پاکستان اب دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا: وزیر اعظم عمران خان
دنیا میں اس وقت 66 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 90 ہزار کے قریب ہے۔ لاہور میں لوگوں کی جانب سے ماسک نہ پہننے پر ٹریفک وارڈن کو چالان کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق ملک بھر میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں کاروباری مراکز بند کیے جا چکے ہیں۔
لائیو کوریج
’ایشین ڈیویلپمنٹ بینک نے بھی پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی ہے‘
’آج امریکہ میں لائن لگی ہوئی ہے اور غریبوں کو کھانا دیا جا رہا ہے۔ ساری دنیا میں آج لاک ڈاؤن کی وجہ سے غربت بڑھ گئی ہے۔ ہمارے جیسے ممالک میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے تباہی پھیلی ہے۔
لیکن ہم نے جو اقدامات لیے ، ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے بھی اس کی تعریف کی ہے اور کہا کہ کسی ملک نے اتنی تیزی سے اتنے زیادہ لوگوں کو اتنا پیسہ نہیں بانٹا۔ ‘
سپین یکم جولائی سے غیر ملکی سیاحوں کے لیے کھل جائے گا
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسپین میں کووڈ۔19 سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی
سپین یکم جولائی سے اپنے دروازے غیر ملکی سیاحوں کے لیے کھول رہا ہے۔
یہ وضاحت جمعرات کو ملک کے سیاحت کے وزیر کے اس بیان کے بعد دی گئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ زمینی سرحدوں پر پابندیاں 22 جون سے اٹھا لی جائیں گی۔
داخلی امور کے یورپی یونین کے وزیر نے اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ اس ماہ کے آخر تک اندرونی سرحدیں کھول دی جائیں۔
جب سے کورونا وائرس کی وبا پھوٹی ہے سپین میں 28,000 افراد اس کا لقمۂ اجل بن چکے ہیں جبکہ اب تک اس کے 233,000 مریض سامنے آئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں مرحلہ وار او پی ڈی کھولنے پر غور, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہTwitter/@PMCOVIDForce
خیبرپختونخوا میں حکام سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز مرحلہ وار کھولنے پر غور کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کی او پی ڈی کھولنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔
پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان عاصم کے مطابق تمام شعبوں سے سفارشات طلب کر لی گئی ہیں اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے سے او پی ڈی بحال کر دی جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں انتہائی ضروری شعبوں کو شروع کیا جائے گا جبکہ کورونا سے متعلق مریضوں کی سکریننگ کھلی فضا میں ہوگی۔
’کورونا علامات نہ ہونے کی صورت میں اوپی ڈی میں داخلے کی اجازت ہوگی۔ او پی ڈی میں محدود تعداد میں مریضوں کا چیک اپ ہوگا۔‘
انھوں نے زور دیا ہے کہ سماجی فاصلے سمیت تمام ایس او پیز پر سختی سے عمل ہوگا۔
’ہسپتالوں کی او پی ڈیز کی بندش کے باعث مریضوں کوشدید مشکلات کاسامنا ہے۔‘
’کورونا کو آپ پھیلنے سے روک نہیں سکتے، کورونا کو پھیلنا ہے، رکے گا نہیں‘
،تصویر کا ذریعہAFP
آپ کو سمجھنا ضروری ہے کہ لوگوں کو کیسے سمجھائیں اور ان میں شعور پھیلائیں۔ اگر آپ کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ کیسز بڑھ رہے ہیں تیزی سے، وہ نہیں ہوگا۔ کووڈ کو آپ پھیلنے سے روک نہیں سکتے۔ کورونا کو پھیلنا ہے، رکے گا نہیں۔
لیکن اگر ہم سب کیچھ بند کرتے، لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو ساری دنیا دیکھیں، نقصان صرف غریب کا ہوا ہے۔‘
بریکنگ, ’ہمیں اندازہ تھا کہ لوگوں کی موت ہوگی اور کورونا پھیلے گا‘
