آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں 10 ہزار سے زیادہ اموات، برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 ہزار نئے کیس

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 81 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہیں۔ منگل کو دنیا کے دوسری سب سے متاثرہ ملک برازیل میں وائرس کے تقریباً 35 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں مزید دو ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کووڈ 19 کے علاوہ وہ چار وائرس جن کے لیے اب تک کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی

    دنیا بھر کے کروڑوں لوگ کورونا کے وبائی مرض سے نجات پانے کے لیے اس کی ویکسین کے منتظر ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ویکسین بنانے کے عمل پر کتنی تیز رفتاری سے کام کیوں نہ کیا جائے اس میں وقت لگ سکتا ہے اور اگر بہت خراب صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی ویکسین دریافت نہیں بھی ہو سکتی۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ہیلتھ ایمرجنسی کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا: ’اس وائرس کے ساتھ ہمیں رہنا پڑ سکتا ہے۔‘

    بہرحال اس وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کا امکان تباہ کن ہو سکتا ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک تقریبا 70 لاکھ افراد اس کی زد میں آ چکے ہیں اور انفیکشن سے چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ویکسین کی تلاش برسوں یا عشروں تک جاری رہ سکتی ہے۔

    یہ کوششیں ضائع بھی ہو سکتی ہیں اور اچھے نتائج بھی آ سکتے ہیں جیسا کہ ایبولا کی صورت میں دیکھا گیا۔

  2. کورونا خدشات کے باوجود صدر ٹرمپ کیڈٹس کی ایک تقریب سے خطاب کریں گے

    کورونا وائرس سے متعلق خدشات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ایک ہزار سے زائد فوجی کیڈٹس کی ایک گریجویشن تقریب سے خطاب کریں گے۔

    جب اپریل کے وسط میں امریکی صدر نے اپنا خطاب بعد میں کسی وقت کرنے کا کہا تھا تو نیو یارک میں ویسٹ پوائنٹ اکیڈمی کے سیکنڈ لیفٹیننٹس کے اِس گروپ کو کیمپس واپس جانے کا حکم دیا گیا تھا۔

    اکیڈمی ان کیڈٹس میں وائرس منتقلی کے حوالے سے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے؟

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق بہت سی احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ ان کیڈٹس کو ان کے لیے مختص رہائشگاہ تک محدود رہنے کا کہا گیا اور انھیں مزید گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ وہ شفٹس میں کھانا کھا سکیں۔

    اس تقریب میں کیڈٹس کا کوئی دوست اور رشتہ دار شریک نہیں ہو سکے گا اور یہ کیڈٹس ایک دوسرے سے فاصلے پر بیٹھیں گے۔ وہ اپنی نشستوں پر پہنچنے تک کے لیے ماسک پہنیں گے اور اس کے بعد جب وہ بیٹھ جائیں گے تو پھر وہ ماسک اتار سکتے ہیں۔

    صدر اور فوج کے درمیان ایک تناؤ والے حالات کے بعد اس تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ کئی فوجی شخصیات نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ افریقی نژاد سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے تناظر میں ہونے والے مظاہروں میں امریکی افواج کو سیاست زدہ کر رہے ہیں۔

  3. امریکہ سے ایکٹیمرا انجکشن درآمد کرنے کی اجازت مل گئی: وزیر صحت پنجاب

    صوبہ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے امریکہ سے ایکٹیمرا انجکشن درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب تک اس کا ٹرائل ایک ہزار مریضوں پر نہ ہو جائے تو ہم اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے علاج ممکن بھی ہے یا نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اس انجکشن سے کس مریض کا علاج کرنا ہے اس کا ضابطہ کار بنا رہے ہیں۔

    ان کے مطابق اس سے ہر مریض کا علاج ممکن نہیں ہے۔

    یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ہمیں پتا چلا ہے کہ یہ انجکشن بلیک میں بیچے گئے ہیں۔ اس کا وزیراعظم نے سخت نوٹس لیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیر اعطم کو بریفنگ دی ہے کہ اس وقت ہمارے پاس صوبے میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے دس ہزار بیڈز دستیاب ہیں۔

    یاسمین راشد کے مطابق اس وقت پنجاب کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے 3055 مریض داخل ہیں، جن میں 215 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 193 وینٹیلیٹرز پر ہیں۔ ان میں 540 وینٹیلیٹرز صرف مریضوں کے لیے مخصوص ہیں۔

