پاکستان اب دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا: وزیر اعظم عمران خان
دنیا میں اس وقت 66 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 90 ہزار کے قریب ہے۔ لاہور میں لوگوں کی جانب سے ماسک نہ پہننے پر ٹریفک وارڈن کو چالان کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق ملک بھر میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں کاروباری مراکز بند کیے جا چکے ہیں۔
لائیو کوریج
کیا چین میں مقامی طور پر کورونا وائرس کا پھیلاؤ رک گیا؟
،تصویر کا ذریعہAFP
جمعرات کو چین میں مقامی طور پر کورونا وائرس منتقلی کا کوئی بھی مریض رپورٹ نہیں کیا ہے۔
بدھ کو بھی چینں میں مقامی طور پر منتقلی کا کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا تھا۔ باہر سے آئے صرف ایک متاثرہ شخص کی تصدیق کی گئی تھی۔
جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مقامی طور پر چین میں وائرس منتقلی رک گئی ہے؟
چین میں جمعرات کو بھی بیرون ملک سے آئے کورونا وائرس کے پانچ نئے متاثرین چین میں سامنے آئے ہیں، جن میں سے چار شنگھائی میں اور ایک سچوہان صوبے میں ہے۔
چین میں اس وقت کورونا وائرس متاثرین کی کل تعداد 83،027 بنتی ہے۔
یورپ کے دروازے کب کھل رہے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہEPA
موسم گرما کی آمد کے ساتھ یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ جلد مقامی سختیاں اور غیر ضروری سفر کے لیے بین الاقوامی سرحدی رکاوٹیں ختم کردیں تاکہ سیاحت کو فروغ مل سکے۔
اٹلی نے ایسا ہی کیا ہے۔ جبکہ یہ امکان ہے کہ دیگر یورپی ممالک بھی رواں ماہ کے اواخر تک ایسا ہی کریں گے۔
اکثر ممالک جون کے وسط میں سرحدی پابندیاں ختم کر رہے ہیں یا ان میں نرمی لا رہے ہیں۔ ان میں فرانس، بیلجیئم، یونان، آسٹریا، نیدرلینڈز اور چیک ریپبلک شامل ہیں۔
سپین کے بارے میں امکان ہے کہ یہاں ہوسکتا ہے بین الاقوامی سیاحوں کے لیے سختیاں جولائی میں ختم کر دی جائیں۔
بعض یورپی ممالک دوسرے پورپی ممالک سے آنے والے تمام شہریوں کو داخلے کی اجازت دیں گے۔ جبکہ کچھ میں محض ان ممالک کے شہریوں کو داخلے کی اجازت ہوگی جہاں وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے۔ کچھ ممالک داخلے کے لیے ٹیسٹ لازم قرار دیں گے۔
کیونکہ برطانیہ اب یورپی یونین کا حصہ نہیں رہا اس لیے اس کے شہریوں کو داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔
برطانیہ میں 8 جون سے آنے والے تمام مسافروں کو دو ہفتے تک خود ساختہ تنہائی میں رہنا ہوگا۔
تھائی لینڈ میں کورونا کا صرف ایک نیا مریض
،تصویر کا ذریعہAFP
جمعے کو تھائی لینڈ میں کورونا وائرس سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے جبکہ اس وائرس سے متاثر ایک نئے مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس وقت تھائی لینڈ میں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد 3،102 ہے جبکہ کل 58 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
نیا مریض کویت سے تھائی لینڈ آیا تھا اور اب وہ قرنطینہ میں ہے۔
اس وائرس سے اب تک 2،971 مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
بریکنگ, ’پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں‘
،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان میں آج سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت جاری ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری سے قرضوں کی شرائط میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے جس نے ’پذیرائی حاصل کی ہے۔‘