’آپ برازیل کو دیکھیں۔ وہاں ایک دن میں 1300 اموات ہوئی ہیں۔ امریکہ میں 2000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں ایک دن میں۔ برطانیہ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے اور یورپ میں بھی۔ ایک دن میں 2000 لوگ ہلاک ہو گئے۔
اللہ کا شکر ہے کہ آج تین مہینے بعد بھی پاکستان میں، مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ 1700 اموات ہوئی ہیں۔ اور حال میں بڑھی ہیں اور ہمیں اندازہ تھا کہ لوگوں کی موت ہوگی اور کورونا پھیلے گا۔‘
بریکنگ, ’ہم نے شروع میں جو اقدامات لیے اس کی وجہ سے ہم بچ گئے‘
’لیکن اب آگے جاتے ہوئے بہت ضروری ہے یہ بات سمجھنا کہ ہمارا ملک کہاں کھڑا ہے۔ اگر ہم لوگوں کو سمجھا دیں اور احتیاط کروا دیں اور لوگ ایس او پی پر عمل کر لیں تو میرا یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نہیں گزریں گے جو اس وقت دنیا میں دوسرے ممالک کے ساتھ ہو رہا ہے اور جن مصائب سے وہ گزر رہے ہیں۔
آپ کو اندازہ ہونا چاہیے کہ اللہ نے کتنا کرم کیا ہے ہم پر۔ اس کے لیے میں کریڈٹ دوں گا اپنی ٹیم کو جنھوں نے روز صبح بیٹھ کر حکمت عملی بنائی۔ ہم نے جو شروع میں اقدامات لیے اس کی وجہ سے ہم بچ گئے۔‘
بریکنگ, ’ ہم وہ واحد مسلم ملک ہیں جہاں رمضان میں مساجد بند نہیں ہوئی‘
،تصویر کا ذریعہEPA
پہلے تو مجھے خوشی ہے کہ ہم وہ واحد مسلم ملک ہیں جہاں رمضان میں مساجد بند نہیں ہوئی نہ تراویح بند ہوئی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ایس او پی کے تحت مساجد کھولیں گے اور میں علما کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے بڑی احتیاط کی۔
دوسرا میں شکر گزار ہوں رضاکار فورس کا جنھوں نے بہت عمدہ کام کیا۔ سیالکوٹ کا میں بتا سکتا ہوں کہ وہاں 3000 ہزار مساجد ہیں۔ پولیس پوری طرح انھیں نہیں دیکھ سکتی تھی تو ٹائیگر فورس نے وہاں جا کر بڑا کام کیا اور لوگوں کو سمجھایا۔
مخالفین نے بہت شور مچایا اور کہا کہ مسجدیں بند کری، لیکن ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی کہ ہمارے ملک میں مساجد سے کوئی پھیلاؤ نہیں ہوا ہے، اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دوسرے ممالک میں بھی مساجد کھل رہی ہیں۔
’عوام کو سمجھائیں اور بتائیں کہ احتیاط کرنی ہے، فاصلہ رکھنا ہے، لوگوں میں شعور پیدا کریں‘
’ایس او پی کا مطلب ہے کہ جن شرائط پر لاک ڈاؤن کھول رہے تھے، رضا کار لوگوں کو جا کر بتائیں کہ وہ شرائط کیا ہے۔ آپ کی سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ عوام کو سمجھائیں اور بتائیں کہ احتیاط کرنی ہے، فاصلہ رکھنا ہے۔ لوگوں میں شعور پیدا کریں۔‘
بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان کا کورونا ریلیف ٹائیگرز سے خطاب
،تصویر کا ذریعہPTI Facebook
وزیر اعظم عمران خان کا خطاب جاری ہے جہاں وہ کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس سے انھیں پیغام دے رہے ہیں کہ ان سے کیا کیا توقعات ہیں’کورونا ریلیف ٹائیگرز کی سب سے زیادہ ضرورت تھی کہ لوگوں کو سمجھائیں اور بتائیں کہ کیا کرنا ہے کیونکہ ہر کسی کو نہیں سمجھ آ رہی کہ کورونا کیا چیز ہے۔
ہمیں ان رضا کاروں کی ضرورت ہے جو لوگوں کے پاس جائیں اور لاک ڈاؤن کھلنے پر انھیں سمجھائیں کہ کیا کرنا ہے۔ ‘
’کورونا ہو یا نہ ہو، کشمیر میں ’لاک ڈاؤن تو دس ماہ سے جاری ہے‘
منہ ڈھانپنا بہرے افراد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے, بیتھنی روز، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ بہرے ہیں تو منہ ڈھانپنا اور سماجی دوری دونوں ہی آپ کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