    ان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ این ڈی ایم اے اس مہینے کے آخر تک ہائی پریشرائزڈ آکسیجن والے بیڈ تیار کرے گا اور آئندہ ماہ بھی ایسے ایک ہزار بیڈ تیار کیے جائیں گے۔

  4. ونڈسر محل میں ملکہ برطانیہ کی سالگرہ کی منفرد تقریب

    برطانوی فوج کے ویلش گارڈز نے سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے ونڈسر محل کے اندر ملکہ برطانیہ کی سالگرہ سرکاری طو پر منائی۔

    سالگرہ سے متعلق روایتی تقریب پہلے ہی کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر منسوخ کر دی گئی تھی۔ اس سال محل کے اندر سادہ سی تقریب منعقد کی گئی۔ ہر سال ہونے والی روایتی تقریب میں رنگ برنگے یونیفارم میں ملبوس گارڈز باقاعدہ پیریڈ کرتے ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کچھ فوجی اہلکاروں کے ہمراہ تقریب کے لیے ڈائس پر تشریف لائیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے بعد لاک ڈاؤن کے نفاز کے بعد وہ پہلی مرتبہ منظرعام پر آئیں ہیں۔

  5. کورونا وائرس کی وبا کے بعد مستقبل کی نائٹ لائف کیسی ہو سکتی ہے؟

  6. بیجنگ میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ

    بیجنگ کی ایک مارکیٹ میں کورونا وائرس متاثرین سامنے آنے کے بعد چین کے دارالحکومت میں اس وائرس کی دوسری لہر سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    چین کی اس مارکیٹ میں اب دس ہزار سے زائد افراد کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

    یہ مارکیٹ جسے نئے متاثرین کی آماجگاہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں اس وائرس سے متاثرہ درجنوں مریض سامنے آئے ہیں، بیجنگ کی 80 فیصد سبزی اور گوشت کی طلب کو پورا کرتی ہے۔

    حکام کے مطابق مچھلی کاٹنے والے بلاک سے کورونا وائرس کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔ سوشل میڈیا پر آنے والی فوٹیج میں سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    کچھ قریبی علاقوں کو دوبارہ سیل کیا گیا ہے۔ اس مارکیٹ کے قریب کی پبلک ٹرانسپورٹ اور سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

  7. بریکنگ, عمران خان: ’سختی کریں گے، لاک ڈاؤن نہیں مگر سمارٹ لاک ڈاؤن کریں گے‘

    وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ پنجاب کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ اس بارے میں سختی کریں گے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عام لوگوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا اور ایس او پیز پر عمل نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا ’میں اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اب ہم سختی کریں گے۔ ہم لاک ڈاؤن نہیں کریں گے مگر سمارٹ لاک ڈاؤن کریں گے۔ اب عوامی جگہ پر ماسک پہننا لازمی ہو گا۔ ایس او پیز پر عمل کرنے سے متعلق ٹائیگر فورس بھی اپنا کردار ادا کرے گی۔‘

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جتنا آپ احتیاط کریں گے اتنا حالات قابو میں رہیں گے۔ جب لاک ڈاؤن ہٹا رہے تھے تو لوگوں کو بتایا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیماری ختم ہو گئی ہے۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ میں آئندہ خود تمام صوبوں کا دورہ کروں گا۔ ہر شعبے میں ضابطہ اخلاق پر علمدرآمد کا جائزہ لوں گا۔ ایک چیز سمجھنا ضروری ہے کہ ماسک سے 50 فیصد کورونا کا پھیلاؤ کم ہو سکتا ہے۔ اب اس حوالے سے تحقیق بھی سامنے آ چکی ہے۔

  8. لاک ڈاؤن انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پھلوں اور پھولوں کے شعبے کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی اور قدغنوں کی غیریقینی صورتحال کے درمیان بیشتر تعلیم یافتہ نوجوانوں کئی سال سے زرعی شعبے میں نئے تجربات کر کے روزگار کے نئے وسائل پیدا کرنےکی جدوجہد میں مصروف تھے۔

