پاکستان اب دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا: وزیر اعظم عمران خان

دنیا میں اس وقت 66 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 90 ہزار کے قریب ہے۔ لاہور میں لوگوں کی جانب سے ماسک نہ پہننے پر ٹریفک وارڈن کو چالان کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق ملک بھر میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں کاروباری مراکز بند کیے جا چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں مئی میں کووڈ 19 کیوں بےقابو ہوا؟, عابد حسین، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Covid

    چار مئی کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، جو کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے خصوصی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سے او سی) کی سربراہی بھی کر رہے ہیں، نے اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ دی۔

    وبا سے مقابلے میں حکومتی حکمت عملی کے روح رواں سمجھے جانے والے اسد عمر نے اس پریس بریفنگ میں بتایا کہ گذشتہ چند دنوں میں پاکستان میں کورونا وائرس سے اوسطاً 24 یومیہ اموات سامنے آئی ہیں اور یہ تعداد اسی تناسب سے بڑھتی گئی تو ایک ماہ میں 720 اموات ہو سکتی ہیں۔

    اس کے ساتھ انھوں نے کووڈ 19 سے ہونے والی اموات کا موازنہ پاکستان میں ٹریفک حادثوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی اوسط تعداد سے کیا اور منطق یہ دی کہ اوسطاً ساڑھے چار ہزار افراد کی ان حادثوں میں ہلاکت کے باوجود گاڑیوں کو سڑک پر چلنے کی اجازت ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو معاشرہ اور انسان زندگی پر اس کے بھاری اثرات پڑ سکتے ہیں جس کے باعث لوگ ایسا خطرہ لینے پر مجبور ہیں۔

    اُس روز تک پاکستان میں مجموعی 21 ہزار متاثرین کی شناخت ہوئی تھی اور 486 افراد کووڈ 19 کے مرض سے ہلاک ہو چکے تھے۔ تاہم اگلے 27 دنوں بعد یہ تعداد بڑھ کر 72 ہزار سے زیادہ متاثرین اور 1543 اموات تک جا پہنچی تھی۔

    وفاقی وزیر کے بیان کو اگر مئی کے 31 دنوں میں سامنے آنے والے مجموعی اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستان میں آنے والے دنوں میں آثار اچھے نظر نہیں آتے۔

  2. ملائیشیا کے حراستی مراکز میں 250 سے زیادہ نئے متاثرین کی شناخت

    Malaysia

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ملائیشیا نے جمعرات کو 277 نئے متاثرین کی تشخیص کا اعلان کیا ہے جو کہ ملک میں 24 گھنٹوں میں سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    اس کی وجہ بتائی جا رہی ہے کہ وبا ایک غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں رکھنے والے مرکز میں پھیلی ہے اور حکومت کو تنقید کا نشانہ ہے کہ اس نے ملک میں کام کرنے والے غیرملکیوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا۔

    ملائیشیا مشرق بعید کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں فوری طور پر لاک ڈاؤن نافذ کر کے وبا کو بڑی حد تک محدود رکھا گیا ہے اور اب تک ملک میں صرف آٹھ ہزار سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔

    مگر گذشتہ چند دنوں سے ملک میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں سے واضح اکثریت حراستی مرکز میں ہیں۔

    کولا لمپور کے اس حراستی مرکز میں اب تک کُل 600 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں حراستی مراکز میں بھی 100 سے زیادہ متاثرین کی شناخت ہوئی ہے۔

    تاہم ان میں سے اب تک کسی کی موت نہیں ہوئی ہے اور ملائیشیا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 115 ہے۔

  3. برازیل اور میکسیکو میں کورونا وائرس سے ریکارڈ اموات، دیگر لاطینی امریکی ممالک میں کیا ہو رہا ہے؟

    arg

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جہاں ایک طرف برازیل اور میکسیکو میں ریکارڈ تعداد میں روزانہ اموات سامنے آ رہی ہیں، دیگر لاطینی امریکی ممالک میں بھی حالات بہت اچھے نہیں ہیں۔

    توقع ہے کہ ارجنٹینا کے صدر البرٹو فرنانڈیز ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کو بڑھانے کا اعلان کریں گے جو کہ 21 جون تک ہو سکتا ہے۔

    ارجنٹینا کا دارالحکومت بیونس آئرس سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہیں جہاں گذشتہ 24 گھنٹوں میں نو سو سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ادھر پیرا گوائے میں ایک رکن پارلیمان نے دوران اجلاس اپنی شرٹ اتار کر احتجاج کرنا شروع کر دیا کیونکہ وہ برازیل کے ساتھ ملک کی سرحد کی بندش کے خلاف تھے۔