انھوں نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ اس اپیل کے بعد کورونا کے بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ہمارے اقدامات کی تعریف کی تھی اور کورونا کے بحران میں ہماری مدد کی ہے۔
کووڈ 19 سے سب سے زیادہ اموات کہاں ہوئی ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں اب تک کووڈ 19 سے 391,136 اموات پیش آچکی ہیں۔
ان کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں:
امریکہ 108,211
برطانیہ 39,987
برازیل 34,021
اٹلی 33,689
فرانس 29,068
سپین 27,133
میکسیکو 12,545
بیلجیئم 9,548
جرمنی 8,635
ایران 8,071
سب سے زیادہ متاثرین کن ممالک میں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ 1,872,660
برازیل 614,941
روس 440,538
برطانیہ 283,079
سپین 240,660
اٹلی 234,013
انڈیا 226,713
فرانس 189,569
عمران خان: کاروباری طبقے کے لیے سہولیات کی فراہمی حکومتی ترجیح ہے
،تصویر کا ذریعہTWITTER/@PAKPMO
حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صنعتی شعبے کا فروغ اور کاروباری طبقے کو سہولیات کی فراہمی ان کی ترجیحات میں ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ رواں سال آنے والے بجٹ میں بھی کورونا کے بعد صنعتی شعبوں کی بحالی اور ترقی پر توجہ دی جائے گی۔
بیان کے مطابق صنعتوں کی بحالی کے لیے مختلف شعبوں کو سبسیڈی اور مراعات دی جائیں گی۔
پاکستان میں پارلیمان کے اجلاس کے لیے اقدامات جاری
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آج اجلاس ہونے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے حکام نے سماجی فاصلے کے نفاذ سمیت دیگر اقدامات کیے ہیں۔ ہال میں جراثیم کش سپرے کیا گیا ہے۔
بریکنگ, کووڈ 19: پاکستان میں گذشتہ ایک روز میں 4896 متاثرین، 68 اموات کا اضافہ
پاکستان میں کورونا کی روک تھام کے لیے قائم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 کے 4896 نئے متاثرین سامنے آئے جبکہ 68 اموات پیش آئیں۔
ان کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:
پنجاب میں کل متاثرین 33144
سندھ میں کل متاثرین 33536
خیبر پختونخوا میں کل متاثرین 11890
بلوچستان میں کل متاثرین 5582
گلگت بلتستان میں کل متاثرین 852
اسلام آباد میں کل متاثرین 3946
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کل متاثرین 299
اس وقت ملک میں کل 56,213 متاثرین زیر علاج ہیں۔ جبکہ 31198 صحتیاب ہوچکے ہیں۔
ملک میں کووڈ 19 کے کل متاثرین کی تعداد 89,249 ہے۔ جبکہ 1838 اموات پیش آچکی ہیں۔
برازیل میں اب اموات اٹلی سے بھی زیادہ, کیٹی واٹسن، نمائندہ بی بی سی، جنوبی امریکہ
،تصویر کا ذریعہReuters
برازیل میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات اب اٹلی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔
جمعرات کی شام تک صرف چوبیس گھنٹوں میں برازیل میں 1,473 اموات ہوئیں۔
وائرس سے ہونے والی کل ہلاکتوں کی تعداد 34 ہزار سے زیادہ ہے۔
برازیل میں کورونا وائرس کے متاثرین کی کل تعداد 580,000 سے زائد ہے۔
مسلسل تین دنوں میں اموات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
خراب صورتحال میں اب حکومت بھی وقت پر اموات کی صیحح تعداد بتانے میں تاخیر کر رہی ہے۔
عام طور پر سہہ پہر کو نئے متاثرین اور اموات کی تعداد کے بارے میں بتا دیا جاتا تھا مگر اب چند ہفتوں سے ایسا نہیں ہو رہا ہے۔
اب گذشتہ دو دنوں سے حکام اس تعداد کو شام کے خبرنامے کے بھی بعد بتا رہے ہیں، جسے محض حسن اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔
برازیل کے صدر جو لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کے حامی نہیں ہیں اس حوالے سے کم ہی بات کرتے ہیں، تاہم انھوں نے فیس بک لائیو کے دوران ریاستوں کے گورنرز سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وائرس کے پھیلاؤ سے ہونے والا مجموعی نقصان اموات سے بڑا ہوسکتا ہے۔
اپنی ہی پالیسیاں توڑنے والے دس عالمی رہنما کون ہیں؟
پاکستان میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے کون سا ٹیسٹ کتنے میں دستیاب ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کئی قسم کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان ٹیسٹوں کا طریقہ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نتائج کی حساسیت بھی مختلف ہے۔
اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وائرس کی تشخیص کے لیے زیادہ تر ’پی سی آر‘ ٹیسٹ ہی کیے جا رہے ہیں۔
تاہم پاکستان کی کچھ نجی لیبارٹریوں نے پی سی آر ٹیسٹ کے علاوہ اینٹی باڈی ٹیسٹ (آئی جی جی اور آئی جی ایم) بھی متعارف کروائے ہیں۔
یورپی یونین چاہتا ہے کہ ’جون کے اواخر تک سرحدیں کھول دی جائیں‘
،تصویر کا ذریعہEPA
یورپی یونین نے اپنے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن میں رواں ماہ یعنی جون کے دوران نرمی لائیں اور پاسپورٹ کے بغیر لوگوں کو دوسرے یورپی ممالک میں داخلے کی اجازت دی جائے۔
یورپی یونین میں داخلی امور کی سفیر نے کہا ہے کہ وائرس کے بعد اب صورتحال ’جلد بہتر‘ ہو رہی ہے۔
انھوں نے یورو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ’ہم ان حالات کے بہت قریب ہیں جن میں ہم تمام اندرونی سرحدی رکاوٹیں ہٹائی جاسکتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کام کے لیے جون کے آخر کی ایک تاریخ بہتر ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ وہ یہ جان کر خوش ہیں کہ رکن ممالک خود سے سرحدی سختیاں ہٹا رہے ہیں۔
یورپ کے کئے ممالک مقامی سطح پر وائرس سے بچاؤ کے اقدامات میں نرمی لا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بعض نے سرحدیں کھول بھی دی ہیں۔
تاہم اس حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں مل سکا کہ یورپی ممالک کب اپنی سرحدیں ایک دوسرے کے شہریوں کے لیے کھول دیں گے۔
کورونا میں احتجاج کیسے کریں؟
،تصویر کا ذریعہEPA
اس وقت مختلف تنازعات اور مسائل پر پوری دنیا میں احتجاج جاری ہے۔ ایسی صورتحال میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ اس سے کورونا وائرس کے انفیکشن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
آؤٹ سائیڈ بی بی سی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ، مالیکیولر ایپیڈیمولوجسٹ ڈاکٹر ایما ہوڈکروفٹ نے مظاہروں میں شامل ہوکر کورونا وائرس سے کیسے بچنے کے بارے میں تجاویز دی ہیں۔
ہر چار گھنٹے بعد ماسک تبدیل کریں اور پرانے ماسک کو بحفاظت تلف کریں۔ ماسک پہنتے وقت ماسک کو چھونے کی غلطی نہ کریں۔
ہمیشہ زیادہ افراد کے گروہ میں جانے سے پہلے ماسک پہنیں۔
اگر وہ افراد آپ کے خاندان کے نہیں ہیں تو ہر ایک سے دو میٹر کا فاصلہ رکھیں۔
احتجاج کے منتظمین کی جانب سے مظاہرین کو ماسک ، ہینڈ سینیٹائزر دیئے جائیں۔
منتظمین کو چاہیے کہ وہ احتجاج کے مقامات پر لوگوں کے کھڑے ہونے کے لیے مناسب انتظامات کریں تاکہ انہیں ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے کافی جگہ مل سکے۔
احتجاج کے دوران نعرے بازی سے منہ میں پانی آسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی کو شور مچانے جیسے دوسرے طریقوں جیسے ڈرم وغیرہ کے بارے میں سوچنا چاہیے۔اگر آپ اب بھی جذباتی گانے گانا چاہتے ہیں یا نعرے بلند کرنا چاہتے ہیں تو، ماسک کو ہٹائے بغیر کریں۔