    سٹرابیری اور پھولوں کی کاشت کشمیر میں نو ہزار کروڑ روپے کے حجم وانی باغبانی صنعت کا اہم حصہ ہے۔ ابھی یہ صنعت پروان چڑھ ہی رہی تھی کہ حالات نے نوجوانوں کے حوصلے پست کردیے اور اب دو ماہ سے جاری لاک ڈاوٴن نے روزگار کی خاطر نئے تجربے کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کر دی ہے۔

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر سے دیکھیے یہ ڈیجیٹل رپورٹ۔

  9. ایکٹیمرا انجکشن سے سنا مکی تک: کوورنا کے علاج میں یہ سب کس حد تک مددگار؟

    دنیا بھر میں جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے وہیں اس کی ویکسین کی تیاری کی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

    تاحال اس بیماری کا علاج دریافت نہیں کیا جا سکا ہے لیکن پاکستان میں اس وبا کے آغاز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات کی بھرمار دیکھی گئی جس میں مختلف ادویات، جڑی بوٹیوں یا پھر کھانے پینے میں روزمرہ استعمال ہونے والی اشیا کو اس بیماری سے صحت یابی میں مددگار یا پھر اس کا علاج ہی قرار دے دیا گیا۔

    یہ بات جہاں ادرک اور کلونجی یا ملیریا کے علاج میں استعمال ہونی والی دوائی کلوروکوئین سے شروع ہوئی وہیں آج کل اکٹیمرا نامی انجیکشن اور سنامکی نامی جڑی بوٹی کا شہرہ ہے اور ایسی ادویات و جڑی بوٹیوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کا استعمال کورونا کے مریض کے جسم میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

  10. بیلجیئم، فرانس اور یونان آئندہ سوموار سے سفری پابندیاں نرم کر دیں گے

    یورپی یونین کی طرف سے جون کے وسط تک سرحدیں کھولنے سے متعلق منصوبے کے تحت بیلجیئم، فرانس اور یونان آئندہ سوموار سے یورپ میں عائد سفری پابندیوں میں بڑی حد تک نرمی لے آئیں گے۔

    فرانس اس کے بدلے دوسرے یورپی ممالک سے بھی ایسے ہی جواب کا خواہاں ہے۔

    برطانیہ سے یورپ آنے والوں کو 14 دن قرنطینہ میں گزارنے ہوں گے۔ فرانس اور یورپی ممالک کی طرف سے یہ شرط برطانیہ کی طرف سے ایسی پابندی عائد کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

    یورپی بلاک میں یہ اندرونی سرحدیں کسی متفقہ پلان کے تحت نہیں کھولی جا رہی ہیں۔

    بہت سے یورپی ممالک جن میں اٹلی، بلغاریہ اور ہنگری شامل ہیں جنھوں نے پہلے ہی اپنی سرحدیں کھول دی ہیں۔ تاہم انھوں نے ایسے ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جہاں اس وائرس کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔ ان میں سویڈن اور برطانیہ کے شہریوں پر خاص طور پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

    سپین نے یکم جولائی سے سفری پابندیاں ختم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ پرتگال کا کہنا ہے کہ وہ یکم جولائی کو ہی ملحقہ سرحدیں کھول دے گا۔

  11. صحت سے متعلق تنبیہ کے باوجود برطانیہ میں احتجاج کا امکان

    اس بات سے قطع نظر کہ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ بڑے اجتماعات کی صورت میں کورونا وائرس مزید پھیل سکتا ہے، آج برطانیہ میں بڑے احتجاج کے امکانات موجود ہیں۔

    امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی مبینہ طور پر پولیس افسر کی طرف سے ہلاکت کے بعد 'بلیک لائیوز میٹر‘ کے نعرے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔

    پولیس افسر نے نو منٹ تک اپنا گھٹنا جارج فلائیڈ کی گردن پر رکھے رکھا، جس سے مبینہ طور پر ان کی ہلاکت ہوئی۔

    دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروپس کی طرف سے اس احتجاج کے جواب میں بھی احتجاج کے امکانات کے پیش نظر لندن میں کرفیو کا اعلان کر دیا ہے

    برطانیہ کے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور پولیس کمشنر نے صحت کو لاحق خطرات کا زکر کرتے ہوئے عوام سے اکھٹے نہ ہونے کی اپیل کر رکھی ہے۔