منہ ڈھانپنے کا مطلب ہے کہ لپ ریڈنگ یا ہونٹوں کو پڑھنا غیر موثر ہو جاتا ہے، جبکہ سوشل ڈسٹینسنگ یا سماجی دوری کا مطلب ہے کہ اگر آپ تھوڑا بہت سن بھی سکتے ہیں تو آپ کے لیے یہ جاننے کے لیے فاصلہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے کہ دوسرا کیا کہہ رہا ہے۔
بہت سے بہرے افراد اپنا سفر بہت پہلے سے پلان کر لیتے ہیں تاکہ ان کو کسی دوسرے کی مدد کا سہارا نہ لینا پڑے، لیکن کبھی سروسز میں تاخیر یا تبدیلی کی وجہ سے یہ ناگزیر ہو جاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ کوئی اور حل نکالنے کی ضرورت ہے۔
کچھ ڈیزائنرز نے ایسے ماسک بنائے ہیں جن میں لپ ریڈنگ کے لیے منہ کے پاس ایک سوراخ رکھا گیا اور نو برطانوی خیراتی اداروں نے پبلک ہیلتھ انگلینڈ اور این ایچ ایس انگلینڈ کو لکھا ہے ہے کہ ان کو بڑے پیمانے پر بنوانا چاہیئے۔
ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ہمیں ایسا کچھ دیکھنے کا موقع ملے، لیکن ابھی اس کی پیداوارکم ہے اور کسی حقیقی فائدے کے لیے ان کی مارکیٹ میں بڑے پر دستیابی بہت ضروری ہے تاکہ سبھی ضرورت مند انھیں استعمال کر سکیں۔
’فٹ بال کے سب سے مہنگے کھلاڑی‘ کے لیے سرکاری امداد کی منظوری؟
،تصویر کا ذریعہReuters
برازیل میں خبر سامنے آئی ہے کہ ’فٹبال کے سب سے مہنگے کھلاڑی‘ نیمار کے لیے کورونا وائرس سے متاثرہ کم اجرت مزدوروں کے لیے مختص ویلفیئر کی رقم سے 120 ڈالر کی منظوری دے دی گئی جو بظاہر شناختی ڈیٹا چوری کا معاملہ لگتا ہے۔
نیوز سائٹ یو او ایل کے مطابق پیرس سینٹ جرمین کے سٹار کا نام، تاریخ پیدائش اور برازیلی شناختی نمبر وفاقی حکومت کی طرف سے ویلفیئر رقم کے لیے اندراج کروانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
اس ادائیگی کا مقصد اُن برازیلیوں کی مدد کرنا ہے جو کھانے پکانے اور صفائی جیسے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان شعبوں میں کام کرنے والوں کی ملازمت اور معاوضہ کورونا وائرس کے خلاف اٹھائے گئے حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ختم ہو کر رہ گئی۔
پی ایس جی کے ساتھ معاہدے کے بعد نیمار کی اس سال کی آمدن 95 اعشایہ پانچ ملین ڈالر بنتی ہے جس کی وجہ سے وہ تاریخ کے سب سے مہنگے فٹ بالر مانے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو نیمار امدادی رقم کے بالکل حقدار نہیں بنتے۔
یو او ایل کے مطابق نیمار کے نام سے درخواست کو پہلے منظور کر لیا گیا تھا اور ان کو رقم کی ادائیگی کا شیڈول بھی تیار ہوگیا تھا تاہم رقم اس وقت ضبط کر لی گئی جب اس متعلق پتا چل گیا کہ یہ صیحح حقدار تک نہیں جا رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی طرف سے رابطہ کرنے پر نیمار کے میڈیا سٹاف کی طرف سے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں دیا گیا ہے۔
عدالت نے ’بلیک لائیوز میٹر‘ کے احتجاج پر ’کورونا‘ کی وجہ سے پابندی لگا دی
،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹرلیا کی کی ایک عدالت نے سنیچر کو سڈنی میں ہونے والے ’بلیک لائیوز میٹر‘ کے احتجاج پر پابندی لگا دی ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس یہ معاملہ لے کر عدالت گئی تھی کیونکہ احتجاج میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع تھی۔
جٹسٹس ڈسمینڈ فرگوسن نے کہا کہ احتجاج کی اجازت دینے کا مطلب حکومتی وزرا اور پبلک ہیلتھ آفیسرز کے فیصلوں کی نفی ہو گا۔
تاہم انھوں نے کہا کہ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ مجوزہ ریلی کی بڑے پیمانے پر حمایت موجود ہے اور عدالت اظہار کی آزادی کو بڑی سنجیدگی سے لیتی ہے۔
دنیا میں کورونا وائرس کی صورتحال
لاطینی امریکہ کے ملک برازیل میں 34021 اموات کی تصدیق ہونے کے بعد اب وہ سب
