آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں 10 ہزار سے زیادہ اموات، برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 ہزار نئے کیس
دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 81 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں میں لگاتار دوسرے روز بھی اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہیں۔ منگل کو دنیا کے دوسری سب سے متاثرہ ملک برازیل میں وائرس کے تقریباً 35 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ انڈیا چوتھے نمبر پر ہے اور وہاں مزید دو ہزار اموات ہوئی ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ڈاکٹر سمیت مزید 40 افراد میں کورونا کی تصدیق
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق ایک ڈاکٹر سمیت چالیس افراد کورونا سے متاثر جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 574 ہو گئی ہے۔
کشمیر میں جبکہ کورونا کا ایک مریض بھی ہلاک ہوگیا جس کے نتیجے میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 11 ہوگی ہے۔
صحافی ایم اے جرال کے مطابق ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید نے بتایا کہ وائرس سے متاثر ہونے والے 25 افراد کا تعلق مظفرآباد سے ہے جس میں ایک ڈاکٹر بھی شامل ہے۔
میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 10 افراد کا تعلق میرپور ڈویژن سے ہے جن میں تین کا میرپور، پانچ کا بھمبر اور دو کا کوٹلی سے تعلق ہے۔
ضلع باغ کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر منظور کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے ایک شخص کا تعلق ضلع باغ سے ہے۔
ڈپٹی کمشنر پلندری کے ندیم احمد جنجوعہ کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے دو کا تعلق پلندری سے ہے۔ جبکہ حکام کے مطابق دو مریضوں کا تعلق حویلی سے ہے۔
حکام کے مطابق مزید پانچ مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 242 ہوگی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک اس خطے کے 10252 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیا جا چکے ہیں جن میں 53 کے ٹیسٹ آنا باقی ہیں۔
کورونا وائرس: ماسک نہ پہننے والے کو ٹرانسپورٹ کمپنیاں انکار کر سکتی ہیں
برطانیہ کی آج کی کورونا وائرس بریفنگ کی سربراہی ٹرانسپورٹ کے وزیر گرانٹ شیپس نے کی۔ ان کے ساتھ این ایچ ایس انگلینڈ کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر سٹیفن پاؤس اور نیٹ ورک ریل کے چیئرمین سر پیٹر ہینڈی تھے۔
پریس بریفنگ میں مندرجہ ذیل باتیں ہوئیں:
- اگر آپ گھر سے کام کر سکتے ہیں، تو ضرور کریں۔ اگر آپ کے لیے دفتر جانا ضروری ہے تو پیدل، سائیکل پا کار پہ جائیں۔ اگر آپ کو پبلک ٹرانسپورٹ لازمی استعمال کرنی ہے تو رش کے اوقات سے بچیں۔ مالکان کو چاہیئے کہ اپنے ملازمین کی مدد کریں۔
- جب پیر سے پبلک ٹرانسپورٹ پر منہ ڈھانپنا لازمی ہو جائے گا تو ٹریول کمپنیاں ایسا نہ کرنے والے کو لے جانے سے انکار کر سکتی ہیں، لیکن ان کا رویہ نرم ہونا چاہیئے۔ لوگوں کو جرمانے بھی ہو سکتے ہیں۔
- جو لوگ نسبتاً غریب علاقوں میں رہتے ہیں ان میں وائرس لگنے اور شدید بیمار ہونے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ بہت ممکن ہے کہ انھیں صحت کے دوسرے مسائل بھی ہوں۔
- حکومت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ چیف نرسنگ آفیسر روتھ مے نے ڈومینیک کمنگز کے مسئلے کی وجہ سے روزانہ کی پریس کانفرنس میں آنے سے انکار کیا ہے۔
- حکومت کئی ممالک سے ’ٹریول کوریڈورز‘ یا سفری راہداریوں کے حوالے سے بات کر رہی ہے، جن میں برطانیہ میں آنے والے لوگ 14 دن کے قرنطینہ سے بچ سکیں۔
