مطلب یہ تعداد تین لاکھ بھی ہوسکتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ ’اسی طرح ماہرین کی رائے ہے کہ جولائی کے آخر تک یہ تعداد 10 سے 12 لاکھ تک جاسکتی ہے۔ مطلب سات سے آٹھ گنا تک اضافہ۔۔۔ یہ پریشانی کی بات ہے۔‘

    اسد عمر نے کہا کہ تحقیق کے مطابق ماسک پہننے سے وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آسکتی ہے۔

  9. مختلف ممالک سے پاکستان آنے والی پروازوں کا شیڈول

    وزارت اوورسیز پاکستانیز نے آئندہ ہفتے کے دوران پاکستان آنے والی پروازوں کا شیڈول جاری کیا ہے۔

  10. وبا کے دنوں میں اس سکھ گرودوارے کا لنگر برطانیہ میں ہزاروں افراد تک پہنچایا جا رہا ہے

    کووڈ 19 کے دنوں میں برطانیہ کے ایک بڑے سکھ گرودوارے کو ہزاروں بے گھر افراد کے لیے ایمرجنسی فوڈ آپریشن مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔اس گرودوارے کے کچن سے گرم کھانا ہسپتالوں کے وارڈز اور ایسے لوگوں تک بھی پہنچایا جاتا ہے جو آئسولیٹ ہوچکے ہیں۔ دیکھیے ہماری ڈیجیٹل ویڈیو

  11. یورپی یونین کے شینجن ممالک کے لیے سپین کی سرحد ’21 جون کو کھول دی جائے گی‘

    سپین اپنی سرحدیں یورپی یونین کے شینجن ممالک کے لیے 21 جون کو کھول دے گا۔ تاہم پرتگال کے لیے سپین کی سرحد یکم جولائی سے کھلے گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سپین کی حکومت نے اس سے قبل یہ کہا تھا کہ وہ غیر ملکی سیاحوں کو یکم جولائی سے خود ساختہ قرنطینہ کے بغیر داخلے کی اجازت دیں گے۔

    آزمائش کے تحت بلیرک جزیروں پر پیر سے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

  12. انڈیا: کورونا کے علاج کے لیے ریمڈیسیور کے علاوہ ٹوسلی ذوماب اور پلازما تھیراپی کی منظوری

    انڈیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے مخصوص گروہوں کے علاج کے لیے ریمڈیسیور کے علاوہ ٹوسلی ذوماب اور پلازما تھیراپی کے استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ انڈین وزارت صحت نے کورونا انفیکشن کی علامات میں سونگھنےاور چکھنے کی صلاحیت ختم ہونا شامل کر لیا ہے۔

    ریمڈیسیور ایک اینٹی وائرل دوا ہے جو کیلیفورنیا میں قائم بائیوفرما کمپنی جیلڈ سائنسز نے ایبولا کے علاج کے لیے بنائی تھی۔ کووڈ 19 مریضوں کے علاج کے لیے دنیا بھر میں اس دوا کی طبی آزمائش کی گئی اور اس کے مختلف نتائج سامنے آئے ہیں۔

    جوڑوں کے امواض کے لیے ٹوسلی ذوماب کو استعمال کیا جاتا ہے لیکن ممبئی میں کورونا کے مریضوں کو بھی ٹوسلی ذوماب دی گئی ہے۔

    وزارت کے مطابق دلی میں کورونا کے مریضوں کا پلازمہ تھیراپی سے علاج کیا گیا ہے لیکن ہر بار حوصلہ افزا نتائج نہیں ملے۔

  13. برطانوی حکومت ’سماجی فاصلے کے اصول کا جائزہ لے گی‘

    برطانیہ کے وزیر خزانہ رشی سونک کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو 25 فیصد کے معاشی بحران سے ابھرنے میں مدد کے لیے برطانوی حکومت دو میٹر سماجی دوری کے اصول کا فوری طور پر جائزہ لے گی۔

    سونک کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے پھیلاؤ سے نمٹنے میں پیشرفت کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر دو میٹر کے قاعدے پر نظر ثانی کے لیے اس کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

    ان کے مطابق متعدد افراد کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد انھیں تیزی سے کاروبار شروع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

  14. کورونا وائرس: پلازمہ عطیہ کرنا کیوں ضروری ہے؟

    پاکستان میں پلازمہ کے عطیہ سے کورونا وائرس کے مریضوں کو خاصی مدد ملتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پلازمہ کا عطیہ دینا بے حد ضروری ہے لیکن لوگوں میں اس بارے میں اب بھی بہت سے خدشات پائے جاتے ہیں۔

    پلازمہ کا عطیہ کیا ہے، یہ کیوں ضروری ہے اور یہ ہوتا کیسے ہے، ان تمام سوالات کے جواب دے رہے ہیں ڈاکٹر طاہر شمسی اس ویڈیو میں۔

  15. ایران پہنچنے میں مشکلات: پاکستانی آم تفتان میں پڑے پڑے خراب ہو رہے ہیں, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے ایران جانے میں تاخیر سے بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں پاکستانی تاجروں کا آم خراب ہورہا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تفتان کے مقامی تاجر صفی اللہ نے بتایا کہ ایران ایکسپورٹ کے لیے آموں کی ایک بڑی کھیپ تفتان میں پڑی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تفتان سے ہفتے میں تین دن گاڑیوں کو ایران سے آنے اور جانے کی اجازت ہوتی ہے اور ان تین دنوں کے دوران ہر روز 70 کے قریب گاڑیاں ایران سے آ کر واپس جاسکتی ہیں۔