    جورگ انٹونیو بریٹز نے کہا کہ وہ سرحدی علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں اور سرحد بند ہونے کے باعث کاروباری سرگرمیاں بہت متاثر ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب پیرو سے ایک خوش خبری آئی جب کووڈ 19 سے متاثرہ ایک 50 سالہ حاملہ خاتون نے صحتمند جڑواں بچوں کو جنم دیا ۔ لیکن پیرو میں خدشہ ہے کہ اموات بڑھ سکتی ہیں اور ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔

  4. کورونا کی تشخیص کے لیے پاکستان میں کون سا ٹیسٹ کس قیمت میں دستیاب ہے؟

  5. این ڈی ایم اے کی جانب سے صوبوں اور وفاق کے ہسپتالوں میں سامان کی ترسیل

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے، این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو آئی سی یو ونٹیلیٹرز، بائی پیپ اور ایکسرے مشینوں کی فراہمی پنجاب کو 26 ، 26 آئی سی یو ونٹیلیٹرز اور بائی پیپ دیے گئے۔

    پنجاب میں لاہور اور راولپنڈی کے لیے دس دس اور ملتان کے لیے چھے چھے آئی سی یو ونٹیلیٹرز اور بائی پیپ مختص کیے گئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سندھ کو 16، 16 آئی سی یو ونٹیلیٹرز اور بائی پیپ فراہم کیے گئے سندھ میں کراچی کے 10،10 اور سکھر کے لیے 6،6 آئی سی یو وینٹیلیٹرز اور بائی پیپ مختص کیے گئے ہیں۔

    صوبہ خیبرپختونخوا کو بھی 16 آئی سی یو ونٹیلیٹرز اور 16 بائی پیپ جاری کیے گئے ہیں اس میں پشاور کے لیے 10،10 اور ایبٹ آباد کے 6،6 ونٹیلیٹرز اور بائی پیپ دیے گئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق چاروں صوبوں کو 10، 10 ایکسرے مشینین بھی فراہم کردی گئیں آذاد کشمیر، گلگت بلتستان کو بھی پانچ پانچ ایکسرے مشینیں فراہم کی گئیں اسلام آباد پولی کلینک کو 5 آئی سی یو ونٹیلیٹرز اور 5 بائی پیپ دیے گئے۔

    پمز اور پولی کلینک کو 5، 5 ایکسرے مشینیں بھی فراہم کی گئیں ہیں۔

  6. بریکنگ, سندھ میں اموات کی تعداد 575، گذشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 8390 ٹیسٹس

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ کی جانب سے صوبے میں کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال بتائی گئی جس کے مطابق ریکارڈ تعداد میں ٹیسٹس کیے گئے جن کے باعد 1667 مزید کیسز سامنے آئے ہیں۔

    مراد عل شاہ کے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کسی بھی صوبے میں پہلی بار یومیہ آٹھ ہزار سے زیادہ ٹیسٹس کیے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 20 اموات بھی ہوئیں جس کے بعد کل تعداد 575 ہو چکی ہے۔

  7. ایران: کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ایران کی وزارت صحت کے مطابق ایران میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 3،574 کورونا وائرس کے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ فروری سے جب کورونا وائرس کا ملک میں پھیلاؤ شروع ہوا تھا سے لے کر اب تک کی سب سے زیادہ تعداد یومیہ تعداد بنتی ہے۔

    ایران میں مسلسل چوتھے دن متاثرین کی نئی تعداد تین ہزار سے زائد سامنے آ رہی ہے۔ اس سے قبل یومیہ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد 3،186 تھی، جو 30 مارچ کو ریکارڈ کی گئی تھی۔

    وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ گذشتہ دن 59 لوگ ایران میں اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 8،071 ہو گئی ہے۔

  8. ترکی سے بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع

    Turkish flights

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ترکی اس ماہ سے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ ہوائے رابطے بحال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس حوالے سے انقرہ نے ان میں سے 15 ممالک کے ساتھ معاہدے طے کر لیے ہیں۔

    اس ماہ سے جرمنی، سوئٹزرلینڈ، جنوبی کوریا اور قطر کے لیے پروازیں شروع ہو جائیں گی۔

    ترکی نے اندرون ملک پروازیں رواں ماہ کی یکم تاریخ کو بحال کر دی تھیں۔

  9. پیرس نے 14 جولائی کو ہونے والی سالانہ فوجی پیریڈ منسوخ کر دی

    Bastille day

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    فرانس نے پیرس میں 14 جولائی کو بیسٹیل ڈے پر ہونے والی مشہور سالانہ فوجی پریڈ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر منسوخ کر دی ہے۔