کورونا وائرس: بخار، کھانسی اور سانس میں دشواری، اس بیماری کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟
دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور اب تک مصدقہ متاثرین کی تعداد 75 لاکھ کے قریب اور ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ 21 ہزار سے زیادہ ہے۔ پاکستان پر نظر ڈالیں تو وہاں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔
بریکنگ, پاکستان۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن ٹو اور تھری سیل کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے 6 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دارالحکومت کے سیکٹر جی نائن میں ساڑھے تین سے چار سو کیسز ہیں۔
سیکٹر جی نائن ٹو اور تھری میں ڈھائی سے تین سو کیسز ہیں اس لیے ان علاقوں اور کراچی کمپنی مارکیٹ کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق اسلام آباد میں انتہائی نگہداشت کے ساڑھے چار سو بیڈز کی سہولت ہے۔ فیڈرل جنرل ہسپتال میں ایک سو بیڈز لگا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جراثیم کش گیٹس سے وائرس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کئی حکومتی اداروں کو سیل کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں کسی صورت اضافہ نہیں ہونے دیں گے۔
اس کے علاوہ کورونا کے بارے میں جھوٹ پھیلانے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔
بریکنگ, بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید 193 کیسز
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کورونا کے 193 نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 7866 ہوگئی ہے۔
کورونا سے مزید 5 افراد کی ہلاکت بھی ہوئی ہے جس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 80 ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 12جون 2020 کو کورونا کے 865 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے193 پازیٹو آئے۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر36277 ٹیسٹ کیئے گئے ہیں جن میں سے28461 کے نتائج منفی آئے۔
بلوچستان میں مجموعی طوپر پر81980 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ مشتبہ مریضوں کی تعداد 36588 ہے۔ جبکہ اب تک کورونا وائرس سے 2722 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔
’پمز کا کورونا وارڈ مریضوں سے بھر چکا ہے‘, محمد زبیر خان، صحافی
پاکستان انسٹئیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز)کا کورونا وارڈ مریضوں سے بھرچکا ہے۔ پمز شعبہ نیوروسرجی کے سربراہ ڈاکٹر ساجد نذیر بھٹی بھی کورونا پازیٹیو ہوچکے ہیں۔
پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر انور مقصود نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پمز ہسپتال میں 75بستروں پر کورونا وارڈ مکمل ہوچکا ہے۔
’اس صورتحال میں جب ہمارے پاس ایمرجنسی میں کوئی کورونا کا مریض آتا ہے تو اس کا ایمرجنسی علاج کر کے اسے دوسرے ہسپتالوں کو ریفر کر دیتے ہیں۔ تاہم اس دوران ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہسپتال میں کورونا مریضوں کے لیے مزید گنجائش پیدا کی جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس دوران اگر ہمارے پاس جگہ خالی ہو تو ہم نئے مریض بھی داخل کرتے ہیں۔‘