سے زیادہ اموات کے حوالے سے امریکہ اور برطانیہ کے بعد تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
برازیل دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں اموات سب سے تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
یورپ
میں زیادہ تر ممالک میں وبا کا عروج ہو چکا ہے اور اب نئے متاثرین اور اموات کی تعداد
میں آہستہ آہستہ کمی آ رہی ہے۔ تاہم برطانیہ میں ابھی بھی یورپ کے دیگر ممالک کے
مقابلے میں سب سے زیادہ اموات ہیں۔
خیبر پختونخوا: وزیر صحت کے پی آر او میں کورونا کی تشخیص
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ڈائریکٹوریٹ جنرل انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز کے دو افسران میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ان میں ایک اہلکار وزیر صحت کے ساتھ بطور پبلک ریلیشن افسر (پی آر او) کام کر رہا تھا جبکہ دوسرا اہلکار کے پی ہاوس اسلام اباد میں بطور ریجنل انفارمیشن افسر تعینات تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افسران شروع دن سے کورونا کے خلاف صف اول پر ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔
دونوں کو گھروں میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔
بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے کمیٹی تشکیل
،تصویر کا ذریعہSHAJIE HUSSAIN
پاکستان میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حزب اقتدار اور حزب اختلاف پر مبنی بیرون ملک پھنسے تارکین وطن کی واپسی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
جاری کردہ بیان کے مطابق اس کمیٹی کا یہ قیام قومی اسمبلی کے ممبران کے مسلسل مطالبے کا نتیجہ ہے جو اپنے حلقوں سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
کمیٹی کا بنیادی مقصد وزارت خارجہ، وزارت اوورسیز پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے ساتھ تعاون کرنا ہے تاکہ ان ممالک میں پاکستان کے متعلقہ سفارتخانوں کے ذریعے پاکستانی تارکین وطن کی ہر ممکن سہولیات کے ساتھ باآسانی واپسی کو یقینی بنانے جاسکے۔
اس کے علاوہ یہ کمیٹی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی ذاتی طور پر رابطہ کرے گی جن کے ملازمت کے معاہدے ختم ہوگئے ہیں اور اس طرح کے دیگر مسائل کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہیں تاکہ ان کی شکایات کو متعلقہ فورمز کے ذریعے دور کیا جاسکے۔
اس کمیٹی کو اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے تجربہ کار عہدیداران کمیٹی کی معاونت حاصل ہوگی۔
بریکنگ, عمران خان: غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی وقت کی اہم ضرورت ہے
،تصویر کا ذریعہTwitter/@PakPMO
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بجٹ برائے مالی سال 21-2020 کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس جمعے کو ہوا ہے۔
مشیر خزانہ کی قیادت میں حکومتی معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کے محصولات، اخراجات اور اس حوالے سے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بریفنگ دی۔
وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی وبا کی وجہ سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے اور معیشت کو استحکام دینے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ ان شعبوں کو خصوصی طور پر فروغ دیا جائے جن سے نوجوانوں کے لیے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معاشی عمل کو فروغ ملتا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانا خصوصاً غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی موجودہ حکومت کی روز اول