کسی دوسرے سے پوسٹر، بینر وغیرہ شیئر نہ کریں اور ایسی کوئی چیز مت چھوئیں جو آپ کی اپنی نہ ہو۔ اپنے گھر سے پوسٹر اور پینے کا پانی لے آئیں تاکہ آپ کو یہ چیزیں کسی اور کے ساتھ بانٹنے کی ضرورت نہ پڑے۔
احتجاج میں ، بولنے والوں کو انفیکشن کے بارے میں کچھ زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مائیکروفون کو سینیٹائزر کے ساتھ مناسب طریقے سے صاف کرنا چاہیے۔
سامعین اور مقررین کے مابین کافی فاصلہ ہونا چاہیے تاکہ پانی (تھوک) جو منہ سے نکلے وہ کسی کو متاثر نہ کرے۔
اگر آپ کو اپنے اندر کورونا وائرس سے متعلق کوئی علامات نظر آتی ہیں تو پھر احتجاج میں نہ جائیں۔
بریکنگ, پاکستان: پنجاب میں 2040 نئے کیسز اور 22 اموات
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2040 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 33144 ہو گئی ہے۔
صوبے میں ایک دن کے دوران مزید 22 افراد لقمہ اجل بن گئے جس کے بعد وبا کے باعث ہونے والی ہلاکتیں 629 ہو گئی ہیں۔
اب تک صوبے پنجاب میں 7806 افراد اس وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, بلوچستان میں مزید 228 نئے متاثرین کی شناخت، دو اموات
بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید 228 کیسز کی تصدیق کے بعد صوبے میں مجموعی
کیسز کی تعدا 5582 ہوگئی ہے جبکہ کورونا سے مزید دو افراد کی ہلاکت کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد
53 ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق چارجون 2020 کو کورونا کے 798 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 228 پازیٹو آئے۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 28099 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 23495 کے نتائج منفی آئے۔
بلوچستان میں مجموعی طوپر پر68691 کی سکریننگ کی گئی۔ اب بھی صوبے میں مشتبہ مریضوں کی تعداد 25802 ہے۔
کورونا وائرس سے اب تک صوبے میں 2037 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔
’پریشانی کی بات نہیں ہے‘: میکسیکو میں ایک دن میں ہزار سے زیادہ اموات پر صدر کا بیان
،تصویر کا ذریعہEPA
میکسیکو کے صدر آندریس مینئیول لوپیز اوبدرادور نے اپنے ہم وطنوں کو ملک میں
گذشتہ 24 گھنٹوں
میں کورونا وائرس کی وجہ سے ایک ہزار سے زیادہ اموات ہونے کے باوجود تسلی دی ہے کہ
یہ پریشانی کی بات نہیں ہے۔
بدھ کی
شام صحت کے نائب وزیر ہیوگو لوپیز گیٹل نے بتایا کہ ملک میں 1092 اموات ایک دن میں
ریکارڈ کی گئی ہیں جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
صدر اوبدرادور
نے کہا کہ تمام اموات صرف 24 گھنٹوں کی نہیں ہیں بلکہ چند پرانی ہیں جنھیں ابھی
گنا جا رہا ہے۔
جمعرات
کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بہت احتیاط کرنی ہوگی،
سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا، لیکن بلاوجہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ڈر و خوف
پھیلانے والوں کی باتوں پر کان نہیں دھرنے چاہیے۔‘
صدر کے
ناقد کہتے ہیں کہ انطوں نے وبا کے پھیلاؤ کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ملک میں لاک
ڈاؤن بھی قبل از وقت ختم کر رہے ہیں۔
صدر کا
کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن نہ اٹھایا تو میکسیکو کی معیشت کو بہت نقصان پہنچے گا اور لوگوں
کی زندگیوں پر اثر ہوگا۔
آج کے پیرس میں قدیم دور کے چینیوں کی طرح سماجی دوری برقرار رکھنا کیسے ممکن ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس کے شہر پیرس میں ایک آرٹ گیلری نے قدیم دور کے چینی حکمران کے زمانے کی ثقافت سے متاثر ہوتے ہوئے سماجی فاصلوں کے قوانین پر عملدرآمد شروع کیا ہے۔