    حکام کے مطابق اب اس دن کی مناسبت سے پیرس کے ایک محل کے اندر اس حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

    عام طور پر سالانہ پریڈ پیرس کی تاریخی شاہراہ شانز علیزے پر منعقد ہوتی ہے اور یہ فرانسیسی کیلنڈر کا سب سے بڑا پروگرام ہوتا ہے۔

  10. کراچی میں سماجی فاصلے پر کتنا عملدرآمد ہو رہا ہے؟

    نارتھ کراچی

    ،تصویر کا ذریعہMuhammad Bilal

    ،تصویر کا کیپشننارتھ کراچی کی ایک فیکٹری کے مناظر

    سندھ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کراچی کی مارکیٹوں میں رش دکھائی دے رہا ہے۔ نارتھ کراچی کے گودھرا کیمپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ اپنے کام میں مگن ہیں مگر وہ سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھ رہے ہیں۔

    اسلام آباد
    ،تصویر کا کیپشنسائٹ ایریا میں ایک دکان کے باہر لگا مجمع

    صوبائی حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا تو پھر سے لاک ڈاؤن کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔

    کورونا
    ،تصویر کا کیپشنیہ کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں انچولی کی تصویر ہے۔ یہاں بغیر قطار اور سماجی فاصلے کے لوگ خریداری میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔

    سندھ میں کراچی شہر میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  11. جنوبی کوریا: روبوٹ شراب کا گلاس کیسے تیار کرتا ہے؟

    robot

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جتنی دیر انسان کو چھری سے برف کاٹنے میں لگتی ہے اتنے میں دو روبوٹس میں سے ایک شراب اور دوسرا برف کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔

    کورونا وائرس کے دنوں میں جب سماجی فاصلے کے اصول پر عمل پیرا ہونے کے بارے میں زور دیا جاتا ہے، ایسے میں اس روبوٹ کا جنوبی کوریا کے کیفے اور بار میں اہم کردار ہے۔

    robot

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کی ایک بار میں شراب کی تیاری میں مدد دینے والا کابو نامی روبوٹ خوبصورت لباس میں ملبوس اپنے کام میں مصروف ہے۔

    اس کے لیے برف کے گولے کو ایک خوبصورت گیند کی مانند بنا دینا کوئی مشکل ہی نہیں اور یہ کرتے کرتے وہ گاہکوں کو کہتا ہے ’اب اپ اپنی ٹھنڈی وہسکی سے لطف اندوز ہوں۔‘

  12. اسرائیلی: رکن اسمبلی میں وائرس کی تشخیص کے بعد پارلیمان کی کارروائی معطل

    Israeli parliment

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ایک رکن میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد اسرائیل کی پارلیمان نے اپنی زیادہ تر سرگرمیاں معطل کردی ہیں اور نیسیٹ کے عملے سے کہا گیا ہے کہ جب تک زیادہ ضروری نہ ہو وہ کام پر نہ آئیں۔

    پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔

    کورونا وائرس سے متاثرہ رکن پارلیمنٹ سمیع ابو شہادہ نے اپنے ڈرائیور میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد دو دن پہلے ہی تنہائی اختیار کر لی تھی۔

    تاہم انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ہزاروں لوگوں سے ملے ہیں۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وہ اس عرصے میں لوگوں کے پاس تعزیت کرنے بھی جاتے رہے، فیملی کے پروگرامز میں بھی شریک ہوئے اور مظاہروں میں بھی شرکت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں می بھی شریک ہوئے اور پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں بھی گئے تھے۔

    ابو شہادہ نے ان لوگوں سے اپیل کی ہے جو ان سے ملتے رہے کہ وہ بھی تنہائی اختیار کر لیں اور اپنا ٹیسٹ کرائیں۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس ابھی بھی ہمارے درمیان موجود ہے اور معمولات زندگی اس وائرس کو بڑے پیمانے پر مزید رفتار سے پھیلنے میں مدد دیتے ہیں۔

  13. انصاف ڈاکٹرز فورم کا حکومتی اقدامات پر مکمل اعتماد کا اعلان

    وزیرِ اعظم عمران خان سے انصاف ڈاکٹرز فورم (آئی ڈی ایف) کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں ملک میں کورونا کی صورتحال، روک تھام کے حوالے سے حکومتی حکمت عملی اور اس حوالے سے خصوصاً ملکی ڈاکٹرز اور ہیلتھ کئیر سٹاف کے کردار پر بات چیت ہوئی۔

