آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں 10 ہزار سے زیادہ اموات، برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 ہزار نئے کیس

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 81 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہیں۔ منگل کو دنیا کے دوسری سب سے متاثرہ ملک برازیل میں وائرس کے تقریباً 35 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں مزید دو ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. تصاویر: میامی کے ساحل کھل گئے

    میامی ڈیڈ کاؤنٹی کی بیچز آج سے کھل رہی ہیں۔ فلوریڈا نے اپریل میں بیچز سمیت سبھی غیر ضروری کاروبار بند کر دیے تھے۔

    یہ اقدام اس وقت لیا گیا ہے جب فلوریڈا میں کووڈ۔19 کے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جون کے شروع سے ہی ریاست میں کورونا کے متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کا رجحان جاری ہے اور ابھی تک کورونا وائرس کے 66 ہزار تصدیق شدہ مریض ہیں جبکہ دو ہزار 765 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

  2. کورونا وائرس: پاکستان کی تازہ ترین صورتحال!

    پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے 117،260 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اموات کی کل تعداد 2317 ہو گئی ہے۔

    اب تک ملک میں 37712 افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    آج پاکستان کے صوبہ سندھ میں ریکارڈ 2487 نئے مریض سامنے آئے جبکہ 42 اموات ہوئی ہیں۔

    اس کے علاوہ صوبہ خیبرپختونخوا میں 679 نئے مریض بھی سامنے آئے جبکہ مزید نو اموات بھی ہوئی ہیں۔

  3. لاک ڈاؤن کے بعد ویران، سنسان ہوائی اڈے

    کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے دو ماہ قبل تقریباً دنیا کے تمام ملکوں نے یا تو اپنے ایئر پورٹس بند کر دیے تھے یا ہوائی سفر کو بےحد محدود کر دیا تھا۔

    یورپ میں بھی یہی صورتحال تھی لیکن اب جیسے جیسے یورپی ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے ایئرپورٹس بھی کھولے جا رہے ہیں۔

    تو اس وقت یورپ میں ہوائی سفر کرنے کا تجربہ کیسا ہے؟ بی بی سی کی نامہ نگار جین میکینزی نے یورپ میں کورونا وائرس کی صورتحال پر رپورٹنگ کے دوران متعدد ایئرپورٹس سے سفر کیا۔

    چند دن قبل برطانیہ واپس آتے ہوئے انھوں نے ہوائی سفر کے اپنے تجربے کی عکس بندی کی۔

  4. کورونا وائرس: اہم عالمی ہیڈ لائنز

    کورونا وائرس کی عالمی طور پر کچھ ہیڈ لائنز یہ ہیں:

    • ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ وبا کے عالمی طور پر بہت برے معاشی اثرات ہوں گے۔ دی آرگینائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ (او ای سی ڈی) نے کہا ہے کہ اس سال عالمی پیداوار 7.6 فیصد سکڑ جائے گی۔
    • جاپان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے کورونا وائرس کی وبا کے اقتصادی اثرات کی تلافی کے لیے 293 ارب ڈالر کے بجٹ کی منظوری دی ہے۔
    • فرانس کے وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ملک میں 8 لاکھ نوکریاں ختم ہونے کا امکان ہے۔
    • کچھ یورپی ممالک نے سرحدی کنٹرول ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جرمنی سوئٹزرلینڈ، فرانس، آسٹریا اور ڈینمارک کے ساتھ اپنی سرحدیں کھول دے گا، جبکہ آسٹریا 20 سے زیادہ یورپی ممالک کے ساتھ اپنی قرنطینہ کی شرائط ختم کر دے گا۔
    • اٹلی میں پراسیکیوٹرز نے کہا ہے کہ وہ حکومت کی وبا سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر اس سے سوالات پوچھیں گے۔ وزیرِ اعظم کونٹے نے کہا کہ جمعہ کو ان سے سوالات کیے جائے گے کہ ان کی حکومت نے شمالی شہر برگیمو میں کیا اقدامات کیے تھے۔
    • امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی نیشنل گارڈز کے کئی اراکین میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ ان لوگوں کو بلیک لائیوز میٹر کے احتجاج کے دوران تعینات کیا گیا تھا۔
  5. غیر مصدقہ خبروں کو فروغ دینے والوں کے لیے ڈاکٹر تمکینت کا پیغام