چین میں 960 سے لے کر 1279 عیسوی تک سونگ خاندان کی حکمرانی تھی اور ان کے دور میں مقبول ہونے والی ٹوپیاں اس طرز سے بنی ہوئی ہیں کہ اس میں سے پر نکل رہے ہوتے ہیں اور وہ پہننے والے کو دوسروں سے ایک میٹر کے فاصلے تک رکھ سکتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReu
کہا جاتا ہے کہ سونگ سلطنت کے پہلے بادشاہ نے اپنے افسران کو یہ ٹوپیاں پہننے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہونے والی گفتگو نہ سن سکیں۔
پیرس کی آرٹ گیلری کے لیے ٹوپیاں بنانےوالی ڈیزائنر ڈومینیک پوزول نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ اُس زمانے میں لوگوں میں سماجی فاصلے برقرار رکھنے کا رواج تھا۔
خیبر پختون خوا کے ضلع دیر میں متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد انتظامیہ کے لیے پریشانی کا باعث, محمد زبیر خان، صحافی
،تصویر کا ذریعہAkbar Khan
صوبہ خیبر پختونخواہ
میں ضلع دیر متاثرین کے اعتبار سے صوبے بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ
کے محکمہ صحت کے مطابق دو جون تک ضلع لوئر دیر میں کورونا متاثرین کی تعداد 400 تھی جبکہ 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ضلع لوئر دیر کے ڈسڑکٹ
ہیلتھ آفسیر ڈاکٹر محمد نذیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کئی مریض پشاور
کے ہسپتالوں میں بھی ہلاک ہوئے ہیںجن کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہوتا بلکہ پشاور ہی
میں ان کا اندراج کیا جاتا ہے اور اسی طرح کئی لوگ پشاور میں ٹیسٹ کرواتے ہیں اور ان
کا ریکارڈ پشاور ہی میں مرتب ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ
اس حساب سے دیر میں ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
ڈاکٹر نذیر کا کہنا تھا
کہ اگر ہم صرف ریکارڈ میں مرتب کردہ اعدادوشمار بھی دیکھیں تو متاثرین کی تعداد میں
اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان کے مطابق ضلع میں تین جون کو کُل 84 ٹیسٹ ہوئے جن میں سے
57 مثبت آئے جو کہ ستر فیصد شرح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روزانہ
کی بنیاد پر ہونے والی ٹیسٹوں میں یہ شرح تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
ڈاکٹر نذیر کا کہنا
تھا کہ ضلع لوئر دیر کافی متاثر ہوچکا ہے اور اب تک کی صورتحال تو کچھ حد تک قابو
میں ہے لیکن اگر حالات زیادہ خراب ہوتے ہیں تو پھر پاس مریضوں کو سنبھالنے کے لیے بنیادی
وسائل نہیں ہیں۔
ڈاکٹر محمد نذیر کا کہنا
تھا کہ شدید متاثرہ مریض کو پشاور بھجا جاتا ہے جو کہ تین گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔
خیال رہے کہ وزارت صحت اسلام آباد کی حالیہ دونوں میں مرتب کردہ اعدادوشمار
کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ میں وینٹیلیڑز کی سہولتصوبہ کے صرف دو شہروں پشاور اور ایبٹ آباد میں موجود
ہے۔
،تصویر کا ذریعہAkbar Khan
بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی متاثرین کی تعداد بڑھ کر 325 ہو گئی
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق سات خواتین اور دو بچوں سمیت 27 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 325 ہوگئی ہے۔
ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد میں چھ خواتین سمیت 13 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق کورونا کے نو مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب مریضوں کی تعداد 182 ہوگی ہے.