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ صحت کے شعبے میں موجودہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    آئی ڈی ایف کی جانب سے صحت کے شعبے میں موجودہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات پر مکمل اعتماد کا اظہار وزیرِ اعظم نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹرز اور ہیلتھ کئیر سٹاف کی خدمات لائق تحسین ہیں اور پوری قوم ان کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہیلتھ سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے عام آدمی کو صحت کی معیاری سہولیات تک رسائی میں مشکلات درپیش ہیں۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں متعارف کرائی جانے والی اصلاحات کا مقصد ملک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا، عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور نظام میں موجود خامیوں کی اصلاح ہے۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے وزیرستان میں ہسپتال کے قیام کی تجویز پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے قائم ٹاسک فورس اس تجویز پر غور کرے گی۔

  14. سندھ: 24 گھنٹوں میں مزید 20 ہلاکتیں

    سندھ حکومت کے ترجمان سینیٹر مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 20 اموات ہوئیں جبکہ 8390 ٹیسٹ کیے گئے اور 1666 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. بل گیٹس: اب ویکسین کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے

    Bill Gates

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بل گیٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں پائی جانے والی کسی بھی کامیاب کوروناوائرس ویکسین کو عالمی سطح پر تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔

    ویکسین بنانے سے متعلق بلائے گئے ورچوئل اجلاس سے پہلے بل گیٹس اس ویکسین کی اہمیت سے متعلق بی بی سی سے بات کی۔

    اس اجلاس میں عالمی رہنماؤں اور کچھ دولت مند کمپنیوں اور افراد نے ویکسین کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے 7.4 بلین ڈالر ڈالر تک فنڈ جمع کرنا ہے۔

    بل گیٹس کا کہنا تھا کہ اس ویکسین کی آج کہیں زیادہ اہمیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں حصہ ڈالنے سے ہم کئی انسانی جانوں کو بچانے کو بچا سکتے ہیں۔

    بل گیٹس کے مطابق جمع کیے جانے والے پیسوں سے دنیا کے غریب ترین ممالک کے لیے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی تیاری میں مدد ملے گی اور اس سے پولیو، ٹائیفائیڈ اور خسرہ جیسی مہلک بیماریوں سے بھی حفاظتی قطرے پلانے میں مدد ملے گی۔

    بل گیٹس کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس جیسی وبائی مرض نے دنیا بھر میں حفاظتی ٹیکوں کی مہمات کو روک دیا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تقریباً 80 ملین بچے معمول کے حفاظتی ٹیکوں سے محروم ہو گئے ہیں۔

    بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ ویکسین کے بارے میں غلط معلومات سے بیماریوں جس میں کورونا وائرس کی وبا بھی شامل ہے سے نمٹنے کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے۔

  16. تحقیق: ہائیڈرو کلوروکین کورونا وائرس کا موثرعلاج نہیں

    Chloroquine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مینیسوٹا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہائیڈرو کلوروکین کووڈ۔19 سے نہیں بچا سکتی۔

    کورونا وائرس کے مریضوں پر ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین کی ٹیم نے ایسے 821 افراد کو شامل کیا جو کورونا وائرس متاثرین سے میل جول رکھ چکے تھے۔

    ماہرین کی یہ تحقیق نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں بھی شائع ہوئی ہے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق یہ کورونا وائرس سے متعلق متنازع دوا پر پہلی بار بڑے پیمانے پر کی جانے والی تحقیق تھی۔

    اس تحقیق میں شامل افراد کو پلیسبو یا ہائیڈرو کلوروکین کی گولیاں دی گئیں اور انھیں دو ہفتوں تک ان کو استعمال کرنے کا کہا گیا۔

    نتائج کے مطابق اس میں معمولی فرق تھا کہ کورونا وائرس کی علامات کس میں ظاہر ہوئیں۔

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ آر بولوئیر کا کہنا ہے کہ اس میں لوگوں کے لیے یہی پیغام ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ہائیڈرو کلوروکین اس وائرس سے بچاؤ کے لیے موثر دوا نہیں ہے۔

    ملیریا کے خلاف استعمال ہونے والی اس دوا کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار بار علاج کے طور پر پیش کرتے رہے اور ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود بھی یہ دوا لی ہے۔