ڈاکٹر انور مقصود نے کے مطابق پمز میں 160 افراد پر مشتمل طبی عملہ متاثر ہو چکا ہے، جبکہ ان کے ساتھ رابطے میں رہنے والے سٹاف کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے۔ ’جس کی وجہ سے اس وقت سٹاف تو کم ہے مگر ہم کسی نہ کسی طرح صورتحال کو سنبھال رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس سے زیادہ مریض ہوتے ہیں تو ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ڈاکٹر انور مقصود کا کہنا تھا کہ اس وقت کورونا مریضوں اور پمز ہسپتال کے سٹاف کو بہترین سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر ساجد نذیر بھٹی نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قرنطینہ ہوچکے ہیں۔ اس وقت خود کو بہتر محسوس کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے شعبے میں اس سے پہلے بھی تین چار لوگ متاثر ہوئے تھے۔
انتہائی غریب افراد کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہو سکتی ہے
جنوبی اور مشرقی ایشیا پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مزید چالیس کروڑ افراد انتہائی غربت کی دلدل میں پھنس سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی طرف سے شائع کی جانے والی ایک دستاویز میں عالمی آمدنی پر کورونا وائرس کے اثر کے کئی پہلوؤں کو منظر عام پر لگایا گیا ہے۔
سب سے برے حالات میں اگر فی کس آمدنی میں 20 فیصد کمی آتی ہے تو جو لوگ 1.90 ڈالر روزانہ کماتے ہیں ان کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہو جائے گی۔ 3.7 ارب سے زیادہ، تقریباً دنیا کی آدھی آبادی، ایسی ہے جس کی آمدنی یومیہ 5.50 ڈالر سے کم ہو سکتی ہے۔
روئٹرز کے مطابق رپورٹ کی مصنف اینڈی سمنر نے کہا ہے کہ ’اگر حکومتیں زیادہ اور تیزی سے نہیں کچھ کرتیں اور غریب افراد کی روزانہ آمدنی میں کمی کا کسی طرح ازالہ نہیں کرتیں تو دنیا کے غریب لوگوں کا مستقبل بہت ڈراؤنا نظر آ رہا ہے۔‘
گلگت بلستان میں کورونا کے مزید 14 نئے کیسز
محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق خطے میں کورونا وائرس کے نئے 14کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 1044 تک پہنچ چکی ہے۔
استور میں آٹھ، گلگت میں دواور ہنزہ میں چار مریض شامل ہیں۔ ایک اور مریض ہلاک ہوا ہے جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 ہوچکی ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں سے دس کا تعلق گلگت سے ہے، چار کا تعلق استور، ایک کا دیامیر اور ایک کا تعلق نگر سے ہے۔
تین مریض مزید صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت مند مریضوں کی تعداد 676 ہوچکی ہے۔ اس وقت زیر علاج مریضوں کی تعداد 352 ہوچکی ہے۔
بریکنگ, برطانیہ میں مزید 202 ہلاکتیں
برطانیہ میں تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کووڈ۔19 کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد مزید 202 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس طرح برطانیہ میں ہر قسم کی سیٹنگز میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 41 ہزار 481 ہو گئی ہے۔
5 جی کا کورونا سے ’مشکوک‘ تعلق، گاؤں والوں نے انجینیئرز کو پکڑ لیا
پیرو کے علاقے ہووان کاویلیکا میں گاؤں والوں نے وائرلیس اینٹینا ٹھیک کرنے والے آٹھ انجینیئروں کو اس خوف سے حراست میں لے لیا کہ وہ کووڈ۔19 پھیلانے آئے ہیں۔
گاؤں والوں کو غلطی سے ایسا لگا کہ انجینیئر علاقے میں 5 جی ٹیکنالوجی لگا رہے ہیں۔
5 جی کو کورونا وائرس سے جوڑنے کے غلط دعوے انٹرنیٹ پر گردش کرتے رہتے ہیں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دونوں کے درمیان تعلق حیاتیاتی طور پر ممکن نہیں ہے۔
انجینیئرز کی کمپنی کا کہنا ہے کہ ابھی تک ورکرز کا کچھ پتہ نہیں چلا ہے اور نہ ہی انھیں چھوڑا گیا ہے۔
پیرو میں کورونا وائرس سے چھ ہزار اموات ہوئی ہیں اور تقریباً 2 لاکھ 15 ہزار تصدیق شدہ کیسز ہیں۔
پشاور سے جعلی ڈیٹول سمیت جعلی ادوایات کی بھاری کھیپ برآمد