    صفی اللہ کے مطابق ان گاڑیوں میں 40 سے زائد گیس کے باﺅزر ہوتے ہیں جبکہ باقی جو کنٹینر بچ جاتے ہیں ان میں وہ تمام آم نہیں جاسکتے جو یہاں پڑے ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ تاخیر کی وجہ سے تاجروں کے آم خراب ہو رہے ہیں اور اس سے ان کو بڑے پیمانے پر نقصان ہورہا ہے۔

    انھوں نے پاکستانی حکام سے اپیل کی کہ آموں سمیت جلدی خراب ہونے والی تمام اشیا کے روزانہ کی بنیاد پر ایران جانے کا انتظام کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ ممکن نہیں ہے تو ایران سے یہ کہا جائے کہ وہ ان تین دنوں کے دوران 70 کی بجائے زیادہ کنٹینرز بھیج دے تاکہ آموں کے ایران بھیجنے میں تاخیر نہ ہو اور تاجر بڑے نقصان سے بچ سکیں۔‘

  16. پنجاب: لاہور کے بعد راولپنڈی اور فیصل آباد میں سب سے زیادہ متاثرین

    پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق 13 جون کو کورونا وائرس کے 2514 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی۔ متاثرین کی کل تعداد 50,601 ہوگئی ہے۔

    13 جون کو مزید 31 اموات ہوئیں جس کے بعد پنجاب میں کل اموات 969 ہوچکی ہیں۔

    اب تک 338,714 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور 17,560 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

    لاہور میں کل متاثرین کی تعداد 26429 ہے جبکہ اس کے بعد راولپنڈی میں 4145 اور فیصل آباد میں 3677 متاثرین موجود ہیں۔

    گذشتہ روز بھی لاہور میں 1331 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ پنجاب میں 925 ہیلتھ کیئر ورکرز کے کووڈ 19 ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

    صوبے میں 16 سے 45 سال عمر کے افراد میں وائرس سب سے زیادہ پایا گیا ہے۔

  17. کورونا وائرس ’آخری وبا‘ نہیں

    یونیورسٹی آف لیورپول کے پروفیسر میتھیو بیلِس کا کہنا ہے کہ 'پچھلے 20 برسوں میں ہمیں چھ خطروں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سارس، مرس، ایبولا، ایوین انفلوئنزا اور سوائن فلو شامل ہیں۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم پانچ کو تو جھکائی دے کر بچ گئے مگر چھٹے کی زد میں آ ہی گئے۔‘

    'اور یہ آخری عالمی وبا نہیں ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔ اسی لیے ہمیں جنگلی حیات کے امراض کا زیادہ گہرا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔'

  18. دلی میں بستروں کی قلت، وائرس مزید پھیلنے کا خدشہ

    انڈیا میں کورونا وائرس کے بڑھتے متاثرین نے صحت کے نظام پر بوجھ ڈال دیا ہے جس کے بعد ایک بڑے بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دلی میں کئی لوگوں کو ہسپتال سے واپس گھر بھیجا جا رہا ہے کیونکہ بستروں کی عدم دستیابی ہے۔

    انڈیا کے دارالحکومت میں وائرس سے 1200 اموات ہوچکی ہیں اور روز ایک ہزار نئے متاثرین کی تصدیق ہو رہی ہے۔

    دلی کی بعض مقامی کونسلز کا کہنا ہے کہ حکومتی اعداد و شمار کے برعکس یہ تعداد کئی زیادہ ہوسکتی ہے۔

    ذرائع ابلاغ پر ایسی افسوسناک خبریں چلائی جا رہی ہیں جن میں تشویشناک حالت میں آنے والے مریضوں کو ہسپتال داخل نہیں کیا گیا۔

    ایک حاملہ خاتون کی ہلاکت اس وقت پیش آئی جب انھیں دوسرے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔ ایک 78 سالہ شخص نے دلی کی ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ انھیں وینٹیلیٹر نہیں دیا جا رہا۔ اس مقدمے کی سماعت سے قبل ہی ان کی موت واقع ہوگئی۔

    اشون جین کے خاندان نے کئی ہسپتالوں سے گزارش کی کہ انھیں داخل کیا جائے لیکن کسی نے ایسا نہ کیا۔ وہ ایمبولینس میں ہی ہلاک ہوگئے۔

    انڈیا میں اس وقت کورونا کے تین لاکھ سے زیادہ متاثرین ہیں اور تقریباً نو ہزار اموات ہوچکی ہیں۔

  19. پشاور میں کورونا کے 71 سالہ مریض کی ہسپتال میں سالگرہ منائی گئی

    پشاور کے ایک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کورونا وائرس کے 71 سالہ مریض اسد نوید نے اپنی سالگرہ منانے کی خواہش ظاہر کی تو ڈاکٹروں نے کیک کا انتظام کیا اور خود تقریب میں شریک بھی ہوئے۔ آپ بھی اس لمحے کی ویڈیو دیکھیں۔

  20. ترجمان ریلوے: شیخ رشید کی طبیعت اب بہتر ہے

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید، جن میں کچھ دن قبل کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، کی طبیعت اب بہتر ہے لیکن وہ فی الحال ہسپتال داخل ہیں۔

    سرکاری چینل پی ٹی وی نیوز کے مطابق ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کو کچھ دیر قبل ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ان کی طبعیت ’بہتر ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ سہولیات کے پیش نظر انھیں ہسپتال داخل کرایا گیا۔ ’کچھ دیر قبل بھی رابطہ ہوا۔ شیخ صاحب بالکل ٹھیک ہیں۔‘

    وفاقی وزیر علی محمد خان نے کہا ہے کہ: ’شیخ رشید صاحب ہمارے انتہائی اہم اور پیارے ساتھی ہیں۔ غریب نواز اور ہمیشہ کابینہ میں عوام کی بات کرنے والے ہیں۔ اللہ ان کو صحت کاملہ عطا فرمائے، آمین۔‘