  12. دو امریکی ریاستوں کا فوری کاروبار زندگی بحال نہ کرنے کا فیصلہ

    رواں ہفتے کے آغاز میں دو مغربی امریکی ریاستوں، اوریگون اور یوٹاہ، نے کورونا وائرس پھیلاؤ میں تیزی کے پیش نظر کاروبار زندگی بحال کرنے سے متعلق پلان پر عملدرا آمد فی الحال روک دیا ہے۔

    یوٹاہ میں اس وقت کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 13 ہزار ہے جبکہ اوریگون میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 5300 سے زائد ہے۔

    ریاست اوریگون کے گورنر کیٹے براؤن نے جمعرات کو کہا ہے کہ کاروبار زندگی بحال کرنے سے متعلق مزید ایک ماہ کا وقفہ ماہرین کو یہ اس بات کا تعین کرنے کا موقع فراہم کرے گا کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جو وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

    ریاست یوٹاہ کے گورنر گیری ہاربرٹ نے بھی کہا ہے کہ ان کی ریاست نے کاروبار زندگی کی بحالی کا پلان 16 جون تک ملتوی کر دیا ہے تاکہ اس عرصے میں وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق تحقیقات کی جا سکیں۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 'میں آگے بڑھ کر پیچھے کی طرف نہیں آنا چاہتا۔‘

    امریکہ کی سب سے گنجان آباد ریاستوں کیلیفورنیا، فلوریڈا اور ٹیکساس میں اس ہفتے میں سب سے زیادہ کورونا وائرس متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    اگرچہ ملک اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر جگہوں جیسے نیویارک ہے میں متاثرین کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم ابھی تک امریکہ متاثرین اور اموات کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس وقت امریکہ میں یومیہ اس وائرس سے متاثرین کی تعداد 20 ہزار سے زائد بنتی ہے۔

  13. انڈیا کے ہسپتال مزید کورونا مریضوں کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر

    لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد رواں ہفتے کے دوران انڈیا میں کورونا کے ریکارڈ تعداد میں نئے متاثرین سامنے آ رہے ہیں۔

    انڈیا میں حکام کے مطابق جولائی کے اختتام تک ملک کے دارالحکومت نئی دہلی میں متاثرین کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہو گی۔

    دوسری جانب ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ممبئی میں متاثرین کی تعداد چین کے شہر ووہان میں سامنے آنے والے متاثرین کی تعداد سے تجاوز کر چکی ہے۔ یاد رہے کہ ووہان وہ شہر ہے جہاں سے اس وبا کے پھیلنے کا آغاز ہوا تھا۔

    انڈیا کے ہسپتال کورونا متاثرین کا بوجھ برداشت کرنے کی تک و دو میں مصروف ہیں۔ بہت سے متاثرین علاج معالجے کی باقاعدہ سہولت ملنے سے قبل ہی ہلاک ہو رہے ہیں۔

  14. ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن کے لباس میں ’پاکستانیت‘ بھرنے والی ڈیزائنر بھی کورونا کا شکار

    برطانوی شہزادے ولیم کی اہلیہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن کے دورہ پاکستان کے دوران ان کے لیے لباس تیار کرنے والی پاکستانی ڈیزائنر ماہین خان میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس بات کی تصدیق انھوں نے خود اپنی ٹویٹ میں کی۔ ماہین کا کہنا تھا کہ 8 جون کو میرا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور خدا کا شکر ہے آج مجھے بخار سے چھٹکارا مل گیا ہے۔

  15. آسٹریلیا: بڑے اجتماعات پر پابندیوں کے باوجود مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت

    آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے جمع ہو کر تارکینِ وطن کے حقوق اور بلیک لائفز میٹر کی حمایت میں مظاہرے کیے۔

    آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود مظاہرین نے احتجاج میں شرکت کی۔

    تاہم کچھ مقامات پر سماجی دوری کے قواعد ہر عمل ہوتا بھی نظر آیا۔

  16. ویڈیو گیم جو ’زندگیاں بچا سکتی ہے‘

    ویڈیو گیمز کھیلنا کسے نہیں پسند؟ لیکن اگر ویڈیو گیم تفریح کے ساتھ ساتھ آگاہی بھی فراہم کرے تو کیا ہی بات ہے۔ آئیے آج آپ کو ایک ایسے منفرد ویڈیو گیم کے بارے بتاتے ہیں جو کورونا کی وبا سے متعلق شعور میں اضافے کی ایک کوشش ہے۔