ضلعی انتظامیہ پشاور کا محکمہ صحت کے ہمراہ پیپل منڈی میں جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے جعلی ادویات کی بھاری کھیپ برآمد کر لی ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغرکو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ پیپل منڈی سے بھاری تعداد میں جعلی ڈیٹول مارکیٹ میں سپلائی کیا جا رہا ہے جس پر انھوں نے فوری کاروائی کی ہدایت کی۔
اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) سارہ رحمان نے محکمہ صحت کے چیف ڈرگ انسپکٹر زاہد اللہ خان اور انسپکٹر صفی اللہ کے ہمراہ پیپل منڈی میں کاروائی کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں جعلی ڈیٹول کی بھری بوتلیں برآمد کرتے ہوئے سات دکانوں و گوداموں کو سیل کریا
جبکہ پانچ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، یہ افراد جعلی ڈیٹول کو مارکیٹ میں سپلائی کر نے کی کوشش کر رہے تھے۔موقع سے ہزاروں کی تعداد میں ممنوعہ غیر ملکی ادویات اور جعلی ادویات کی بھاری کھیپ بھی برآمد کر لی گئی۔
برطانیہ میں اوبر نے ماسک لازمی قرار دے دیا
برطانیہ میں اوبر نے کہا ہے کہ پیر سے سبھی اوبر ڈرائیور اور مسافروں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ ماسک یا منہ ڈھانپنے کے لیے کوئی چیز پہنیں۔
کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اس نے ایسے اقدامات متعارف کرائے ہیں کہ اگر کسی ڈرائیور کو اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے پی پی ای (پرسنل پروٹیکٹیو ایکویپمنٹ) کی ضرورت پڑے تو ان کی اس تک مفت رسائی ہو۔
اوبر کے شمالی اور مشرقی یورپ کے ریجنل مینیجر جیمی ہیوڈ نے کہا کہ ’مہینوں سے ہم لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ گھروں پر رہیں، ان کی اپنی اور ڈرائیوروں کی حفاظت کے لیے جو ضروری سفر کرتے ہیں۔‘
’اب جب شہر کھلنا شروع ہو گئے ہیں اور لوگ حرکت میں آنا شروع ہو گئے، ہم ایسے اقدامات لا رہے ہیں جن سے اوبر استعمال کرنے والوں کو محفوظ اور صحت مند رہنے میں مدد ملے گی جب بھی وہ اسے استعمال کریں گے۔‘
بریکنگ, لاہور میں کورونا سے بچاؤ کے نام پر غیر قانونی دوا بیچنے والی کمپنی سیل
پنجاب میں حکام نے کورونا وائرس کی دوا کے نام پر انسانی جانوں سے کھیلنے اور آئنولائی ٹیور نامی سپرے کو کورونا ڈس انفیکٹنٹ بنا کر بیچنے والی کمپنی کو سیل کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق ری ڈیپ نامہ کمپنی گارڈن ٹاؤن میں غیر قانونی کاروبار کر رہی تھی۔
ترجمان سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق ری ڈیپ نامی کمپنی مذکورہ دوا کو کورونا وائرس کا علاج بتا کر فروخت کر رہی تھی۔ اور دعوی کیا جا رہا تھا کہ مذکورہ دوا کو سپرے کرنے سے 10 گھنٹے تک کورونا وائرس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق کمپنی کے لاہور آفس کو سیل کر کے بھاری مقدار میں دوا برآمد کر لی گئی ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں واقع پروڈکشن ہاوس کو سیل کرنے کے لیے متعلقہ انتظامیہ کو سفارشات بھجوائی جا رہی ہیں۔
بریکنگ, پاکستان: فنانس بل میں کورونا سے متعلقہ 61 آئٹمز پر کسٹمز ڈیوٹی ختم
پاکستان کے وزیراعظم نے ریلیف فنڈ کے تحت خوردنی تیل اور آئل سیڈ پر 2 فیصد اے سی ڈی ختم کرد ی ہے۔
کورونا اور کینسر کی تشخیصی کٹس پر ڈیوٹی و ٹیکسز ختم کرنے کے علاوہ جان بچانے والی دوا مگلمائن انٹی مونیٹی پر بھی کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈی ٹو یوز سپلیمنٹری فوڈ پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فاٹا میں نئی صنعتوں کے لیے درآمدات پر 2023ء تک کسٹمز ڈیوٹی سے استثنی دینے کے ساتھ ساتھ مختلف صنعتوں کے 40 خام میٹیرل پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کا بھی اعلان کیا گیا۔
نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت 90 ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے 3 اور صفر فیصد ریٹیلرز کیلئے سی این آئی سی کی خریداری کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کورونا سے متعلقہ صحت عامہ کی اشیاء پر سیلز ٹیکس چھوٹ میں تین ماہ توسیع کر دی گئی ہے۔
سگار اور سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑگا کر 100 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کورونا کے باعث سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2 روپے فی کلو سے کم کرکے 1 روپیہ 75 پیسے کردی گئی۔
جمہوریہ آئرلینڈ میں ’دوبارہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہو گا‘
جمہوریہ آئرلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر نے کہا ہے کہ اگر ملک میں وائرس کی دوسری لہر بھی آ جائے تو بھی دوسرا لاک ڈاؤن نہیں لگایا جائے گا۔ دوسری طرف یورپی یونین کے صحت کےماہرین کہہ رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ مزید لاک ڈاؤنز کی ضرورت پڑے۔
ڈاکٹر ٹونی ہولوہان کہتے ہیں کہ ملک کووڈ۔19 کے متعلق اب مارچ سے زیادہ جانتا ہے، جب پہلی مرتبہ پابندیاں لگائی گئی تھیں۔
انھوں نے آئرلینڈ کے قومی براڈکاسٹر آر ٹی ای کو بتایا کہ ’اس پوائنٹ پہ میں توقع نہیں کرتا کہ ہم مکمل پابندیوں کی طرف واپس جائیں گے، جس طرح ہم نے مارچ میں کیا تھا۔‘
’جب ہاتھ کی صفائی اور سانس لینے کے آداب کی بات ہو تو لوگ اب بیماری کے متعلق، خطرات کے متعلق اور اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھنا ہے، اس کے متعلق زیادہ جانتے ہیں۔
’اگر بیماری دوبارہ پھوٹتی ہے یا دوسری لہر آتی ہے، تو ہمیں پتہ ہو گا کہ کون سے خاص اقدامات لینے ہیں، ہم نے اپنا کام فعال طریقے سے کیا ہوا ہے۔‘
پیر کو جمہوریہ آئرلینڈ نے، جہاں کورونا وائرس کے 25 ہزار سے زیادہ مریض ہیں اور ایک ہزار 703 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، پابندیاں اٹھانے کے دوسرے دور کا آغاز کیا تھا۔
بریکنگ, بلوچستان میں وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ، آئندہ دو ماہ میں صورتحال بگڑنے کا خدشہ
بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر سلیم ابڑو نے کہا ہے بلوچستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی شرح 35 فیصد ہوگئی ہے۔انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا اگر کورونا اسی تیزی سے پھیلتا گیا تو اگست اور ستمبرمیں صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں کہا کہ روز بروز حالات خراب ہوتے جارہے ہیں اوراحتیاطی تدابیرپر عمل نہ کرنے سے کورونا سے متاثرہ افراد کی شرح بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بے احتیاطی کی وجہ سے جولائی کے وسط میں ایک لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ اگست اور ستمبر تک صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ 1400 سے 1500 ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ تاہم کوئٹہ سے بہت سے کیسز رپورٹ نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے لاک ڈاون کی تجویز دی تھی لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ڈاکٹر سلیم ابڑو نے بتایا کہ ہمارے پاس انسانی وسائل کی کمی ضرور ہے لیکن ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کورونا کی روک تھام اور متائثرہ افراد کے علاج معالجے کے لیے بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو پذیرائی نہیں مل رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 3 پی سی آر مشینیں موجود ہیں جن میں سے ایک فاطمہ جناح ایک بی ایم سی اور ایک شیخ زید ہسپتال میں ہے۔ ہمارے پاس 47 ہزار سے زائد ٹیسٹنگ کٹس موجود ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ہرچیزموجود ہے عوام کو اس حوالے سے کسی تشویش کی ضرورت نہیں۔
کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟
کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہماری روزمرہ کی زندگی میں کئی نئے الفاظ اور اصطلاحات متعارف کرائی ہیں، چاہے بات قرنطینہ، وائرس، مدافعت یا سماجی فاصلے کی ہو۔ لیکن آخر ان سب اصطلاحات کا مطلب کیا ہے؟تفصیلات پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں
کورونا وائرس: نوجوان امریکی خاتون کے پھیپھڑوں کا کامیاب ڈبل ٹرانسپلانٹ
شکاگو کے نارتھ ویسٹرن میموریل ہسپتال میں ایک خاتون کی حالت اس وقت بہتر ہو رہی ہے جس کے کورونا وائرس کی وجہ سے پھیپھڑے بیکار ہو گئے تھے اور اس کا پھیپھڑوں کا ڈبل ٹرانسپلانٹ کرنا پڑا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ میں کووڈ۔19 کے کسی بھی مریض پہ کیا جانا والا یہ اس طرح کا پہلا آپریشن ہے۔
ڈاکٹر انکٹ بھارت نے بتایا کہ اگر اس خاتون کا آپریشن نہ کیا جاتا تو وہ زندہ نہ رہتی۔ یہ مریضہ جو وائرس کے حملے سے پہلے بالکل تندرست تھیں چھ ہفتے وینٹیلیٹر پر رہیں۔ اس کے بعد ان کا آپریشن کیا گیا۔ ٹرانسپلانٹ سے پہلے ان کے جسم سے وائرس کو ختم کرنا بہت ضروری تھا، اور اس میں پانچ ہفتے لگے۔ اس دوران انھیں کوما سے جگانا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔
ڈاکٹروں کو امید ہے کہ وہ آخر کار مکمل تندرست ہو جائیں گی، اور اب وہ کم از کم اس قابل ہو گئی ہیں کہ اپنے خاندان بات کر سکیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس سے ان مریضوں کے لیے امید پیدا ہو گی جن کے پھیپھڑے کووڈ۔19 کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔
مئی کے آخر میں آسٹریا کے میڈیکل یونیورسٹی آف ویانا ہسپتال میں بھی ایک خاتون کے کامیابی کے ساتھ پھیپھڑے ٹرانسپلانٹ کیے گئے تھے۔ اس کے پھیپھڑے بھی کورونا وائرس کی وجہ سے بیکار ہو گئے تھے۔
کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاہور میں پابندیاں سخت کرنے کا عندیہ
لاہور میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت خصوصی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ لاہور شہر میں دو ہفتے کے لیے کورونا ایس او پیز کی پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی۔ اس حوالے سے وفاق کو سفارشات بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا جن کی حتمی منظوری کے بعد لاہور کے لیے علیحدہ حکمت عملی پر عملدرآمد ہوگا۔
حکام کے مطابق لاہور میں عوام کی طرف سے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیے جانے کے باعث صورتحال تشویشناک ہےاور صوبہ پنجاب کے مجموعی مریضوں میں سے نصف سے زائد لاہور میں ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ بازاروں میں ایس او پیز کی خلاف ورزیاں کی جا رہے ہیں، ماسک، سماجی فاصلہ اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ این ڈی ایم اے پنجاب میں 300 ایچ ڈی یو بیڈز پر مشتمل ہسپتال قائم کرے گی۔ حکومت پنجاب مختلف شہروں کے ہسپتالوں میں 300 ایچ ڈی یو بیڈز فراہم کرے گی۔
اس موقعے پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہدایت کی کہ پنجاب میں کورونا کے مریضوں کے لیے درکار انجکشن کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے میں پنجاب میں تقریباً سات سو انجکشن سرکاری ہسپتالوں کو فراہم کیے جائیں گے۔
وزیر اعلی عثمان بزدار کے مطابق انجکشن کی تقسیم مریضوں کی تعداد کے تناسب سے کی جائے گی۔