کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان بھر کے ہسپتالوں کو آکسیجن سپلائی میں مسائل درپیش ہونا شروع ہوچکے ہیں۔
بعض ڈاکٹروں سے بات کرنے پر یہ معلوم ہوا ہے کہ آکسیجن سلینڈر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔
حیات آباد میڈیکل کمپلکیس پشاور میں اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض زیر علاج ہیں۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد اکبر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے ہسپتال میں 146 ہزار فی لیٹر گھنٹہ آکسیجن استعمال ہورہی ہے جبکہ وبائی صورتحال سے قبل صرف 80 ہزار فی لیٹر فی گھنٹہ کی ضرورت ہوتی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ کورونا کے ہر ایک مریض کو دیگر شدید حالت میں موجود مریضوں سے دگنی سے بھی زائد آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔
’ہمارا مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ ہمارے پاس آئی سی یو، نیورو اور دیگر وارڈز میں مریض اسی طرح موجود ہیں جبکہ کورونا مریضوں کا اضافہ ہوچکا ہے۔‘
اسی طرح ایوب میڈیکل کالج کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ عام دونوں میں ہمارے آٹھ، دس وینٹیلرز چل رہے ہوتے تھے مگر اب وبائی صورتحال کے بعد ہمارے پاس 20 تک وینٹیلرزچل رہے ہیں۔
’ہمارا استعمال دگنا سے بھی زیادہ ہوچکا ہے جبکہ ہمارے پاس آکسیجن کی سپلائی زیادہ نہیں ہوسکی ہے جس کو زیادہ کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ‘
ڈاکٹر عمران لاہور میں کام کرتے ہیں۔ ان کے والد کوورنا کے مریض ہیں۔ ان کا علاج وہ گھر ہی میں قرنطینہ میں کر کررہے ہیں۔
انھوں ں نے بی بی سی کو بتایا کہ والد کے لیے ایک سلینڈر 27 ہزار میں خریدنا پڑا تھا۔ یہ ہی سلینڈر دو سال پہلے تک سات ہزار کا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے کئی لوگ آکسیجن سلینڈرز کے حوالے سے پوچھ رہے ہیں اور بعض نے یہ تیس، تیس ہزار میں خریدے ہیں۔‘
الخدمت ہیلتھ فاونڈیشن کے سربرار سفیاں احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ صورتحال میں بڑے پیمانے پر آکسیجن سلینڈرز کی ضرورت پڑ رہی ہے۔
’الخدمت نے بڑی تعداد میں یہ سلینڈرز خریدنا شروع کیا ہے۔ مگر ہمیں اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیں چھوٹا سلینڈر پندرہ سو اور بڑا سلیندر تین ہزار روپیہ مہنگا خریدنا پڑا تھا۔‘
ڈاکٹر عمران کا کہنا تھا کہ آکسیجن سلینڈر قدرتی وسائل سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کی قلت ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ نظر نہیں آتی۔