    سوشل میڈیا اور میسنجرز پر کورونا وائرس کی وبا کے بارے میں بہت سی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ان افواہون اور غلط خبروں سے نہ صرف اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، بلکہ طبی عملے کو بھی بہت دشواریوں کا سامنا ہے۔

    ڈاکٹر تمکینت منصور پچھلے پندرہ سال سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اس ویڈیو میں دیکھیں ڈاکٹر تمکینت کا پیغام ان لوگوں کے لیے جو ان غیر مصدقہ خبروں کو فروغ دیتے ہیں۔

  6. ماسکو کی اموات میں کووڈ۔19 متاثرین کی بڑی تعداد, بی بی سی مانیٹرنگ

    ماسکو میں حکام نے ہر سال مئی میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا ہے، جس میں اس سال مئی میں ہونے والی 92 فیصد زیادہ ہونے والی ہلاکتوں کو کووڈ۔19 سے جوڑا گیا ہے۔

    روس کے دارالحکومت ماسکو کے صحت کے شعبہ کے ڈیٹا کے مطابق کورونا وائرس مئی میں ہونے والی 5260 کی اموات کی بنیادی یا ثانوی وجہ ہے، جو کہ پہلے ماسکو میں کووڈ۔19 سے ہونے والی ٹوٹل 3085 اموات سے کہیں زیادہ ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق ماسکو میں مئی میں کل 15,713 اموات رجسٹرڈ کی گئیں، جو کہ مئی 2019 میں رجسٹرڈ کی گئی اموات سے 5,715 زیادہ ہیں۔

    منگل کو ماسکو نے سیلف آئیسولیشن کی پابندی ختم کر دی تھی اور مارچ کے بعد سے پہلی مرتبہ لوگوں کو کھلے عام آپ میں ملنے کا اجازت دی تھی۔

  7. ایکٹیمرا انجکشن سے سنا مکی تک: کوورنا کے علاج میں یہ سب کس حد تک مددگار؟

    دنیا بھر میں جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے وہیں اس کی ویکسین کی تیاری کی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

    تاحال اس بیماری کا علاج دریافت نہیں کیا جا سکا ہے لیکن پاکستان میں اس وبا کے آغاز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات کی بھرمار دیکھی گئی جس میں مختلف ادویات، جڑی بوٹیوں یا پھر کھانے پینے میں روزمرہ استعمال ہونے والی اشیا کو اس بیماری سے صحت یابی میں مددگار یا پھر اس کا علاج ہی قرار دے دیا گیا۔

    یہ بات جہاں ادرک اور کلونجی یا ملیریا کے علاج میں استعمال ہونی والی دوائی کلوروکوئین سے شروع ہوئی وہیں آج کل اکٹیمرا نامی انجیکشن اور سنامکی نامی جڑی بوٹی کا شہرہ ہے اور ایسی ادویات و جڑی بوٹیوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کا استعمال کورونا کے مریض کے جسم میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

  8. کوروناوائرس: یہ آخری وبا نہیں ہے

    سائنسدان خبردار کرتے رہے ہیں کہ ہم نے امراض کے جنگلی حیات سے انسانوں میں منتقلی اور پھر ان کے دنیا بھر میں پھیلنے کے لیے ماحول کو سازگار بنا کر رکھا ہے۔

    قدرتی ماحول میں انسانی دخل اندازی اس عمل کو مزید تیز کر دیتی ہیں۔

    یہ نقطۂ نظر ان ماہرین صحت کا ہے جو وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔

    اپنی ان کوشش کے نتیجے میں انھوں نے نشاندہی کا ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جو جنگلی حیات سے انسانوں کے اندر امراض کی منتقلی کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔

    اگرچہ مستقبل میں وباؤں سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی یہ کوششیں عالمی سطح پر ہو رہی ہیں لیکن ان کی سربراہی برطانیہ میں یونیورسٹی آف لیورپول کے سائنسدانوں کی ایک جماعت کر رہی ہے۔

  9. بی بی سی اردو سروس پر کورونا وائرس کے بارے میں لائیو کوریج میں خوش آمدید

    پاکستان اور دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وباہ کی وجہ سے اہم خبروں کا سلسلہ جاری ہے۔ بی بی سی اردو کی ویب سایٹ پر بھی اس کی لائیو کوریج جاری ہے۔ بدھ اور اس ے پہلے کی خبروں کے لیے کلک کریں۔