  17. جاپان: ٹرین محفوظ ہے لیکن نائٹ کلب نہیں؟

    Japan

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پابندیوں کے خاتمے کے بعد جیسے ہی جاپان کے شہری کام پر جانا شروع ہوئے ہیں تو ٹرینیں کھچا کھچ بھر گئی ہیں، جس سے اس وائرس کے دوبارہ حملے سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    ٹوکیو حکام کام پر جانے والوں کی وجہ سے ٹرین میں رش بڑھ جانے کے مسئلے کا مناسب حل نکالنے کے لیے پرامید ہیں۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کے خاتمے کے کچھ دن بعد جععرات کو یہ ٹرینیں واپس اپنے معمول پر آ گئی ہیں۔

    ماہرین صحت اور سیاستدان نائٹ کلب اور کسنرٹ والی جگہوں کو اس وائرس کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور ان جگہوں کو بند کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

    کورونا وائرس کے متاثرین کو ٹرین کے رش سے نہیں جوڑا جا رہا ہے حالانکہ ٹوکیو میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ ٹرینوں میں بھی نائٹ کلب کی طرح کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں۔

    ایک ترجمان کے مطابق ٹوکیو میٹرو سب وے کھلی کھڑکیوں اور ٹکٹ مشینوں کی ڈس انفیکشن کے زریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بچاؤ کی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔

    تاہم ترجمان کے مطابق وہ مسافروں کی تعداد میں کمی لانے یا انھیں سماجی فاصلے کے لیے اصرار نہیں کر رہے ہیں۔

  18. ایک اور ڈاکٹر جان کی بازی ہار گئے

    dr salman haseeb

    ،تصویر کا ذریعہdr salman haseeb

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے سروسز ہسپتال میں شعبہ اینستھیزیا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر حافظ مقصود کورونا سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق ڈاکٹر حافظ مقصود کو گذ شتہ ہفتے کورونا ہوا تھا طیبعت بگڑنے پر انھیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ اب تک لاہور کے سروسز ہسپتال میں تقریبا 80 سے زائد ڈاکٹرز کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر حافظ مقصود کے بیشتر طلبہ و طالبات سوشل میڈیا پر ان کو یاد کر فرنٹ لائن پر کام کرنے پر خراج تحسین پیش کر رہے ہیں

  19. بلوچستان: مقامی منتقلی کے کیسز کی شرح 98.2 فیصد پر

    Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان میں کورونا کے مقامی منتقلی کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے ساتھ ساتھ ان کا دائرہ 33 میں سے 27 اضلاع تک وسیع ہوگیا ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹس کے مطابق جن تین نئے اضلاع سے کیسز سامنے آئے ہیں ان میں کیچ، واشک اور جھل مگسی شامل ہیں۔

    ان میں کیچ اور واشک سے ایک ایک جبکہ جھل مگسی سے 7 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    جہاں چھ کے سوا بلوچستان کے باقی تمام اضلاع سے کورونا کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    صوبے میں وہاں مقامی منتقلی کے کیسز 98.2 فیصد ہوگئی ہے۔

    بلوچستان میں 3 جون تک رپورٹ شدہ 5224 کیسز میں مقامی منتقلی کے کیسز کی تعداد 5150 تھی۔

    مقامی منتقلی کے کیسز کی بدستور سب سے زیادہ تعداد کوئٹہ سے سامنے آئی ہے جو کہ4321 (83.9 فیصد) ہے۔

    قلعہ عبد اللہ 135کیسز کے ساتھ دوسرے اور پشین 134کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ چوتھے پر نمبر پر جعفرآباد سے 90 کیسز جبکہ پانچویں نمبر پر قلعہ سیف اللہ اور مستونگ سے 67، 67 کیسز سامنے آئے۔

    63 کیسز کے ساتھ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا آبائی ضلع لسبیلہ چھٹے نمبر پر ہے۔

  20. اولمپک گیمز: کھیلوں کو محدود پیمانے پر منعقد کرنے پر غور

    2020

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ملتوی کی جانے والی ٹوکیو 2020 اولمپکس کے منتظمین بظاہر اگلے سال کی گیمز کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے یہ گیمز جولائی 2021 تک ملتوی کی گئیں، جس سے ہر چیز کو دوبارہ شیڈول کرنے کے لیے اضافی لاگت آئے گی۔

    اسی وجہ سے ٹوکیو کے گورنر یوریکو کوئیک نے صحافیوں کو بتایا کہ ان گیمز کے منتظمین اولمپکس کو مزید قابل عمل اور آسان بنانے والے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ تماشائیوں کی کم تعداد کو ان 'انڈور‘ مقابلوں میں جانے کی اجازت دی جائے اور افتتاحی اور اختتامی تقاریب میں شرکا کی تعداد کو کم کیا جا سکے۔