  17. انڈیا میں کورونا کے بڑھتے متاثرین، کیا اس سال آئی پی ایل کا انعقاد خطرے میں ہے؟

    آئی پی ایل کے چیئرمین بریجش پٹیل کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ دو ماہ میں کورونا وائرس کے حوالے سے ملکی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کا انعقاد انڈیا سے باہر کسی اور ملک میں کیا جاسکتا ہے۔

    اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پٹیل کا کہنا تھا ’دیکھتے ہیں، پہلے تو ہم اس کا انعقاد انڈیا میں ہی کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر صورتحال اس کی اجازت نہیں دیتی تو ہم یقینی طور پر دوسرے آپشنز پر غور کریں گے۔‘

    پٹیل نے کہا کہ ہم اگلے دو یا ڈھائی مہینے کی صورتحال دیکھ کر پھر اسی کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

    انڈیا میں کووڈ 19 متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا میں متاثرین کے حوالے سے انڈیا اس وقت چوتھا متاثرہ ترین ملک ہے۔

    ممبئی، دہلی اور چنئی جسے کرکٹ کے مراکز زیادہ متاثرہ شہروں میں شامل ہیں۔

    یاد رہے اس قبل بھی دو مرتبہ اس ایونٹ کا انعقاد ملک سے باہر ہو چکا ہے تب اس کے پیچھے وجہ ملکی الیکشن تھے۔

    آئی پی ایل ٹورنامنٹ 29 مارچ کو شروع ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کے باعث تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔

    آئی پی ایل کا آغاز 29 مارچ کو ہونا تھا لیکن انڈیا میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لگائے گئے ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسے بار بار ملتوی کیا گیا۔

    انڈین کرکٹ بورڈ اس ایونٹ کے انعقاد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔

    بی سی سی آئی کے ارون دھومل نے اے ایف پی کو بتایا کہ آئی پی ایل کا انعقاد نہ ہونے کی صورت میں بورڈ کو 500 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوگا۔

    انڈین معیشیت کے لیے اس لیگ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آئی پی ایل کے ذریعے انڈین معیشت کو11 ارب ڈالر سے زیادہ کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

  18. پنجاب کے ان شہروں میں کورونا کے سب سے زیادہ متاثرین موجود ہیں

    حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 12 جون کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے 2705 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے اور اب یہاں کل تعداد 50087 ہے۔

    نئے متاثرین کی تفصیل: لاہورمیں 1342، ننکانہ 20، قصور2، شیخوپورہ 14، راولپنڈی 260، اٹک 3،بچکوال 3، گوجرانوالہ 54 اورسیالکوٹ میں 37، نارووال 9، حافظ آباد 2، گجرات 82، منڈی بہاؤالدین 1، ملتان 196، خانیوال 8، وہاڑی 9، چنیوٹ 4، فیصل آباد 237 ،ٹوبہ 47، جھنگ 21 اور رحیم یار خان میں 57، سرگودھا میں 14، میانوالی 5، لیہ17، بھکر3، بہاولنگر 8، بہاولپور 83، لودھراں 6، راجن پور 17، ڈی جی خان 68، اوکاڑہ 25، ساہیوال 46 اور پاکپتن میں 5 کیسز

    ترجمان محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے 48 مزید اموات ہوئی اور کل تعداد 938 ہو چکی ہے۔ اب تک 338,714 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ 17,560 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  19. بریکنگ, حفیظ شیخ: کووڈ 19 کی وجہ سے جی ڈی پی کو تین ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا

    پاکستان کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ ’ایک اندازے کے مطابق کووڈ 19 کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کو تین ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکس کی وصولی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ’ایف بی آر کی آمدن کو 700 ارب کا نقصان ہوا ہے۔۔۔ ہر ماہ اس کی آمدن گِری ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کاروبار، دکانیں، صنعتیں اور ٹرانسپورٹ بند ہوا اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ اس سے نمٹنے کے لیے 1200 ارب کے پیکیج کا اعلان کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس نے ساری دنیا میں نقصان پہنچایا ہے۔

    ’پوری دنیا میں اس سے ہزاروں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق دنیا کی آمدن چار فیصد گِرے گی۔‘

  20. لاک ڈاؤن سے شہد کی مکھیوں کو کیسے فائدہ ہو رہا ہے؟