سے ترجیح رہی ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس مقصد کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مختلف شعبوں میں سبسڈیز اور حکومت کی جانب سے مالی معاونت کی فراہمی کے معاملات پر غور کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی درحقیقت عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیسے کے بہترین اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ جہاں مطلوبہ مقاصد کا حصول ممکن بنایا جا سکے وہاں حقداروں تک ان کے حق کو پہنچانے کے عمل کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ اصلاحات کے عمل کی رفتار کو تیز کیا جائے تاکہ عوام پر پڑنے والے غیرضروری بوجھ کو کم سے کم کیا جا سکے اور ان کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
پاکستان میں جمعے کے روز کی تصویری جھلکیاں
،تصویر کا ذریعہAsad Ashfaq
،تصویر کا کیپشنبولٹن مارکیٹ، کراچی میں بدستور عوام کا ہجوم
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ کے بازار جمعے کے روز بند
،تصویر کا ذریعہTassaduq Hussain
،تصویر کا کیپشنکراچی میں جمعے کی نماز کے دوران سماجی فاصلہ اختیار کرنے کی کوششیں
،تصویر کا ذریعہAfaq Ahmed
،تصویر کا کیپشنثمن آباد کراچی میں حلیم کی دکان کے باہر قطار
،تصویر کا کیپشنلاہور میں موٹر سائیکل یا کار چلاتے ہوئے ماسک نہ پہنا تو چالان ہوسکتا ہے!
کورونا وائرس کہاں کہاں پھیل رہا ہے؟
امریکہ کی جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت امریکہ میں کورونا وائرس کے متاثرین سب سے زیادہ ہیں یعنی دنیا بھر کے متاثرین کا ایک تہائی حصہ امریکہ میں ہے اور اس وائرس سے وہیں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
یورپ میں برطانیہ، اٹلی، فرانس اور سپین سب سے زیادہ متاثرہ ممالک ہیں۔ افریقی ممالک میں جنوبی افریقہ، مصر اور نائیجیریا سرفہرست ہیں۔
یہ وائرس انڈیا اور ایران میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے جو اس وبا کی دوسری لہر کا علامت ہے۔
برازیل میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے جہاں کے صدر اس وائرس کو ایک عام فلو قرار دیتے ہیں۔ برازیل میں اس وقت تک اس وائرس سے متاثرین کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے اور 30 ہزار سے زیادہ لوگ کورونا وائرس سے مر چکے ہیں۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں کورونا وائرس متاثرین کی حقیقی تعداد بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ کم علامات والے بہت سے لوگوں کا ٹیسٹ ہی نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی انھیں اس تعداد میں شامل کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے کاروباری مراکز جمعے کو بدستور بند, محمد کاظم، بی بی سی اردو
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت کے فیصلے کے تحت جمعے کو کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مکمل لاک ڈاؤن رہے گا۔
لاک ڈاؤن کے باعث آج کوئٹہ شہر میں میڈیکل سٹورز اور اشیا ضروریہ کی دکانوں کے سوا تمام تجارتی مراکز بند ہیں۔
محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت بلوچستان نے چند روز قبل سمارٹ لاک ڈائون کے حوالے سے جو نیا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا اس کے مطابق بلوچستان میں جمعے کے روز مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔
جبکہ ہفتے کے باقی چھ دنوں کے دوران صبح 9 بجے سے شام 7 بھے تک کاروبار کھل سکیں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں کی نسبت کوئٹہ کے تاجر پہلے ہی اتوار کے بجائے جمعے کو کاروباری مراکز بند رکھتے تھے۔